Sunday, 25 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*




افغانستان میں قدرت کا قہر، تین روز سے جاری برفباری اور بارش سے 60 سے زائد افراد ہلاک، دیہات تباہ
گزشتہ تین دنوں سے جاری شدید برف باری اور بارش نے افغانستان میں تباہی مچا دی ہے۔ ملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق اب تک 60 سے زائد افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں بند ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے دور دراز کے دیہاتوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان یوسف حماد نے بتایا کہ 61 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے ہیں۔ 15 صوبوں میں 458 مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ دوسرے علاقوں سے معلومات آتی ہیں۔ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو موسم کی شدت سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ برف باری اور شدید بارش اکثر سیلاب کا باعث بنتی ہے، جس سے درجنوں یا سیکڑوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ 2024 میں، 2024 کے موسم بہار کے دوران آنے والے سیلاب سے 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔زلزلہ لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔
دہائیوں سے جاری تنازعات، کمزور انفراسٹرکچر، غربت، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ لوگ، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں، کچے مکانوں میں رہتے ہیں جو شدید بارش اور برف باری کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔ مشرقی صوبے ابھی تک گزشتہ سال کے تباہ کن زلزلے سے باز نہیں آئے ہیں۔ اگست اور نومبر میں آنے والے زلزلوں نے پورے گاؤں کو تباہ کر دیا اور 2,200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ زلزلے سے بے گھر ہونے والوں کو اس موسم سرما میں سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔افغانستان کو کیا وارننگ ملی؟
دسمبر میں یونیسیف نے خبردار کیا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 270,000 بچے سردی سے متعلق جان لیوا بیماریوں کے سنگین خطرے میں ہیں۔ اس ماہ، اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ افغانستان 2026 میں دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک رہے گا۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے ملک کے 18 ملین کمزور لوگوں کی مدد کے لیے تقریباً 1.7 بلین ڈالر کی اپیل کی ہے۔












بی ایم سی میئرکے چناؤمیں آیا نیا موڑ، فڑنویس حکومت کا ایک قدم، بدل گیا پورا کھیل، ادھو ٹھاکرے کا منصوبہ فیل
بی ایم سی میئرکے عہدے پر کھینچ تان کے درمیان ایک اہم موڑ آیا ہے۔ بی ایم سی انتخابات میں سادہ اکثریت والی مہاوتی حکومت نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جسے ٹھاکرے دھڑے کی حکمت عملی پر راست حملہ تصور کیا جارہا ہے۔ دراصل ، شیو سینا (یو بی ٹی) دھڑے کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’اگر بھگوان نے چاہا تو میئر ہمارا ہوگا۔‘ تاہم، ان کے بیان نے بی جے پی اور شندے دھڑے کو چوکنا کر دیا اور اس تازہ اقدام کو اسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن میں اقتدار کی کشمکش میں ریاستی حکومت نے ایک اہم سیاسی پیش رفت کی ہے۔ آئندہ میئر کے انتخاب کے لیے ’پریزائیڈنگ افسر‘ کی تقرری کے حوالے سے پرانے اصول میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق میئر کے انتخاب کا پورا عمل اب میونسپل کمشنر یا سیکرٹری سطح کا افسر کرے گا۔اس فیصلے نے پہلے ہی دن حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگئی ہے۔
روایتی طور پر، ایک پریزائیڈنگ افسر کو نئی میونسپل کونسل کے پہلے اجلاس میں مقرر کیا جاتا تھا تاکہ میئر کے انتخاب تک کارروائی کی نگرانی کی جا سکے۔ یہ ذمہ داری یا تو سبکدوش ہونے والے میئر یا کونسل کے سب سے سینئر کونسلر کو سونپی گئی تھی۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی میعاد ختم ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں، اس لیے سبکدوش ہونے والے میئر کے اختیارات پہلے ہی ختم ہو چکے تھے۔ پرانے قوانین کے تحت ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی ایک سینئر کارپوریٹر شردھا جادھو کو پریزائیڈنگ افسر کے طور پر منتخب کیا جا سکتا تھا۔ سیاسی حلقوں میں خبر گردش کررہی تھی کہ اگر پریزائیڈنگ افسر اپوزیشن سے ہوتا تو حکمرا ں جماعت کو تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ممکنہ صورتحال سے بچنے کے لیے حکومت نے قواعد میں تبدیلی کی ہے۔

