Tuesday, 10 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




شکیل مصطفی سر کو پیکر ِ تدریس ایوارڈ تفویض 
 مالیگاؤں؍ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو بہ اشتراک اردو چینل کے زیراہتمام جشن اردو سال 2026 بڑے ہی تزک و اہتمام سے فیروز شاہ مہتا بھون، ممبئی یونیورسٹی کالینہ میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں جناب شکیل مصطفی سر (مالیگاؤں) کو پیکر تدریس ایوارڈ تفویض کیا گیا۔ یہ ایوارڈ تعلیم کے میدان میں نمایاں اور قابل قدر خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ 
 محترم موصوف 18؍ سال سے یعقوب بیگ ہائی اسکول وجونیئر کالج پنویل میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بچّوں کے ادب پر مشتمل کئی کتابیں شائع کیں ہیں۔ 
 پیکر تدریس ایوارڈ سے سرفراز کئے جانے پر اُن کے خیر خواہوں، ادبی حلقہ بگوش اور تعلیم سے روابط رکھنے والے احباب نے انھیں پرخلوص مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔











"بیرون ممالک اور یوروپین کنٹریز میں فیزیو تھراپی کو اولیت دی جاتی ہے" ڈاکٹر سعید فارانی 
"رفا ہیلتھ کیئر" کا شاندار افتتاح و آغاز 

شہر عزیز مالیگاؤں میں ربانی فیمیلی کی علمی ادبی سماجی، طبی و فلاحی شش پہلوی ہمہ جہت خدمات اظہر من الشمس ہیں- مرحوم بقرعیدی سردار سے لیکر الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر و فرزندان ڈاکٹر راشد ربانی، ایڈوکیٹ رفیق ربانی، ریحان ربانی و رضوان ربانی کے بعد اب تیسری نسل عوام الناس کی خدمات کے لئے میدان عمل میں آچکی ہے اس طرح کے احساسات کا اظہار "رفا ہیلتھ کیئر" کے افتتاحی پروگرام میں حاضرین نے کیا- جو ٨ فروری ٢٠٢٦ء بروز اتوار کو عصر بعد، انصار کالونی، نزد فباء مسجد, منعقد ہوا- اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر سعید احمد فارانی صاحب نے ڈاکٹر محمد معظم (فیزیو تھراپسٹ)و ڈاکٹر شعیب انجم (جنرل فزیشن) صاحبان کو مبارکباد پیش کی اور بتایا کہ ایمانداری سے اس پیشے کو اپنایا تو لوگ اسے خدمت خلق کا نام دیں گے- آپ نے موجودہ دور میں فیزیو تھراپی اور یونانی پریکٹس کی اہمیت، افادیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یورپین کنٹریز میں فیزیو تھراپی کو اولیت دی جاتی ہے، قبل اسکے معروف مبصر و مقرر عمران جمیل، ڈاکٹر افتخار احمد و عبدالعزیز مقادم صاحبان نے بھی مختصراً اظہار خیال کرتے ہوئے پورے خانوادے کو مبارکباد پیش کی- تقریب کا آغاز حافظ محمد مدثر کی قرأت سے ہوا ایڈوکیٹ رفیق ربانی نے غرض و غایت بیان کی مفتی شارق کی دعا اور الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے دست مبارک سے رفا ہیلتھ کیئر، فیزیو تھراپی کنسلٹنگ، رفا جنرل فزیشن کنسلٹنگ، رفا میڈیکل اینڈ جنرل اسٹورس کا افتتاح و آغاز ہوا- اس موقعے پر معززین شہر کی کثیر تعداد کے علاوہ پانچ اضلاع سے ڈاکٹرس حضرات و مہمانان موجود تھے- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر نے بحسن و خوبی انجام دیئے- شب دس بجے تک لوگوں کی آمد کا سلسلہ دراز رہا -












