Saturday, 11 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے؟
انڈیا کی وزارت صحت نے وزن کم کرنے والی ادویات کے غیر منظم استعمال کے حوالے سے خبردار کیا ہے کیونکہ اوزیمپک جیسی معروف ذیابیطس ادویات کے سستے جنیرک متبادل پیٹنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد مارکیٹ میں آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عرب نیوز پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سیماگلوٹائڈ، جو اوزیمپک اور ویگووی جیسی وزن کم کرنے والی ادویات کا فعال جزو ہے، کا پیٹنٹ 20 مارچ کو انڈیا میں ختم ہو گیا، جس کے بعد مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس کی اپنی تیار کردہ اقسام بنا کر کم قیمت پر فروخت کر سکتی ہیں۔متعدد کمپنیوں نے خون میں شوگر کی سطح اور بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمون سے منسوب جی ایل پی-1 ادویات کے جنیرک ورژن تیار کر کے انڈیا کی معروف فارمیسیز پر دستیاب کر دیے ہیں، جہاں ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 15 ڈالر سے شروع ہو رہی ہے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ ’جی ایل پی-1 پر مبنی وزن کم کرنے والی ادویات کے متعدد جنیرک متبادل حال ہی میں انڈین مارکیٹ میں متعارف کرائے گئے ہیں، جس کے بعد ریٹیل فارمیسیز، آن لائن پلیٹ فارمز، ہول سیلرز اور ویلنَس کلینکس کے ذریعے ان کی باآسانی دستیابی پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ’یہ ادویات اگر مناسب طبی نگرانی کے بغیر استعمال کی جائیں تو سنگین مضر اثرات اور صحت کے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔‘
ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی ’نووو نورڈسک‘ کی جانب سے 2017 میں تیار کی جانے والی دوا اوزیمپک ابتدائی طور پر ذیابیطس کے علاج کے لیے منظور کی گئی تھی تاہم بعد میں وزن کم کرنے میں موثر ثابت ہونے کے باعث عالمی سطح پر اس کی طلب میں اضافہ ہوا۔کئی برسوں تک نوو نورڈسک کے پاس اس دوا کا فعال جزو ’سیماگلوٹائڈ‘ کا پیٹنٹ موجود رہا جو گزشتہ ہفتے ختم ہو گیا۔
انڈیا میں، جہاں چین کے بعد دنیا میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کی دوسری بڑی تعداد موجود ہے اور موٹاپے کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، اوزیمپک کی اصل دوا کی ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 20 سے 50 ڈالر کے درمیان ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں یہی قیمت تقریباً 220 ڈالر جبکہ یورپ میں لگ بھگ 30 ڈالر ہے۔
اگرچہ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس دوا کی منظوری اس شرط کے ساتھ دی گئی ہے کہ اسے صرف اینڈوکرائنولوجسٹ اور میڈیسن کے ماہرین کے نسخے پر استعمال کیا جائے جبکہ بعض صورتوں میں ماہر امراض قلب بھی اسے تجویز کر سکتے ہیں تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
تیرونیلویلی میڈیکل کالج کے پروفیسر جے اے جے لال نے کہا کہ انڈیا میں فی الحال اس حوالے سے ’مجموعی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔‘انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہاکہ ’یہ ادویات آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے دستیاب ہیں، جو ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ اگر انہیں مناسب طبی نگرانی اور دیکھ بھال کے بغیر استعمال کیا گیا تو یہ متعدد پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔‘
تاہم انڈین حکام کے مطابق اس وقت فارماسیوٹیکل سپلائی چین میں ممکنہ بے ضابطگیوں کو روکنے اور غیر مجاز فروخت و استعمال کی روک تھام کے لیے ’ہدفی اقدامات کا ایک سلسلہ‘ شروع کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مریضوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ طبی نگرانی کے بغیر وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسی ادویات صرف مستند طبی ماہرین کی رہنمائی میں استعمال کریں۔‘










سعودی عرب نے پاکستان کے لیے کھلو دئے اپنے خزانے ، قرض سے نجات کے لیے دے گا 46 کھڑب روپے سے زیادہ
پاکستان : مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خطرے نے پاکستان کی پہلے سے نازک صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں ریاض کا موقف پاکستان کے لیے خوش آئند ریلیف ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کے دہانے پر

اپریل پاکستان کے لیے ایک لٹمس ٹیسٹ رہا ہے۔ پاکستان کے قرضوں کے اعداد و شمار پر ایک نظر حیران کن ہیں :کل قرض ادا کرنا ہے: صرف اسی ماہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مد میں 5 بلین ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔

پاکستان پر متحدہ عرب امارات کا کتنا قرضہ ہے؟ پاکستان اپنے کل قرضوں کا ایک اہم حصہ، 3.5 بلین ڈالر، صرف متحدہ عرب امارات کا مقروض ہے۔

انتباہ: فوری مدد یا رول اوور کے بغیر (پرانے قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع)، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 11.5 بلین ڈالر تک گر سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملک کی لیکویڈیٹی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب سے پاکستان کی اپیل: اس دباؤ کے درمیان، اسلام آباد نے ریاض سے 5 بلین ڈالر کے نئے قرضے کی درخواست کی ہے اور اس کی تیل کی مالی معاونت کی سہولت میں اگلے پانچ سال تک توسیع کی ہے۔