ریاستی حکومت کے جاری کردہ نئے ضابطوں کے مطابق، میئر یا ڈپٹی میئر کے انتخاب کے لیے بلائی گئی خصوصی میٹنگ کی صدارت اب سیکریٹری سطح یا اس سے اوپر کا کوئی ریاستی حکومت کا اہلکار کرے گا۔ موجودہ میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی پرنسپل سکریٹری سطح کے افسر ہیں اور اس لیے اس عمل کے پریزائیڈنگ افسر ہوں گے۔ مزید ، میئر کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے۔ نومنتخب میئر بھی ڈپٹی میئر کے انتخاب کے دوران پریزائیڈنگ افسر کے طور پر کام نہیں کر سکیں گے۔قابل غوربات یہ ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شیو سینا۔بی جے پی اتحاد 1997 سے برسراقتدار ہے اور اس دوران پریذائیڈنگ افسر پر کبھی کوئی تنازع نہیں ہوا۔ تاہم، موجودہ بدلی ہوئی سیاسی صورتحال میں، یہ مسئلہ تنازع کا شکار نظر آتا ہے۔ ٹھاکرے کا دھڑا اپنی طرف سے ایک پریزائیڈنگ افسر کو محفوظ کرنے کی حکمت عملی بنا رہا تھا، لیکن حکومت کے نوٹیفکیشن نے اس منصوبے کو دھچکا پہنچایا ہے۔ نتیجتاً، قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ نئے قواعد میئر کے انتخاب کے پہلے ہی دن ایوان میں ایک بڑا ہنگامہ کھڑا کر سکتے ہیں۔













”شکیل احمد کی باتوں میں کوئی دم نہیں…“ کانگریس قیادت پر اٹھے سوال تو سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے دیا سخت جواب
نئی دہلی: کانگریس کے سابق لیڈرڈاکٹرشکیل احمد کے بیان سے سیاست گرما گئی ہے۔ شکیل احمد نے راہل گاندھی کی قیادت پرسوال اٹھایا ہے۔ شکیل احمد کے سوال اٹھائے جانے پرکانگریس کے لیڈرادت راج نے پلٹ وارکیا ہے اوران کی باتوں کوخارج کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں میں کوئی دم نہیں ہے۔ ڈاکٹرشکیل احمد کے بیان پرکانگریس لیڈرادت راج نے کہا کہ میں ان کے بیانوں سے متفق نہیں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اچھے دنوں میں ڈاکٹرشکیل احمد کوبہت ساری ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ وہ ہریانہ اوردہلی کے انچارج تھے۔ وہ ریاستی وزیررہے تھے۔ ڈاکٹرشکیل احمد نے کہا کہ انہیں آئین اوراقلیتوں کے حقوق کوبچانے کے لئے راہل گاندھی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ اگروہ کانگریس صدرکے طورپرششی تھرورکوووٹ دینا چاہتے تھے توانہیں دینا چاہئے تھا۔ پارٹی میں ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے انہیں ووٹ دیا اورپارٹی کویہ پسند نہیں آیا۔ ان کی طرف سے دی گئی یہ دلیل ٹھیک نہیں ہے۔

راہل گاندھی کیوں محسوس کررہے ہیں غیرمحفوظ؟

ڈاکٹرادت راج نے کہا کہ ان کا ترک صحیح نہیں ہے۔ وہ ششی تھرور کو ووٹ دے سکتے تھے۔ ششی تھرور کو 10 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ پارٹی نے انہیں ووٹ دینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی بڑے لیڈرہیں۔ وہ خود 2009 میں وزیراعظم بن سکتے تھے۔ انہوں نے کانگریس صدرعہدے سے استعفیٰ دیا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی گزارش کرتی رہی کہ وہ استعفیٰ نہ دیں۔ وہ تو تیاگ (قربانی) دینے والے شخص ہیں۔ ایسے بے لوث انسان پرکسی طرح سے کیا الزام لگانا؟ راہل گاندھی عوامی لیڈرہیں، پھروہ کیوں غیرمحفوظ محسوس کریں گے؟

شکیل احمد نے راہل گاندھی کی قیادت پراٹھائے سوال

اس سے پہلے کانگریس کے سابق لیڈراورسابق وزیرشکیل احمد نے پارٹی کی مسلسل انتخابی شکست پرکانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پرجم کرتنقید کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندران موضوعات کوحل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ ساتھ ہی ٹاپ لیڈرشپ میں قابلیت اورصلاحیت کی کمی ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی پرطنزکرتے ہوئے کہا تھا کہ راہل گاندھی چاہیں تو بھی کانگریس کودوسرے نمبرسے نیچے نہیں لے جاسکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی سبھی پارٹیاں صرف ایک ریاست میں ہیں۔ شکیل احمد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی، مقبول اور پرانے لیڈران کے ساتھ مل کرکام کرنے میں”غیرمحفوظ“ محسوس کرتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...