Sunday, 29 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ایران پرمسلط کی گئی جنگ کوایک مہینہ مکمل ، حوثی باغی لڑائی میں شامل ، جنگ بندی کے آثار کم
ایران کے خلاف امریکہ کی محدود فوجی کارروائی کے لامحدود اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ حملے کے آغاز میں ٹرمپ نے اسے ہمیشہ کی جنگ نہیں چار سے پانچ ہفتوں کی کارروائی قراردیا تھا لیکن چار ہفتوں کے دوران جنگ سمٹتی نہیں بلکہ پھیلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ مزاحمت کے ساتھ ساتھ ایران کے حملے جاری ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی قیادت کاسیاسی فیصلہ دو تین نہیں دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کررہا ہے۔اس سےایک بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو ہلکے میں لینے کی غلطی کردی ہے۔حالانکہ امریکی صدرٹرمپ جنگ جیتنے ، ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کرنے،ایران کی میزائل سازی کی صلاحتوں کو تباہ کرنے سمیت کئی بلند بانگ دعوے کر چکے ہیں اور وہی امن مذاکرات کےدعوے بھی کررہے ہیں اور مسلسل کیے ہی جارہے ہیں ۔مگر امن مذاکرات کی باتیں صرف بیانات تک ہی محدود ہیں عملی طور پر اس کے خدوخال نظر نہیں آتے کیونکہ ایران مسلسل امریکہ کے مذاکرات کے دعوؤں کی تردید کررہا ہے۔امن مذاکرات کا معاملہ غیر واضح ہے۔

حوثی باغی جنگ میں کودے
اس بیچ،امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں اور ایران بھی دندان شکن جواب دے رہا ہے۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔یمن کے حوثی بھی اب اس لڑائی میں شامل ہوگئے ہیں۔حوثی باغیوں نے جنوبی اسرائیل میں مختلف مقامات پر حملوں کا دعویٰ کا کیا ہے۔28 فروری سے جاری جنگ کے دوران ، حوثی باغیوں کی جانب سے یہ پہلا حملہ ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے اس لڑائی میں حوثی باغیوں کے شامل ہونے کی اُمید تھی۔2014 سےحوثی باغی شمال مغربی یمن پر کنٹرول رکھتے ہیں اور یہ دُنیا کے ایک اور بڑے تجارتی راستے بحیرہ احمر پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

حملوں میں شدت،ہرمزپرایران کا کنٹرول

لبنان پراسرائیل کی بمباری جاری ہے۔غزہ جنگ کے دوران ،حزب اللہ کو مکمل طور پرتباہ کرنے کا دعویٰ کیا جارہا تھا لیکن اب حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
ان نئے محاذ کے ساتھ آبنائے ہرمز پرایران کا کنٹرول ہنوز قائم ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جو ان کے لیے مایوسی کا سبب ہے ۔ اسرائیل نے تہران پر بھی حملے کیے ہیں ۔ان حملوں میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اسرائیل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی ہتھیار سازی کی 1000 سے زائد سائٹ پر حملے کیے ہیں۔ملٹری ترجمان بریگیڈ جنرل ایفی ڈیفرِن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ایرانی حکومت کو اس سے دوبارہ بنانے میں وقت لگے گا۔اسرائیل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایران کی جانب سے کیے جارہے میزائل حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔اسرائیل نے جمعے کے روز ایران کی دو بڑی یورینیم فیکٹری اور ہیوی واٹر فیکٹری پرحملے کیے تھے۔

امریکہ اوراسرائیل کی یونیورسٹیوں پرحملے کی دھمکی
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،فیکٹریوں پرحملوں کے جواب میں ایران نے بحرین کی البا المونیم اور ایمریٹس گلوبل المونیم تنصیبات پرحملے کیے ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ دونوں کمپنیوں کا تعلق امریکی فوج سے ہے۔ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی ۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے کہا گیاتھا کہ ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر حملے کا جواب دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے مبینہ طور پر داغے گئے ڈرون کویت کے ہوائی اڈے پر جاگرے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ ریڈار سسٹم کونقصان پہنچنے کی خبر ہے جبکہ کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔جنگ میں جانی نقصان

28 فروری سے جاری جنگ میں تا حال امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق ایران میں 3461 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ۔اُن میں1550سے زائد عام شہری بتائے جاتے ہیں ۔مہلوکین میں 236 بچے بھی شامل ہیں ۔جمعے کے روز ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں کم سے کم 1900 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 20,000 زخمی ہوئے ہیں۔ادھر،اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے مطابق وہاں تاحال 19 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔جنوبی لبنان میں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
جنگ کے دوران امریکہ کے سات فوجی جوان مارے گئے ہیں۔ وہیں عراق کے اربیل میں چھ فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔لبنان میں اسرائیل کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریبًا 1200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں کم سے کم 124 بچے شامل ہیں ۔










