Wednesday, 26 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*



*🛑مالیگاؤں پاور لوم صنعت کو بچانے کے لیے تاریخی فیصلہ:*
*پالئیےسٹر اور پی سی کے پاور لومز ۵ دن بند رہیں گے*
*یارن کی سٹہ بازاری اور کپڑے کے گھاٹے کے سودے کو روکنے کے لیے بنکروں کا اتحاد*
مالیگاؤں (خاص نمائندہ):
مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت پر چھائے شدید معاشی بحران، خام مال (سوت) کے بھاؤ میں مصنوعی اضافے اور راجستھان کے پروسیسنگ ہاؤسز کی بندش سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پالئیےسٹر اور پی سی (PC) بنکروں کی ایک ہنگامی اور اہم میٹنگ حبیب لانس (بسم اللہ باغ، 60 فٹی روڈ) میں منعقد ہوئی۔ اس اہم اجلاس کی صدارت معروف صنعتکار *ممتاز علی منور علی سیٹھ* نے کی۔
میٹنگ میں شہر کے سرکردہ بنکرز اور رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں عمیر سر نورانیہ (سیکریٹری، دَرے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی)، عبدالعلیم سیٹھ، امین کارپوریٹر، عبدالصمد سیٹھ، انجم سیٹھ، حاجی یوسف الیاس، ایڈوکیٹ ہدایت اللہ، شبیر بیگ والا، خالد معین، رئیس ماسٹر ، شہزاد بھائی ، عرفان سیٹھ ، شاہد سیٹھ ،طالب سیٹھ قصوا، اور نیاز سیٹھ (حینا فیبرک) مدثر سیٹھ ملٹی ڈیزائر۔ سلیم سوپر۔ اور معزز بنکر خصوصیت کے ساتھ موجود تھے۔

میٹنگ کے اہم فیصلے اور تجاویز میں سے *۵ دن لومز مکمل بند:* تمام بنکروں کے باہمی اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ پالئیےسٹر اور پی سی کے تمام کارخانے *26 اگست سے ۵ دن (بدھ، جمعرات، جمعہ، سنیچر اور اتوار) مکمل طور پر بند رہیں گے۔*
 :یارن/سوت کے تاجروں کی جانب سے کی جانے والی بے تحاشہ سٹہ بازی اور مصنوعی ناہمواری پر قابو پانے کے لیے پروڈکشن کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بنکر نقصان (گھاٹے) میں کپڑا بیچنے کے بجائے اپنے سرمائے کی حفاظت کریں تاکہ تیار کپڑے کو مارکیٹ میں اس کی واقعی اور مناسب قیمت مل سکے۔
"راجستھان میں گزشتہ تین ماہ سے پروسیسنگ ہاؤسز بند ہونے کی وجہ سے ہماری کروڑوں روپے کی پیمنٹس جمی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود اونچے بھاؤ میں سوت خرید کر نقصان میں کپڑا بیچنا اور کارخانے چلاتے رہنا ہمارے سرمائے کو ختم کر رہا ہے۔ اگر ہمارا سرمایہ ہی ختم ہو گیا تو ہم صنعت کو بچانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ لڑائی لمبی ہے، اور اس وقت بنکروں کا آپسی اتحاد اور یکجہتی ہی ہماری صنعت کا واحد حل ہے۔"

*تمام حاضرین نے اس فیصلے کی مکمل تائید کی اور شہر کے تمام پالئیےسٹر و پی سی بنکروں سے اپیل کی کہ وہ مقررہ ۵ ایام کی بندش پر سختی سے رضاکارنا طور پر عمل کرتے ہوئے صنعتی اتحاد کا ثبوت دیں۔*


*گزارش اپیل* 
کل بروز پیر 24 اگست دوپہر میں ساڑے تین بجے کارپوریشن میں تمام بنکر حضرات پی سی پولیسٹر پاپولین کے پہنچے ضلع کلیکٹر کی امد ہو رہی ہے وہاں پر انہیں میمورنڈم دینا ہے اور ہماری تقلیف سے حکومت کو آگاہ کرنا ہے









