Friday, 20 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





ٹرمپ ٹیرف منسوخ ہونے سے کیا ہندوستان کو ہوگا فائدہ ؟ جانیں
نئی دہلی۔ امریکی سپریم کورٹ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ عالمی تجارت کی حرکیات کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے، جس کا ہندوستانی معیشت پر براہ راست اور وسیع اثر پڑے گا۔ جمعرات (20 فروری 2026) کو اس تاریخی 6-3 فیصلے میں، عدالت نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت ٹیرف لگا کر اپنے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

اس فیصلے نے تقریباً 175 بلین ڈالر (14.5 لاکھ کروڑ) روپے کے ٹیرف کی واپسی کا امکان پیدا کر دیا ہے، جسے ہندوستان جیسے بڑے برآمد کنندگان کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ خبر ہندوستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے دس مہینوں میں، ہندوستان نے امریکہ کو 72.46 بلین ڈالر کی برآمدات کیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے لگائے گئے محصولات نے ہندوستان کی کل امریکی برآمدات کے تقریباً 55فیصد کو براہ راست متاثر کیا، جس سے امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی اشیاء زیادہ مہنگی ہو گئیں اور ان کی مسابقت میں کمی آئی۔ نتیجتاً، الیکٹرانکس، ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس، اور کیمیکل جیسے اہم شعبوں میں بہت سے بڑے آرڈرز کو ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے مسابقتی ممالک کی طرف موڑ دیا گیا۔کلیدی شعبوں پر اثر اور متوقع بہتری
سیکٹر کے لیے مخصوص ریلیف: ریاستہائے متحدہ نے اسٹیل، ایلومینیم اور کاپر پر 50فیصد تک، اور آٹو پرزوں پر 25فیصد تک ٹیرف عائد کیے تھے۔ ان ٹیرف کے خاتمے کے ساتھ، ٹاٹا اسٹیل، جے ایس ڈبلیو اسٹیل، اور بھارت فورج جیسی بڑی کمپنیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

روزگار اور معیشت: ماہرین نے اندازہ لگایا کہ ان محصولات سے ہندوستان میں تقریباً 2 ملین ملازمتوں کو خطرہ ہے۔ اب، برآمدات میں اضافے سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔

تجارتی توازن: ہندوستان کا امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس ہے، اور محصولات کے خاتمے سے ہندوستان کا تجارتی توازن مزید مضبوط ہو سکتا ہے کیونکہ برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے۔

مستقبل کے چیلنجز اور خطرات
اگرچہ یہ فیصلہ بھارت کے لیے ایک بڑی فتح ہے، ماہرین احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ IEEPA کے تحت عائد ٹیرف تک محدود ہے۔ امریکی انتظامیہ کے پاس اب بھی سیکشن 232 اور سیکشن 301 جیسی قانونی دفعات موجود ہیں، جنہیں وہ نئے ٹیرف لگانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ مزید برآں، عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کے ساتھ مسابقت تیز ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک سنہری موقع پیش کرتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی فوائد کا انحصار امریکی حکومت کی مستقبل کی تجارتی پالیسیوں پر ہوگا۔











طالب علم نے سپریم کورٹ میں اپنامقدمہ خود لڑا۔ جیتاکیس ،حاصل کیاMBBS سیٹ
عام طور پر فلموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب وکیل ساتھ نہ دیں تو ہیرو خود عدالت میں اپنا مقدمہ لڑتا ہے، لیکن حقیقی زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے شہر Jabalpur سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ اتھرو چترویدی(Atharva Chaturvedi) نے یہ کارنامہ حقیقت میں کر دکھایا۔ اس نوجوان نے سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ خود لڑا اور آخرکار ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کر لیا۔

