"پاکستانی ڈالروں کے لئے اپنی ماں تک کو بیچ سکتے ہیں " ، عمران خان نے دکھایا تھا آئینہ
اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حالیہ موقف نے ایک بار پھر ملکی سیاست اور کھیلوں کی انتظامیہ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان جس نے پہلے بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا تھا، اب اچانک یو ٹرن لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس الٹ پھیر نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایک برسوں پرانے بیان کو دوبارہ روشنی میں لادیا ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ دراصل عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستانی ڈالروں کے عوض اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں‘‘۔
اس بیان کے زیر بحث آنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کر سکتا ہے۔ سیاسی کشیدگی اور بیان بازی کے درمیان پی سی بی نے سخت موقف اپنانے کی کوشش کی۔ تاہم جیسے ہی مالی نقصانات اور آئی سی سی کی آمدنی کا معاملہ سامنے آیا، صورتحال بدل گئی۔ اب پاکستان بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دے رہا ہے۔عمران خان کا برسوں پرانا بیان خبروں میں کیوں ہے؟
عمران خان کا ایک پرانا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ حامی اور ناقدین دونوں کہہ رہے ہیں کہ پی سی بی کا یہ یو ٹرن اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کے خلاف عمران خان تنبیہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی پالیسیاں اکثر اصولوں سے نہیں بلکہ ڈالروں کی ضرورت سے طے ہوتی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں اپنے موقف پر ڈٹا رہتا تو اسے مالی نقصان برداشت کرنے کی ہمت دکھانی پڑتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈوبتی ہوئی معیشت اور زرمبادلہ کی کمی کے دور میں کرکٹ بھی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔
ضمیر کہاں گیا؟
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسپورٹس مین شپ سے زیادہ معاشی مجبوری سے ہوا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے میچز کو عالمی کرکٹ میں سب سے زیادہ کمانے والے میچوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان براڈکاسٹ رائٹس، ایڈورٹائزنگ اور اسپانسر شپ سے حاصل ہونے والی خاطر خواہ ریونیو سے خود کو الگ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ سری لنکا کے ساتھ بات چیت کے بعد شہباز کے فلپ فلاپ نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان کی عزت نفس واقعی ڈالروں پر منحصر ہے۔ چند روز قبل شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ انہیں قرضے کے حصول کے لیے کس طرح سر جھکانا پڑا، اور اب یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ یہ بات سچ بھی ہے ۔
"ایک دن بی جے پی گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی": اسدالدین اویسی نے ساورکر کے لیے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے مطالبے کی مذمت کی
محبوب نگر (تلنگانہ): اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پیر کے روز وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن سے نوازنے کے سنگھ سربراہ کے مطالبے پر بی جے پی-آر ایس ایس پر سخت حملہ کیا۔
1857 کی بغاوت میں اپنا حصہ ڈالنے والے مولوی علاؤالدین کو یاد کرتے ہوئے اویسی نے ساورکر کو اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازنے کے خیال پر تنقید کی۔انہوں نے کہا، "حیدرآباد میں مکہ مسجد کے اس وقت کے امام مولوی علاؤالدین نے انگریزوں کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ کچھ آزادی پسند جنگجو اورنگ آباد میں پکڑے گئے تھے۔ مولوی علاؤالدین نے حیدرآباد میں انگریزوں کی ریزیڈینسی کے روبرو احتجاج کیا، حالانکہ اس وقت انگریز ہی نظام کی حفاظت کرتے تھے۔ ان پر حملہ کیا گیا، لیکن وہ فرار ہو گئے، بعد میں، وہ گرفتار ہو گئے۔ وہ 'کالا پانی' ( انڈومان جیل) میں پہلے قیدی تھے۔"
اویسی نے اپنے خطاب میں آر ایس ایس کو یاد دلایا کہ کالا پانی کی سزا پانے والا پہلا مسلمان تھا جس کا نام مولانا علاؤالدین تھا۔ انھوں نے کہا کہ، جب علاؤالدین بیمار ہوئے تو انگریزوں نے نظام سے انھیں لے جانے کو کہا، لیکن نظام نے انکار کر دیا اور مولانا علاؤ الدین کا انڈومان جیل میں انتقال ہوگیا۔
اے آئی ایم آئی ایم لیڈر نے مزید کہا، "آج، آر ایس ایس ایک ایسے شخص کو بھارت رتن دینے کے لیے اپیل کر رہا ہے جس نے انگریزوں کو چھ رحم کی درخواستیں لکھی تھیں۔ ایک وقت آئے گا جب بی جے پی ناتھورام گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی۔"
واضح رہے اویسی نے یہ معاملہ ایسے وقت اٹھایا ہے جب آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے 'سنگھ کے 100 سال - نیو ہورائزنز' پر دو روزہ لیکچر سیریز میں کہا کہ اگر ساورکر کو بھارت رتن دیا جائے گا تو اس (ایوارڈ) کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ بھاگوت نے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے والی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں لیکن موقع ملنے پر وہ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔
بھاگوت نے کہا، "میں اس کمیٹی میں نہیں ہوں، لیکن اگر میں کسی ایسے شخص سے ملوں گا تو میں ان سے پوچھوں گا۔ اگر سواتنتر ویر ساورکر کو بھارت رتن سے نوازا جاتا ہے، تو ایوارڈ کا وقار بڑھ جائے گا۔ اس وقار کے بغیر بھی وہ کروڑوں دلوں کے شہنشاہ بن چکے ہیں۔"
اس سے پہلے آج کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے موہن بھاگوت کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت رتن ایوارڈ اور ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے مجاہدین آزادی کی 'توہین' ہوگی۔
