Monday, 2 February 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





روزمرّہ کی 10 عادتیں جو آپ کی زندگی کو بدل سکتی ہیں
اگرچہ ہماری زندگی کے شب و روز میں وہ چھوٹی چھوٹی عادتیں جو انتہائی معمولی اور سادہ ہوتی ہیں تاہم ان کے اثرات ہماری صحت اور شخصیت پر انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔ 
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی عادتیں ڈرامائی طور پر ہماری صحت، تندرستی اور پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے ’نیو ٹرینڈ یو‘ ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپوٹ میں ان عادتوں کو بیان کیا گیا ہے جن سے مستفید ہونے کے لیے مستقل مزاجی سے عمل کرنا ہوگا۔یاد رکھیں کہ تبدیلی کے اثرات راتوں رات رونما نہیں ہوتے بلکہ عادات کو مستقل طور پر اپنانے اور ان پر یکسوئی سے عمل پیرا ہونے پر ہی بہتر نتائج کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
دن کی پیشگی منصوبہ بندی 
اگلے دن کی پیشگی منصوبہ بندی کے متعدد فوائد ہوتے ہیں۔ اگر آنے والے دن کی پیشگی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اہداف متعین کر لیتے ہیں تو اس سے نہ صرف بہتر طور پر کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں بلکہ ذہنی پریشانی کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ 
پیشگی منصوبہ بندی کرتے وقت آنے والے دن میں جو کام کرنے ہیں ان کا تعین کر لیں اور کس وقت کونسا کام کرنا ہے ان کی فہرست بنا لیں۔  
صبح جلدی جاگنا 
صبح سویرے بیدار ہونے کی عادت کے بے شمار فوائد ہیں۔ جلدی جاگنے سے دن بھر کے کام مکمل کرنے کے لیے کافی زیادہ وقت مل جاتا ہے جبکہ آپ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی تر و تازہ ہوتے ہیں۔  
جلد بیداری کی صورت میں حاصل ہونے والی جسمانی توانائی اور تازگی سے آپ کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ مقررہ کام کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔ صبح جلدی اٹھنے کے لیے لازمی ہے کہ رات کو مناسب وقت پر سو جائیں تاکہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو اور جلد بیدار ہو سکیں۔ اس کے برعکس رات گئے تک جاگنے سے صبح جلدی اٹھنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ 
جسمانی ورزش 
روزانہ معمول کے مطابق صبح کی واک کرنا یا دوپہرکو یوگا کی مشق کرنا یا پھر رات کو سونے سے قبل مخصوص ورزش کرنے سے نہ صرف اچھی نیند آئے گی بلکہ جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 
زندگی کو بہتر بنانے کی ترجیحات 
بھرپورطریقے سے زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ روزمرہ کے امور میں اپنی ترجیحات متعین کر لیں یعنی جو چیز اہم ہے اس پر پوری طرح سے توجہ دیں۔ 
اپنی روزمرہ کی زندگی کو زیادہ پُراطمینان بنانے کے لیے اہداف کے مطابق طے کردہ ترجیحات پر عمل کریں تاکہ مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔ 
منظم زندگی گزاریں 
منظم زندگی گزارنے سے ذہن کافی حد تک الجھنوں اور پریشان کن خیالات سے خالی رہتا ہے۔ زندگی میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے سے تناؤ کم ہوتا ہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے منصوبہ بندی ضروری ہے چاہے وہ دفتری امور یا سماجی سرگرمیوں کی ہی کیوں نہ ہو۔
توجہ مرکوز کرنا 
کسی بھی کام کو بہتر طور پر کرنے اور بہترین نتائج کے حصول کے لیے لازمی ہے کہ بھرپور انداز میں توجہ مرکوز کی جائے۔ 
خلفشار سے بچتے ہوئے یکسوئی سے کام پر توجہ دینے کے لیے ذہن کو چوکنا اور ترو تازہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ دیر کا وقفہ لیا جائے تاکہ فریش دماغ کے ساتھ یکسوئی سے کام مکمل ہو سکے۔فہرست بنائیں
روز مرہ کے امور کو بروقت انجام دینے کے لیے بہتر ہے کہ ترجیحی بنیاد پر کاموں کی فہرست مرتب کر لی جائے جس میں کام کا دورانیہ اور وقت کا بھی تعین کیا ہو تاکہ مقررہ وقت میں اپنا ہدف مکمل کر سکیں۔ تحریری فہرست مرتب کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ بھول جانے کا اندیشہ نہیں رہے گا۔ 
شکر و رضامندی 
شکرگزاری کا عمل ہمیشہ انسان کی مثبت انرجی میں اضافے کا باعث ہوتا ہے جس کے بہتر اثرات نہ صرف جسم اور دماغ پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس سے کام کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔
شکر گزاری کے احساس اور عمل کو اپنی روز مرہ زندگی کا لازمی جز بنائیں جس کے بعد آپ اپنے اندر پیدا ہونے والی خوشگوار تبدیلی کو خود ہی محسوس کریں گے۔ 
پانی پینا 
روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا صحت مندانہ زندگی کے لیے بے حد اہم ہے۔ پانی پینے کے بے شمار فوائد ہیں جس سے انسان کا نظام انہضام بہتر ہوتا ہے جبکہ جِلد کی تازگی بھی برقرار رہتی ہے۔ 
صبح سویرے اٹھتے ہی ناشتے سے پہلے پانی پینا چاہیے بلکہ نیم گرم پانی جسم کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ گھر یا دفتر میں اپنی میز پر بھی پانی کا جگ رکھ سکتے ہیں تاکہ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت بن جائے۔ اس کے بعد جسمانی تبدیلی آپ کوخود ہی محسوس ہوگی۔ 
خوش مزاجی  
نرم گفتاری اورخوش مزاجی ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے بلکہ دوسرے بھی خوش مزاج افراد کی قدر و عزت کرتے ہیں۔ 
گھر، دفتر یا کام کی جگہ پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہتر رویہ رکھیں اور ان کے کام کو سراہیں، ضرورت پڑنے پر مدد کریں اور ہر شخص سے مسکرا کر لیں۔













