نروانے کی کتاب پر لوک سبھا میں ہنگامہ، راہل گاندھی نے پوچھا، کتاب میں ایسا کیا ہے جو مجھے بولنے نہیں دیا جا رہا
نئی دہلی: صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم تبادلہ ہوا۔ بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریا کا ایک بیان اس حد تک بڑھ گیا کہ اسپیکر کو لوک سبھا کی کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ تیجسوی نے یو پی اے حکومت کے بارے میں کچھ تبصرے کیے، اور راہل گاندھی اس کا جواب دینا چاہتے تھے۔ تاہم، اسپیکر نے انہیں اس کتاب کا حوالہ دینے کی اجازت نہیں دی جسے وہ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ سارا تنازع اس بات سے ہی جڑا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے (ریٹائرڈ) کی کتاب پر تبصرہ کرنا چاہتے تھے، اس بات پر ہنگامہ ہو گیا۔ حکمران جماعت کے ارکان نے راہل گاندھی کے اس کوشش پر اعتراض کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سوال کیا کہ کیا راہل گاندھی جس کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں وہ شائع بھی نہیں ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے خود نروانے کی کتاب کو شائع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ حکمراں جماعت نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ اگر حکومت نے اجازت نہیں دی تھی تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں موجود حقائق ریکارڈ پر نہیں ہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اگر راہل گاندھی کسی میگزین کا حوالہ دینا چاہتے ہیں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ اسپیکر نے اجازت نہیں دی۔ درحقیقت راہل گاندھی کاروان میگزین میں نروانے کی کتاب کے حوالے سے شائع ایک مضمون کا حوالہ دینا چاہتے تھے جس میں ڈوکلام پر تبصرہ کیا گیا تھا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ چین کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ کچھ باتیں سامنے لانا چاہتے ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بارے میں کہی گئی ہیں۔ انھوں نے اس کی اجازت مانگی۔
راہل گاندھی نے کہا، "اس میں ایسی کیا چیز ہے جو انہیں اتنا خوفزدہ کر رہی ہے؟ اگر وہ خوفزدہ نہیں ہیں تو مجھے پڑھنے کی اجازت دی جائے،"پارلیمنٹ کے احاطہ میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے انھیں روکے جانے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس ایم پی راہل گاندھی نے کہا کہ، "یہ میں نہیں کہتا، یہ آرمی چیف (ریٹائرڈ) نے کتاب میں لکھا ہے۔ کتاب کو شائع نہیں ہونے دیا جا رہا ہے، یہ تذبذب کا شکار ہے، اور یہ آرمی چیف کا نقطہ نظر ہے۔ وہ آرمی چیف کے نقطہ نظر سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ وہ اس سے کیوں خوفزدہ ہیں کہ آرمی چیف کیا کہنا چاہتے ہیں؟ ہمیں وزیر اعظم کے بارے میں کچھ پتا چلے گا، راجناتھ سنگھ جی کے بارے میں کچھ پتا چلے گا۔۔ لیکن ہمیں فوج کے بارے میں بھی کچھ پتا چلے گا اور اسے ملک کی سیاسی قیادت نے کس طرح نیچا دکھایا ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ نروانے جی نے اپنی کتاب میں وزیر اعظم اور راجناتھ سنگھ جی کے بارے میں صاف لکھا ہے۔ یہ ایک مضمون میں شائع ہوا ہے۔ میں مضمون کا حوالہ دے رہا ہوں۔
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ، وہ مجھے بولنے نہیں دے رہے، وہ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ اگر یہ سامنے آیا تو نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ کی حقیقت عوام کے سامنے آ جائے گی اور 56 انچ کے سینے کا کیا ہوا جب چین ہمارے خلاف کھڑا تھا، آگے بڑھ رہا تھا۔