روہت شیٹی فائرنگ کیس میں بڑا انکشاف، راجستھان میں رچی گئی تھی سازش
راجستھان کے سری گنگا نگر ضلع میں بیتی رات پولیس او ر جرائم پیشوں کے بیچ انکاؤنٹر ایک بڑے نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ زخمی آکاش نگم کا تعلق بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ سے اور فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کے گھر پر فائرنگ سے بتایا جاتاہے۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ آکاش نگم اور اس کے ساتھی شیوا گرجر نے روہت شیٹی کے گھر پرفائرنگ کی سپاری لی تھی۔

31 جنوری 2025 کی رات ممبئی2017 میں روہت شیٹی کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ ہوئی تھی۔ لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ایک شوٹر آرزو بشنوئی فائرنگ کی تھی ۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آکاش نگم اور شیوا گرجر نے حملے کی منصوبہ بندی میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ آرزو بشنوئی نے آکاش نگم کو سری گنگا نگر بھیجا، جہاں اسے ایک اور مجرمانہ فعل انجام دینے کا کام سونپا گیا۔پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران لگی گولی
پولیس کے مطابق آکاش نگم کو لے جانے والی گاڑی کو جمعہ کی رات سادول شہر علاقے میں ناکہ بندی کے دوران روکا گیا۔ پولیس کو دیکھ کر ڈرائیور نے بھاگنے کی کوشش کی اور پولیس ٹیم پر فائرنگ بھی کی۔ جوابی کارروائی میں آکاش نگم کو ٹانگ میں گولی لگی اور وہ زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔

بیکانیررینج کے انسپکٹر جنرل اوم پرکاش نے کیس کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص نے اس سے قبل پڑوسی ضلع ہنومان گڑھ میں ایک ریکی کی تھی۔ آکاش نگم لارنس گینگ کا ایک نیا لیکن سرگرم رکن ہے، جو راجستھان، اتر پردیش اور پنجاب سمیت کئی ریاستوں میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ اس کے قریبی ساتھی شیوا گرجر کو کوتوالی پولیس نے کچھ دن پہلے گرفتار کیا تھا۔

پولیس کی تفتیش جاری
آئی جی اوم پرکاش نے کہا کہ تحقیقات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آکاش نگم روہت شیٹی کی شوٹنگ میں ملوث تھا۔ آرزو بشنوئی کی ہدایت پر اسےسری گنگا نگر بھیجا گیا تھا۔ ہم پورے کنکشن کی چھان بین کر رہے ہیں۔ اس بیچ ، سری گنگا نگر کے ایس پی ہری شنکر نے بتایا کہ آکاش نگم فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کے گھر کی شوٹنگ میں ملوث نہیں پایا گیا ہے، حالانکہ فائرنگ کے لیے سپاری لینے کی بات سامنے ضرورآئی ہے۔ آکاش نگم کے صحت یاب ہونے کے بعد اسے گرفتار کرکے اچھی طرح سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس گینگ کے پورے نیٹ ورک اور دیگر مشتبہ افراد کے کردار کی تفتیش کر رہی ہے۔ ممبئی پولیس پہلے ہی فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات شروع کر چکی ہے۔آگرہ پولیس نے دو شوٹر دیپک شرما اور پردیپ شرما عرف گولو پنڈت کو گرفتار کر لیا ہے۔ آکاش نگم کی گرفتاری اور پوچھ تاچھ سے روہت شیٹی شوٹنگ اور دیگر واقعات کے بارے میں کئی راز کھلنے کا امکان ہے۔









کسی بھی قیمت پر نہ رکے گیس اور تیل، مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے دوران وزیراعظم مودی کی محمد بن سلمان سے فون پر گفتگو
نئی دہلی : مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان ہندوستان نے خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ ایشیا کے اتحادیوں سے رابطہ برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے وزیراعظم اور ولی عہد محمد بن سلمان سے بات چیت کی۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی معلومات دی۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر بات کر کے مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر تشویش ظاہر کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے توانائی کے مراکز پر ہو رہے حملوں کی مذمت کی۔ اس کے ساتھ ہی دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سمندری راستے کھلے رکھے جائیں۔ انہیں سب کے لیے محفوظ ہونا چاہیے اور بین الاقوامی تجارت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسٹریٹ آف ہرمز اور دیگر اہم سمندری راستوں کو لے کر دنیا فکرمند ہو چکی ہے۔ جاری تنازع کی وجہ سے تیل، گیس اور کمرشیل کارگو کی آمد و رفت میں رکاوٹ آنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس گفتگو میں سعودی ولی عہد کو وہاں مقیم ہندوستانی برادری کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔یہ بات چیت خلیج میں ہندوستان کے بڑھتے سفارتی اثر و رسوخ کو بھی ظاہر کرتی ہے، کیونکہ نئی دہلی اپنے توانائی مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے، بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور ہندوستان کی معیشت اور اسٹریٹجک مفادات کے لیے اہم اس خطے میں استحکام پر زور دینا چاہتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...