Sunday, 25 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





وفاق المکاتب کے زیر اہتمام پہلی سالانہ اعزازی تقریب
مکاتب کے ذمہ داران توجہ فرمائیں 
 29 جنوری 2026ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء فورا سلیمانی مسجد میں وفاق المکاتب مالیگاؤں کے زیر اہتمام ایک تہنیتی واعزازی تقریب منعقد ہوگی جس میں امسال مدارس و مکاتب کے شعبہ حفظ سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات اورایک یا تین نشست میں مکمل قرآن سنانے کی سعادت حاصل کرنے والے حفاظ و حافظات ، اسی طرح مقامی، ریاستی اور ملکی مسابقات میں اول انعام حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کا اعزاز و استقبال کیا جائے گا۔
  اس کے علاوہ مکاتب میں پینتیس سال سے زائد عرصے سے تدریسی خدمات انجام دینے والے معلمین کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
اس سلسلے میں صاحبان اعزاز کی تفصیلات معلوم کرنے کی غرض سے وفاق المکاتب کی جانب سے مکاتب کو فارم ارسال کیاگیا ہے، جسے پُر کرکے 25 جنوری تک مندرجہ ذیل مقامات پر جمع کرانا ہے: 
 مدرسہ حضرت عکرمہ 8149397564
مدرسہ نورانی، نورانی مسجد 8149546586
مکرم مسجد سلیم منشی نگر 9226703600
 مدرسہ ثناء العلوم للبنات 9226936334
 یا واٹس ایپ پر بھی فارم بھیجا جا سکتا ہے۔
گزارش ہے کہ مکاتب کے ذمہ دار حضرات بھیجے گئے فارم کو پر کر کے متعینہ تاریخ تک جمع کرانے کی فکر کریں۔
نوٹ : ممکن ہے کسی مکتب تک فارم نہ پہنچ سکا ہو، لہٰذا اس اعلان کے ساتھ فارم کی پی ڈی ایف ارسال کی جارہی ہے، جس کی مدد سے فارم کی زیراکس کاپی نکالی جاسکتی ہے۔

جاری کردہ : شعبہ نشر و اشاعت وفاق المکاتب مالیگاؤں














ثقافتی پروگرام میں شرعی حدود کو ملحوظ رکھیں
شہر عزیز مالیگاؤں کے لیے یہ بات نعمت کی ہے کہ جہاں عصری تعلیم کے لیے بھی معیاری اسکولیں قائم ہیں جہاں سے ہمارے بچے بچیاں معیاری عصری تعلیم حاصل کر رہے ہیں،
 یقیناً عصری تعلیم کے لیے قائم یہ ادارے اور اسکولیں ہمارا بیش قیمت سرمایہ ہیں جہاں ان اسکولوں میں معیاری عصری تعلیم دی جارہی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے اسکولوں کا ماحول سازگار رہے اور وہاں کی فضا غیر شرعی کاموں سے آلودہ نہ ہو، ادھر چند برسوں سے گیدرنگ اور ثقافتی پروگراموں کے نام پر شہر کے متعدد اسکولوں میں ناچ گانے اوربےہودہ ڈانس اورواہیات ڈرامے کئے جارہے ہیں جو ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں، مسلمان بچوں اور بچیوں کو ثقافتی پروگرام کے نام پر غیر شرعی کاموں میں لگانا نا مناسب عمل ہے، کچے ذہنوں پر جو چیز نقش ہوتی ہے اس کا اثر بہت دیر تک باقی رہتا ہے اس لیے تنظیم علماء ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں کی جانب سے اسکولوں کی انتظامیہ کی خدمت میں یہ گزارش پیش کی جارہی ہے کہ 26 جنوری کے عنوان سے جو ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں اور اس کے بعد بھی جو ثقافتی سرگرمیاں آپ کے اسکول میں انجام پائیں ان میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی قسم کا کوئی بیہودہ اور غیر شرعی پروگرام نہ ہو، ہمیں امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں اپنی دینی، اخلاقی اور ایمانی ذمہ داری کو بخوبی محسوس کریں گے اور ہماری درخواست پر توجہ فرمائیں گے۔ نیز سرپرست حضرات بھی اپنے نو نہالان کی فکر کریں اور انہیں کسی بھی قسم کے غیر شرعی پروگراموں کا حصہ بننے سے باز رکھیں۔
والسلام
صدر واراکین
تنظیم علماء ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں













گردے کی پتھری کی علامات اور وہ غذائیں جو اس کا موجب بن سکتی ہیں
گردوں کی پتھری دراصل معدنیات اور نمکیات کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو اس وقت بنتے ہیں جب پیشاب میں نمکیات اور معدنیات کی مقدار زیادہ ہو جائے اور وہ جمنے لگیں۔
یہ پتھری کبھی بہت چھوٹی اور کبھی بڑی بھی ہو سکتی ہے تاہم جب یہ پیشاب کی نالی سے گزرتی ہے تو شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ماہرین کے مطابق پانی کی کمی اور کچھ بیماریوں کے ساتھ ساتھ غذا کا بھی اس میں اہم کردار ہوتا ہے۔
کچھ غذائیں ایسی ہیں جو پیشاب میں آکسیلیٹ، کیلشیم، یورک ایسڈ یا سوڈیم کی مقدار بڑھا دیتی ہیں اور یہی اجزا پتھری بننے کا سبب بنتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق طبی ماہرین نے ایسی چند غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جنہیں گردوں کی پتھری کے مریضوں کو خاص طور پر کم استعمال کرنا چاہیے۔​
پالک
پالک غذائیت سے بھرپور سبزی ہے لیکن اس میں آکسیلیٹ کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث یہ کیلشیم کے ساتھ مل کر ’کیلشیم آکسیلیٹ پتھری‘ بنانے کا سبب بنتی ہے۔
چقندر
چقندر بھی پالک کی طرح آکسیلیٹ سے بھرپور ہوتے ہیں اسی لیے پتھری کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔
میوے اور بیج
بادام، کاجو اور مونگ پھلی صحت کے لیے مفید ضرور ہیں لیکن ان میں آکسیلیٹ کی زیادہ مقدار پتھری کے خطرے میں اضافہ کر دیتی ہے۔
چاکلیٹ
کوکو اور ڈارک چاکلیٹ میں بھی آکسیلیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو حساس افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔چائے
کالی چائے آکسیلیٹ سے بھرپور ہوتی ہے اور زیادہ پینے سے گردوں میں پتھری بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
گوشت
سرخ گوشت میں پیورین کی زیادہ مقدار جسم میں یورک ایسڈ بڑھا کر ’یورک ایسڈ پتھری‘ بنانے کا سبب بنتی ہے۔
نمکین اور پیک شدہ غذائیں
ان میں موجود زیادہ نمک پیشاب میں کیلشیم کے اخراج کو بڑھا دیتا ہے جس سے کیلشیم پتھری بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
میٹھے مشروبات اور وٹامنز
میٹھے مشروبات میں شامل فاسفورک ایسڈ اور چینی پتھری کی تشکیل کو تیز کر سکتے ہیں۔ وٹامن سی کی زیادہ مقدار جسم میں آکسیلیٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے جو پتھری کی وجہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پتھری کے مریض اگر زیادہ پانی پئیں، نمک اور سرخ گوشت کم کریں اور کیلشیم اور آکسیلیٹ والی غذاؤں کا توازن قائم رکھیں تو اس تکلیف دہ بیماری سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...