Saturday, 7 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




یو پی ایس سی میں کل 53 مسلم امیدوار کامیاب، یہاں دیکھیں فہرست
یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے جمعہ کو 2025 کے سول سروسز امتحان (سی ایس ای) کے حتمی نتائج کا اعلان کیا۔ انوج اگنی ہوتری نے امتحان میں ٹاپ کیا، راجیشوری سووے ایم اور اکانش دھول بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

کمیشن نے کہا کہ کل 958 امیدواروں نے امتحان کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور انہیں مختلف مرکزی سول خدمات میں تقرری کے لیے سفارش کی گئی ہے۔ سول سروسز کا امتحان ہر سال تین مرحلوں میں لیا جاتا ہے: پریلیمنری، مین اور انٹرویو۔ یو پی ایس سی کے ذریعے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS)، انڈین فارن سروس (IFS) اور انڈین پولیس سروس (IPS) کے افسران کو منتخب کیا جاتا ہے۔

53 مسلم امیدوار کامیاب:

سول سروسز 2025 کے امتحانات میں مسلمانوں کے نتائج میں پچھلے سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔ سول سروسز 2025 کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے 958 امیدواروں کی فہرست میں تقریباً 53 مسلم امیدوار شامل ہیں۔ ٹاپ 100 میں چار مسلم امیدواروں نے جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں اے آر راجہ محی الدین، عفرا شمس انصاری، نبیہ پرویز اور حسن خان کے نام شامل ہیں۔ واضح رہے یو پی ایس سی 2024 میں صرف 26 مسلم امیدوار ہی کامیابی حاصل کر پائے تھے۔ یو پی ایس سی 2025 کے نتائج یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ سول خدمات میں مسلم نوجوانوں کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ مسلسل اپنی محنت، عزم اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

کامیاب مسلم امیدواروں کی فہرست
سیریل نمبر نام رینک
1 اے آر راجہ محی الدین 7
2 عفراء شمس انصاری 24
3 نبیہ پرویز 29
4 حسن خان 95
5 عرفہ عثمانی 124
6 خان صائمہ سراج احمد 135
7 وسیم الرحمن 157
8 صوفیہ صدیقی 253
9 توصیف احمد گنائی 254
10 منتشا 307
11 اسد عقیل 321
12 محمد اشتیاق الرحمن 354
13 محمد اشمِل شاہ 382
14 شاہدہ بیگم ایس 411
15 شاداب علی خان 415
16 محمد صلوٰہ ٹی اے 429
17 شعیب 455
18 نازیہ پروین 478
19 شیخ محمد حبیب الدین ایس 485
20 شیخ محمد نشاط ایم 495
21 منہاج شکیل 513
22 گل فضا 535
23 ہاشمی محمد عمر 549
24 شاہ رخ خان 575
25 اثنا انور 576
26 منیب افضل پرہ 581
27 عظیم احمد 588
28 شائستہ پروین 614
29 نور عالم 625
30 محمد عرفان قیام خانی 646
31 محسنہ بانو 648
32 غلام محی الدین 663
33 دانش ربانی خان 665
34 محمد نایاب انجم 668
35 محمد ابوذر انصاری 671
36 انصا خان 678
37 عبد السفیان 695
38 فیروز فاطمہ ایم 708
39 محمد ہاشم 713
40 محمد سہیل 718
41 توصیف اللہ خان 741
42 کوہِ صفا 763
43 ثناء اعظمی 764
44 ریشما ایم 773
45 یاسر احمد بھٹی 811
46 غلام حیدر 832
47 محمد شیزن سی پی 860
48 محمد اعجاز الرحمٰن 869
49 اظہر آصف خان 886
50 محمد سرفراز چودھری 936
51 عبداللہ آفریدی اے 942
52 محمد شاہد رضا خان 955
53 عرفان احمد لون 957