*🛑مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کا 7 برسوں کا آزادانہ آڈیٹ کروایا جائے۔مہاراشٹر سرکار سے جنتادل سیکولر مالیگاؤں کا مطالبہ*
 ( پریس نوٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کا _ گذشتہ 7 برسوں کا آزادانہ آڈٹ کروایا جاٰئے اسطرح کا مطالباتی خط جنتادل سیکولر مالیگاؤں نے وزیراعلئ مہاراشٹر ۔چیف سکریٹری نگر وکاس کو روانہ کیا ہے اپنے مطالباتی خط میں الزام لگایا گیا ہیکہ گذشتہ 7 برسوں میں کارپوریشن میں زبردست لوٹ مار کی گئی ہے خاص طور سے محکمہ عوامی تعمیرات۔صحت صفائی ۔واٹر سپلائی۔محکمہ لائٹ ۔گیرج محکمہ۔اور دیگر محکموں اور معاملات میں زبردست بدنظمی لوٹ مار پائی گئی ہے بغیر۔۔مارجینگ ڈسٹنٹ ۔۔والی عمارتوں میں پرائیویٹ ھاسپیٹلوں کو۔لائسنس دیۓ گئے جسکی وجہ سے شہر بھر میں اتی کرمن کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے زیادہ تر ھاسپٹلوں کے پاس سڑکوں پر سواریاں پارک کیجاتی ہیں اور بڑی بے شرمی سے ۔۔بورڈ لکھ دیا جاتا ہے کہ۔۔۔پارکنگ صرف مریضوں کے لئے۔اور دیگر جگہوں پر بھی۔۔صرف فلاں۔۔ڈھماں کے لیٰے پارکنگ کے بورڈ لکھے نظر آتے پیں جوکہ اتی کرمن کو بڑھاوا دینے کے برابر ہے۔محکمہ اتی کرمن ادھر اتی کرمن صاف کرتا ہے دو چار گھنٹوں بعد دوبارہ اتی کرمن ہوجاتا ہےمقامی سیاسی افراد ووٹ بینک کی خاطر۔۔ٹھیلہ گاڑیوں کو اتی کرمن نہیں مانتے جسکی وجہ سے ۔۔ٹھیلہ گاڑی اتی کرمن۔۔ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔مقامی صدر JDSاور دیگر عہدیداروں کی دستخط کیساتھ سرکار کو مطالباتی خطوط بذریعہ ای میل کیا گیا ہے خط موصول ہونے اور جلد کاروائی کا جواب بھی نائب صدور عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود اشرفی سالکی۔کو ملا ہے اسطرح کی پریس نوٹ شبیر حنیف نے دی ہے








*🛑نیپال میں بھیانک فلش فلڈ، بے پڑے پیمانے پر تباہی، متعدد گاؤوں صاف، 1000 افراد بہہ گئے*
ہمالیائی خطے میں ایک بار پھر گلیشیئر اور سیلاب نے تشویش بڑھا دی ہے۔ تبت سے متصل نیپال کے ضلع راسووا میں بدھ کو اچانک آئے شدید سیلاب نے دیہاتوں اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سیافروبیسی اور تیمورے کے علاقے سب سے زیادہ متاثر بتائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں بڑی تعداد میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ تقریباً ایک ہزار افراد کے بہہ جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم مقامی انتظامیہ نے ابھی تک اتنی بڑی تعداد کی آفیشیل طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ حکام نے بھوٹے کوشی دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو فوری طور پر بلند اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اتنا شدید تھا کہ دریا کے کنارے واقع گاؤوں اور پروجیکٹوں کی جگہوں کو نقصان پہنچا۔ راسووا کے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر نریندر پریار نے رائٹرز کو بتایا کہ گاؤوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال جانی و مالی نقصان کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے خدشے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم بالن شاہ نے امدادی اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ پولیس اور فوج کو بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔راسووا میں بھوٹے کوشی نے مچائی تباہی
سیلاب کا سب سے زیادہ اثر سیافروبیسی اور تیمورے میں بتایا جا رہا ہے۔ یہ علاقے چین۔تبت کی سرحد کے قریب واقع ہیں اور بھوٹے کوشی دریا کے اطراف آباد ہیں۔ حکومت نے دریا کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریا کے کنارے رہنے والے افراد اضافی احتیاط برتیں اور حالات خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر بلند علاقوں کی جانب چلے جائیں۔

