Friday, 20 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



*پہلا روزہ اور بجلی کا بحران: مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ کی بدانتظامی انتہا پر*
*​درے گاوں پاور لوم شنگھرش سمیتی نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا*
​مالیگاؤں (عمیر سر نورانیہ):
شہر میں رمضان المبارک کے پہلے روزے ہی سے بجلی کی ناقص فراہمی اور اولڈ درے گاؤں فیڈر پر بار بار ہونے والی 'فریکوئنسی ٹرپنگ' نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں عوام اس مقدس مہینے میں عبادت اور سکون کی تلاش میں ہے، وہیں دوسری جانب مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کی نااہلی نے عوام کو سخت اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

*​انتظامیہ کی مسلسل ناکامی*

​حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کمپنی کو شہر میں کام کرتے ہوئے پانچ سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن کارکردگی میں بہتری کے بجائے صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ پانچ سال کا طویل عرصہ کسی بھی ادارے کے لیے اپنے سسٹم کو مستحکم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے، مگر MPSL اب تک ایک مستحکم اور قابل اعتماد سپلائی لائن فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔
*​عوامی مشکلات اور حساسیت کا فقدان*
​رمضان المبارک کا پہلا دن مذہبی اور جذباتی طور پر انتہائی حساس ہوتا ہے۔ سخت گرمی اور روزے کی حالت میں بجلی کا بار بار جانا نہ صرف گھریلو کاموں میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ مساجد اور عبادات میں بھی خلل پیدا کر رہا ہے۔ اولڈ درے گاؤں فیڈر کے تحت آنے والے علاقوں کے مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
​"ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کمپنی کو عوامی تکالیف اور مقدس ایام کی حرمت کا کوئی پاس نہیں ہے۔ بار بار کی ٹرپنگ انتظامیہ کی بدترین پلاننگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔"
​فوری کارروائی کا مطالبہ
​درے گاوں پاور لوم شنگھرش سمیتی نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ اگر بجلی کی فراہمی کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا اور مینجمنٹ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائے گی