صرف ٹرسٹ کی ‘گارنٹی’
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں کسی نئے مالیاتی معاہدے یا قرض کی رقم کی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کوئی ہنگامی بیل آؤٹ نہیں ہے بلکہ دو دیرینہ اتحادیوں کے درمیان جاری ہم آہنگی کا حصہ ہے۔ تاہم اس دورے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لیے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

معاشی امداد سے ہٹ کر سعودی وزیر خزانہ نے ایک اور اہم بیان دیا جس نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریاض نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی صلاحیت پر گہرے اعتماد کا اظہار کیا۔ تاہم یہ صورت حال اتنا ہی چیلنج پیش کرتی ہے جتنا کہ یہ ایک سفارتی فتح دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے دونوں اطراف سے تعلقات ہیں۔ عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں اس کے حقیقی اثر و رسوخ کی حد تک ایک بڑا سوال ہے۔









کیونکہ سب سے چھوٹے تابوت سب سے بھاری ہوتے ہیں
آج صبح کی چائے گرم تھی، لیکن آنکھیں ٹھنڈی پڑ گئیں۔ موبائل سکرین پر اس تصویر نے دل کو چھلنی کردیا ۔ ہوائی جہاز کے اندر، خالی نیلی نشستیں اور مسکراتی ہوئی ا سکول کی لڑکیوں کی تصاویرایک چھوٹی سی لڑکی حجاب میں ،ایک لڑکا پیلے کرتے میں اور ان کے بغل میں سفید کی کلی جو دھیرے ۔ دھیرے مرجھا رہی تھی ۔ ذہن میں بیٹی کا چہرہ چمکا۔ کیسے وہ اسکول جانے کی تیاری کرتی ہے ۔ اور ہم اسے بس اسٹاپ پر چھوڑ نے جاتے ہیں ۔ یہ تصویر ہم جیسے کروڑوں والدین کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

ہوائی جہاز کے اندر اکثر شور ہوتے ہیں، لوگ باتیں کرتے اور ہلچل ہوتی ہے ۔ لیکن ایران سے اسلام آباد جانے والی اس فلائٹ پر ایک گہری خاموشی ہے۔ یہ خاموشی ان معصوم خوابوں کی خاموشی ہے جو اب بکھر چکے ہیں۔ ایرانی وفد ان 168 لڑکیوں کی یادیں لے کر آیا ہے جن کی ہنسی 28 فروری کے حملے میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی۔مناب میں لڑکیوں کے اسکول پر مجرمانہ اور بزدلانہ بم دھماکے کی ذمہ داری نہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لی اور نہ ہی بنجمن نیتن یاہو نے ۔ لیں بھی کیسے ؟ ایک لیڈر کہتا ہے کہ وہ ایرانی تہذیب کو ہی تباہ کر دیں گے، اور یہ زندہ ہی اس لئےبچے ہیں کہ بات چیت کرسکیں ۔ دوسرے کو غزہ میں قبریں کھودوانے کی عادت ہے۔ لیکن یہ صرف “اہداف” نہیں تھے۔ کسی کی پیاری بیٹیاں تھیں۔ انہیں ب پسند تھیں اور یہ کتابوں سے پیار کرتی تھیں ۔ ان کے والدین نے ان میں ان گنت خواب بُنے ہوں گے۔

اس تصویر کو غور سے دیکھئے ۔ کہیں ایک پھولوں والا بیگ ہے،تو کہیں ایک معصوم سی مسکراہٹ ۔ ایک سیٹ پر ایک گلاب کا پھول رکھا ہوا ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ایک مختصر پیغام: “اس پرواز میں میرے ساتھی۔ ایک تلخ سچائی ہے۔ جو چلے گئے وہ پیچھے نہیں چھوٹتے ۔ وہ ہمارے سفر اور ہمارے خیالات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہم سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں: کیوں؟”

ہندوستان ہو یا ایران، غم کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔ جب کسی ا سکول پر حملہ ہوتا ہے تو پوری انسانیت کا مستقبل دم توڑ جاتا ہے۔ ایران میں بیٹیوں کی لاشیں گریں لیکن یہ نقصان پوری دنیا کا ہے۔

یہ طیارہ صرف کاغذات لے کر نہیں آیا ۔ یہ اپنے ساتھ دنیا کا ضمیر لے کر آیا ہے ۔ یہ ایک اڑتی ہوئی یادگار ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری ترقی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک کہ بچے اپنے کلاس رومز میں محفوظ نہ ہوں۔
دعا ہے کہ #Minab168 کی یادیں ہمیں ایک ایسی دنیا بنانے کی ترغیب دیں جہاں کسی بچے کو جنگ کا شکار نہ ہونا پڑے، کیونکہ سب سے چھوٹے تابوت سب سے بھاری ہوتے ہیں۔


*🛑سیف نیوز اُردو*

ملبے  میں ہی دبا رہے گا غزہ کیونکہ... ٹرمپ کے اربوں ڈالر والے منصوبے کی نکلی ہوا ، حماس کو ہٹانے والا پلان بھی فیل ن...