ٹرمپ نے اب ایران کے سامنے رکھی نئی شرط، آبنائے ہرمز کھولنے کا کرے اعلان، تبھی ہوگا بھروسہ
ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے (نیوکلیئر ڈیل) کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دوسری طرف آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملے پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے سامنے ایسی شرط رکھ دی ہے جو پوری دنیا کے سامنے اس کی شبیہ کا سوال بن سکتی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران عوامی طور پر یہ تسلیم کرے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رہے گی، وہاں سے گزرنے والے کسی بھی تجارتی جہاز پر حملہ نہیں ہوگا اور بالواسطہ طور پر یہ بھی مانے کہ حالیہ حملے اسی کی غلطی تھے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ پیغام ایران تک براہِ راست اور عمان سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے پہنچایا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ تین ہفتے پہلے ہونے والے معاہدے کے باوجود ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی تجارتی جہازوں پر فائرنگ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہفتے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر فوجی کارروائی ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جنگ بندی (سیز فائر) اب ختم ہو چکی ہے۔پہلے آبنائے ہرمز، پھر جوہری معاہدہ
امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران جہازوں کی محفوظ آمد و رفت جیسی آسان شرط بھی پوری نہیں کر سکتا، تو پھر جوہری پروگرام جیسے کہیں زیادہ پیچیدہ معاہدے پر اس پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب آبنائے ہرمز کے بحران کو جوہری معاہدے کی اگلی آزمائش مان رہی ہے۔
آج عمان میں اجلاس
ہفتہ کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا موضوع آبنائے ہرمز اور سمندری سلامتی ہوگا۔ امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات کے بعد ایران ایک عوامی بیان جاری کرے گا جس میں جہازوں پر حملے روکنے اور سمندری راستہ کھلا رکھنے کی یقین دہانی کرائے گا۔ایران کا دعویٰ :ہم نے مذاکرات کیلئے نہیں کہا
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد ایران نے خود مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی اور یہ تسلیم کیا کہ اس سے غلطی ہوئی۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، بلکہ قطر کے ثالثوں کی درخواست پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
ویپ کا استعمال پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق
آسٹریلیا کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹ کا استعمال) پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد ماہرین نے ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ حتمی شواہد کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اقدامات کریں۔
گارڈین کے مطابق سڈنی میں واقع یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ماہرین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں سنہ 2017 سے 2025 تک شائع ہونے والی مختلف سائنسی رپورٹس، جانوروں پر کیے گئے تجربات، انسانی کیس رپورٹس اور لیبارٹری تحقیق کا جائزہ لیا گیا۔
یہ اب تک کی تفصیلی تحقیقات میں سے ایک ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا نکوٹین ای سگریٹ کینسر کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں۔تحقیق کے مطابق ویپنگ جسم میں ایسے ابتدائی خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے جو کینسر سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، جیسے کہ ڈی این اے کو نقصان پہنچنا اور سوزش کا بڑھ جانا۔
مشہور جریدے ’کارسینوجینیسیس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ’ویپنگ ان ابتدائی کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔‘
ماہر برنارڈ سٹیورٹ کے مطابق ای سگریٹ کے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے منہ اور پھیپھڑوں کے خُلیات اور بافتوں میں واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔ تاہم چونکہ ای سگریٹس جدید دور میں یعنی 2000 کے بعد متعارف ہوئے، اس لیے طویل المدتی انسانی ڈیٹا ابھی محدود ہے، اور یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے افراد میں کینسر پیدا ہوا۔‘
تحقیق میں کچھ ایسے کیسز بھی شامل کیے گئے جن میں ایسے افراد میں منہ کے کینسر کی نشاندہی ہوئی جو صرف ویپنگ کرتے تھے اور کبھی سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ اس کے علاوہ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ای سگریٹ کے بخارات کے سامنے آنے والے چوہوں میں پھیپھڑوں کے ٹیومر زیادہ بنے، اگرچہ یہ نتائج براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں سگریٹ نوشی کے نقصانات کو تسلیم کرنے میں تقریباً 100 سال لگے تھے، اس لیے ویپنگ کے معاملے میں ابتدائی خبردار کرنے والے شواہد کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف فریڈی سیتاس کے مطابق ’یہ تاثر کہ ویپنگ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہے، درست نہیں ہو سکتا۔‘ ان کے مطابق ’فی الحال ویپنگ چھوڑنے کے مؤثر طریقوں کے حوالے سے شواہد بھی واضح نہیں ہیں۔‘
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کو ویپنگ کے نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ویپنگ سگریٹ جتنی نقصان دہ ہے، کیونکہ اس میں سگریٹ کی طرح جلنے والے کیمیائی مادے شامل نہیں ہوتے۔
مجموعی طور پر تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویپنگ کو محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں اور اس کے ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
مدھیہ پردیش میں نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے پر ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، پتھراؤ میں ایس پی سمیت 6 اہلکار زخمی
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے پر ان کے ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، جس کے باعث تقریباً 15 کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا اور آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔احتجاج نے رات کے دوران پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے مطابق علی الصبح مظاہرین نے پولیس ٹیم پر شدید پتھراؤ کیا، جس میں دتیا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) میور کھنڈیلوال، ایڈیشنل ایس پی سمیت چھ سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایس پی میور کھنڈیلوال نے بتایا کہ جمعہ کی شام تقریباً چھ بجے سے تین ہزار سے زائد افراد شہر میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے بازار بند کرائے اور این ایچ-44 پر چکہ جام کر دیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کئی مرتبہ شاہراہ خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین نے انکار کر دیا۔ صبح تقریباً چار بجے اچانک پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ایس پی کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے، اس کے باوجود پتھراؤ جاری رہا۔ بعد ازاں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دوبارہ آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہلکا لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ دیگر کو خودسپردگی کی وارننگ دی گئی ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے ضلعی وزیر بھانو سنگھ نے پولیس پر زیادتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کارکنان پرامن انداز میں پارٹی قیادت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ دتیا کا ٹکٹ واپس لے کر ڈاکٹر نروتم مشرا کو دیا جائے۔ ان کے مطابق کارکنان پوری رات رام دھن گاتے ہوئے احتجاج کرتے رہے، لیکن پولیس نے مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کو دفتر میں بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نروتم مشرا کو ٹکٹ نہیں دیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔واضح رہے کہ بی جے پی نے دتیا ضمنی انتخاب کے لیے نروتم مشرا کے بجائے آشوتوش تیواری کو امیدوار بنایا ہے، جس کے بعد کارکنوں میں ناراضی پھیل گئی۔ آشوتوش تیواری نے کہا کہ نروتم مشرا ان کے سرپرست ہیں اور وہ ان کے لیے انتخابی مہم بھی چلائیں گے۔
دتیا اسمبلی نشست پر ضمنی انتخاب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونے والے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو رواں سال اپریل میں دہلی کی ایک عدالت نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد ان کی رکنیت منسوخ ہو گئی۔ اس نشست پر 30 جولائی کو ووٹنگ جب کہ 3 اگست کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