ایران جنگ میں ہتھیارہی نہیں حربے بھی کررہاہے استعمال ، چین سے خریدے اسپیشل ہتھیار،امریکی فوج پریشان
ایران امریکہ جنگ کی خبریں نہ صرف مین اسٹریم میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پرچھائی ہیں ۔ حال ہی میں اسرائیلی ڈیفنس فورس نے ایران میں ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر پر حملے کی ویڈیو شیئر کی تھی جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی ۔ اس ویڈیو میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ایرانی فوجی طیارے کو تباہ کر دیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا یوزر کا کہنا ہے کہ وہ پینٹ کیے ہوئے لگ رہے ہیں ۔ اب اسی طرح کے ایک اور حربے کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جسے ایران اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دراصل ، اس بحث کے دوران ایک اور دعویٰ سامنے آیا کہ ایران نے چین سے خصوصی ہتھیاروں کی پوری کھیپ منگوائی ہے، جسے امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جی پی ایکس پریس کی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے چین سے 900,000 سے زیادہ نقلی ہتھیار درآمد کیے ہیں، جن میں ٹینکوں، میزائل بردار جہازوں اور بیلسٹک میزائلوں کے ماڈل شامل ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں ہوا بھردینے کے بعدیہ دور سے بالکل اصلی ٹینکوں اور میزائلوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ آسمان میں اڑنے والے لڑاکا طیارے انہیں نشانہ بنانے کی غلطی کرتے ہیں لیکن ان کے مہنگے میزائل ضائع ہو جاتے ہیں۔
ٹینکرز، میزائل…اور الجھن
اس طرح کے کھلونے چین میں بڑے پیمانے پر تیار کیے جاتے ہیں اور مقبول ہوتے ہیں، ایران ان انفلٹیبل فرضی ہتھیاروں کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔ حالانکہ ہم جی پی ایکس پریس کی پوسٹ کی تصدیق نہیں کرتے،لیکن اگر ایران ایسا کر رہا ہے، تو یہ دو دشمنوں کو چکما دینےکی دلچسپ چال ہے۔ ہم جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہے اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پر لوگ اس ویڈیو اور نقلی ہتھیاروں کی خبروں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور بحث بھی کر رہے ہیں۔ ایک یوزرنے لکھا کہ تصور کریں کہ امریکی فضائیہ لاکھوں ڈالر مالیت کے میزائلوں کو صرف ایک غبارہ اڑانےکے لیے استعمال کر رہی ہے۔ 900,000 نقلی ماڈلز، ایک پوری ’ڈیکوائے انڈسٹری‘! ایک اوریوزرنے سوال کیا کہ ’ان 3000 حملوں میں کتنے حقیقی اہداف کو نشانہ بنایا گیا؟ اگر ایران واقعی اتنے نقلی ہتھیار لے کر آیا تو امریکہ 500 ڈالر کے غباروں پر کروڑوں ڈالر کے بم کیوں گرا رہا ہے؟ ایک تیسرے نے مذاق میں کہا’میں نے یہ دیکھنے کے لیے چیک کیا کہ آیا یہ ٹینک عوام کے لیے فروخت کے لیے دستیاب ہیں، اور ہاں، بہت سارے ماڈل موجود ہیں!مہنگے ہتھیاروں کے مقابلے سستی ترکیب ہٹ
اس سے قبل، اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے 4 مارچ کو ایک انفراریڈ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد سوالات اٹھائے گئے تھے، جس میں ایران میں دو مقامات پر دھماکے دکھائے گئے تھے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں ایرانی فوجی اثاثےاور عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔
سوشل میڈیا یوزر نے نوٹ کیا کہ دھماکے کے بعد ہیلی کاپٹر کے روٹر نہیں گھومے، اردگرد کا علاقہ متاثر نہیں ہوا، اور یہ ایک 3D anamorphic تصویر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ حقیقی طیارہ۔ کچھ یوزر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سیٹلائٹ کی تصاویر میں برسوں سے ایک ہی ہوائی جہاز کو دکھایا گیا ہے، جس سے لگتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی جہاز نہیں بلکہ پینٹنگ ہے۔
خلیجی جنگ کا دوسراہفتہ: دونوں جانب سے حملوں میں شدت، ایران کی قید میں کئی امریکی فوجی ،علی لاریجانی کا دعویٰ
خلیجی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے اور پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھلس رہا ہے بلکہ اس میں مزیدشدت آگئی ہے۔ ہفتے کے روز دونوں جانب سے مسلسل حملے جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔
تہران سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہیں ایران نے بھی ہمسایہ ممالک پر حملے کیے ہیں ۔ ایران نے یواے ی ، کویت،سعودی عرب اور بحرین سمیت دیگر مقامات پر حملے کیے ہیں ۔ادھر،اسرائیل نے لبنان پر بھی حملے کیے ۔
ایران کی تیل تنصیبات پربمبادی
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے آئل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ بیتی رات جنوبی تہران اور شمال مغربی تہران میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔حملوں کے بعد شعلے اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا ۔اسرائیل کا دعویٰ کیا کہ یہ فوجی انفراسٹرکچر کی معاونت اور فوجی اداروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
