Thursday, 18 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

بارش میں نہانا بالوں اور جِلد کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟
جانے چارلی چیپلن سے یہ سوال کہ ’بارش میں نہانے کا کا فادہ ہے؟‘ پوچھا گیا تھا یا پھر اس شاعر سے، جس نے ان کے مشہور قول کو کچھ یوں اردو میں شعری شکل دی.
بارش میں بھیگتے ہوئے رونے کا فائدہ
آنسو میرے کسی کو دکھائی نہیں دیے
مگر ایک بات عیاں ہے کہ بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ لوگوں کا دل باہر نکل کر بھیگنے کو کرتا ہے جبکہ کچھ اندر کی طرف بھاگتے ہیں یعنی کہ بارش میں بھیگنے کا معاملہ بھی اپنی اپنی پسند کے مطابق ہے تاہم یہاں صرف اس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ بارش کا پانی بالوں اور جلد کے لیے واقعی مفید ہے یا نقصان دہ یا یونہی باتیں بنی ہوئی ہیں۔اس بارے میں ویب سائٹ ہیلتھ شاٹس نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں ماہر جلد اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ سے بات کی ہے۔
جب ان سے یہی سوال پوچھا گیا تو ان کا کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارش کے پانی کے جلد اور بالوں پر اثرات کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم گرما کی بارش میں نہانے سے جسم کو سکون ملتا ہے اور جلد اور بالوں پر اس کا خوشگوار اثر پڑتا ہے لیکن اگر آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بہت زیادہ آلودگی ہے تو پھر بارش کے پانی کی تاثیر مختلف ہو سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر آپ کی جلد حساس ہے اور ایسے ہی علاقے میں رہتے ہیں تو آپ کو بارش کے پانی میں نہانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد کو نقصان ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مون سون کی بارش کا پانی انہیں ٹھنڈک کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ خشکی اور ہلکی پھلکی خارش سے بھی نجات دے گا تاہم یہ تبھی ہوتا ہے جب بارش کسی پرفضا مقام پر برس رہی ہو، اگر معاملہ اس سے الٹ یعنی آلودگی والے مقام کا ہو تو یہ صورت حال اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور جلد و بالوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے بالوں اور جلد کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اس لیے بارش کے پانی بھی مختلف ہو سکتا ہے، ویسے زیادہ تر بارش کا پانی بالوں کو سخت اور کھردرا بناتا ہے، اس لیے بارش کے پانی میں نہانے کے بعد بالوں کو صابن سے دھونا یا شیمپو کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مون سون کے موسم میں انسان کو بالوں سے متعلق زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں جن میں جوؤں کا مسئلہ بھی شامل ہے اور اس کی وجہ سے نمی ہوتی ہے۔
ان نکات کے بعد جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ مون سون میں ہونے والی بارش سے بچا جائے اور اس بھیگے موسم کا مزہ نہ لیا جائے؟اس کے جواب میں ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ نے کہا کہ اگر کسی خصوصاً خواتین کا بارش میں بھیگنے کا دل کر رہا ہے اور ان کو اپنے بالوں اور جلد کی بھی فکر ہو تو انہیں ایسا کر لینا چاہیے تاہم دو تین نکات ذہن میں رکھنے چاہییں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بارش میں بھیگنے کے بعد گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد نیم گرم پانی سے دوبارہ غسل ضرور کریں، اسی طرح چہرے کو بھی کسی اچھے صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
اسی طرح شیمپو کرنے کے بعد کنڈیشنر لگانا نہ بھولیں، اس سے بالوں میں نمی برقرار رہتی ہے اور بالوں کی شائن بھی بڑھتی ہے۔
اسی طرح نہانے کے بعد انفیکشن سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم کے اچھی طرح خشک ہونے کے بعد کپڑے پہنیں، ایسا تولیے سے کسی حد تک کیا جا سکتا ہے تاہم کوشش کریں کہ جسم ہوا سے خشک ہو۔








 ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے‘‘ اسدالدین اویسی کا شیوسینا اور ٹی ایم سی پر طنز، کہا-’’اپوزیشن کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت‘‘
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ان کی قیادت اپنی پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کو دوسری جماعتوں میں جانے سے کیوں نہیں روک پا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں اپوزیشن پر سوالات

اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کئی ارکان پارلیمنٹ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید دو ’نمایاں‘ ارکان پارلیمنٹ کو بتانا چاہیے کہ آخر ان اراکین کو بی جے پی میں جانے کے لیے کس نے ’دھمکایا‘۔ اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے دیگر 19 ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ انہوں نے کہا کہ شاید اس کا الزام بھی کسی ایک شخص پر ڈالنے میں ایک مہینہ لگ جائے گا۔