اچھے نمبر کے باوجود داخلہ نہیں ملااتھرو نے NEET 2024–25 امتحان میں 720 میں سے 530 نمبر حاصل کیے۔ اس سے قبل بھی وہ نیٹ امتحان پاس کر چکا تھا، جس سے اس کی تعلیمی صلاحیت واضح ہوتی ہے۔
اس کے باوجود اسے اکنامکلی ویکر سیکشن (EWS) کوٹہ کے تحت داخلہ نہیں دیا گیا۔

اس کی وجہ کم نمبر نہیں بلکہ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے نجی میڈیکل کالجوں میں 10 فیصد EWS ریزرویشن کو صحیح طریقے سے نافذ نہ کرنا تھا۔

بھارتی آئین کی 103ویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 15(6) اور 16(6) میں معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ہے، لیکن پالیسی کے ناقص نفاذ کے باعث اتھرو اپنی سیٹ سے محروم ہوگیا۔قانون پڑھ کر عدالت پہنچنے والا طالب علم
اکثر طلبہ ایسی صورتحال میں مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن اتھرو نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کا کوئی قانونی پس منظر نہیں تھا، مگر اس نے خود قانون پڑھنا شروع کیا۔

اس نے عدالتی فیصلوں اور آئینی دفعات کا تفصیل سے مطالعہ کیا اور سب سے پہلے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ایک سال کے اندر EWS ریزرویشن نافذ کرنے کا حکم دیا، لیکن اگلے داخلہ سیشن میں بھی پالیسی پر مکمل عمل نہیں ہوا۔

NEET 2025–26 میں اتھرو نے EWS کیٹیگری میں 164 رینک حاصل کیا، مگر پھر بھی اسے داخلہ نہیں ملا۔ اس کے بعد اس نے خود آن لائن پٹیشن دائر کرکے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

سپریم کورٹ میں تنہا قانونی جدوجہد
اتھرو کا مقدمہ چیف جسٹس Surya Kant کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا۔

سینئر وکلاء کے درمیان ایک 19 سالہ طالب علم کا خود کھڑا ہونا غیر معمولی منظر تھا۔ جب بینچ اٹھنے ہی والا تھا تو اس نے ہمت کرکے درخواست کی :

“My Lords, I need just 10 minutes.”
اس نے عدالت کو بتایا کہ کس طرح ریاستی حکومت نے پہلے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا اور اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔

بعد میں اس نے کہا کہ ابتدا میں وہ گھبرا گیا تھا، لیکن اسے یقین تھا کہ قانون اس کے ساتھ ہے۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اتھرو کا داخلہ ریاستی حکام کی پالیسی پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے رکا، جو اس کے اختیار سے باہر تھا۔

عدالت نے National Medical Commission اور مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ اسے نجی میڈیکل کالج میں MBBS کورس میں داخلہ دیا جائے۔

عدالت کے حکم کے بعد اسے پروویژنل سیٹ فراہم کر دی گئی۔

ڈاکٹر بننے کا خواب برقرار
عدالت میں مضبوط دلائل دینے کے بعد کئی لوگوں نے مذاق میں کہا کہ اتھرو کو وکیل بن جانا چاہیے، مگر اس کا ہدف واضح ہے۔

وہ مسلسل NEET کی تیاری کرتا رہا اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا اصل خواب ڈاکٹر بننا ہے۔

 EWS ریزرویشن اور قانونی اہمیت
بھارت میں 2019 میں آئین کی 103ویں ترمیم کے ذریعے معاشی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے لیے 10 فیصد ریزرویشن متعارف کرایا گیا تھا۔

یہ ریزرویشن ان طلبہ کے لیے ہے جو روایتی ریزرو کیٹیگری میں شامل نہیں ہوتے مگر مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔

اس کیس نے ایک اہم قانونی سوال کو اجاگر کیا کہ اگر ریاستی حکومتیں آئینی ریزرویشن کو نافذ نہ کریں تو متاثرہ طلبہ کے حقوق کیسے محفوظ کیے جائیں۔

