ظہور خان اتحاد ٹائمز کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ
مشہور چینل و اخبار `اتحاد ٹائمز` کے سرپرست اور شہر عزیز مالیگاؤں کے سینئر صحافی `محترم ظہور خان سر` کو `ناندگاؤں - منماڑ مراٹھی جرنلسٹس ایسوسی ایشن` کی جانب سے منماڑ میں ایک شاندار تقریب میں `لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ` سے نوازا گیا۔ اس کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد... مستقبل کے لیے نیک تمنائیں
سیف نیوز اردو
*تصویروں کی سیاست میں الجھا وکاس*
*وسیم رضا خان* ✍️
آج جب ہم اکیسویں صدی کے ہندوستان میں ٹیکنالوجی اور اقتصادی سپر پاور بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں، تب بدقسمتی سے ہماری بحث کا مرکز 'تصویریں' اور 'مجسمے' بن گئے ہیں۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سے شروع ہونے والا ٹیپو سلطان سے متعلق تنازع اب محض مہاراشٹر تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ قومی سطح پر صف بندی کا ایک نیا ہتھیار بن گیا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ کیا ہم عظیم ہستیوں کو ان کے کارناموں کے بجائے ان کے مذہب سے پرکھنے کی غلطی کر رہے ہیں؟ ہندو تنظیموں اور مسلم کمیونٹی کے درمیان ٹیپو سلطان کے نام پر بڑھتی ہوئی یہ خلیج تشویشناک ہے۔
تاریخ میں کوئی بھی حکمران مکمل طور پر اچھا یا برا نہیں ہوتا؛ وہ اپنے حالات اور وقت کی سیاست کا حصہ ہوتا ہے۔ ٹیپو سلطان کو محض ان کے مذہب کی وجہ سے مسترد کرنا یا انہیں صرف ایک مذہبی علامت مان لینا، دونوں ہی ان کی تاریخی خدمات (جیسے میسور راکٹ اور انگریزوں کے خلاف سخت جدوجہد) کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر ہم تاریخ کو غیر جانبداری سے دیکھیں تو وہاں 'ہندو مسلم' کی وہ دیوار نہیں تھی جسے آج کی سیاست نے کھڑا کر دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ٹیپو سلطان کے دور میں ان کے وزیر اعظم پورنیا ایک ہندو تھے۔ شرنگیری مٹھ کے جگت گرو شنکراچاریہ کے ساتھ ان کی خط و کتابت اور مٹھ کو دی گئی سکیورٹی اور عطیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی دشمنی انگریزوں سے تھی، کسی خاص مذہب سے نہیں۔
چھترپتی شیواجی مہاراج، جنہیں اکثر ہندو فخر کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ان کی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر مسلم افسران تعینات تھے۔ ان کے توپ خانے کے سربراہ ابراہیم خان اور باڈی گارڈ مداری مہتر اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ شیواجی مہاراج کی جدوجہد 'سوراجیہ' (اپنی حکومت) کے لیے تھی، اسلام کے خلاف نہیں۔
آج کا تلخ سچ یہ ہے کہ تصویروں اور مجسموں کی سیاست سے نہ تو ہندوؤں کا پیٹ بھرے گا اور نہ ہی مسلمانوں کو روزگار ملے گا۔ مسلم کمیونٹی کا یہ موقف کہ انہیں کسی عظیم شخصیت کی تصویر یا مجسمے پر اعتراض نہیں ہے، ایک مثبت اور پختہ نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ جب معاشرے کا ایک بڑا حصہ ترقی اور امن کی بات کر رہا ہے، تو علامتوں کے نام پر نفرت پھیلانا صرف توجہ بھٹکانے کی حکمت عملی ہے۔
تاریخ میں اس دور کی عظیم شخصیات نے جو کچھ کیا، وہ اس وقت کا تقاضا تھا۔ آج کا تقاضا ہم آہنگی، تعلیم اور مشترکہ ترقی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مجمسے اور تصویریں تحریک حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں، تنازع کے لیے نہیں۔ اگر ہم ماضی کی غلطیوں یا اس دور کی جنگی حکمت عملیوں کو آج کے ترازو میں تولیں گے، تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ موجودہ چیلنجز جیسے بے روزگاری، صحت اور بنیادی ڈھانچے سے نمٹنے کے لیے ہمیں عظیم ہستیوں کے مذہب کو نہیں، بلکہ ان کی جدوجہد اور حب الوطنی کو اپنانا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم علامتوں کی سیاست کو چھوڑ کر حقیقی مسائل پر بات کریں، تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں ایک جھگڑالو معاشرے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک متحد قوم کے طور پر یاد رکھیں۔
🌙 رمضان المبارک کا پیغامِ مسرت و دعا 🌙
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رمضان المبارک کی نورانی ساعتوں کی آمد پر آپ سب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ مقدس مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، مغفرتوں، برکتوں اور قربِ الٰہی کا عظیم پیغام لے کر آتا ہے۔ یہی وہ مبارک زمانہ ہے جس میں بندوں کے لیے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، اپنے دلوں کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرنے اور اپنی زندگیوں کو سنوارنے کا سنہری موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
آئیے! اس عظیم مہینے کو محض ایک عبادتی موسم کے طور پر نہ گزاریں بلکہ اسے اپنی اصلاح، تربیت اور روحانی ترقی کا جامع اور عملی پروگرام بنائیں۔ اپنے دلوں کو کینہ و نفرت سے پاک کریں، اپنی زبانوں کو ذکر و تلاوت سے معطر رکھیں اور اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں ڈھالنے کا پختہ عزم کریں۔
یا اللہ!
