Monday, 9 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




*"آل انڈیا مشاعرہ بہ یادگار ارشد مینا نگری" * میں ہندوستان کی ہردلعزیز شاعرہ محترمہ ھمانشی بابرا کی خاص شرکت* 
*12 فروری بروز جمعرات* 
*2026______________*
*اسکس ہال مالیگاؤں میں* 
_______________________________
 ایک ایسی بابرکت ادبی محفل کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو یاد، عقیدت اور تخلیقی وقار کو یکجا کرتی ہے۔ *ارشد مینا نگری مرحوم کی شخصیت صرف ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک دبستان کی حیثیت رکھتی ہے، اور انہی کی یاد میں سجی یہ بزم دراصل اردو ادب کے تسلسل اور احترام کا روشن استعارہ ہے۔ اس موقع پر ان کی تازہ کتاب *“سلام مصطفیٰ”* کی پیشکش اس تقریب کو مزید معنویت عطا کرتی ہے _ ایک ایسا منفرد مجموعہ جو *اکسٹھ اصنافِ سخن* پر مشتمل سلاموں کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کو ادبی پیرائے میں سمو دیتا ہے۔
*شمع فروزی ساجد نمبر ون اور اجو فٹر ،*
 کے ہاتھوں اس محفل کا آغاز گویا روشنی اور حرارتِ سخن کا اعلان ہوگا۔ 
*صدارت : *خلیل احمد انصاری صاحب*
 فرمائیں گے، جن کی موجودگی تقریب کو فکری وقار عطا کرے گی۔ 
شہر و بیرون شہر سے تشریف لانے والے منتخب شعرائے کرام اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے ۔
*چیف گیسٹ: احمد ہاشم صاحب* کی شرکت اس ادبی جشن کی اہمیت کو دوچند کرتی ہے، 
جبکہ
 *نظامت کے فرائض ارشاد انجم صاحب* 
 انجام دیں گے، جو اپنی شستہ بیانی سے محفل کو باندھے رکھیں گے۔
 *کنوینر :صادق حسین اشرفی صاحب* 
کی مسلسل جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے اور اس کے خادم پوری دلجمعی سے سرگرم ہیں۔
اس مشاعرے کی ایک خاص دلکشی
 *ہندوستان کی*
 *ہر دلعزیز شاعرہ ھمانشی بابرا*
 کی آمد ہے، 
جن کی شرکت محفل کو ہمہ رنگ بنا دے گی۔ 12 فروری 2026 کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے سامنے اسکس ہال، مالیگاؤں میں سجنے والی یہ شام محض ایک پروگرام نہیں بلکہ اردو تہذیب کا جشن ہوگی _ جہاں لفظ چراغ بنیں گے، یادیں خوشبو بنیں گی، اور عقیدت ایک اجتماعی احساس میں ڈھل جائے گی۔
باذوق سامعین کی شرکت اس پروگرام کی کامیابی کا باعث ہو گی۔ 
*علیم طاہر*
_____________________
________________________













