بس چند گھنٹوں میں ختم ہوجائے گی ایران امریکہ جنگ ! ٹرمپ نے کیا 'گرینڈ ڈیل' کا بڑا اعلان ، نیوکلیئر پر ہوا یہ معاہدہ
واشنگٹن: مغربی ایشیا میں 46 روز سے جاری امریکہ۔ ایران جنگ اب ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اہم اعلان کر دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق دونوں مخالفوں کے درمیان ایک عظیم ایٹمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے پر ایک اپ ڈیٹ شیئر کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اگلے چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی ہے۔ اب تک آبنائے ہرمز اور جوہری ہتھیار دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں۔
ایران امریکہ معاہدہ کب ہو سکتا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری شدید جنگ اب آخری مراحل میں ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں تاریخی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کل 16 اپریل کو پاکستان میں مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور اس دوران کوئی بڑا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ فاکس بزنس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی فوجی کارروائی نے ایران کی کمر توڑ دی ہے اور تہران اب “کسی حال میں " معاہدہ چاہتا ہے۔“جنگ ختم ہونے کے دہانے پر ہے”: ٹرمپ
انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے ایران جنگ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا، “مجھے لگتا ہے کہ یہ ختم ہونے والی ہے۔ میں اسے ختم ہونے کے بہت قریب دیکھ رہا ہوں۔” ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اب معاہدے کے لیے پوری طرح تیار ہے کیونکہ امریکی ناکہ بندی اور حملوں نے اس کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔
ایٹمی پروگرام پر “20 سالہ” بریک!
ٹرمپ نے چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو اتنا نقصان پہنچا ہے کہ ایران کو دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے میں کم از کم 20 سال لگیں گے۔ ٹرمپ نے کہا، “اگر میں اب پیچھے ہٹ بھی جاؤں تو، “انہیں اس ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے۔ ہم نے انہیں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔”
16 اپریل: عظیم مذاکرات کی تاریخ؟
اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 16 اپریل 2026 کو اگلے چند گھنٹوں میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ مذاکرات 21 اپریل کو دو ہفتے کی جنگ بندی کے ختم ہونے سے عین قبل ہو رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر J.D Vance پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ ایک “عظیم ڈیل " چاہتے ہیں جس میں ایران کو اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ترک کرنا پڑے گا۔
ہرمز کی ناکہ بندی اور دباؤ کی سیاست
ٹرمپ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایرانی جہاز نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی اسے فوری طور پر “تباہ” کر دیا جائے گا۔ اس بے پناہ دباؤ کے تحت ایران اب معاہدے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔
راگھو چڈھا کو مرکزی حکومت نے دی زیڈ زمرے کی سیکورٹی، پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے واپس لی تھی سیکورٹی
نئی دہلی: پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے راگھوچڈھا کی سیکورٹی واپس لے لی ہے، جس کے بعد مرکزی حکومت نے انہیں زیڈ سیکورٹی فراہم کردی ہے۔ راگھوچڈھا کودہلی اور پنجاب میں زیڈ زمرے کی سیکورٹی ملے گی، جبکہ دیگر ریاستوں میں انہیں وائی پلس سیکورٹی ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ آئی بی کی تھریٹ پرسیپشن رپورٹ کی بنیاد پرکیا ہے۔عام آدمی پارٹی نے حال ہی میں راگھوچڈھا کوراجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹا دیا اورانہیں ایوان میں بولنے سے روک دیا۔ ان کی جگہ عام آدمی پارٹی نے اشوک متل کو راجیہ سبھا میں پارٹی کا ڈپٹی لیڈرمقررکیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آج اشوک متل کے جالندھرواقع رہائش گاہ پراوران کی نجی یونیورسٹی پرچھاپہ مارا ہے۔
مجھے خاموش کیا جاسکتا ہے، لیکن ہرایا نہیں: راگھو چڈھا
راگھو چڈھا اورعام آدمی پارٹی کے درمیان کافی وقت سے سب کچھ صحیح نہیں چل رہا تھا، جس کے بعد عام آدمی پارٹی نے ان سے ذمہ داری واپس لے لی تھی، لیکن اس کے بعد راگھو چڈھا نے بغاوتی تیوراپنا لئے اورپارٹی کی طرف سے مسلسل لگائے جا رہے الزامات کا ایک کے بعد ایک ویڈیو جاری کرکے جواب دیا۔ راگھو چڈھا نے راجیہ سبھا میں بولنے سے روکنے پرکہا تھا کہ انہیں خاموش کیا جاسکتا ہے، لیکن ہرایا نہیں گیا۔