مسلم ریزرویشن: پانچ فیصد کا سراب اور سیاسی شعبدہ بازی
آصف جلیل احمد۔ مالیگاؤں

​مہاراشٹر میں مسلم ریزرویشن کی داستان سیاسی شعبدہ بازی، عدالتی موشگافیوں اور سماجی استحصال کا ایک ایسا سنگین باب ہے جس نے ایک پوری کمیونٹی کو دہائیوں سے سراب کے پیچھے دوڑائے رکھا۔ یہ محض پانچ فیصد کوٹے کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ اس منظم 'بہلاوے' کا منطقی انجام ہے جس کی بنیاد ہی خلوصِ نیت کے بجائے انتخابی ضرورتوں پر رکھی گئی تھی۔ سن 2014 کے اسمبلی انتخابات سے عین تین ماہ قبل جب کانگریس اور این سی پی کی ڈوبتی ہوئی حکومت نے عجلت میں آرڈیننس کے ذریعے اس ریزرویشن کا اعلان کیا، تو درحقیقت وہ ایک ایسی سیاسی بساط بچھا رہے تھے جہاں مہرہ صرف عام مسلمان تھا۔ اس وقت کی حکومت بخوبی واقف تھی کہ محض آرڈیننس لانا کافی نہیں بلکہ اسے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسمبلی کی منظوری لازم ہے، مگر اسے ادھورا چھوڑ کر مسلمانوں کو ایک ایسی خوابوں کی دنیا میں دھکیل دیا گیا جس کی تعبیر کبھی ملنی ہی نہیں تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب بمبئی ہائی کورٹ نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو تسلیم کرتے ہوئے پانچ فیصد تعلیمی ریزرویشن کو ہری جھنڈی دکھا دی، تب بھی آنے والی حکومتوں نے اس عدالتی فیصلے کو قانون کی شکل دینے میں مجرمانہ غفلت برتی، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے کسی بھی گروہ کو اس قوم کی تعلیمی اور معاشی حالت بدلنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
​اس فیصلے کے سماجی اور معاشی اثرات انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ سچر کمیٹی اور محمود الرحمن کمیٹی کی رپورٹوں نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ مہاراشٹر کا مسلمان کئی محاذوں پر دلتوں سے بھی زیادہ پسماندہ ہے۔ ریزرویشن کے باقاعدہ خاتمے سے اب اعلیٰ تعلیم، خاص طور پر میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں غریب اور ہونہار مسلم طلبہ کے لیے دروازے تقریباً بند ہو جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر مستقبل کی ملازمتوں اور معاشی خوشحالی پر پڑے گا۔ یہ ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی گئی ہے جو مسلم نوجوانوں کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے سے روکتی ہے اور ان میں احساسِ محرومی کو جلا بخشتی ہے۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کی پسماندگی کی دستاویزی تصدیق کے باوجود اسے مساوی مواقع سے محروم رکھا جا رہا ہے، تو نظامِ عدل اور جمہوریت پر اس کا بھروسہ متزلزل ہونے لگتا ہے۔ آج جب فروری 2026 میں اس ریزرویشن کو سرکاری طور پر دفن کر دیا گیا ہے، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا اور جب ان کی فلاح کا وقت آیا تو قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر ہاتھ جھاڑ لیے گئے۔ یہ اسلوبِ سیاست نہ صرف ایک طبقے کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ریاست کی مجموعی ترقی کے لیے بھی زہرِ قاتل ہے، کیونکہ کسی بھی سماج کا ایک بڑا حصہ اگر تعلیم اور روزگار کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے تو وہ ریاست کبھی حقیقی ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
​اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اس سیاسی 'بہلاوے' اور ریزرویشن کے بیساکھی نما خواب سے باہر نکل کر اپنی تعلیمی بقا کی جنگ خود لڑنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ جب ریاست کے ایوانوں سے انصاف کی امیدیں دم توڑ جائیں، تو معاشرے کو اپنے وسائل اور اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیمی کوٹے کا خاتمہ محض ایک قانونی رکاوٹ نہیں بلکہ ہماری قیادت اور سماجی شعور کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اگر ہم اب بھی صرف احتجاج اور جذباتی نعروں تک محدود رہے، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سرکاری خیرات کے انتظار کے بجائے اپنے نجی تعلیمی ڈھانچے کو اتنا مستخکم کریں کہ کسی بھی 'جی آر' (GR) کی منسوخی ہماری ترقی کی رفتار کو کم نہ کر سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ حقوق مانگنے سے نہیں بلکہ قابلیت منوانے سے ملتے ہیں، اور قابلیت کا واحد راستہ معیاری تعلیم اور مسلسل جدوجہد ہے۔









💠 *اعلانِ خاص: یہ رمضان، قرآن سمجھنے کے نام!*
​محترم دوستو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ سبھی کی خدمت میں ایک نہایت اہم اور خوشخبری کا اعلان ہے۔

​کیا آپ اس رمضان قرآنِ پاک کو سمجھ کر پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں!
اب صرف *10 گھنٹوں میں قرآن کریم کے 90 فیصد حصے کا ترجمہ* کرنا سیکھیں!

​اس عظیم مقصد کے لیے ایک خصوصی 10 روزہ "قرآنی عربی کورس" کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

​🔹 *آغازِ کورس:* 21 فروری، بروز سنیچر
🔹 *وقت:* روزانہ نمازِ ظہر کے فوراً بعد (صرف ایک گھنٹہ)
🔹 *مقام:* مسجد امام الانبیاء، باغ محمود (مدرسہ ریاض القانتات کے سامنے)
🔹 *معلم:* شیخ علقمہ (قرآنی عربی کورس)

​رمضان المبارک میں اس سے بہترین موقع اور کوئی نہیں۔ چونکہ وقت کم ہے، اس لیے آج ہی اپنا ارادہ پکا کریں اور اس بابرکت کورس میں ضرور شرکت کریں۔ جزاکم اللہ خیرا!