خوبصورت مگر زہریلے: وہ پھول جن سے محتاط رہنا ضروری ہے
خوبصورت، رنگ برنگے اور خوشبودار پھول گھروں، باغات اور تقریبات کی رونق سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں محبت، خوشی اور احترام کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تاہم سائنسی تحقیق اور ماہرینِ نباتات کی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ ہر پھول صرف خوبصورتی ہی نہیں رکھتا بلکہ بعض پھول قدرتی طور پر ایسے زہریلے کیمیائی مادے پیدا کرتے ہیں جو مخصوص حالات میں انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ لاعلمی میں ان پھولوں کو چھونا، چبانا یا نگلنا صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی نے ایک تحقیق کے حوالے لکھا ہے کہ پودے اپنی حفاظت کے لیے قدرتی دفاعی نظام رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ حرکت نہیں کر سکتے، اس لیے الکلائیڈز، گلائیکوسائیڈز اور دیگر ثانوی کیمیائی مرکبات پیدا کرتے ہیں تاکہ کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کو دور رکھا جا سکے۔یہی مادے اگر انسانی جسم میں داخل ہو جائیں تو متلی، قے، جلن، اعصابی مسائل حتیٰ کہ کہ دل اور دیگر اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ذیل میں سات ایسے عام پھولوں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے جن کے بارے میں ماہرین نے صحت کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
اولیئنڈر
اولیئنڈر ایک عام آرائشی جھاڑی ہے جو پارکوں اور سڑکوں کے کنارے بکثرت لگائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پودے کے تمام حصوں میں کارڈیک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر اس کے پتے یا پھول نگل لیے جائیں تو قے، چکر اور دل کی بے ترتیبی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور شدید صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
فاکس گلوو
فاکس گلوو کے خوبصورت گھنٹی نما پھول بظاہر بے ضرر نظر آتے ہیں، مگر ان میں ڈیجیٹالس نامی مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ یہ مادے دل کے خلیوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں اور اگر زیادہ مقدار میں جسم میں داخل ہو جائیں تو دل کی دھڑکن خطرناک حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاکس گلوو کو طبی لحاظ سے نہایت حساس پودا سمجھا جاتا ہے۔اینجلز ٹرمپٹ / برگمانسیا
یہ بڑے اور خوشبودار پھول خاص طور پر رات کے وقت اپنی مہک کے باعث توجہ حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان میں سکوپولامین اور ہائیوسایامین جیسے الکلائیڈز پائے جاتے ہیں جو ذہنی انتشار، فریب نظر، اعصابی کمزوری اور شدید صورت میں سانس کی دشواری کا سبب بن سکتے ہیں۔
پوائزن ہیملک
اگرچہ یہ پودا عام گھریلو باغات میں کم پایا جاتا ہے، لیکن تاریخی طور پر اسے نہایت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود طاقتور زہریلے مادے اعصابی نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ معمولی مقدار بھی سانس کے نظام کو متاثر کر کے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
کولمبائن
کولمبائن کے نازک اور منفرد شکل کے پھول کئی باغات کی زینت بنتے ہیں۔ تاہم کچھ اقسام میں سائنوجینک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو جسم میں جا کر سائنائیڈ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمزوری، چکر اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔کراؤن آف تھورنز
یہ کانٹے دار پودا زیادہ خطرناک تو نہیں، مگر اس کا دودھیا رس جلد اور آنکھوں میں شدید جلن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر غلطی سے نگل لیا جائے تو معدے میں تکلیف، قے اور بدہضمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین اسے بچوں اور پالتو جانوروں سے دور رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سیمبوکس
ایلڈر کے کچھ پھولوں اور پودوں میں بھی سائنوجینک مرکبات پائے جاتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں ان کا استعمال متلی، پیٹ درد اور کمزوری کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر انہیں بغیر مناسب تیاری کے استعمال کیا جائے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عام حالات میں صرف پھولوں کو دیکھنا یا مختصر وقت کے لیے سونگھنا زیادہ تر افراد کے لیے خطرناک نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب پودوں کو چبایا، نگلا یا طویل عرصے تک ننگے ہاتھوں سے سنبھالا جائے۔ بچوں، پالتو جانوروں، مالیوں اور پھول فروشوں کے لیے خطرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔صحت کے ماہرین عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ پھولوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ضرور ہوں، مگر احتیاط کے ساتھ۔ غیر معروف پودوں کو کھانے سے گریز کیا جائے، باغبانی کے دوران دستانے استعمال کیے جائیں، اور اگر کسی قسم کی جلن، متلی یا چکر محسوس ہوں تو فوری طبی مشورہ حاصل کیا جائے۔
فطرت کی یہ خوبصورتی اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب اس کے ساتھ شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

"پاکستانی ڈالروں کے لئے اپنی ماں تک کو بیچ سکتے ہیں " ، عمران خان نے دکھایا تھا آئینہ اسلام آباد: پاکستان ...