نرملا سیتا رمن نے راہل گاندھی پر سادھا نشانہ ، کہا ، بغیر سوچے ۔ سمجھے بولتے ہیں راہل گاندھی
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیٹ ورک 18 کے ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کے ساتھ ایکسکلیو سیو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے راہل گاندھی کے ذریعہ بغیر سوچے ۔سمجھے دئے جانے والے بیانات پر شدید تنقید کی۔

بغیر سوچے ۔ سمجھے بولتے ہیں راہل گاندھی
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اکثر سوچے سمجھے بغیر بولتے ہیں اور اپنی بات کرنے کے لیے ٹھوس بنیادی اعداد و شمار کا سہارا نہیں لیتے ۔ انہوں نے راہل گاندھی کے پرانے ‘مردہ معیشت’ (dead economy) والے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلد بازی میں دیا گیا بیان تھا ۔ جس نے ان کی اپنی ہی دلیل کو کمزور کردیا ۔ سیتا رمن نے مزید کہا کہ اس طرح کے تبصرے اکثر بغیر کسی بنیاد کے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان زیادہ معتبر اور ڈیٹا پر مبنی(data-driven) اپوزیشن آواز کا حقدار ہے۔
سیتارامن نے کہا مردہ معیشت کو لے کر راہل گاندھی کا تبصرہ اپوزیشن لیڈر کی ان کی خود کی پوزیشن کو مجروح کرنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک قابل اعتماد اپوزیشن کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کو ایک ایسی اپوزیشن کی ضرورت ہے جو قابل اعتماد ہو اور اپنے دلائل حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر رکھے ۔ یہ بے بنیاد تبصرے اپوزیشن کی سنجیدگی کو کم کرتے ہیں۔

راہل گاندھی کے عہدے کا احترام
سیتا رمن نے کہا کہ راہل گاندھی جس عہدے پر فائز ہیں وہ اس کا بے حد احترام کرتی ہیں، تاہم ان کی تنقید میں اکثر اعداد و شمار اور حقائق کی کمی ہوتی ہے۔ “وہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔ میں انہیں سنجیدگی سے لینا چاہتی ہوں، اور میں ان کے مشاہدات کو سنجیدگی سے لینا چاہتی ہوں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا چیزیں بہتر ہو سکتی ہیں۔ لیکن اکثر، مجھے لگتا ہے کہ وہ بے تکے بیانات دیتے رہتے ہیں،”

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی پر تنقید کی جڑیں حقائق پر ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق، جمہوریت کے لیے قابل اعتماد اپوزیشن ضروری ہے، لیکن اسے “اچھے بنیادی اعداد و شمار” کی حمایت حاصل ہونی چاہیے تاکہ حکومت بامعنی جواب دے سکے۔










T20 ورلڈ کپ کھیلنے سری لنکا پہنچی پاکستان کی ٹیم ، ہندوستان کے علاوہ اپنے تمام میچز سری لنکا میں ہی کھیلے گا پاکستان
نئی دہلی۔ بھارت کے خلاف آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے سے انکار پر ہلچل مچانے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا پہنچ گئی ہے۔ ٹیم ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ اتوار کو ٹیم نے ٹورنامنٹ میں بھارت کے خلاف انتہائی متوقع میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستانی حکومت نے قومی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت تو دے دی لیکن بھارت کے خلاف میچ میں میدان میں نہ اترنے کی ہدایت کی۔
بائیکاٹ کا باضابطہ اعلان کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم سری لنکا پہنچ گئی ہے۔ ٹیم اپنے تمام میچ وہاں کھیلے گی۔ یہ فیصلہ دسمبر 2024 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے درمیان باہمی معاہدے کے بعد کیا گیا تھا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے ایئرپورٹ سے نکلنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں فخر زمان، شاہین آفریدی اور سلمان آغا سمیت کھلاڑی اپنا سامان اٹھائے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے کے باوجود بھارتی ٹیم شیڈول کے مطابق سری لنکا جائے گی۔ کپتان سوریہ کمار یادو ٹاس کے لیے میدان میں اتریں گے۔ اگر پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا ٹاس کے لیے نہیں آتے تو میچ ریفری بھارت کو واک اوور دے گا، بھارت کو دو پوائنٹس مل جائیں گے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں، آئی سی سی نے پاکستان حکومت کے موقف کو تسلیم کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے باضابطہ رابطے کا انتظار کر رہا ہے۔ آئی سی سی نے کہا کہ عالمی ٹورنامنٹ میں منتخب میچوں میں شرکت کا خیال بین الاقوامی مقابلے کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پاکستان اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز 4 فروری کو کولمبو میں آئرلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ سے کرے گا۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...