اظہارِ تشکر
نشانِ ہند ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ "ایک شام مالیگاؤں کی محنت کش عوام کے نام" فری آل انڈیا مشاعرہ، مورخہ 12 جون 2026 بروز جمعہ، اسکس ہال مالیگاؤں میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
اس یادگار ادبی محفل میں شرکت فرما کر اسے کامیاب بنانے والے تمام معزز مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، سامعین، معزز شخصیات، میڈیا نمائندگان، سماجی کارکنان اور محنت کش عوام کا ہم دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
آپ حضرات کی بھرپور شرکت، محبت، حوصلہ افزائی اور تعاون نے اس مشاعرے کو ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب بنا دیا۔ بالخصوص ان تمام افراد اور اداروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس پروگرام کے انعقاد میں کسی نہ کسی شکل میں تعاون فرمایا۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں آئندہ بھی ایسے ادبی، ثقافتی اور سماجی پروگراموں کے انعقاد کی توفیق عطا فرمائے۔
**قریشی مختار احمد**
سرپرست اعلیٰ :نشان ہند ٹرسٹ، مالیگاوں
**یوسف رانا**
صدر، نشانِ ہند ٹرسٹ، مالیگاؤں
9004200983
عوامی حقوق کا محافظ اور تعلیم مافیا کے خلاف اعلان جنگ کرنے والا انجینئر شیخ جاوید انیس
*تحریر: اکرم صدیقی (صدر: انجمن ترقی فلاح و بہبود، دیانہ شیوار، مالیگاؤں)*
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 3 سے منتخب مقبول کارپوریٹر، محترم انجینئر شیخ جاوید انیس صاحب نے اپنے انتخاب کے پہلے ہی دن سے جس مخلصانہ اور عملی انداز میں عوامی خدمات کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ پورے شہر کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ایک پڑھا لکھا اور مخلص نمائندہ جب اقتدار میں آتا ہے، تو وہ صرف سیاست نہیں کرتا بلکہ غریبوں کی طاقت بن جاتا ہے، جاوید انیس صاحب اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
*تعلیمی اور طبی میدان میں تاریخی خدمات:*
جاوید انیس صاحب نے ہمیشہ قومی مفاد اور تعلیمی نظام کی اصلاح کو ترجیح دی ہے۔ پچھلے دنوں جنرل بورڈ میٹنگ میں انہوں نے مالیگاؤں کے ان اساتذہ کا سنجیدہ معاملہ پوری قوت سے اٹھایا جو بیرونِ شہر برسرِ روزگار ہیں، اسی طرح دیانہ شیوار وارڈ نمبر 3 کے پسماندہ اور کچے علاقے کے غریب عوام کو ان کے گھر کے قریب ہی بہترین طبی امداد میسر ہو، اس کے لیے انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے *30 بیڈ کا سرکاری ہسپتال منظور کروایا*، جو اس علاقے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم ہے۔
*تعلیم مافیا کے خلاف اعلانِ جنگ اور حالیہ جرات مندانہ قدم:*
آج جاوید انیس صاحب نے ایک بار پھر غریبوں کے دل جیت لیے جب انہوں نے شہر کے "تعلیم مافیا" کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا۔ گورنمنٹ گرانٹیڈ (سرکاری امداد یافتہ) جونیئر کالجوں میں، جہاں غریب اور مزدور طبقے کے بچے پڑھتے ہیں اور جہاں سرکاری فیس محض چند سو روپے ہے، وہاں ایڈمیشن کے نام پر غریبوں سے5 ، 10 ،20 ہزار روپے کی غیر قانونی فیس لیکر غریب عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ،
جاوید انیس صاحب نے اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف نہ صرف شدید احتجاج کیا، بلکہ ایک نڈر لیڈر کی طرح کالج انتظامیہ اور ذمہ داران کو کھلی وارننگ دی ہے کہ یہ غیر قانونی کام فوراً بند کیا جائے اور غریبوں سے لیا گیا پیسہ واپس کیا جائے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محکمہ جاتی سطح اور تعلیمی افسران (EO) سمیت وزیرِ تعلیم تک لے کر جائیں گے اور کسی بھی غریب بچوں کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ غریبوں، حمالوں اور پاورلوم مزدوروں کے بچوں کے مستقبل کے سچے محافظ ہیں۔
*ستائش و اعترافِ خدمات:*
ہم صدر و اراکین انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ بلا تفریق سیاست و نظریات کارپوریٹر انجینئر شیخ جاوید انیس صاحب کی اس عوامی، تعلیمی اور طبی بصیرت اور ان کے بے خوف جذبے کی دل کی گہرائیوں سے ستائش کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ وہ خلوص دل سے اسی طرح غریبوں مظلوموں کے حق کی لڑائی لڑتے رہے گے۔
انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ غریب عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں، ان کا یہ نمائندہ ان کے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ وہ جاوید انیس صاحب کو صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے، ان کی صلاحیتوں میں مزید برکت دے اور تعلیم مافیا کے خلاف شروع کی گئی اس مہم میں انہیں شاندار کامیابی عطا فرمائے۔ آمین!
