Friday, 6 February 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟
جیسے صحت مند غذا صحت مند جسم کے لیے ضروری ہے اسی طرح اچھی اور پُرسکون نیند بھی تندرست اور توانا جسم کے لیے بہت اہم ہے۔ مناسب نیند دماغ کو فعال رکھنے، جذباتی توازن کو برقرار رکھنے اور جسم کو تازہ دم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مناسب نیند دماغ کی درست کارکردگی، جذباتی توازن اور جسمانی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونز کو متوازن رکھنے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔لیکن نیند کے دوران کچھ عوامل خلل پیدا کر سکتے ہیں اور مختلف مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان میں ایک عام مسئلہ غلط پوزیشن میں سونا ہے۔
غلط پوزیشن میں سونا نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ کمر میں درد کا بھی سبب بنتا ہے۔ جیسے کہ پیٹ کے بل سونے سے ریڑھ کی ہڈی اور گردن پر دباؤ پڑتا ہے۔
جب سوتے وقت ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملے تو پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ اور اس طرح پہلے سے موجود کمر کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے یا نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی ہے آئیے جانتے ہیں۔
عام طور پر کمر کے بل یا کروٹ لے کر سونا سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
کمر کے بل سونا
کمر کے بل سونے سے جسم کا وزن برابر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے۔
گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔کروٹ لے کر سونا
کروٹ لے کر سونا بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے بہت مفید ہے۔ کروٹ لے کر سونے والوں کو گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھنا چاہیے تاکہ جسم سیدھا رہے اور کولہوں اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو۔
کروٹ لے کر ٹانگوں کو جسم کی طرف موڑ کر سونا۔
یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان جگہ پیدا کرتی ہے جو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جنہیں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہوں۔
اگر آپ اس پوزیشن کو زیادہ آرام دہ بنانا چاہتے ہیں تو سکڑ کر لیٹتے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے چند اضافی باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
درست گدّے کا انتخاب
درست گدے کا انتخاب بہت اہم ہے کیونکہ درمیانی سختی والا گدا جسم کو مناسب سہارا دیتا ہے اور آرام بھی فراہم کرتا ہے۔
اگر گدا پرانا ہو چکا ہو اور جسم کو سہارا نہ دیتا ہو تو اسے بدل دینا بہتر ہے۔
تکیے کا انتخاب
تکیے کا انتخاب بھی درست ہونا چاہیے تاکہ گردن سیدھی پوزیشن میں رہے۔
کمر کے بل سونے والوں کے لیے پتلا تکیہ بہتر ہوتا ہے جبکہ کروٹ لے کر سونے والوں کو قدرے موٹا تکیہ زیادہ فائدہ دیتا ہے۔
ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا
نیند کے معمولات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کو بہت حالت میں رکھتا ہے۔
کمرے کا ماحول
سونے کے لیے کمرے کا ماحول آرام دہ ہونا چاہیے۔ کمرہ قدرے ٹھنڈا، تاریک اور پُرسکون ہو تو نیند بہتر آتی ہے۔سکرین کے استعمال سے گریز
سونے سے پہلے سکرین کے استعمال کو کم کرنا بھی مفید ہے۔
سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا دیگر سکرینوں کو دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ان کی روشنی نیند کے قدرتی نظام میں خلل ڈالتی ہے۔
پُرسکون سرگرمیاں
سونے سے پہلے خود کو پُرسکون کرنے والی سرگرمیاں اپنائیں۔
مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی پھلکی سٹریچنگ ذہن کو سکون دیتی ہے اور جسم کو نیند کے لیے تیار کرتی ہے۔
دن بھر متحرک رہنا اور رات کو ہلکا کھانا کھانا بھی بہتر نیند میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے اپنی سونے کی پوزیشن پر توجہ دیں اور آرام دہ نیند کے لیے ان عادات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔












پاکستان کی ساکھ بچانے کے لئے ICC کا فیس سیونگ فارمولہ، بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میچ بچانے کی کوشش
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان متوقع میچ پر پیدا ہونے والے تنازع کو حل کیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق آئی سی سی پاکستان کو ایسا ’’باعزت راستہ‘‘ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے پاکستان اپنی سخت پوزیشن سے پیچھے ہٹ سکے اور اسے داخلی یا عوامی سطح پر زیادہ تنقید کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔کرکٹ ویب سائٹ کریک بَز (Cricbuzz)کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم عالمی کرکٹ حلقوں میں محتاط امید پیدا ہو رہی ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا اور اہم کرکٹ مقابلہ شیڈول کے مطابق منعقد ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آئی سی سی کی جانب سے پیش کیا جانے والا حل کیا ہوگا اور کب تک اس حوالے سے پیش رفت سامنے آئے گی۔