مسلم امیدواروں کا ماضی کا ریکارڈ
سال کل کامیاب امیدوار کامیاب مسلم امیدوار
2009 791 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2010 875 امیدوار کامیاب 21 مسلم امیدوار
2011 920 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2012 998 امیدوار کامیاب 30 مسلم امیدوار
2013 1122 امیدوار کامیاب 34 مسلم امیدوار
2014 1236 امیدوار کامیاب 38 مسلم امیدوار
2015 1078 امیدوار کامیاب 34 مسلم امیدوار
2016 1099 امیدوار کامیاب 52 مسلم امیدوار
2017 990 امیدوار کامیاب 50 مسلم امیدوار
2018 759 امیدوار کامیاب 27 مسلم امیدوار
2019 829 امیدوار کامیاب 42 مسلم امیدوار
2020 761 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2021 685 امیدوار کامیاب 21 مسلم امیدوار
2022 933 امیدوار کامیاب 30 مسلم امیدوار
2023 1016 امیدوار کامیاب 51 مسلم امیدوار
2024 1009 امیدوار کامیاب 26 مسلم امیدوار
جموں کشمیر کے 17 امیدوار کامیاب:

جموں کشمیر کے 17 امیدواروں نے 2025 کے باوقار یو پی ایس سی سول سروسز امتحان میں کوالیفائی کیا ہے۔ آل انڈیا رینک 148 کے ساتھ سوون شرما یو ٹی میں سر فہرست ہیں۔ سوگندھا گپتا کو 207 واں، توصیف احمد گنائی کو 245 واں اور ریتیکا بھان کو 456واں رینک حاصل ہوا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رہائشی کوچنگ کے 48 امیدوار کامیاب

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رہائشی کوچنگ اکیڈمی (آر سی اے)،سینٹر فار کوچنگ اینڈ کیرئیر پلاننگ کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ یہاں کے 38 امیدواروں نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان 2025 کے نتائج میں امتیازی کامیابی حاصل کی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ چار امیدواروں نے ٹاپ 50 میں جگہ بنائی اور آل انڈیاسطح پر 7واں، 14واں، 24واں اور 29واں مقام حاصل کیا ہے۔








رام رحیم کو صحافی قتل کیس میں ہائی کورٹ نے بری کردیا: متاثرہ خاندان سپریم کورٹ جانے کا اعلان
پنچکولہ: گرمیت رام رحیم سنگھ، جو کہ ڈیرا سچا سودا کے سربراہ اور خود ساختہ مذہبی پیشوا ہیں، کو ہفتہ کے روز پنجاب اینڈ ہریانہ ہائیکورٹ نے 2002 میں سرسا کے صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل کے مقدمے میں بری کر دیا۔ تاہم وہ بدستور جیل میں رہیں گے کیونکہ انہیں اپنے دو پیروکاروں سے زیادتی کے مقدمے میں 20 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیل ناگو اور جسٹس وکرم اگروال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 2019 میں خصوصی سی بی آئی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے بعد رام رحیم کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے مقدمے کے شواہد، خصوصاً فائرنگ میں استعمال ہونے والی گولیوں سے متعلق تنازعے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تاہم عدالت نے اس مقدمے میں شامل دیگر ملزمان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

یاد رہے کہ صحافی رام چندر چھترپتی، جو اخبار “پورا سچ” چلاتے تھے، کو 24 اکتوبر 2002 کی شام سرسا میں ان کے گھر کے باہر گولی مار دی گئی تھی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تقریباً ایک ماہ بعد 21 نومبر کو دم توڑ گئے۔

ابتدائی طور پر یہ مقدمہ سرسا پولیس نے درج کیا تھا، تاہم بعد میں چھترپتی کے بیٹے انشل چھترپتی کی درخواست پر ہائی کورٹ نے تفتیش سی بی آئی کے حوالے کر دی۔ سی بی آئی نے تحقیقات کے بعد رام رحیم سمیت چار افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی۔ جنوری 2019 میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے رام رحیم اور ان کے تین قریبی ساتھیوں کو قتل کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے انشول چھترپتی نے اسے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ خاندان اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہماری قانونی جدوجہد 2002 میں شروع ہوئی تھی اور ہم انصاف کے حصول تک یہ لڑائی جاری رکھیں گے۔









