*درے گاؤں کے مسائل پر سنگھرش سمیتی کا وفد میئر سے ملا: بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ*
مالیگاؤں: (نامہ نگار)
درے گاؤں علاقے میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور زیرِ زمین ڈرینیج کے کام سے پیدا ہونے والی ابتر صورتحال پر ’درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی‘ کے ذمہ داران اور مقامی بنکروں کے ایک وفد نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں میئر نسرین شیخ اور گٹ نیتا خالد حاجی سے اہم ملاقات کی۔
اس وفد کی قیادت سنگھرش سمیتی کے اہم ذمہ داران عمیر انصاری اور سفیان انصاری نے کی۔ وفد میں علاقے کے معززین اور صنعتکار بڑی تعداد میں شامل تھے، جن میں ساجد سیٹھ، انجم سیٹھ، مزمل سیٹھ، ببلو سیٹھ، نعیم سیٹھ، ڈاکٹر قدیر، علیم ٹیکسٹائل، سفیان رحمت اللہ، زید بھائی اور انجمام کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
ملاقات کے دوران عمیر انصاری اور سفیان انصاری نے میئر کو بتایا کہ درے گاؤں کا علاقہ میونسپل انتظامیہ کی توجہ کا منتظر ہے۔ علاقے میں گٹر اور نالوں کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ مزید برآں، عوام نے اپنے ذاتی خرچ سے جو سڑکیں درست کروائی تھیں، انہیں انڈر گراؤنڈ ڈرینیج کا کام کرنے والوں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سڑکوں پر موجود گڑھوں کی وجہ سے حمالوں، مزدوروں اور راہگیروں کو گزرنے میں شدید دشواری ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی پاور لوم صنعت اور کاروبار پر پڑ رہا ہے۔
میئر نسرین بانو نے وفد کی تمام باتوں کو توجہ سے سنا اور ہدایت دی کہ کارپوریٹر کے لیٹر ہیڈ پر ان تمام شکایات کو درج کروا کر دیا جائے تاکہ ان کا فوری تکنیکی و انتظامی حل نکالا جا سکے۔ اس موقع پر گٹ نیتا خالد حاجی نے بھی مظلوم بنکروں اور رہائشیوں کو یقین دلایا کہ سڑکوں کی مرمت اور دیگر بنیادی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیا جائے گا تاکہ عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
درے گاؤں کے بنکروں اور رہائشیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ملاقات کے بعد علاقے میں رکے ہوئے ترقیاتی کاموں کو جلد از جلد شروع کیا جائے گا۔
*ماریہ صدف محمد عارف نوری نے دینیات میں اوّل مقام حاصل کیا-*
(پریس ریلیز) ماریہ صدف بنت محمد عارف نوری طالبہ اِرم پرائمری اسکول مالیگاؤں متعلّم ابتدائی نصاب دینیات منعقدہ ماہ دسمبر 2025 امتحان میں شریک ہوکر کلاس میں اوّل مقام حاصل کرکے کامیابی حاصل کی ادارہ امتحان دینیات زیرِ اہتمام معہدِ ملّت مالیگاؤں ابتدائی نِصاب دینیات دوسری جماعت کی سَند حضرت مولانا ادریس عقیل مِلّی صاحب اور مفتی حامد ظفر ملّی رحمانی صاحب کی دستخط سے تفویض کی گئی الحمدللہ اسی سال قرآن باالتجوید میں بھی ماریہ صدف نے نمایاں مقام حاصل کیا تھا دوسری جماعت دینیات امتحان میں اوّل مقام حاصل کرنے پر ماریہ صدف محمد عارف نوری صاحب کو مبارکباد و نیک خواہشات پیش کرتے ہیں اللہ پاک اِس بچّی کو مزید ترقیات سے نوازے۔
منجانب: سابق اسٹینڈنگ چیئرمین امانت اللہ پیر محمد، عتیق سر پاٹودہ، وکیل قریشی ممبر، محترم آزاد انور، انور پہلوان، ڈاکٹر پروفیسر محمد رمضان مکّی سر، مولانا عبدالرشید مجدّدی، ریحان کاجل، مصطفیٰ برکتی سر، مولانا مجاہدُ الاسلام بَیتی، افضل خان، شکیل مقادم، صادق کپتان و احباب۔
*9273481470*
*کاوش قلم ۔حفظ الرحمن وفا۔تحریک(مالیگاٶں وکاس منچ)*
*شاید کہ اتر جاۓ کسی دل میں مری بات*