ٹیگور نے اے این آئی کو بتایا، "اپمان ہوگا (توہین ہوگی)، اگر ہم ان لوگوں کو بھارت رتن دیتے رہیں جو انگریزوں سے معافی مانگتے رہے۔ یہ بی آر امبیڈکر، سردار پٹیل، مہاتما گاندھی سمیت ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگوں کی توہین ہوگی۔"
تاہم، بی جے پی اور یہاں تک کہ انڈیا بلاک کی اتحادی، شیوسینا (یو بی ٹی) نے بھاگوت کے مطالبات کو درست قرار دیا۔
بی جے پی ایم پی مدن راٹھور نے اے این آئی کو بتایا کہ کچھ لوگ "مکمل تاریخ نہ پڑھنے" کی وجہ سے اس خیال کی مخالفت کر رہے ہیں، اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ ساورکر نے "بہت نقصان اٹھایا ہے" اور انہوں نے امید کھوئے بغیر ملک کے لیے لڑنا جاری رکھا ہے۔
جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن نہ دینے پر بی جے پی پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے اس ضمن میں سیدھے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھ گچھ کرنے کی اپیل کی۔
امریکہ-بنگلہ دیش تجارتی معاہدہ : ڈیری، بیف اور پولٹری مارکیٹ کھل گئیں، گارمنٹس پر ٹیرف میں نرمی
امریکہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی کے اہم شعبے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر عائد محصولات میں نمایاں نرمی کی ہے۔
اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی ڈیری مصنوعات، گائے کے گوشت (بیف) اور پولٹری مصنوعات کو اپنی منڈی میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ساختہ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، موٹر وہیکلز اور ان کے پرزہ جات، طبی آلات، مشینری، آئی سی ٹی آلات، توانائی سے متعلق مصنوعات اور سویا پر مبنی اشیا کو بھی بنگلہ دیش میں ترجیحی تجارتی رسائی دی جائے گی۔
اس کے بدلے میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ریڈی میڈ گارمنٹس (RMG) کو امریکی منڈی میں صفر ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہوگی، بشرطیکہ ان ملبوسات میں استعمال ہونے والا کپاس اور مصنوعی فائبرز امریکہ سے درآمد کیے گئے ہوں۔ برآمدات کا حجم اسی شرط سے منسلک ہوگا کہ بنگلہ دیش امریکہ سے کتنا ٹیکسٹائل خام مال درآمد کرتا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارت تجارت کے حکام کے مطابق، معاہدے میں امریکی گندم، سویا بین اور ایل این جی (Liquefied Natural Gas) کی درآمد، ای-کامرس پر ٹیرف نہ لگانے کی یقین دہانی، امریکی طے کردہ انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے معیارات پر عمل درآمد اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں امریکہ کی حمایت یافتہ اصلاحات کی تائید بھی شامل ہے۔
معاہدے کے ایک اہم حصے کے طور پر بنگلہ دیش نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مزدور حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ اس میں جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی، مزدور قوانین میں ترمیم کے ذریعے تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی (Collective Bargaining) کی آزادی، اور لیبر قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔امریکہ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے گا، جس کے لیے یو ایس ایکسپورٹ-امپورٹ بینک (EXIM Bank) اور یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) جیسے ادارے امریکی نجی شعبے کے اشتراک سے مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ قوانین اور اہلیت کے تقاضے پورے ہوں۔
اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات جن میں گندم، سویا، کپاس اور مکئی شامل ہیں ،خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں تقریباً 15 ارب ڈالر کی درآمدات آئندہ 15 برسوں میں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ہوابازی کے شعبے میں بھی تعاون شامل ہے۔
اسی تناظر میں، بنگلہ دیش نے حال ہی میں امریکی کمپنی بوئنگ سے 25 طیارے خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار کروڑ ٹکہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ قدم بھی امریکی ٹیرف میں نرمی کے لیے کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔
بنگلہ دیش کے ایکسپورٹ پروموشن بیورو (EPB) کے مطابق، امریکہ بدستور بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر مجوزہ 37 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 20 فیصد کر دیا تھا، تاہم بنگلہ دیشی پالیسی سازوں کی خواہش تھی کہ اسے 15 فیصد تک لایا جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کی ملبوسات کی صنعت کے لیے نہایت اہم ریلیف ثابت ہوگا، کیونکہ یہی شعبہ ملک کی 80 فیصد سے زائد برآمدات کا ذریعہ ہے، تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے ، جن میں اکثریت خواتین کی ہے اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش 12 فروری کو عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جن کے ذریعے نئی قیادت کا انتخاب کیا جائے گا اور 18 ماہ سے قائم یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کا خاتمہ متوقع ہے، جو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد جولائی میں ہونے والی پرتشدد طلبہ تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آئی تھی۔
بنگلہ دیش کی معیشت طویل عرصے سے ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات پر انحصار کرتی رہی ہے، جبکہ امریکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ حالیہ برسوں میں مزدور حقوق، سیاسی عدم استحکام اور عالمی تجارتی دباؤ کے باعث بنگلہ دیش کو امریکی منڈی میں سخت شرائط کا سامنا رہا۔ یہ نیا تجارتی معاہدہ نہ صرف معاشی ریلیف بلکہ آنے والے انتخابات سے قبل عبوری حکومت کے لیے ایک سفارتی کامیابی بھی سمجھا جا رہا ہے۔