پارلیمنٹ میں اس معاملے پر ہنگامہ آرائی کے بعد اسپیکر نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی بھی حال میں اس معاملے کو اٹھانے نہیں دیں گے اور اگر راہل گاندھی بولنا نہیں چاہتے ہیں تو وہ اگلے اسپیکر کا نام دیں گے۔ اسپیکر نے اگلے اسپیکر کے طور پر اکھلیش یادو کا نام بھی لیا۔اس دوران اکھلیش یادو نے اسپیکر سے اپیل کی کہ اگر راہل گاندھی چین کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں اور یہ قومی مفاد میں ہے تو انہیں اس کی اجازت دی جائے۔ تاہم اسپیکر نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور ایوان کی کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
یہ تنازع بی جے پی لیڈر تیجسوی سوریا کے ایک بیان سے شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 10 سالہ یو پی اے حکومت کے دوران صدر جمہوریہ کے خطاب میں کبھی بھی ملک کی ثقافت کو مضبوط کرنے، ثقافتی ترقی حاصل کرنے یا نوجوانوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنے پر بات نہیں کی گئی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ چونکہ کانگریس کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے، اس لیے وہ نروانے کی کتاب کا حوالہ دینا چاہتے ہیں، جس میں انہوں نے کاروان میگزین میں شائع ہونے والی وزیر اعظم اور راج ناتھ سنگھ کے بارے میں تنقیدی تبصرے کیے ہیں۔
سابقہ میئر وارڈ نمبر 20 موجودہ وارڈ نمبر 16 کے مسائل کو لیکر مجلس اتحاد المسلمین کے سابق ترجمان و ذمہ داران کے ساتھ اہلیان وارڈ کا کمشنر آفس پر ہنگامہ۔
اکرم صدیقی کا انوکھا احتجاج
کمشنر آفس پر گٹر کے کیچڑ سے بھری بالٹی لیکر پہنچے۔
شہری سینیٹری انسپکٹر اقبال جان محمد پر گٹر کا کیچڑ مارنے کی کوشش۔
02/02/2026 بروز پیر
آج بروز پیر 2 فروری موجودہ وارڈ نمبر 16 سابقہ میئر وارڈ کے مسائل کو لیکر افتخار دادا کی سرپرستی اکرم صدیقی کی قیادت میں خواتین و مرد حضرات کا ایک وفد جن میں قابل ذکر غیاث الدین قاضی ، سلیمان خالو ، عبدالطیف شیخ ، شیخ سلمان ، شیخ اظہر ودیگر کارپوریشن کمشنر آفس پہنچے۔
وفد کی جانب سے متعدد مطالبات رکھے گئے جن میں سر فہرست 1️⃣سروے نمبر 197/5 بی ماسٹر نگر میں آمین منڈپ والی گلی اکرم صدیقی کے مکان سے اخلاق مقادم کے گھر تک روڈ تعمیر کرنے 2️⃣اور مدنی نگر پاور ہاؤس سے جمہور نالے تک مین گٹر تعمیر کرنے کا مطالبہ وفد نے کیا۔
3️⃣اسی طرح مدنی نگر ، جمہور نگر ، ماسٹر نگر ، رحمت آباد ، داتار نگر و دیگر علاقوں میں روزآنہ کی بنیاد پر صاف صفائی جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور سپروائزر مقادم اور تمام صفائی کرمچاریوں کی حاضری کو صد فیصد یقینی بنایا جائے4️⃣ اور وارڈ نمبر 16 میں کتنے صفائی کرمچاری اور سینٹری ورکرز سپروائزر ہے اور کتنی جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ ہوتا ہے کتنی گھنٹہ گاڑی کچرا اٹھانے کیلئے لگائی گئی ہے اس کی مکمل تفصیل مانگی گئی ہے اور جتنے بھی مقادم سپر وائزر ہے انکے رابطے نمبر جو 24 گھنٹے چالوں رہتے ہو وہ عوامی رابطے کیلئے عام کئے جائے اور 5️⃣اسی طرح مدنی نگر پاور ہاؤس سے جمہور نالے تک کا 60 فٹی روڈ اور گٹر 2012 سے آج تک کتنی مرتبہ تعمیر ہوا اور کتنا فنڈ لگا اس کی مکمل تفصیل فوراً طلب کی گئی ہے۔