عام آدمی پارٹی کی ٹاپ لیڈرشپ کوکیسے کیا ناراض؟
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد 2022 میں راگھوچڈھا کوسیکورٹی مہیا کرائی گئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل جاری رہی۔ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورسنجے سنگھ جیسے بڑے لیڈران کے جیل جانے کے بعد جب راگھوچڈھا نے اس پرکوئی آوازنہیں اٹھائی توپارٹی کوان کی خاموشی کا احساس ہوا۔ حالانکہ تب یہ کہہ کربچاو کیا گیا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کا علاج کرانے کے لئے بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔ جب کیجریوال اورمنیش سسودیا جیل سے چھوٹ کرآئے، اس کے بعد بھی راگھو چڈھا نے کوئی جوش نہیں دکھایا۔ راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اس بات کی قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ پنجاب حکومت سے ملی ان کی سیکورٹی واپس لے لی جائے گی اورآج اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔
زیڈ زمرے کی سیکورٹی میں کتنے جوان ہوتے ہیں تعینات؟
راگھو چڈھا کوجس زیڈ زمرے کی سیکورٹی ملنے کی بات سامنے آئی ہے، اس میں حکومت کے ذریعہ 22 سیکورٹی اہلکارتعینات کئے جاتے ہیں۔ اس سیکورٹی گھیرے میں عام طورپر 4 سے 6 نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کمانڈو ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی دہلی پولیس، آئی ٹی بی پی یا سی آرپی ایف کے جوان اورمقامی پولیس اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک اعلیٰ سطح کا حفاظتی دستہ ہے۔
سی بی ایس ای دسویں جماعت کا رزلٹ جاری، امنگ ایپ اور ڈیجی لاکر سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے کریں چیک
نئی دہلی: مرکزی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے دسویں جماعت کے بورڈ امتحان 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد لاکھوں طلبہ کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ اس سال تقریباً 25 لاکھ سے زائد طلبہ نے دسویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کی تھی، جو 17 فروری سے 10 مارچ تک منعقد ہوئے تھے۔ رزلٹ جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ اب اپنی مارک شیٹس مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بآسانی چیک کر سکتے ہیں۔ بورڈ کی جانب سے نتائج سرکاری ویب سائٹ results.cbse.nic.in سمیت دیگر ویب سائٹس پر بھی دستیاب کرائے گئے ہیں۔ طلبہ اپنے رول نمبر، اسکول نمبر، ایڈمٹ کارڈ آئی ڈی اور تاریخ پیدائش کی مدد سے اپنا اسکور کارڈ دیکھ سکتے ہیں۔سی بی ایس ای نے اس بار امتحانی نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے سال میں دو مرتبہ بورڈ امتحانات کا انعقاد شروع کیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پہلے مرحلے کے نتائج جلد جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے کے امتحانات مئی میں متوقع ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنا اور امتحانی دباؤ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
بورڈ کے مطابق دسویں جماعت کے رزلٹ چیک کرنے کے لیے متعدد ویب سائٹس فراہم کی گئی ہیں، جن میں results.cbse.nic.in، cbse.gov.in، results.nic.in، results.digilocker.gov.in، umang.gov.in اور cbse.nic.in شامل ہیں۔ طلبہ ان میں سے کسی بھی پلیٹ فارم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی بی ایس ای نے نتائج دیکھنے کے پانچ مختلف طریقے بھی بتائے ہیں، جن میں سرکاری ویب سائٹس، ایس ایم ایس سروس، امنگ (UMANG) ایپ، فون کال سروس اور ڈیجی لاکر شامل ہیں۔ ان متبادل طریقوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ زیادہ ٹریفک کی صورت میں بھی طلبہ کو نتائج تک رسائی میں دشواری نہ ہو۔
امنگ ایپ پر نتیجہ دیکھنے کے لیے طلبہ کو سب سے پہلے ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل نمبر یا آدھار کے ذریعے لاگ ان کرنا ہوگا۔ اس کے بعد سی بی ایس ای سروس کا انتخاب کر کے آسانی سے اپنا نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ امنگ ایپ پر بھی نتائج باضابطہ طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بارہویں جماعت کے طلبہ کو ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا کیونکہ ان کی کاپیوں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بارہویں کے نتائج بھی جلد جاری کیے جائیں گے۔ نتائج کے اعلان کے بعد طلبہ اور والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ کئی طلبہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے اگلے تعلیمی مرحلے کی تیاری میں مصروف ہو گئے ہیں۔