اس بابرکت مہینے کے صدقے ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما اور ہمیں سچی و کامل توبہ کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے روزوں، نمازوں، تراویح، تلاوتِ قرآن، اذکار، صدقات و خیرات اور تمام عبادات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما۔
یا ربّ العالمین!
مدرسہ ریاضُ الجنۃ کے تمام دینی و تعلیمی کاموں میں برکت عطا فرما۔ مدرسہ کا جو تعمیری کام جاری ہے، اسے اپنی حفاظت و عافیت کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچا دے اور اسے دین و قرآن کی خدمت کا مضبوط، مستحکم اور پائیدار مرکز بنا دے۔
یا اللہ!
مدرسہ کے تمام اساتذۂ کرام و معلمات کو صحت، اخلاص اور استقامت عطا فرما۔
تمام طلبہ و طالبات کو علمِ نافع، عملِ صالح اور اخلاقِ حسنہ سے آراستہ فرما۔
تمام اراکین، معاونین اور محسنین کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرما، ان کے مال و جان میں برکت عطا کر اور انہیں دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابیوں سے سرفراز فرما۔
پروردگارِ عالم!
ہم سب کو رمضان المبارک کی حقیقی روح نصیب فرما اور اس مہینے کو ہماری زندگی کا بہترین، بابرکت اور باعثِ نجات رمضان بنا دے۔
آمین یا ربّ العالمین
والسلام
منجانب:
بانی و ناظم
حافظ جمیل احمد صاحب اشاعتی
مدرسہ ریاضُ الجنۃ
مالیگاؤں
سفراء چندے اور تصدیق نامہ
تصدیق نامہ کا چلن اور اس کو ضروری قرار دینے کی وجہ سے عوام و خواص سب کئی کئی گناہوں اور نافرمانیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں ، بہت سے ادارے اور تنظیمیں جو یہ دعوی کرتے نہیں تھکتے کہ ان کا ادارہ اور ان کی تنظیم دینی ادارہ اور دینی تنظیم ہے ، اسی طرح بہت سے امام و مؤذن اور ٹرسٹیان مساجد نیز بہت سے چندہ دینے والے لوگ ، مسافروں اور مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کر کے ان کی حق تلفی اور انھیں تکلیف پہنچانے جیسے سنگین و بدترین گناہ کر رہے ہیں ، ملک کے بیسیوں شہروں میں بہت سے علماء ، تنظیموں اور مدرسوں کے ذمّہ دار لوگ مدارس و مساجد کے لئے مالیات کی فراہمی کے سلسلہ میں آنے والے سفیروں سے تصدیق نامہ کے بدلے پیسے لینے لگے ، واضح ہو کہ تصدیق نامہ کے عوض پیسہ لینا رشوت ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر شہر اور ہر ادارہ کا ریٹ الگ الگ ہے ، چنانچہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک ایک تصدیق نامہ کے عوض پچاس روپے سے لے کر بارہ سو روپے تک لئے جاتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ تصدیق نامہ کا رواج اور اس کا چلن متعدد گناہوں کی جڑ ہے ۔ جو لوگ تصدیق نامہ کو ضروری قرار دے رہے ہیں وہ لوگ مدارس و مساجد کے حق میں ، ظالم حکومتوں اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمن فرقہ پرستوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں ۔ اس اعتبار سے یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ تصدیق ناموں کو ضروری قرار دینا ایک بدترین بدعت ، نہایت مہلک فتنہ اور بہت سے گناہوں کی گندی جڑ ہے ۔ پوری شدت سے اس کی مخالفت ہونی چاہئے اور اس جڑ کو اس طرح اکھاڑ پھینکنا چاہئے کہ یہ کبھی نہ پنپ سکے ۔