*ہم نے جب سے ہوش سمبھالا یہی سنتے آرہے ہیں کہ اتی کرمن آیا ہے یا آنے والا ہے اب سڑکیں کشادہ ہوں گی راستے ہموار ہوں گے ہم گلی محلے میں کرکٹ گلی ڈنڈا کھیلیں گے اب گراونڈ یا میدان میں جانے کی ضرورت نہیں۔وقت گزرتا رہا ۔جب جب کوٸ نیا کمیشنر یا بر سراقتدار صدر بلدیہ یا میٸر کرسی پر برا جمان ہوتا وہ یا تو پہلا نعرہ اتی کرمن کی صفاٸ کا دیتا یا وقتاً فوقتاً پریس کانفرنس میں اس کار خیر کی دہاٸ دیتا ۔یہاں تک کہ کچھ بر سر اقتدار افراد نے اس اہم موزوں کو اپنے الیکشن کے مینو فیسٹو میں شامل کر کے اقتدار کا مزہ بھی لیا۔مگراللہ بھلا کرے ان سب صاحب اقتدار و صاحب اختیار افراد کا جن کی بدولت اس جنگل کی آگ کیطرح پھیلنے والے اتی کرمن کے جال کی گانٹھیں مزید مضبوط ہوتی گیٸں۔ مگر کسی صاحب نقدونظر اود عقل و فہم رکھنے والے اس گرہ کو کسی اورطرح سے کھولنے کی کوشش بھی نہیں کی۔*
*کیا یہ تماشا ہمیشہ ہمیش اسی طرح چلتا رہے گا۔یا پھر کوٸ اللہ کا نیک بندہ اس جال کو مستقل طور سے ختم کرنے کی سعی کرے گا۔*
*شاید اگر میں غلط نہیں ہوں تو اس شہر کی مکمل آبادی بلکہ اس شہرکاہر فرد اس سے بیزار اور اس کے مخالف نظر آتا ہے مگر۔۔۔*
*خواہ وہ اس شہر کا بچہ جوان بوڑھا چاہے مرد ہو یا زن ہر کوٸ اس ناسور اور بدبخت اتی کرمن کی اپنے اپنے انداز میں مخالفت کرتا ہوا دہاٸ دیتا ہوا نظر آتا ہے*
*مالیگاٶ ں کا ہرشہری میری نظر میں اس کریح جال میں غیر محسوس طریقے سے بندھا ہوا دکھاٸ دیتا ہے۔*
*جس طرح اگر ہمارےخاندان میں کسی قسم کی ناچاکی یا نا اتفاقی ہو جاتی ہے تو ہم اس کو حل کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔اور پہلی کوشش یہی رہتی ہے کہ اس مسٸلے کو آپس میں گھر میں بیٹھ کر سلجھالیں۔*
*اسی پس منظر میں ہم سب شہریان مالیگاٶں مل کر پہلی کوشش میں ہم انشااللہ اتی کرمن جیسے ناسور کو مستقل طور پر اپنے گھر سے ختم کریں۔اپنے اہل خانہ رشتہ دار دوست احباب اقربہ گلی محلے اور شہر سے اس جنجال کوپاک کریں۔*
*ہر شہری خود اتی کرمن نہ کرے اور اپنے ماتحتین کو نہ کرنے دیں اور اگر کوٸ اپنا قریبی اتی کرمن پر روزگار کی سعی کر رہا ہے تو پہلے شرعی طور سے اسے سمجھاٸیں اور نہ سمجھے تو اتی کرمن پر دھندہ بیوپار کرنے والے سے ہرگز لین دین نہ کریں۔چاہے وہ امیر ہو درمیانی طبقے کا یا غریب ہر ایک سے کہیں بھاٸ پہلےآپ شرعی حدود میں رہ کر روزگار کریں دھیرے دھیرے دیر سے سہی مگر اس ناسور کو ہم از خود سارے شہریاں مل کرایک دن اکھاڑکر پھینکیں گے۔انشاُ اللہ*
*ترقی کے نام پر 'اکھاڑہ' بنی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن*
*کیا عوام کے بھروسے کے ساتھ غداری ہو رہی ہے؟*
✍️ *وسیم رضا خان*
⏺️⏺️⏺️
*مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن* کی دہلیز پر شہر کی ترقی اور عوامی مفاد کے مسائل پر بحث ہونی چاہیے تھی، لیکن 2 اپریل کو جو کچھ ہوا، اس نے جمہوریت کے مندر کو 'میدانِ جنگ' میں تبدیل کر دیا۔ جب ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگ ہی قانون اور مریاداؤں کو بالائے طاق رکھ دیں، تو شہر کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگنا فطری ہے۔
جنرل باڈی کا اجلاس شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن وہاں بحث نے ایسا متشدد رخ اختیار کیا کہ کارپوریٹرز کے درمیان ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ برسر اقتدار اسلام پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم جیسی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان یہ تصادم محض سیاسی برتری کی جنگ نہیں تھی، بلکہ ان نمائندوں کی اس ذہنیت کا ثبوت تھا جو عوامی مفاد سے زیادہ ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ تنازعہ کا مرکز وہ مسئلہ تھا جس کا براہِ راست تعلق میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار سے تھا ہی نہیں۔ ووٹرز کی میپنگ اور ایس آئی آر کا عمل الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اقتدار میں موجود پارٹی کی یہ تجویز کہ بی ایل او کی مدد کے لیے مقامی بے روزگار نوجوانوں کو مقرر کر کے انہیں اعزازیہ دیا جائے، بظاہر تو فلاحی لگ سکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی منشا اور انتظامی طریقہ کار پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ اپوزیشن کا یہ الزام کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اجلاس میں ایسی تجاویز لائی جا رہی ہیں، حکمران جماعت کے طریقہ کار پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ مالیگاؤں میں جس طرح میپنگ اور ایس آئی آر کو لے کر خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ افواہوں کا بازار اس قدر گرم ہے کہ اسے 'پاکستان ڈی پورٹ' (ملک بدری) جیسے تنگ نظر اور خوفناک پہلو سے جوڑا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظر ثانی اور میپنگ کا کام الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے ماتحت آتا ہے۔ الیکشن کمیشن اس کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے سرکاری ملازمین یا منظور شدہ نجی ایجنسیوں کو ٹھیکہ دیتا ہے۔ اس میں بلدیاتی ادارے (کارپوریشن) کا کردار صرف انتظامی تعاون تک محدود ہوتا ہے؛ وہ خود تقرریاں کرنے یا معاوضہ طے کرنے والی مرکزی ایجنسی نہیں ہوتی۔ جنوری 2026 سے ملک کی دیگر ریاستوں میں یہ عمل انتہائی شفاف اور پرامن طریقے سے مکمل ہوا ہے۔ مالیگاؤں میں اسے مسئلہ بنا کر جو انتشار پھیلایا جا رہا ہے، وہ یا تو انتظامی نظام میں غیر ضروری مداخلت ہے یا حکمران جماعت کا کوئی ذاتی مفاد۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مالیگاؤں کے لیڈروں نے پچھلے کچھ سالوں میں جو کام کیا ہے، اس سے وہ خود مخالفین کو موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم خود کہتے ہیں 'آؤ اور ہماری دکھتی رگ کو دبا دو'۔ جیسا کہ گزشتہ سالوں میں 'بنگلہ دیشیوں کو مالیگاؤں میں بسانے' والا بیان دے کر کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی کو یہاں کے لوگوں کو نشانہ بنانے کا موقع مل گیا۔ میونسپل کارپوریشن کا بنیادی کام شہر کی سڑکوں، صحت، صفائی، پانی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے۔ ایک ایسا ادارہ جہاں کے کارپوریٹرز اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہاں ہاؤس کے پروٹوکول اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑنا شرمناک ہے۔ جب حکمران گروہ ان کاموں میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے جو الیکشن کمیشن کے اختیار میں ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کے پیچھے کوئی خاص سیاسی مقصد ہے یا اپنے کارکنوں کو فائدہ پہنچانے کی خواہش؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ ان کے ذریعے جو 'ڈمی ووٹرز' (فرضی رائے دہندگان) بھرے گئے ہیں، ان کی بھی میپنگ ہو جائے گی؟ جس شہر کے نمائندے اجلاس میں جاہلوں کی طرح لڑتے ہوں، وہاں کی عوام کو بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ شہر کے خزانے اور ترقی کی ذمہ داری جن ہاتھوں میں سونپی گئی ہے، وہی آپس میں 'لوٹ کھسوٹ' جیسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں 2 اپریل کا واقعہ محض ایک ہاتھا پائی نہیں تھی، بلکہ یہ جمہوری اقدار کا قتل تھا۔ اگر پڑھے لکھے کارپوریٹرز بھی ایوان کے آداب نہیں سمجھتے، تو یہ مالیگاؤں کے عوام کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے۔ شہر کو ترقی چاہیے، نہ کہ بے بنیاد مسائل پر سیاسی اکھاڑہ۔ وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے نمائندوں سے کام کا حساب مانگیں، نہ کہ ان کے پھیلائے ہوئے ابہام اور تشدد کا حصہ بنیں۔