ایران کا کویت،دبئی اور بحرین پرحملہ
ادھر،ایران نے بھی خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔دبئی کے مرینا ٹاور پرڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں عمارت آگ لگ گئی۔کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فیول ٹینک پربھی ایران کی جانب سے ڈورن حملہ کیا گیا۔سعودی عرب میں بھی امریکی فوجی اڈے پر دھماکے ہوئے ہیں۔ایران کی قید میں کئی امریکی فو جی:لاریجانی کا دعویٰ
اس بیچ،ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربڑا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کئی امریکی فوجی کے ایران کی قید میں ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ امریکہ دعویٰ کررہا ہے کہ وہ کارروائی میں مارے گئے ہیں ۔یہ لاحاصل سعی ہے۔سچائی زیادہ دیر تک وہ چھپا نہ سکیں گے۔
مغربی ایشیا میں کہرام کے درمیان اب تک بحفاظت لوٹے 52 ہزار ہندوستانی، ایئر اسپیس کھلتے ہی ریسکیو آپریشن شروع
نئی دہلی: مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتے حالات نے پوری دنیا کی تشویش بڑھا دی ہے۔ حکومتِ ہند وہاں کے حالات پر پل پل نظر رکھے ہوئے ہے۔ خاص طور پر اُن ہندوستانی شہریوں کی سلامتی سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے جو ٹرانزٹ یا مختصر سفر پر وہاں گئے ہوئے تھے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت اس کی پہلی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے دہلی میں ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ یہ کنٹرول روم متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے مسائل کا فوری حل فراہم کر رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ ہند نے تمام سفارت خانوں کو الرٹ موڈ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق صورتحال کشیدہ ضرور ہے مگر قابو میں ہے۔
خلیجی ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کے لیے نئی گائیڈ لائن کیا ہے؟حکومتِ ہند نے تمام شہریوں کے لیے ضروری ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وہاں موجود افراد کو مقامی حکام کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ ہندوستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں نے 24×7 ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔ ان ہیلپ لائنز کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد طلب کی جا سکتی ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفارت خانے کی ویب سائٹ پر مسلسل اپڈیٹس چیک کرتے رہیں، بلاوجہ ادھر اُدھر نہ گھومیں اور محفوظ مقامات پر ہی قیام کریں۔ حکومت ہر ہندوستانی شہری کی لوکیشن ٹریک کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد پہنچائی جا سکے۔52 ہزار ہندوستانی کیسے موت کے منہ سے نکل کر وطن واپس پہنچے؟
گزشتہ چند دنوں میں فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد ریسکیو آپریشن میں تیزی آ گئی ہے۔ 1 مارچ سے 7 مارچ 2026 کے درمیان 52,000 سے زائد ہندوستانی شہری بحفاظت ہندوستان واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان میں سے 32,107 مسافروں نے ہندوستانی ایئرلائنز کے ذریعے سفر کیا، جبکہ باقی مسافر غیر ملکی کمرشیل پروازوں اور نان شیڈیولڈ فلائٹس کے ذریعے واپس آئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتِ ہند کتنی مستعدی سے کام کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید خصوصی پروازیں بھی منصوبہ بند کی گئی ہیں۔ جن ممالک میں ابھی کمرشیل پروازیں بند ہیں وہاں موجود لوگوں کو قریبی ایئرپورٹ تک پہنچنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔اگر آپ کی فلائٹ منسوخ ہو گئی ہے تو اب کیا کریں؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی رشتہ دار وہاں پھنس گیا ہے تو سب سے پہلے ہندوستانی سفارت خانے میں رجسٹریشن کروائیں۔ جن مقامات پر پروازیں دستیاب نہیں ہیں وہاں سفارت خانے متبادل راستوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ ہند کی ویب سائٹ پر کنٹرول روم کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ حکومت خلیجی ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ہندوستانی شہری کو کاغذی کارروائی یا لاجسٹک مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایئرلائنز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پھنسے ہوئے مسافروں کو ترجیح دیں۔ جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، پروازوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