Monday, 9 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



رنجی ٹرافی میں عاقب نبی نے مچائی تباہی ، مدھیہ پردیش کے خلاف جھٹکے 12 وکٹ ، جموں و کشمیر کو پہنچایا سیمی فائنل میں
نئی دہلی: جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی ڈومیسٹک کرکٹ میں وکٹ کی مشین بن گئے ہیں۔ رنجی ٹرافی کے ناک آؤٹ مرحلے میں مدھیہ پردیش کے خلاف ان کی تباہ کن گیند بازی نے سنسنی پیدا کردی۔ اندور میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میچ میں عاقب نبی نے مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی طاقتور گیند بازی کی بدولت جموں و کشمیر نے کوارٹر فائنل میچ میں مدھیہ پردیش کو 56 رنز سے شکست دے کر اگلے راؤنڈ میں جگہ پکی کرلی۔

جموں و کشمیر کی جیت کے ہیرو عاقب نبی نے میچ میں کل 12 وکٹیں حاصل کیں۔ نبی نے پہلی اننگز میں سات اور پھر دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح مجموعی طور پر عاقب نبی نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔ عاقب کی زبردست کارکردگی کی بدولت جموں و کشمیر نے مدھیہ پردیش کو پورے میچ میں بیک فٹ پر رکھا اور آسانی سے جیت حاصل کی۔ایم پی اور جموں و کشمیر کے میچ میں کیا ہوا؟
وہیں اس میچ کی بات کریں تو جموں و کشمیر کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 67 اوورز میں 194 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ جواب میں مدھیہ پردیش کی بیٹنگ بھی ناقص رہی اور عاقب نبی کی جان لیوا باؤلنگ کے سامنے ٹیم صرف 152 رنز تک ہی محدود رہی۔ اس سے جموں و کشمیر کو پہلی اننگز میں 42 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔

پہلی اننگز میں سستے آؤٹ ہونے کے بعد جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں زیادہ محتاط کے ساتھ بیٹنگ کی۔ جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں 248 رنز بنا کر مدھیہ پردیش کو چوتھی اننگز میں 291 رنز کا ہدف دیا تھا۔ تاہم عاقب نے ایک بار پھر اپنی دمدار گیندبازی سے تباہی مچا دی۔ عاقب نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر ٹیم کو 234 رنز تک محدود کر دیا اور جموں و کشمیر نے یہ میچ 56 رنز سے جیت لیا۔









سپریم کورٹ نے بنگال میں ایس آئی آر جانچ کے لیے مزید وقت دے دیا، ڈی جی پی کو شو کاز نوٹس
سپریم کورٹ نے پیر کے روز مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد اب یہ فہرست 14 فروری کے بعد شائع کی جائے گی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ 14 فروری کو حتمی ووٹر لسٹ شائع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر (CEC) کو خط لکھ کر سماعت کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت مانگ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ووٹرز سے متعلق سماعت کے لیے دیے جانے والے وقت میں مزید توسیع کی جائے۔سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) سے ذاتی حلف نامہ طلب کرتے ہوئے انہیں شو کاز نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے اس حلف نامے کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ SIR کے دوران تعینات انتخابی اہلکاروں کو دھمکیاں دی گئیں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن کے الزامات پر سپریم کورٹ کی سختی
الیکشن کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران کئی مقامات پر اس کے اہلکاروں کو دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس سے آزاد اور منصفانہ ووٹر ریویژن کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بنگال کے ڈی جی پی سے وضاحت طلب کی ہے۔

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت
اسی دن سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر بھی سماعت کی، جس میں انہوں نے آئندہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کو چیلنج کیا ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جانبداری کے تحت کام کر رہا ہے اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا موجودہ طریقہ کار سماج کے پسماندہ طبقات کے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے عدالت سے عبوری ہدایت کی مانگ کی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کسی بھی ووٹر کا نام حذف نہ کیا جائے، خاص طور پر ان ووٹروں کا جنہیں “Logical Discrepancy” کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں رواں برس اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، ایسے میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ بن چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے غیر قانونی ووٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ حکمراں ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کو مخصوص طبقات کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا اور معاملے کی مزید سماعت پیر کے لیے مقرر کی تھی۔











دہلی کے 9 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، اسکولوں میں سیکورٹی سخت، سیکورٹی ایجنسیاں الرٹ
نئی دہلی :دہلی میں پیر کی صبح ایک بار پھر اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے سے ہلچل مچ گئی۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں واقع نو اسکولوں کو بم کی دھمکی آمیز کال موصول ہوئی، جس کے بعد دہلی پولیس، فائر بریگیڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آ گئیں۔پولیس کے مطابق یہ تمام دھمکی آمیز کالز صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان کی گئیں۔ ایک ہی وقت میں متعدد کالز آنے کے باعث سیکورٹی ایجنسیاں مکمل طور پر الرٹ ہو گئیں۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ اسکولوں کے اطراف سیکورٹی بڑھا دی گئی اور احتیاطی طور پر طلبہ اور عملے کی حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔جن نو اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے، ان میں دہلی کینٹ کا لوریٹو کانونٹ اسکول، سری نواس پوری کا کیمبرج اسکول، روہنی کا وینکٹیشور اسکول، نیو فرینڈز کالونی کا کیمبرج اسکول، صادق نگر کا انڈین اسکول، روہنی کا سی ایم شری اسکول، آئی این اے کا ڈی ٹی اے اسکول، روہنی کا بال بھارتی اسکول اور نیو راجندر نگر کا ونستھلی اسکول شامل ہیں۔ تمام اسکولوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال کسی بھی مشتبہ چیز کی اطلاع نہیں ملی ہے،قابل ذکر بات یہ ہےکہ مکمل تفتیش جاری ہے۔ ساتھ ہی دھمکی دینے والے شخص یا افراد کی شناخت کے لیے کال ڈیٹیلز اور تکنیکی شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جنوری سے فروری 2026 کے درمیان دہلی این سی آر میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 7 فروری کو ایک بڑے پیمانے پر بھیجے گئے ای میل کے بعد 50 سے زائد اسکولوں کو خالی کرایا گیا تھا، جسے بعد میں وزارت داخلہ نے فیک قرار دیا تھا۔اس سے قبل 28 اور 29 جنوری کو بھی سردار پٹیل ودیالیہ، لوریٹو کانونٹ اور ڈان بوسکو سمیت پانچ اسکولوں کو دھمکیاں ملی تھیں، تاہم تفتیش میں کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا اور چند گھنٹوں بعد تمام کیمپس کو محفوظ قرار دے دیا گیا تھا۔

*🔴سیف نیوز اردو*

رنجی ٹرافی میں عاقب نبی نے مچائی تباہی ، مدھیہ پردیش کے خلاف جھٹکے 12 وکٹ ، جموں و کشمیر کو پہنچایا سیمی فائنل میں ن...