پن بجلی اور دیگر منصوبوں کو نقصان
اچانک آئے سیلاب نے دریا کے کنارے جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ حکام کو متعدد منصوبوں کی جگہوں کے بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ راسووا کے علاقے میں پن بجلی کے منصوبوں کے علاوہ سڑکوں اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں پر بھی کام جاری رہتا ہے۔ ایسے میں سیلاب سے منصوبوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے، اس کا اندازہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

بھوٹے کوشی کا پانی ہندوستان تک پہنچتا ہے
اس واقعے کے اثرات صرف نیپال کی سرحد تک محدود نہیں ہیں۔ بھوٹے کوشی دریا کا سرچشمہ تبت میں ہے۔ نیپال میں آگے چل کر یہ دریا تریشولی دریا میں شامل ہو جاتا ہے اور تریشولی کا پانی ہندوستان میں گنڈک ندی کی شکل میں آگے بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیپال میں آئے اس طرح کے اچانک سیلاب پر ہندوستان، خاص طور پر بہار کے دریا کنارے آباد علاقوں میں بھی گہری نظر رکھی جاتی ہے۔

اگر پانی کا بہاؤ بڑے پیمانے پر نشیبی علاقوں کی جانب بڑھتا ہے تو بہار کے گنڈک دریا کے نظام پر اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ سیلاب کا کتنا پانی ہندوستان تک پہنچے گا اور اس کے اثرات کتنے سنگین ہوں گے۔

گزشتہ سال بھی آیا تھا ایسا ہی سیلاب
گزشتہ سال بھی بھوٹے کوشی دریا میں تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ اس واقعے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 24 افراد لاپتہ ہو گئے تھے۔ سیلاب نیپال اور چین کو ملانے والے فرینڈشپ پل کو بھی بہا لے گیا تھا۔ جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل اور تجارت کئی ماہ تک متاثر رہی۔

علاقائی موسمیاتی نگرانی کے ادارے کے مطابق گزشتہ سال آئے سیلاب تبت میں ایک گلیشیئر کی سطح پر قائم جھیل کا پانی خارج ہونے کے باعث آیا تھا۔ اس بار بھی گلیشیائی جھیل یا اس سے وابستہ پانی کے بہاؤ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں، تاہم موجودہ واقعے کی اصل وجہ اور اس کے پیچھے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے یا پانی خارج ہونے کے کسی کردار کی آفیشیل تصدیق کا انتظار ہے۔

امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری، تشویش بڑھنے کا خدشہ
وزیر اعظم بالن شاہ نے کہا ہے کہ امدادی اور ریسکیو ٹیموں کے علاوہ پولیس اور فوج کو بھی کارروائی میں لگا دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح نشیبی علاقوں میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور لاپتہ افراد کی تلاش کرنا ہے۔ فی الحال سب سے بڑا چیلنج دشوار گزار پہاڑی علاقہ اور پانی کا تیز بہاؤ ہے۔حکام نے لوگوں سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ جیسے جیسے پانی کی سطح اور نقصان سے متعلق مزید معلومات سامنے آئیں گی، صورت حال واضح ہوتی جائے گی۔ فی الحال راسووا سے لے کر بھوٹے کوشی اور آگے تریشولی دریا کے پورے آبی نظام پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑چینی کی قیمت کم ہوکر 55 روپے ہوئی ! ذخیرہ اندوزی کو روکنا اور درآمدات کی منظوری کا نظر آیا اثر* نئی دہلی۔ چینی کی...