آبنائے ہرمز میں مزید 2 ٹینکروں پر حملہ، ہندوستانی کرو ممبر کی موت، 8 دیگر زخمی
ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں خونی کھیل جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک بار پھر دو آئل ٹینکروں پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں عملے میں شامل ایک ہندوستانی رکن کی موت ہو گئی، جبکہ آٹھ دیگر زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ زخمی عملے کے ارکان میں چھ ہندوستانی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ ان میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس دوران امریکہ بھی آبنائے ہرمز میں اپنا دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل حملے کر رہا ہے۔ دو دن پہلے بھی ہندوستانی ملاحوں والے ایک جہاز پر حملہ ہوا تھا، جس میں ایک ہندوستانی ملاح لاپتہ ہو گیا تھا، جبکہ 10 دیگر نے سمندر میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی تھی۔
آئل ٹینکروں پر حملہ آبنائے ہرمز کے عمان کے زیرِ انتظام حصے میں ہوا۔ یہ ٹینکر متحدہ عرب امارات کے تھے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اس حملے میں ایک عملے کے رکن کی جان گئی۔ یو اے ای کے ٹینکروں پر ہندوستانی ملاح تعینات تھے۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق قومی آئل ٹینکر “ممباسا” اور “البحیۃ” کو ایران کی دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ حملہ عمان کے سمندری علاقے میں آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں کیا گیا۔ میزائل لگتے ہی دونوں ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ سے جہازوں کو کافی نقصان پہنچا، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ دونوں ٹینکروں کو فی الحال محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ “ممباسا” پر تعینات عملے میں شامل ایک ہندوستانی رکن کی جان چلی گئی۔ تمام زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ مرنے والے ہندوستانی ملاح کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔ متحدہ عرب امارات نے اس حملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ ملک اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسے اس حملے کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے، اور اپنے شہریوں، سرزمین اور سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔
دوسری جانب امریکہ نے بھی ایران کے خلاف اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی میڈیا نے بندر عباس، کیش، قشم اور ابو موسیٰ جزیرے پر دھماکوں کی اطلاعات دیں۔ ان علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں سے پہلے ہی اس کا عندیہ دے دیا تھا۔ انہوں نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ ایران پر انتہائی شدید حملہ کرے گا۔ اس کے بعد امریکی فوج نے نئی کارروائی شروع کر دی۔ امریکہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرے گا۔ یہ ناکہ بندی منگل کی شام امریکی وقت کے مطابق نافذ کی جائے گی۔
کرناٹک میں پکڑے گئے دو پاکستانی شہری... آخر کس نے بنائے ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ؟
کرناٹک کے ضلع چکبالاپور سے ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی پاکستانی شہریت چھپا کر غیر قانونی طریقے سے راشن کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ (Voter ID) حاصل کر لیے تھے۔ اس گرفتاری نے پوری ریاست میں سیکورٹی اور سرکاری دستاویزات کی جانچ کو لے کر ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
گرفتار کیے گئے ملزمین کی شناخت فرح ناز اور ان کے بیٹے محمد فردین کے طور پر ہوئی ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ باگے پلی کے رہنے والے محمد ایوب خان نے متحدہ عرب امارات (UAE) میں پاکستانی شہری فرح ناز سے شادی کی تھی۔ دونوں کے چار بچے ہیں۔ ان میں سے محمد فردین کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی۔ اس طرح فرح ناز اور فردین پاکستانی شہری ہیں، جبکہ ایوب خان ہندوستانی شہری ہیں۔ یہ خاندان کافی عرصے سے باگے پلی میں رہ رہا تھا۔شکایت کس نے کی؟
تحصیلدار منیشا این پاتری کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے فرح ناز اور محمد فردین کے خلاف بھارتیہ نیا ئے سنہتا (BNS)، فارنرز ایکٹ (Foreigners Act) اور عوامی نمائندگی ایکٹ (Representation of the People Act) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