یاد رہے مدنی نگر پاور ہاؤس سے جمہور نالے تک مین گٹر نا ہونے کی وجہ سے شمالی علاقوں محوی نگر ، نعمانی نگر ، رونق آباد ، ثناء اللہ نگر ، سلامت آباد ، رحمت آباد ، مدنی نگر ، جمہور نگر ، ماسٹر نگر کی گندی نالیوں کا پانی پاور ہاؤس سے جمہور نالے والا شیو روڈ پر سال کے بارہ ماہ ہر دو دن بعد جمع ہو جاتا ہے جس سے وارڈ کے ساکنان بزرگ خواتین و حضرات طلبہ مسجد کے مصلیان حتی کہ مسجد امام اعظم ابو حنیفہ بھی اس گندے پانی سے متاثر ہوتی ہیں گندگی کے ذریعے پھیلنے والی ڈینگو ملیریا ڈفتھیریا ٹائیفائڈ روبیلا خسرہ کھجلی داد کھاج جیسی بیماریوں سے یہ علاقہ مسلسل بوجھتا رہتا ہے اور یہ سلسلہ ایک دہائی سے جاری ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بغیر منصوبہ بندی کے ناقص و بے ترتیب چھوٹی چھوٹی گٹروں کی تعمیر اور کچروں کا انبار ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ اس علاقے سے 3 ٹرم کا میئر رہا ہے مطلب یہ ساڑھے سات سال میئر وارڈ رہا ہے انجمن ترقی فلاح و بہبود مالیگاؤں کے روح رواں اکرم صدیقی ان مسائل کے حل کیلئے گزشتہ دیڑھ سالوں سے محکمہ جاتی سطح پر لگے ہوئے تھے لیکن کرپٹ آفیسران کے جھوٹے وعدوں اور ٹال مٹول کی وجہ سے اتنا لمبا عرصہ بیت گیا ابھی حال میں جاری انڈر گراؤنڈ گٹر کی کھدائی سے بچی کھچی ناقص گٹر بھی خراب ہوگئی جس کی وجہ سے کئی دنوں سے عثمان میڈیکل کے آس پاس گٹروں کا بدبودار پانی گھروں میں گھس گیا اور راستے پر جمع رہنے لگا جس سے عوامی غصہ پھوٹ پڑا اور وفد کی شکل میں کمشنر آفس پہنچا کمشنر سے ملاقات سے قبل شہری چیف سینیٹری انسپکٹر اقبال جان محمد سے صاف صفائی کے معاملے پر بحث کرتے ہوئے خواتین اور خود اکرم صدیقی نے گندے نالی کا بدبودار کیچڑ مارنے کی کوشش کی لیکن پولس عملہ موجود ہونے سے یہ حادثہ ممکن نا ہوسکا
کمشنر کے تحریری تیقن پر وفد میں شامل افتخار دادا ، اکرم صدیقی نے یہ کہتے ہوئے تحریک کو ملتوی کیا کہ متعینہ مدت میں اگر مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں تو مدنی نگر 60 فٹی روڈ اور نیشنل ہائی وے نمبر 3 سوند گاؤں پھاٹہ جام کرکے تحریک چلائی جائے گی۔
*ش ن الف*
*انجمن ترقی فلاح و بہبود مالیگاؤں*
*مجلس اتحاد المسلمین شہر مالیگاؤں*
*قائد و سالار میڈیا سیل مالیگاؤں*
بد نگاہی کے جسم پر اثرات: ایک خاموش مگر تباہ کن گناہ
از: آصف جلیل احمد۔ چونابھٹّی 9225747141
بدنگاہی بظاہر ایک معمولی سا عمل محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ انسان کے باطن پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کرتا ہے۔ نگاہ محض آنکھ کا فعل نہیں بلکہ دل، دماغ اور احساسات کا دروازہ ہے۔ جہاں نگاہ ٹھہرتی ہے، وہیں خیال جنم لیتا ہے، اور خیال آہستہ آہستہ عادت اور پھر کردار میں ڈھل جاتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا کہ “صرف دیکھا ہی تو ہے” خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ ہم روزمرہ زندگی میں اس حقیقت کا تجربہ کرتے ہیں کہ مختلف مناظر ہمیں مختلف کیفیتوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ سرسبز و شاداب مناظر دل کو خوشی اور طمانیت دیتے ہیں، زخمی یا خونی مناظر دیکھ کر دل گھبرا جاتا ہے اور اچانک کسی خطرناک جانور کو دیکھ لینے سے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ اگر صرف دیکھنے سے دل اور جسم کی یہ کیفیات پیدا ہو سکتی ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ نگاہ کا اثر محض وقتی یا سطحی نہیں بلکہ گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ شہوت کی نیت سے ڈالی گئی نظر انسان کو اندرونی کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہے۔ دل میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے، خیالات بکھر جاتے ہیں اور انسان ایک انجانی اضطرابی کیفیت میں جکڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نگاہوں کی حفاظت نہ کرنے والا شخص بظاہر نارمل دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے بے چین، تھکا ہوا اور منتشر ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہی بے چینی مایوسی، ذہنی دباؤ اور احساسِ جرم میں بدل جاتی ہے۔
