*پریس نوٹ: مالیگاؤں میں جونا آگرہ روڈ پر 'اپنا سوپر مارکیٹ تا نیشنل کمپاؤنڈ' پر مجوزہ غیر ضروری فلائی اوور کی قانونی مخالفت!*
مالیگاؤں کے بیدار شہریان اور متاثرین کی جانب سے جونا آگرہ روڈ پر مجوزہ نئے فلائی اوور برج کے خلاف ایک فیصلہ کن قانونی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کلیم یوسف عبداللہ'گرین مالیگاؤں ڈرائیو' کی جانب سے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر سمیت تمام اعلیٰ حکام کو ایک تفصیلی احتجاجی خط روانہ کیا گیا ہے۔
*عوامی بیداری اور قانونی حقائق:*
*قانون کی کھلی خلاف ورزی (MRTP Act):* مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایکٹ 1966 کی دفعہ 26 اور 28 کے تحت کسی بھی بڑے منصوبے سے پہلے عوامی سماعت (Public Hearing) اور اعتراضات طلب کرنا لازمی ہے۔ انتظامیہ عوام کو اندھیرے میں رکھ کر یہ منصوبہ نہیں تھوپ سکتی۔
*شہریان کی تجارت اور روزگار کا تحفظ (آرٹیکل 19):* آئینِ ہند کا آرٹیکل 19(1)(g) شہریوں کو تجارت کی آزادی دیتا ہے۔ اس غیر ضروری فلائ اوور پل سے 400 سے 500 دکانیں، گیریج، اسپئر پارٹس، فرنیچر شاپ، کرانہ، کمرشئیل و رہائشی کمپلیکس، ریسٹورنٹ، ہسپتال اور اسکول وغیرہ ماحولیاتی، جغرافیائی اور معاشی طور پر تباہ ہو جائیں گے، جو کہ بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔
*تکنیکی ضرورت کا فقدان (IRC گائیڈ لائنز):*'انڈین روڈ کانگریس' کے مطابق فلائ اوور برج وہیں بننا چاہیے جہاں ٹریفک کا دباؤ ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو، جو یہاں بالکل بھی نظر نہیں آتا، بلکہ آگرہ روڈ کا اصل مسئلہ 'تجاوزات'(Encroachments)ہیں۔ انتظامیہ تجاوزات ایمانداری سے ہٹانے کے بجائے کروڑوں کا بجٹ فلائ اوور پل پر ضائع کرنا چاہتی ہے جو کہ بدنیتی پر مبنی ہے۔
*عوامی فنڈز کی بربادی اور این جی ٹی (NGT) کے احکامات کی توہین:* نیشنل گرین ٹربیونل (National Green Tribunal) کے احکامات کے تحت شہر بھر کے ساتھ ساتھ جونا آگرہ روڈ پر حال ہی میں 30 سے 40 کروڑ روپوں کی لاگت سے سیمنٹ کنکریٹ روڈ بنائی گئی ہے۔ اب اس روڈ کو توڑ کر فلائی اوور پل بنانا عوامی و سرکاری پیسے کی کھلی لوٹ اور عدالتی احکامات کی توہین ہے۔
*ماضی کا تلخ تجربہ:* اِسی جونا اگرہ روڈ پر 2017 میں شروع ہونے والا 'خواجہ غریب نواز فلائی اوور' جو 18 ماہ میں مکمل ہونا تھا، وہ 8 سال بعد بھی تکنیکی طور پر نامکمل اور ناقص ہے اور اس کا بجٹ 22 کروڑ سے بڑھا کر 29 کروڑ کر دیا گیا۔ یہ تاخیر، عوامی پریشانی اور کرپشن ثابت کرتی ہے کہ نیا منصوبہ بھی صرف 'کمیشن خوری' کے لیے لایا جا رہا ہے۔
*انتظامیہ سے دو ٹوک مطالبات:*
1- مجوزہ پل کا ڈی پی آر (DPR) اور ٹریفک سروے رپورٹ فوری طور پر عام کی جائے۔
2- عوامی سماعت کے بغیر منصوبے کو کوئی انتظامی منظوری نہ دی جائے۔
3- سابقہ پل اور سیمنٹ روڈ کے کاموں میں ہونے والے مالی غبن کی اعلیٰ سطحی انکوائری کی جائے۔
4- پہلے سڑک سے تجاوزات ہٹا کر ٹریفک بحال کی جائے، اور غیر ضروری منصوبہ منسوخ کیا جائے۔
5- شہر کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے تمام اہم شاہراہوں پر ایک لاکھ درخت لگائے جائیں۔
انتباہ: اگر انتظامیہ نے ان جائز مطالبات کو نظر انداز کیا تو شہریانِ مالیگاؤں ممبئی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت (PIL) داخل کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔
جاری کردہ:
کلیم یوسف عبداللہ
(گرین مالیگاؤں ڈرائیو)
اور: متاثرین جونا آگرہ روڈ ویاپاری و ناگرک سمیتی، مالیگاؤں۔
۔🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے ذریعے وزن کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ (وقفے وقفے سے کھانے) نے پچھلے کچھ سالوں میں توجہ حاصل کی ہے۔ کھانے کی یہ عادت اس بات پر زیادہ فوکس کرتی ہے کہ کب کھانا ہے اس سے زیادہ کہ کیا کھائیں۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے کئی طریقے ہیں۔ زیادہ تر لوگ 16/8 طریقہ استعمال کرتے ہیں، جس میں وہ 16 گھنٹے روزہ رکھتے ہیں اور 8 گھنٹے کے وقفے سے کھاتے ہیں۔ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے پیچھے بنیادی اصول جسم کو روزے کی حالت میں رکھنا ہے جو چربی کو جلانے اور میٹابولک صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے آپ کو مجموعی طور پر کیلوری کی مقدار کو محدود کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے وزن کم ہوتا ہے۔انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران جسم توانائی کے لیے چربی جلاتا ہے جس سے جسم کی چربی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور میٹابولزم کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے جس کا مطلب ہے وزن میں کمی۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ جسم کے خلیوں کو زہریلے مادوں کو ہٹانے اور خود کو ٹھیک کرنے میں مدد کرتی ہے جس سے مجموعی میٹابولک صحت میں مدد ملتی ہے۔