انکشاف کیسے ہوا؟
اطلاع ملنے پر چکبالاپور پولیس چوکس ہو گئی۔ پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دستاویزات کی جانچ کی۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی ریکارڈ کی تصدیق کی۔ تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ فرح ناز اور ان کے بیٹے نے اپنی قومیت چھپا کر سرکاری دستاویزات بنوا لیے تھے۔
دھوکہ دہی سامنے آتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کی۔ اس کے بعد دونوں کے راشن کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ منسوخ کر دیے گئے۔ پولیس اب اس بات کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے کہ آخر اتنے حساس سرکاری دستاویزات انہیں کیسے جاری کیے گئے؟ کیا اس عمل میں کسی مقامی افسر یا کسی دلال کی ملی بھگت تھی؟ پولیس پورے نیٹ ورک کی چھان بین کر رہی ہے۔
سیاسی حلقوں میں بحث تیز
یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کرناٹک میں “مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ” (PRC) جاری کرنے کے اختیار کو لے کر سیاسی کشمکش جاری ہے۔ کرناٹک حکومت نے تحصیلداروں کو پی آر سی جاری کرنے کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے غیر قانونی دراندازوں کو سرکاری دستاویزات ملنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔دوسری جانب، اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے سی این این-نیوز 18 کو بتایا تھا کہ پی آر سی صرف تمام ضروری دستاویزات اور شناخت کی مکمل جانچ کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام سے حکومت کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کرنے اور ان پر بہتر نگرانی رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں بھارت کے پانچوں طلبہ نے جیتے گولڈ میڈل، امت شاہ نے دی مبارکباد
نئی دہلی: بھارت نے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی سائنسی صلاحیتوں کا لوہا منوا دیا۔ کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں 4 سے 12 جولائی 2026 تک منعقدہ اس باوقار مقابلے میں بھارتی ٹیم کے پانچوں طلبہ نے گولڈ میڈل حاصل کیے، جس کے بعد بھارت نے چین، قازقستان، روس، جنوبی کوریا اور تائیوان کے ساتھ مشترکہ طور پر عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔اس مقابلے میں دنیا کے 87 ممالک کے 381 طلبہ نے حصہ لیا، جہاں بھارتی طلبہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی نوجوان صلاحیتیں سونے کی طرح چمک رہی ہیں۔
امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا، “56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں گولڈ میڈل جیتنے پر کنشک جین، ردھیش اننت بیندلے، رشیت گرگ، شریشٹھ سوریا اور سورت جوشی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ آپ کی کامیابی نہ صرف آپ کی محنت اور صلاحیت کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ بھارت کے نوجوان سائنس کے میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔”بھارت کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے طلبہ میں مہاراشٹر کے پونے سے کنشک جین، مدھیہ پردیش کے اندور سے ردھیش اننت بیندلے، نئی دہلی کے دوارکا سے رشیت گرگ، ممبئی سے شریشٹھ سوریا اور گجرات کے احمد آباد سے سورت جوشی شامل ہیں۔ ان پانچوں طلبہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو عالمی سطح پر سرفہرست مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی ٹیم کی تیاری ہومی بھابھا سینٹر فار سائنس ایجوکیشن (HBCSE) نے کرائی، جو ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ (TIFR) کے تحت قومی اولمپیاڈ پروگرام کا حصہ ہے۔ ٹیم کی رہنمائی پروفیسر انویش مجمدار اور ڈاکٹر لینا جوشی نے کی، جبکہ سائنسی مبصرین کے طور پر پروفیسر آنند داس گپتا اور نشا کیلکر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بھارت نے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں پانچوں طلائی تمغے اپنے نام کیے ہیں۔ اس سے قبل 2018 میں بھی بھارتی ٹیم نے یہی کارنامہ انجام دیا تھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے تمام شرکاء مسلسل تمغے جیتتے آ رہے ہیں، جن میں تقریباً 62 فیصد طلائی اور 38 فیصد چاندی کے تمغے شامل ہیں۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر سائنس اور تحقیق کے میدان میں بھارت کی مضبوط ہوتی ہوئی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے۔