منجانب : اکرم صدیقی ، ریاض منا ، جنید خان ، سہیل ماسٹر ، سمیر انصاری ، جنید جے ڈی ، بلال رچھ والا
ش ، ن ، الف
انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ مالیگاؤں
*ٹی سی ایس کا ہوّا اور نوجوانوں میں ڈر*
*افواہوں سے بالاتر ہو کر ہنر کو بنائیں اپنی پہچان*
✍️ *وسیم رضا خان*
حال ہی میں ناسک شہر کی ایک جانی مانی ملٹی نیشنل کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سے جڑا معاملہ کافی بحث میں رہا ہے۔ اس واقعے کو لے کر سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر کئی طرح کی باتیں کی گئیں، اسے الگ الگ رنگ دینے کی کوشش ہوئی اور کورٹ میں یہ معاملہ ابھی زیرِ سماعت ہے۔ اس دوران کچھ سماجی تنظیموں نے بھی قانونی اور اخلاقی طور پر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے، جسے معاشرے کا ایک سمجھدار طبقہ انصاف کی سمت میں اٹھائے گئے قدم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن اس پورے واقعے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک انجانا ڈر اور وہم پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں کی وجہ سے کئی مسلم نوجوانوں کے دل میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا کارپوریٹ سیکٹر میں ان کے لیے راستے بند ہو رہے ہیں؟ کیا کمپنیاں اب کسی خاص نظریے سے ان کے ہنر کو پرکھیں گی؟
اگر ہم افواہوں کے بازار سے ہٹ کر ناسک اور ملک کی دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی زمینی حقیقت دیکھیں، تو تصویر بالکل الگ اور حوصلہ بڑھانے والی ہے۔ حال ہی میں مختلف کمپنیوں کے ایچ آر (HR) پروفیشنلز اور وہاں کام کر رہے نوجوانوں سے بات چیت میں یہ صاف ہوا ہے کہ کارپوریٹ دنیا آج بھی پوری طرح پروفیشنلزم پر چلتی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں آج بھی صرف تین چیزیں اہمیت رکھتی ہیں—آپ کا تجربہ، کام کرنے کا طریقہ اور کام کو لے کر آپ کا جوش۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں کسی شخص کا مذہب، ذات یا پس منظر دیکھ کر نہیں، بلکہ اس کی اسکلز (Skills) دیکھ کر اسے نوکری دیتی ہیں۔ یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ کسی ایک تنازع کی وجہ سے پورے طبقے کے لیے مواقع ختم ہو جائیں گے۔ کمپنیوں کے دروازے ہر اس نوجوان کے لیے کھلے ہیں جس کے پاس ہنر ہے۔
کارپوریٹ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ہمت اور ہنر کے ساتھ ساتھ تھوڑی عملی سمجھ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے کام کی جگہ پر کچھ بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاکہ وہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا تنازع سے بچے رہیں۔ آفس میں تمام ساتھیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ اور خوشگوار تعلقات رکھیں۔ حالانکہ، یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ آفس کی دوستی کا ایک دائرہ ہو۔ بہت زیادہ گہری دوستی یا خاندانی سطح تک رسائی کبھی کبھی انجانے میں پیشہ ورانہ مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر خاتون ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کو ہمیشہ حد میں، باوقار اور پیشہ ورانہ بنائے رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی انہونی یا غلط فہمی کی گنجائش نہ رہے۔
دفتر صرف کام کے لیے ہوتا ہے۔ آفس کے ماحول میں مذہب، تہواروں، رسم و رواج یا مذہبی کتابوں سے جڑی حساس ابحاث سے پوری طرح دور رہیں۔ ہر کسی کا اپنا عقیدہ ہوتا ہے، اس لیے پیشہ ورانہ دائرے میں رہتے ہوئے صرف بزنس اور کام سے جڑی باتیں کرنا ہی سب سے محفوظ اور صحیح طریقہ ہے۔ اگر آپ کے جائے عمل یا اسٹاف میں دیگر خواتین ساتھی یا آپ کی کمیونٹی کی نوجوان لڑکیاں کام کر رہی ہیں، تو ایک ذمہ دار ساتھی کے ناطے ان کی حفاظت اور وقار کا احترام کریں۔ انہیں یہ بھروسہ دلائیں کہ اگر جائے عمل پر انہیں کسی بھی طرح کی بے چینی یا انہونی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ بلا جھجک بات کر سکتی ہیں اور اس کی شکایت ایچ آر یا مینجمنٹ سے کر سکتی ہیں۔
اس مضمون کے لکھنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ کسی بھی طرح کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنی ہمت اور اپنے ہنر کو ضائع نہ کرے۔ اگر آپ میں قابلیت ہے، تو ملک اور دنیا کی کوئی بھی بڑی کمپنی آپ کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ جس بھی کمپنی میں آپ کام کرنا چاہتے ہیں، وہاں بلا جھجک اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی امیدواری درج کریں۔ اپنی توانائی کو افواہوں پر برباد کرنے کے بجائے اپنی اسکلز کو اپ گریڈ کرنے میں لگائیں۔ یاد رکھیں، آپ کی کامیابی ہی ہر اس طاقت کو سب سے بڑا جواب ہوگی جو نوجوانوں کو بے روزگار یا گمراہ دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ کی محنت، آپ کی ایمانداری اور آپ کا ہنر ہی آپ کی اصل پہچان ہے۔