*’اوورلوڈ‘ سیاست: جب پانچویں منزل سے گری مالیگاؤں کا ’قیادت‘*
 *وسیم رضا خان*
                        
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ہفتہ کے روز جو کچھ ہوا، وہ محض ایک تکنیکی حادثہ نہیں تھا بلکہ شہر کے نام نہاد رہنماؤں کی لاپرواہی اور حد سے بڑھے جوش کی جیتی جاگتی مثال تھا۔ میئر کے انتخاب کی گہماگہمی ختم ہوتے ہی جس طرح ایک لفٹ میں اس کی گنجائش سے دوگنے سے بھی زیادہ لوگ سوار ہو گئے، وہ اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارے لیڈروں میں عام فہم بھی باقی نہیں رہی؟
ہر لفٹ کے اندر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ وہ کتنے لوگوں کا وزن برداشت کر سکتی ہے۔ مالیگاؤں کارپوریشن کی لفٹ کی گنجائش 8 افراد کی تھی، لیکن اس میں 18 سے 20 لوگ ٹھونس ٹھونس کر بھر دیے گئے۔ ان میں سابق ایم ایل اے آصف شیخ، کئی کارپوریٹر اور ذمہ دار صحافی بھی شامل تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ شہر کی ترقی کی فائلیں پڑھنے اور قوانین بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، کیا انہیں لفٹ پر لکھی ہوئی ’گنجائش‘ کی وارننگ پڑھنا بھی ضروری نہیں لگا؟
یہ اسی کمزور ذہنیت کی عکاسی ہے جہاں ’قوانین‘ دوسروں کے لیے ہوتے ہیں اور اپنے لیے صرف ’سہولت‘۔ تنقید اس بات پر ہو رہی ہے کہ جو قیادت ایک لفٹ کی گنجائش کا اندازہ نہیں لگا سکتی، وہ ایک پیچیدہ شہر کے مسائل کا بوجھ کیسے اٹھائے گی؟ اگر قیادت دوراندیش ہوتی تو وہ خود لوگوں کو باہر رکنے کی ہدایت دیتے۔ کیا اقتدار کے نشے میں یا جیت کے جشن میں وہ اتنے اندھے ہو گئے تھے کہ اپنی جان خطرے میں ڈال دی؟
یہ حادثہ اس بات پر سوال کھڑا کرتا ہے کہ شہر کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ایک چھوٹی سی مشین کے اشاروں کو بھی سمجھ نہیں پائے۔ خوش قسمتی سے سیفٹی بریک لگ گئے اور لفٹ دوسری منزل پر رک گئی، ورنہ مہانگر پالیکا کی عمارت میں ایک بڑا ماتم چھا جاتا۔ دیوار توڑ کر لوگوں کو باہر نکالا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے نظام کو درست کرنے کے لیے اکثر ’سخت‘ اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ یہ واقعہ مالیگاؤں کے لیڈروں کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے۔ شہر کی عوام کی ذمہ داری سنبھالنا، 8 افراد کی گنجائش والی لفٹ میں 20 لوگوں کو ٹھونسنے جتنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر آپ ’لفٹ‘ نہیں سنبھال سکتے تو ’شفٹ‘ (اقتدار کی تبدیلی) اور شہر کے نظام کو کیا خاک سنبھالیں گے؟ اگلی بار جب آپ کسی اونچے عہدے یا منزل کی طرف بڑھیں تو اپنی صلاحیت اور قوانین کا ضرور خیال رکھیں، کیونکہ ہر بار ’سیفٹی بریک‘ ساتھ نہیں دیتے۔
مبارک ہو مالیگاؤں! ہمارے پاس ایسے ’بھاری بھرکم‘ لیڈر ہیں کہ بیچاری لفٹ بھی ان کا وزن (اور عقل کا بوجھ) برداشت نہ کر سکی۔ جس لفٹ میں 8 لوگ آنا چاہیے تھے وہاں 20 لوگ گھس گئے۔ غنیمت رہی کہ دیوار ٹوٹی، ریکارڈ نہیں۔ جو لیڈر لفٹ کی وارننگ نہیں پڑھ سکتے، وہ شہر کے مسائل کے ’سائن بورڈ‘ کیا خاک پڑھیں گے؟ میونسپل کارپوریشن کی لفٹ کا پانچویں منزل سے گرنا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ قیادت کی سنگین لاپرواہی ہے۔ جب سابق ایم ایل اے، کارپوریٹر اور ذمہ دار لوگ خود ہی قوانین کی دھجیاں اڑائیں گے تو عوام سے نظم و ضبط کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ آج دیوار توڑ کر جان بچانی پڑی، کل شہر کے نظام کو بچانے کے لیے کیا توڑنا پڑے گا؟









مردوں میں دل کی بیماری خواتین سے سات سال پہلے ظاہر ہوتی ہے: نئی تحقیق
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردوں میں دل کی بیماری خواتین کے مقابلے میں اوسطاً سات سال پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق دل اور خون کی نالیوں سے متعلق امراض دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث جان سے گئے، جن میں سے 85 فیصد اموات دل کے دورے اور فالج کی وجہ سے ہوئیں۔
یہ تحقیق ’کارڈیا‘ (کورونری آرٹری رسک ڈیولپمنٹ اِن ینگ ایڈلٹس) نامی طویل المدتی ریسرچ کے ڈیٹا پر مبنی ہے اور اس کے نتائج جرنل آف امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع کیے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مرد 50.5 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے دل کی بیماری کے 5 فیصد امکانات تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہی سطح اوسطاً 57.5 سال کی عمر میں سامنے آتی ہے۔ریسرچ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کورونری ہارٹ ڈیزیز دل کی بیماری کی سب سے عام قسم ہے اور مردوں میں یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں تقریباً 10 سال پہلے ظاہر ہو جاتا ہے۔ تاہم فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے معاملات میں مرد و خواتین دونوں میں خطرات تقریباً ایک ہی عمر میں سامنے آتے ہیں۔ محققین کے مطابق مرد و خواتین کے درمیان دل کی بیماری کے خطرے میں فرق 35 سال کی عمر سے ہی نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور درمیانی عمر تک برقرار رہتا ہے۔
تحقیق کے لیے 18 سے 30 سال کی عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کا 30 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد پر مشتمل اس گروپ نے ابتدائی عمر میں دل کی بیماری کے اسباب کو سمجھنے میں مدد دی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں نہایت ضروری ہیں۔ تمباکو نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ میں کمی، مناسب نیند اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کی باقاعدہ جانچ دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے دل کی بیماری کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔



*🔴سیف نیوز اردو*

رنجی ٹرافی میں عاقب نبی نے مچائی تباہی ، مدھیہ پردیش کے خلاف جھٹکے 12 وکٹ ، جموں و کشمیر کو پہنچایا سیمی فائنل میں ن...