*مہاراشٹر اِسٹیٹ اردو اکادیمی کے ذریعہ اردو فنکاروں کا استحصال*

*کروڑوں رویے کھیل تماشوں اور غیر اردو داں فلمی فنکاروں پر بے دردی سے لٹائے گئے*
*انعام ملنے کے ساڑھے چار ماہ بعد بھی اردو کے اصل حق دار انعام یافتگان اعزازی رقم، سفری اخراجات اور سَند سے محروم*
*سَیّد علی انجم رضوی*

 اردو زبان و ادب کا درد رکھنے والے قد آور ادباء، شعراء، محققین و مصنفین کی کاوشوں کے نتیجہ میں اردو اکادیمی کا قیام سَن 1975ء میں عمل میں آیا۔ اکادیمی کا ماضی بڑا شاندار رہا ہے۔ اردو کے تمام ہی معروف فنکاروں نے اسے عزت و وقار کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔ کئی دَہوں تک اردو کی پاکیزہ روایتوں کی پاسداری کی گئی۔ مگر بعد میں دیگر اداروں کی طرح اردو اکادیمی بھی رو بہ انحطاط ہوتی چلی گئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ چند ایک منظم گروہ کا اس پر باقاعدہ ناجائز قبضہ۔ پھر آہستہ آہستہ اردو کا دم بھرنے والے اردو مافیا نے اکادیمی کا اغوا کر لیا۔ اردو کے حقیقی فنکار اِس سے دور ہوتے گئے اور ایک مخصوص گروپ جس میں اکثریت ممبئی والوں کی تھی، اُس نے اکادیمی کو یرغمال بنا لیا۔ اِس کے ثبوت کے طور پر ایک کالج کے نام نہاد لیکچرر، متشاعر کو اکادیمی کے ہر مشاعرہ میں اور بچوں کے رسالہ کے ایک مدیر کو اکادیمی کے ہر فیصلہ کے پس پشت موجود پائیں گے۔

سَن 2014ء آتے آتے "مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادیمی" مکمل طور سے سیاسی رنگ میں رنگتی چلی گئی۔ اراکین میں اکثریت سیاسی کارِندوں کی رہی۔ جن کی شناخت میں شاعر و افسانہ نگار یا ادیب و صحافی کے سابقے محض زیب و زینت کے لیے ہوا کرتے تھے۔ وہ کئی برسوں تک اپنے نا اہل رشتہ داروں اور دوست و احباب کو اردو اکادیمی کی ریوڑیاں بانٹتے رہے۔
اِلّا ماشاءاللّٰہ۔
اب تو ماشاءاللّٰہ کئی برسوں سے اکادیمی یتیمی کی زندگی گزارتے ہوئے ایک عدد کارگزار افسرِ اعلیٰ کے ناتواں کندھوں پر کسی جنازہ کی طرح اپنے وجود کو ڈھوتی جا رہی ہے۔
اِنّا لِلّٰہ وَاِنّا اِلیہ رَاجِعون۔

اِسی انحطاطی منظر نامہ میں اچانک اکتوبر 2025ء میں اردو اکادیمی کا پچاس سالہ جشن آ دھمکا۔ اس موقع پر چند لاکھ روپیوں کے لیے آنا کانی کرنے والی ریاستی سرکار نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ دس کروڑ کی ایک خطیر رقم اردو اکادیمی کے پچاس سَالہ جشن کے لیے منظور کر دی۔
پھر کیا تھا اردو کے فنڈ کو گِدھ کی طرح نوچنے والا اردو مافیا سرگرم ہو گیا۔ اردو کے نام پر اوچھے پروگرام، ناچ گانے یہاں تک کہ فیشن شو کو بھی منظوری دے دی گئی۔ دعوت نامے بھی چھپ کر تقسیم ہو گئے۔ مگر جب ہر طرف سے جوتے پڑنے لگے تب ہنگامہ آرائی کے ڈر سے فیشن شو پر عمل نہ ہو پایا۔ پھر ان اوچھے پروگراموں کے انچارج ہی ہکلاتے ہکلاتے صفائی دے کر دامن بچاتے نظر آئے۔