روزہ رکھنے والے افراد کیا کھائیں، کیا پئیں اور کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
رمضان کے دوران سماجی زندگی خاصی متحرک ہوتی ہے اور لوگ افطار کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو افطار پر مدعو کرتے ہیں یا خود مدعو ہوتے ہیں۔
یہ دعوتیں افطار اور سحری کے دسترخوانوں پر ہوتی ہیں جو عمدہ اور متنوع کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دوران بعض افراد جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض غیر صحت مند غذائی عادات کی وجہ سے اپنی بیماری کو بہتر طور پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔
اس پس منظر میں عالمی ادارہ صحت نے رمضان کے لیے کچھ رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں بھی کمی لایا جاسکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ ان عادات کو روزوں کے بعد بھی برقرار رکھا جائے۔
عمومی ہدایات:
وافر مقدار میں پانی پئیں (کم از کم 10 گلاس) اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، تربوز اور سبز سلاد استعمال کریں۔
کیفین والے مشروبات جیسے کافی، چائے اور کولا سے پرہیز کریں، کیونکہ کیفین پیشاب کی مقدار بڑھا کر جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ چینی والے مشروبات اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت میں دھوپ سے بچیں اور ٹھنڈی، سایہ دار جگہ پر رہیں۔
افطار میں کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟
توانائی بحال کرنے کے لیے متوازن اور صحت بخش افطار کریں۔ روزہ کھولنے کے لیے تین کھجوریں کھائیں، کھجور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔
افطار میں وافر مقدار میں سبزیاں شامل کریں تاکہ ضروری وٹامنز اور غذائی اجزا حاصل ہوں۔ ثابت اناج استعمال کریں جو توانائی اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔گرل یا بیک کیا ہوا کم چکنائی والا گوشت، چکن اور مچھلی استعمال کریں تاکہ صحت مند پروٹین حاصل ہو۔
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی یا چینی والی پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔ آہستہ کھائیں اور حد سے زیادہ کھانے سے بچیں۔
سحری میں کیا کھائیں؟
وہ افراد جو روزہ رکھتے ہیں خصوصاً بزرگ ، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین روزانہ ہلکی سحری ضرور کریں۔
سحری میں سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا بن، پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے پنیر، دودھ یا انڈا شامل کریں۔
مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھیں، کیونکہ رمضان میں استعمال ہونے والی اکثر مٹھائیاں چینی کے شیرے سے بھرپور ہوتی ہیں۔
میٹھے کے طور پر پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ یا موسمی پھل مثلاً آڑو یا نیکٹرین بہتر انتخاب ہیں۔زیادہ چکنائی والی غذاؤں خصوصاً چربی والے گوشت، پف پیسٹری یا مکھن/مارجرین والی اشیا سے پرہیز کریں۔
نمک اور چکنائی سے متعلق احتیاط:
تلنے کے بجائے اسٹیم میں پکانا، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنا، سالن میں پکانا یا بیک کرنا بہتر رہے گا۔
زیادہ نمک والی اشیا جیسے ساسیجز، پراسیسڈ اور نمکین گوشت یا مچھلی، زیتون، اچار، سنیکس، نمکین پنیر، تیار شدہ کریکرز، سپریڈز اور ساسز (مایونیز، مسٹرڈ، کیچپ) سے پرہیز کریں۔
کھانا بناتے وقت نمک کم سے کم استعمال کریں اور دسترخوان پر نمک دان نہ رکھیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے مختلف جڑی بوٹیاں استعمال کریں۔
اپنی ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں کھائیں اور آہستہ کھائیں، کیونکہ زیادہ کھانا سینے کی جلن اور بے آرامی کا باعث بنتا ہے۔
شام کے اوقات میں باقاعدہ چہل قدمی جیسی ہلکی جسمانی سرگرمی اپنانے کی کوشش کریں۔

*🔴سیف نیوز اردو*

یو پی ایس سی میں کل 53 مسلم امیدوار کامیاب، یہاں دیکھیں فہرست یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے جمعہ کو 2025 ک...