قرآن پاک کا حوالہ، تنظیمی کمزوریوں کا ذکر

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ناقدین کو بے بنیاد الزامات سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا: ’’ہر طعنہ دینے والے اور عیب جو کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی تنظیمی ناکامیوں کا ذمہ دار کسی ایک شخصیت کو قرار نہیں دے سکتی۔ اویسی نے سوال کیا کہ آخر بی جے پی کے لیے دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی طرف راغب کرنا اتنا آسان کیوں ہے اور لوگ مسلسل اپنی جماعتیں کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے لکھا ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے۔‘‘

مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں سیاسی ہلچل

مہاراشٹر میں اس وقت ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے نام سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شیوسینا (یو بی ٹی) کے نو میں سے سات ارکان پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا سے رابطے میں ہیں اور ممکنہ طور پر پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، شیوسینا کے رکن قانون ساز کونسل چندرکانت رگھونشی نے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے ایکناتھ شندے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دھڑے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں 14 جون کو ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے اوم برلا سے ملاقات کرکے اپنے گروپ کے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام سے متعلق ایک خط بھی پیش کیا تھا۔









جیوڈ بیلنگھم کے نام بڑا ریکارڈ، ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ کی جیت، کروشیا کے خلاف گول کر کے رقم کر دی تاریخ  
 نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ نے شاندار آغاز کرتے ہوئے کروشیا کو 2-4 سے شکست دے دی۔ ہیری کین کی قیادت میں حاصل ہونے والی اس فتح کے دوران نوجوان مڈفیلڈر جیوڈ بیلنگھم نے ایک تاریخی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔گروپ ایل کے پہلے میچ میں بیلنگھم نے نہ صرف عمدہ کھیل پیش کیا بلکہ ایک اہم گول بھی اسکور کیا۔ 22 سالہ انگلش اسٹار اب دو فیفا ورلڈ کپ اور دو یورو کپ سمیت چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی فٹبالر بن گئے ہیں۔بیلنگھم نے یہ اعزاز جرمنی کے جمل موسیالا کو پیچھے چھوڑ کر حاصل کیا۔ انہوں نے پہلی بار یورو 2020 میں کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی، جس کے بعد وہ قطر ورلڈ کپ 2022، یورو 2024 اور اب ورلڈ کپ 2026 میں بھی انگلینڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

اس فہرست میں انگلینڈ کے سابق اسٹار مائیکل اوون کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے 1998 اور 2002 کے ورلڈ کپ کے علاوہ یورو 2000 اور یورو 2004 میں شرکت کی تھی۔ جیوڈ بیلنگھم انگلینڈ کے ان چند کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں ،جنہوں نے کم عمری میں ہی بین الاقوامی فٹبال میں اپنی جگہ بنا لی۔ انہوں نے محض 17 سال اور 136 دن کی عمر میں انگلینڈ کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ انگلینڈ کی تاریخ میں ان سے کم عمر میں صرف تھیو والکاٹ اور وین رونی نے قومی ٹیم کے لیے پہلا میچ کھیلا تھا۔کروشیا کے خلاف میچ میں انگلینڈ نے ابتدا سے ہی جارحانہ کھیل پیش کیا۔ کپتان ہیری کین نے دو گول اسکور کیے، جب کہ دوسرے ہاف میں جیوڈ بیلنگھم اور مارکس راشفورڈ کے گولز نے ٹیم کی فتح یقینی بنا دی۔

میچ کے بعد بیلنگھم نے کہا کہ ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا اگلا ہدف انگلینڈ کے لیے 50 بین الاقوامی میچ مکمل کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میری ذمہ داری ہے کہ جب میں میدان میں اتروں تو اپنی ٹیم اور اپنے ملک کے لیے سو فیصد دوں۔ جب سینے پر انگلینڈ کا بیج اور پشت پر نمبر 10 ہو تو میں اپنی تمام تر صلاحیتیں ٹیم کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔‘‘بیلنگھم نے مزید کہا کہ یہ سیزن ان کے لیے انتہائی طویل اور تھکا دینے والا رہا، جس کے دوران وہ کئی مواقع پر ٹریننگ کیمپس سے بھی دور رہے، لیکن انہیں یقین تھا کہ بڑے مقابلوں میں وہ اپنی ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی کھلاڑی

جیوڈ بیلنگھم (انگلینڈ) — 22 سال 353 دن

جمال موسیالا (جرمنی) — 23 سال 108 دن

پیڈری (اسپین) — 23 سال 202 دن

جیریمی ڈوکو (بیلجیم) — 24 سال 19 دن

مائیکل اوون (انگلینڈ) — 24 سال 182 دن

لوکاس پوڈولسکی (جرمنی) — 25 سال 9 دن

جیوڈ بیلنگھم کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے شاندار کیریئر کا ایک اور سنگ میل ہے بلکہ انگلینڈ کے لیے ورلڈ کپ مہم کے آغاز پر ایک حوصلہ افزا اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بارش میں نہانا بالوں اور جِلد کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟ جانے چارلی چیپلن سے یہ سوال کہ ’بارش میں نہانے کا کا فادہ ...