6، 7 اور 8 اکتوبر تین دن تک جشنِ بہاراں کے نام پر خوب تماشہ آرائی ہوتی رہی۔ چیلے چپاٹے اسٹیج پر قبضہ جمائے نذرانوں سے جیبیں بھرتے دکھے۔ کچھ خوشامدی اپنی جوکر چھاپ نظامت کے ذریعہ انعام یافتگان کی بے عزتی کرتے اور لاکھوں روپیوں کے نذرانے وصول کرتے نظر آئے۔ جاوید اختؔر جیسے اسلام دشمن دہریے کو اردو والوں کے لاکھو روپیے بطور نذرانہ دے کر بڑی عزت کے ساتھ مسلمانوں کی چھاتی پر ٌمُونگ دَلنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ ایسے دَہریے کی اردو خدمات ہماری ٹھوکر پر۔ اِس مسلم دشمن کے بجائے اردو کا حق ادا کرنے والے اور مرزا غالبؔ پر تاریخی سیریل بنا کر اردو نوازی کا ثبوت دینے والے گلزارؔ کو مدعو کیا جاتا تو شاید ہی کوئی اعتراض کرتا۔ پھر 25 لاکھ کے نذرانہ کے ساتھ انُوپ جَلوٹا نے اردو کے اسٹیج پر قبضہ جمایا۔ اسی طرح اردو کے تہذیبی ورثہ میں شیکھر سُمن، علی اصغر اور سَچِن پڑگاؤنکر جیسی فلمی شخصیتوں کی دس سے پندرہ لاکھ نذرانوں پر شرکت سمجھ سے بالاتر رہی۔ شاید پروگرام کا منصوبہ بنانے والے کور چشموں کو پوری ریاست میں اردو کا کوئی معروف فنکار نظر نہ آیا۔ اب یہاں پر یہ عُذرِ لَنگ پیش کیا جائے گا کہ فنکاروں اور مہمانوں کا انتخاب وزارت اقلیتی ترقیات کی طرف سے نامزد ایونٹ کمپنی نے کیا تھا۔ تو پھر یہ سوال بھی واجب ہے کہ ہر بات میں دوڑ دوڑ کر مشورہ دینے والا، ہر میٹنگ میں بڑے جوش و ولولہ کے ساتھ موجود رہنے والا اور اردو کے اِداروں کو اپنی جاگیٖر سمجھنے والا اردو مافیا اور اردو اکادیمی کے سرکاری ذمہ داران کیا جَھک مار رہے تھے۔ اگر اُن کے مشوروں کو نظر انداز کر کے اردو مخالف فیصلے لیے جا رہے تھے تو اُنھوں نے بَروقت احتجاج کیوں نہیں کیا۔ اخبارات میں چند سطروں کا ایک بیان ہی دے کر اپنی اردو دوستی کا ثبوت بھی دے دیتے اور اپنی گلو خلاصی بھی کرا لیتے۔ مگر کیا کریں۔ دس کروڑ کی خطیر رقم کی دلکشی، پھر خود کو اور اپنے دوست و احباب کو انعامات کا لالچ اور اسٹیج پر موجود رہنے کی ہَوس نے اُنھیں مجبور کر رکھا تھا۔
لَا حَولَ وَلَا قُوَۃ۔