اسلام نے انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے برائی کے انجام سے پہلے اس کے اسباب کو روکا ہے۔ قرآنِ کریم میں مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس ترتیب میں بڑی حکمت ہے، کیونکہ جب تک نظر محفوظ نہیں ہوتی، سوچ بھی محفوظ نہیں رہتی۔ “آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے” اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ گناہ صرف عملی سطح پر نہیں بلکہ نظر اور خیال کی سطح پر بھی جنم لیتا ہے۔ اچانک نظر پڑ جانا ایک فطری امر ہو سکتا ہے، مگر فوراً نظر ہٹا لینا ایمان اور تقویٰ کی علامت ہے۔ اس کے برعکس بار بار یا لذت لے کر دیکھنا وہ عمل ہے جو دل و دماغ کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں وقتی جھٹکا ضرور لگتا ہے، مگر یہی جھٹکا ان کے لیے نجات کا سبب بن جاتا ہے، جبکہ مسلسل بدنگاہی انسان کو ذہنی اور قلبی بے سکونی کے ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سکون نایاب ہو جاتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں موبائل فون، انٹرنیٹ، فلمیں، ڈرامے اور سوشل میڈیا نے بدنگاہی کو ایک معمول بنا دیا ہے۔ بہت سے نوجوان پوری پوری رات اسکرین پر آنکھیں جمائے رکھتے ہیں اور اسے گناہ تو درکنار، غلطی بھی نہیں سمجھتے۔ اس کے نتیجے میں ذہنی تھکن، اعصابی کمزوری اور جذباتی بے اعتدالی عام ہوتی جا رہی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ خاموشی سے ہو رہا ہے اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ فتنہ آہستہ آہستہ ہمارے گھروں اور نسلوں کو کس طرف لے جا رہا ہے۔
بدنگاہی سے بچنے کا اصل حل وقتی تدبیروں یا ظاہری نعروں میں نہیں بلکہ دل میں اللہ تعالیٰ کے خوف کو زندہ رکھنے میں ہے۔ یہ احساس کہ "اللہ مجھے دیکھ رہا ہے" انسان کو تنہائی میں بھی گناہ سے روکتا ہے تقوے کا اصل مفہوم بھی یہی ہے کہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا خوف۔ شریعت کا نکاح پر زور دینا بھی اسی حکمت کا حصہ ہے تاکہ فطری جذبات کو جائز راستہ ملے اور انسان فتنوں سے محفوظ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکرین کے بے جا استعمال پر قابو پانا اور اپنی نگاہوں کو شعوری طور پر قابو میں رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بدنگاہی کوئی معمولی لغزش نہیں بلکہ ایسا گناہ ہے جو دل کی پاکیزگی کو متاثر کرتا اور روح کے سکون کو چھین لیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنا محاسبہ کریں اور یہ دیکھیں کہ کہیں ہم خود بھی کسی درجے میں اس بیماری کا شکار تو نہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی نگاہوں کی حفاظت نہ کی تو کل ہماری فکری، اخلاقی اور خاندانی زندگی اس کی قیمت چکانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نگاہوں کی حفاظت، دل کی پاکیزگی اور سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
یورپی یونین کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے پر ایران کا سخت رد عمل
تہران: یوروپی یونین کی جانب سے سپاہِ پاسداران انقلاب (Revolutionary Guard) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ میں تعینات یوروپی یونین کے تمام سفیروں کو طلب کر لیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ سفیروں کو طلب کرنے کا یہ عمل گزشتہ روز شروع ہوا اور آج بھی جاری رہا۔ ایرانی حکام کے مطابق یوروپی یونین کے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین، سفارتی آداب اور ریاستی خودمختاری کے خلاف کھلا اقدام قرار دیا گیا ہے، جس پر تہران نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کا مؤقف
ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یوروپی یونین کا یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر مبنی اور اشتعال انگیز ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اس کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی سرکاری اور آئینی فورس ہے اور اسے دہشت گرد قرار دینا ناقابل قبول ہے۔ بقائی کے مطابق سفیروں کو طلب کر کے ایران نے یورپی یونین کے سامنے اپنا شدید احتجاج اور تحفظات باضابطہ طور پر درج کرائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔
یورپی یونین کے فیصلے کا پس منظر
یوروپی یونین نے ایران میں گزشتہ ماہ ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران تشدد آمیز کریک ڈاؤن میں انقلابی گارڈ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یورپی یونین کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور دسیوں ہزار کو حراست میں لیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور شہری آزادیوں کی پامالی کے پیش نظر یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کا سخت اعلان
ادھر ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ نے ایک نہایت سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب یوروپی یونین کی تمام افواج کو دہشت گرد گروہ تصور کرے گا۔ انہوں نے اس موقف کی بنیاد 2019 میں منظور کیے گئے ایک ایرانی قانون کو قرار دیا، جس کے تحت اگر کوئی ریاست یا ادارہ ایرانی افواج کو دہشت گرد قرار دیتا ہے تو ایران بھی اس کے فوجی اداروں کو دہشت گرد سمجھنے کا حق رکھتا ہے۔ پارلیمنٹ اسپیکر کے اس اعلان کو یوروپی یونین کے فیصلے کے جواب میں جوابی سفارتی اور سیاسی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران-یورپی یونین تعلقات میں نئی کشیدگی
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سپاہِ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینا اور اس کے جواب میں ایران کا یہ سخت مؤقف ایران اور یوروپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے بحران کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں جوہری معاہدے (JCPOA)، انسانی حقوق، علاقائی سیاست اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ایران پر روس کی مبینہ حمایت جیسے مسائل پر دونوں فریقوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات موجود ہیں۔ اب اس تازہ فیصلے نے سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
علاقائی اور عالمی اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے اثرات صرف ایران اور یوروپی یونین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، خلیجی خطے کی سیاست اور عالمی سفارتی توازن پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی علاقائی حکمت عملی، دفاعی پالیسی اور اتحادی گروہوں کی پشت پناہی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں اسے دہشت گرد قرار دینے سے خطے میں سیاسی و عسکری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آگے کا منظرنامہ
فی الحال دونوں جانب سے بیانات کی سختی ظاہر کرتی ہے کہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی کے امکانات کم ہیں۔ تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پس پردہ رابطے اور مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کو کسی حد تک سنبھالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین کے فیصلے پر ایران کا سخت ردعمل اور تمام یوروپی سفیروں کو طلب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق ایک نئے سفارتی تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم اور حساس مسئلے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