اتھرو چترویدی کا مقدمہ اس حوالے سے ایک مثال بن گیا ہے کہ آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے عام شہری بھی عدالت سے رجوع کرکے انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔













’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ ’خاموش قاتل‘ آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور دماغی ساخت کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ جس کا اندازہ اکثر بروقت نہیں ہو پاتا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طبی زبان میں ’ہائپر ٹینشن‘ کہلانے والا یہ مرض ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کی شریانوں پر دباؤ مسلسل زیادہ رہتا ہے۔
چونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے مریض برسوں تک اس سے بے خبر رہ سکتا ہے مگر اس دوران یہ جسم کے سب سے حساس حصے یعنی دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔انسانی دماغ کا وزن پورے جسم کے کل وزن کا محض دو فیصد ہوتا ہے لیکن اسے کام کرنے کے لیے جسم کی کل آکسیجن اور خون کی فراہمی کا تقریباً 20 فیصد حصہ درکار ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خون کی گردش میں معمولی سی رکاوٹ بھی دماغی خلیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دماغ پر درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے:
فالج کا خطرہ
بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں جسے ’ایتھیروسکلروسیس‘ کہا جاتا ہے۔ اگر خون کا کوئی لوتھڑا (Clot) دماغ کی کسی تنگ شریان میں پھنس جائے یا دباؤ کی وجہ سے شریان پھٹ جائے تو یہ فالج کا سبب بنتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مستقل معذوری یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ذہنی صلاحیتوں میں کمی
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنے والے افراد میں آگے چل کر ’ڈیمنشیا‘ یا بھولنے کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی روانی متاثر ہونے سے ’واسکولر ڈیمنشیا‘ جنم لیتا ہے جس میں یادداشت، منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔
چھوٹے سٹروک
انہیں ’منی سٹروک‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتے ہیں جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی سپلائی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ اگرچہ یہ چند منٹوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن یہ اس بات کی علامت ہیں کہ مستقبل میں ایک بڑا فالج دستک دے رہا ہے۔
دماغ کا سکڑنا
طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنے سے دماغ کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ خاص طور پر ’ہپوکیمپس‘ جو یادداشت کا مرکز ہے، تیزی سے سکڑنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کی گہرائی میں موجود باریک شریانیں متاثر ہوتی ہیں، جس سے ’وائٹ میٹر‘ کو نقصان پہنچتا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر کے اثرات صرف سر تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے گردے اور آنکھیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ گردوں کی باریک شریانیں متاثر ہونے سے وہ خون صاف کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جو ڈائلیسس کی نوبت لا سکتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر سے آنکھوں کے پردے کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں جس سے بینائی مستقل طور پر جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی میں چند سادہ تبدیلیوں سے اس ’خاموش قاتل‘ کو قابو کیا جا سکتا ہے۔غذا میں نمک کا استعمال کم کریں اور پھل، سبزیاں اور اناج اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ پروسیس شدہ اور پیکٹ والے کھانوں سے پرہیز کریں۔
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل ورزش (جیسے تیز چلنا یا تیراکی) بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں جادوئی اثر رکھتی ہے۔
ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا گہرے سانس لینے کی مشقیں کریں۔ موٹاپا بلڈ پریشر کا بڑا دشمن ہے۔
گھر پر بلڈ پریشر چیک کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ کسی بھی تبدیلی کا فوری علم ہو سکے۔اگر ڈاکٹر نے ادویات تجویز کی ہیں تو انہیں وقت پر لیں۔ بلڈ پریشر نارمل محسوس ہونے پر بھی خود سے دوا ترک نہ کریں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ آج اپنے بلڈ پریشر کو قابو کر لیتے ہیں تو آپ نہ صرف فالج بلکہ بڑھاپے میں یادداشت کھونے کے سنگین خطرات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*

ٹیم انڈیا کی بلے بازی پوری طرح فلاپ، جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنز سے ہرایا India vs South Africa : جنوبی افریق...