یہ حال ہے اردو اکادیمی کے پچاس سالہ "جشن بہاراں" پر دس کروڑ کی خطیر رقم کے بے دریغ لُٹانے کا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جِن کے دَم سے اردو اکادیمی کا وجود قائم ہے، جن کی بدولت اردو اکادیمی کو ہر سال لاکھوں کا فنڈ ملتا ہے اور سب سے بڑھ کر جن کے فن پاروں کی قدر و منزلت اور ترویج و اشاعت کے لیے اردو اکادیمی وجود میں آئی، وہی انعام یافتہ فنکار ابھی تک چند ہزار کے معمولی سے اعزایے، سَفری اخراجات اور اعزازی سَند سے محروم ہیں۔ یہ دنیا کا واحد ایوارڈ رہا ہوگا جس میں انعام یافتہ کو اعزازی سند نہیں دی گئی۔ ایک 30/40 روپیے کی نہایت سَستی سی ٹرافی دی گئی جو گھر لاتے لاتے ٹوٹ کر بکھر گئی۔
اردو اکادیمی کے قیام سے لے کر اب تک یہ روایت رہی کہ انعام کی تقریب ہی میں سَند اور اعزازیے کا چیک دیا جاتا تھا اور رقم آٹھ دن میں کلیئر ہو کر اکاؤنٹ میں جمع بھی ہو جاتی تھی۔ مگر اردو اکادیمی نے اب فنکاروں کا استحصال کرنے والی یہ بدعتِ سَئیہ ایجاد کی ہے۔
ایوارڈ کی سَند تو ملی نہیں۔ اب اگر کسی انعام پانے کو کسی دفتر میں ایوارڈ سے متعلق معلومات دینی ہو تو کیا وہ سَند کے موجود نہ ہونے پر ٹوٹی ہوئی ٹرافی ساتھ لے جائے گا ؟

پروگرام ممبئی کے وَرلی علاقہ میں واقع مہنگے ترین فنکشن ہال "ڈوم" میں رکھا گیا۔ ہال میں خالی کرسیاں اردو اکادیمی کے منتظمین کے نام پر مرثیہ خوانی کرتی نظر آئیں۔ پروگرام میں تینوں دن بدنظمی کا دَور دَورہ رہا۔ آخری دن حاضرین کے لیے نہ پینے کے پانی کا انتظام تھا نہ دوپہر سے رات گئے تک حاضر رہنے والوں کے لیے معقول کھانے کا انتظام۔ اعلان ہوا کہ پروگرام کے ختم ہونے پر کھانا دیا جائے گا۔ تب تک دوٗر دَراز سے آئے لوگ اپنے اپنے مقامات کے لیے روانہ ہو گئے اور بقَیّہ لوگ قطار میں کھڑے ہو کر معمولی کھانے کا انتظار کرتے نظر آئے۔

کسی بھی زبان کے اخبارات کو اشتہارات شاید اس لیے نہیں دیئے گئے تھے تاکہ ہندوتوا کے نام پر قائم ہوئی حکومت کو کوئی مسلم نواز کہہ کر کانگریس کی صف میں لا کر کھڑا نہ کر دے۔ مگر پروگرام کی بہتر تشہیر نہ ہونے کا خمیازہ حاضرین کی کم تعداد کی صورت میں اردو زبان کو بھگتنا پڑا۔

اردو کے چند حقیقی شیدائیوں نے اردو اکادیمی کی اِن تمام بے قاعدگیوں پر کُھل کر سوشل میڈیا پر احتجاج درج کرایا۔ اخبارات کے اِداریے بھی لکھے۔ مگر اردو کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اور اردو کی روزی روٹی کھانے والے نام نہاد اردو خادمین، اردو اکادیمی کی اِن بے راہ رَویوں پر "مِل چُکے" یا "مِلنے والے" انعامات یا اکادیمی کی متوقع رُکنیت کے لالچ میں خاموش تماشائی بنے رہے۔ چند قلم گھسیٹیے طفیلی صحافی بڑی شَد و مَد سے اکادیمی کی غلط رَوِش کی بے سروپا تاویلیں کرکے حق نمک ادا کرتے بھی دکھائی دیئے۔
ہمیں بھی 2023ء کا صحافتی ایوارڈ اکادیمی نے تفویض کیا۔ مگر یہ ایوارڈ ہمارے حق پرست قلم کو حق گوئی و بے باکی سے باز نہ رکھ سکا۔ دراصل ایوارڈ کسی کی سِفارش یا نظرِ کرم کا مرہونِ مِنّت نہیں. بلکہ عریضہ کے ساتھ مُنسلِک شائع شُدہ سینکڑوں مضامین اور رپورٹس کو نظر انداز کرنا اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ ہمیں اِس موقع پر شیوسینا پر ہمیشہ تنقید کرنے والے پُ۔لَ۔ دیش پانڈے کے جملے یاد آتے ہیں کہ ایوارڈ ہماری قابلیت پر ملتے ہیں اور اعزاز کی رقم کسی کی جیبِ خاص سے نہیں بلکہ سرکاری فنڈ سے ملتی ہے۔