صحیح طریقہ کا انتخاب کریں
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا ایک ایسا طریقہ منتخب کرنا بہت ضروری ہے جو آپ کے طرز زندگی اور ترجیحات کے مطابق ہو۔ چاہے یہ 16/8 کا شیڈول ہو یا 5:2 کا طریقہ ہو۔ یقینی بنائیں کہ یہ آپ کے روزمرہ کے معمولات کے مطابق ہے۔ دیکھیں کہ آپ کا جسم بغیر کسی مضر اثرات کے آپ کے منتخب کردہ طریقہ کے مطابق کیسے ڈھلتا ہے۔
اچھی طرح ہائیڈریٹڈ رہیں
مناسب ہائیڈریشن جسم کو مناسب طریقے سے کام کرنے کی اجازت دیتی ہے اور وزن میں کمی میں کرتی ہے۔ دن بھر وافر مقدار میں پانی پئیں، خاص کر انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران۔ ہربل چائے یا بلیک کافی بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ہائیڈریٹ رہنا بھوک کو دبانے اور خواہشات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
زیادہ کھانے سے پرہیز کریں
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران سوچ سمجھ کر کھانے کی کوشش کریں اور بھوک کو پہچانیں۔ زیادہ کھانا انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے فائدے کو نقصان میں بدل سکتا ہے اور وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ورزش
اپنے معمولات میں باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو شامل کریں۔ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران ورزش کیلوریز جلانے اور پٹھوں کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے، جو وزن میں کمی کو تیز کر سکتی ہے۔ مزید برآں یہ میٹابولزم کو فروغ دے گی اور آپ کی مجموعی صحت کی حمایت کرے گی۔
متوازن کھانے کی منصوبہ بندی کریں
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران متوازن غذا کھائیں جس میں غذائیت سے بھرپور خوراک جیسے پروٹین، اناج، صحت مند چکنائی، پھل اور سبزیاں شامل ہوں۔
نیویارک کے میئرزہران ممدانی کی اہلیہ رما دواجی نے نوجوانی کے دوران کیے گئے سوشل میڈیا بیانات پر معافی مانگ لی
نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ رمادواجی (Rama Duwaji) نے اپنی نوجوانی کے دوران سوشل میڈیا پر کیے گئے متنازع اور نقصان دہ بیانات پر عوامی طور پر معذرت کر لی ہے۔
28 سالہ آرٹسٹ رما دواجی نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے ماضی میں ایسی زبان استعمال کی جو دوسروں کے لیے تکلیف دہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی پرانی سوشل میڈیا پوسٹس سامنے آئیں تو انہیں شدید شرمندگی محسوس ہوئی۔انہوں نے کہا :
’’جب میرے نوجوانی کے زمانے کے ٹویٹس دوبارہ سامنے آئے تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے ایسی زبان استعمال کی جو دوسروں کے لیے نقصان دہ تھی۔ 15 سال کی عمر اس کا جواز نہیں ہو سکتی۔ میں اس پر دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘‘
رپورٹس کے مطابق ان پرانے پوسٹس میں نسلی تعصب پر مبنی الفاظ، ہم جنس پرستوں کے خلاف توہین آمیز زبان، اسرائیل مخالف بیانات اور بعض فلسطینی گروہوں کی حمایت شامل تھی۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی میڈیا ادارے نے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لے کر ان پوسٹس کو منظرعام پر لایا۔
مزیدیہ کہ، حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں پر بھی تنقید کی گئی، جن میں بعض پوسٹس کو اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا۔
تاہم، رما دواجی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ اب اپنی زندگی اور کام کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتی ہیں اور بطور آرٹسٹ اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب، میئر زہران ممدانی نے اپنی اہلیہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نجی شخصیت ہیں اور ان کا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی اہلیہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں۔
رما دواجی ایک آرٹسٹ اور مصور ہیں ۔ ان کی پرانی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر اس وقت تنازع کھڑا ہوا جب میڈیا رپورٹس میں ان کے نوعمری کے دور کے بیانات سامنے آئے، جن میں نسلی اور سیاسی نوعیت کے حساس موضوعات شامل تھے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہو گیا کیونکہ میئر ممدانی کو نیویارک میں مختلف کمیونٹیز، خصوصاً یہودی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے دوران اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