میچ کے انعقاد میں صرف نو دن باقی رہ گئے ہیں اور اس غیر یقینی صورتحال سے تمام فریقین شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس تنازع کا اثر نہ صرف آئی سی سی، پی سی بی اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) پر پڑ رہا ہے بلکہ اس کے مالی نقصانات بھی کروڑوں روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ بھی اس صورتحال کے باعث بے یقینی کا شکار ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے خلاف کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ ٹیم کے اختیار میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا اور ٹیم اسی فیصلے پر عمل کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کو سیمی فائنل یا فائنل میں بھارت کا سامنا کرنا پڑا تو پھر بھی حکومت اور پی سی بی سے رہنمائی لی جائے گی۔

دوسری جانب بھارتی ٹیم کے کپتان سوریہ کمار یادیو نے واضح کیا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کی کولمبو کے لیے پروازیں پہلے ہی بک ہو چکی ہیں اور وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق سفر کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا فیصلہ ان کے اختیار میں نہیں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ مقابلے دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دو طرفہ کرکٹ سیریز طویل عرصے سے معطل ہیں، جس کے باعث دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی یا ایشین کرکٹ کونسل کے عالمی ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ ایسے مقابلے نہ صرف کھیل بلکہ سفارتی اور معاشی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

ٹی20 ورلڈ کپ جیسے عالمی ٹورنامنٹ میں بھارت اور پاکستان کا میچ براڈکاسٹنگ رائٹس، اشتہارات اور ٹکٹ فروخت کے حوالے سے سب سے زیادہ منافع بخش تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میچ کی منسوخی عالمی کرکٹ اداروں اور منتظمین کے لیے بڑا مالی اور ساکھ کا نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔

اب نظریں آئی سی سی اور دونوں ممالک کے کرکٹ حکام پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس حساس معاملے کو حل کر کے دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ مقابلے کو ممکن بنا پاتے ہیں یا نہیں۔











میگھالیہ میں غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، 16 مزدور ہلاک، کئی کے پھنسے ہونے کا خدشہ
میگھالیہ کے ضلع ایسٹ جینتیا ہلز میں جمعرات کے روز ایک مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 مزدور ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد دیگر کے کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس بات کی تصدیق ریاست کی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) آئی نونگرینگ نے کی ہے۔

ڈی جی پی کے مطابق، واقعہ تھانگسکو (Thangsku) علاقے میں صبح کے وقت پیش آیا، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا :’’اب تک 16 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ دھماکے کے وقت کان کے اندر موجود مزدوروں کی درست تعداد کا ابھی تعین نہیں ہو سکا ہے۔ اندیشہ ہے کہ مزید افراد کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘

ایسٹ جینتیا ہلز کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکاش کمار نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو پہلے سوتنگا پرائمری ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا، بعد ازاں اس کی حالت نازک ہونے پر اسے شیلانگ کے ایک بڑے اسپتال میں ریفر کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ کوئلہ نکالنے کے دوران پیش آیا، اور جس مقام پر حادثہ ہوا، وہاں جاری کان کنی سرگرمیوں کو غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔

جب پولیس حکام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ کان غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا کہ تمام شواہد اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں، تاہم دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے باضابطہ انکوائری شروع کی جائے گی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل (NGT) نے سال 2014 میں میگھالیہ میں ریٹ ہول کوئلہ کان کنی (Rat-Hole Mining) اور دیگر غیر سائنسی کان کنی طریقوں پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کی وجہ شدید ماحولیاتی نقصان اور مزدوروں کی جان کو لاحق خطرات بتائے گئے تھے، جبکہ غیر قانونی طور پر نکالے گئے کوئلے کی ترسیل پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

ریٹ ہول مائننگ میں زمین کے اندر انتہائی تنگ سرنگیں کھودی جاتی ہیں، جن کی اونچائی عموماً 3 سے 4 فٹ ہوتی ہے۔ ان سرنگوں میں ایک وقت میں بمشکل ایک ہی مزدور داخل ہو سکتا ہے، اسی لیے انہیں ’’ریٹ ہول‘‘ یعنی چوہے کے بل جیسی سرنگیں کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ نہایت خطرناک اور جان لیوا ہے۔

اس کے باوجود، مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر یہ سرگرمیاں خفیہ انداز میں جاری ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے المناک حادثات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔

(پی ٹی آئی کے تعاون سے)

*🔴سیف نیوز بلاگر*

کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟ جیسے صحت مند غذا صحت مند جسم کے لیے ضروری ہے اسی طرح ...