ہم روزِ اوّل سے ہی اردو اکادیمی کی بے راہ رَویوں کو سوشل میڈیا پر نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ہمارے اُنھیٖں میسیجیز کو پڑھ کر چند روز قبل اکادیمی کے کارگزار افسرِ اعلیٰ جناب شعیب ہاشمی صاحب کی طویل وہاٹس اپ کال آئی۔ وہی کال اس مضمون کے معرضِ وجود میں آنے کی تحریک بنی۔ موصوف نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ پچاس سالہ جشن کی کسی بھی تقریب سے متعلق مجھ سے مشورہ نہیں لیا گیا اور تمام امور ایونٹ مینیجمنٹ کمپنی "ڈوم اِنٹرٹینمنٹ کمپنی" نے طے کیے۔ اِس پر ہم نے کہا کہ ہم ایک ذمہ دار صحافی ہیں۔ آپ کے اِس انکشاف کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت دیجیے۔ مگر موصوف نے کہا کہ مجھ پر بھروسہ کیجیے۔ چلیے اگر ہاشمی صاحب کو تمام تقاریب کی منصوبہ بندی میں دودھ سے مکّھی کی طرح الگ کر دیا گیا تھا تو اُنھوں نے اِس بات کا "جشنِ بہاراں" میں اعلان کرنا چاہیے تھا۔ پھر جب اُنھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا تو اخبارات کے ذریعے اپنی پوزیشن صاف کرنی چاہیے تھی۔ نتیجتاً ریاست بھر کی اردو عوام اُنھیں موردِ الزام نہ ٹھراتی اور اُن کی ہمدردیاں ہاشمی صاحب کے ساتھ ہوتی۔ مگر اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ وہی اردو مافیا آج بھی اکادیمی کے ارد گرد منڈلاتا دکھائی دیا، جس کے کالے کرتوتوں کی بدولت اردو اکادیمی شاید پہلی بار اِس قدر شدید تنقید کا نشانہ بنی۔

"جشنِ بہاراں" میں دس کروڑ روپیے برباد کرنے کے بعد اکادیمی نے لاکھوں روپیے مشاعروں پر لُٹا دیئے۔ اب دیکھتے ہیں انعام یافتگان کو اعزازی سَند، اِعزازیے اور سَفری اخراجات کی رقم کب ملے گی۔ یا پھر اس کے لیے بھی اُنھیں کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا۔ سچّی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ سب مل بھی گیا تو اردو اکادیمی کے ذریعہ انعام یافتگان اور ریاست بھر کے اردو عوام کا جو استحصال ہوا ہے، اور جس ذلت کا اُنھیں سامنا کرنا پڑا ہے، وہ کبھی بھی بھلایا نہ جائے گا۔

بات سچّی تھی حقیقت تھی بتا دی میں نے
کیوں نظر آئے انھیں میرے سُخن میں کانٹے

*🔴سیف نیوز اردو*

ٹیم انڈیا کی بلے بازی پوری طرح فلاپ، جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنز سے ہرایا India vs South Africa : جنوبی افریق...