Tuesday, 27 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*







اردو لائبریری مالیگاؤں کو ممبئی یونیورسٹی کی جانب سے"انوار اردو ایوارڈ" 
مالیگاؤں، 27 جنوری:  
اردو لائبریری مالیگاؤں کی علمی و ادبی خدمات کو ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو، اردو چینل اور روٹس آف کائنڈنس نے شاندار اعتراف بخشا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق یکم فروری کو شام چھ بجے ممبئی یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں مالیگاؤں کی اس تاریخی لائبریری کو "انوار اردو ایوارڈ" سے نوازا جائے گا۔  

یہ اطلاع اردو لائبریری کے چیئرمین الحاج خالد عمر صدیقی صاحب کو ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو کے سربراہ جناب قمر صدیقی کے پیغام کے ذریعے موصول ہوئی۔  


1902 میں قائم ہونے والی اردو لائبریری آج بھی کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کتابوں اور نایاب رسائل کے ذخیرے کے ساتھ یہ ادارہ علمی دنیا کا قیمتی سرمایہ ہے۔ حال ہی میں ٹرسٹ کی جانب سے انفارمیشن سینٹر کا آغاز کیا گیا ہے جس سے سینکڑوں طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔
یہ ایوارڈ صرف اردو لائبریری کے لیے نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں شہر کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ بزرگوں کی علمی کاوشیں آج بھی پوری تندہی سے جاری ہیں اور یہی تسلسل اس ادارے کو نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔















حادثہ ہو گیا

یہ جملہ ہم روزانہ سنتے ہیں، پڑھتے ہیں اور کبھی کبھار بے حسی کے ساتھ نظر انداز بھی کر دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر “حادثہ ہو گیا” کے پیچھے ایک زندگی، ایک گھر اور ایک خاندان کا سکون بکھر جاتا ہے۔
شہرِ مالیگاؤں میں سڑک حادثات اب ایک معمول بنتے جا رہے ہیں، اور یہ معمول سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

کافی عرصے سے اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا، مگر موقع نہیں مل پا رہا تھا۔ اب جبکہ رمضان المبارک کی آمد قریب ہے، تو یہ چند سطور شہر کے باشعور شہریوں کی توجہ کے لیے قلم بند کر رہا ہوں۔ اس تحریر کا مقصد نہ کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے اور نہ کسی پر تنقید کرنا، بلکہ صرف احساس دلانا ہے۔

مالیگاؤں مسجدوں اور میناروں کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگ دینی جذبہ رکھتے ہیں، امت کی فکر کرتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق خدمتِ خلق میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہماری سڑکیں محفوظ نہیں رہیں، خاص طور پر رمضان المبارک میں جب ٹریفک کا نظام مزید بگڑ جاتا ہے۔

افطار کے وقت جلد بازی، سحری کے بعد بے احتیاطی، غلط پارکنگ، الٹی سمت میں گاڑیاں اور بے جا ہارن—یہ سب مل کر ایک خطرناک ماحول بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ وہی پرانا جملہ: “حادثہ ہو گیا”۔

یہ مسئلہ صرف انتظامیہ کا نہیں، ہم سب کا ہے۔ ہر شہری اپنے اپنے علاقے کو بہتر طور پر جانتا ہے۔ اگر ہم اپنے محلوں، چوراہوں اور سڑکوں پر تھوڑی سی ذمہ داری محسوس کر لیں، تو بہت سے حادثات روکے جا سکتے ہیں۔ جس طرح مختلف دینی، فلاحی اور سماجی ادارے امت کے لیے کام کر رہے ہیں، اسی طرح ٹریفک نظم و ضبط کے لیے بھی چھوٹی سطح پر کوششیں شروع کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر رمضان المبارک میں۔

یہ ضروری نہیں کہ تبدیلی فوراً نظر آئے۔ ہو سکتا ہے یہ ایک رمضان میں نہ ہو، دو میں ہو یا کئی کے بعد۔ مگر اگر نیت صاف ہو اور کوشش مسلسل رہے تو ناممکن کچھ بھی نہیں۔

یہ کالم جان بوجھ کر مختصر اور اشاروں کی زبان میں لکھا گیا ہے، تاکہ ہر قاری خود اس پر غور کرے اور اپنے حصے کا جواب خود تلاش کرے۔ الزام تراشی سے بہتر ہے کہ ہم خود سے آغاز کریں۔ جب ہم بدلیں گے تو حالات بھی بدلنے لگیں گے۔

کاش یہ چند سطور کسی ایک دل میں بھی اتر جائیں، تو یہی اس تحریر کی کامیابی ہوگی۔

از قلم:
محمد عمار اشرف
کمپیوٹرس، مالیگاؤں















سٹیزن کیمپس میں جشنِ یومِ جمہوریہ کی رنگا رنگ تقریب
شہر عزیز مالیگاؤں کے مشہور و معروف، سٹیزن کیمپس میں امسال 26جنوری 2026ء بروز پیر جشنِ یومِ جمہوریہ کی تقریب شاندار پیمانے پر منعقد ہوئی صبح ٹھیک 7:45 کو سٹیزن کیمپس کے نائب صدر محترم ڈاکٹر عبدالحمید انصاری صاحب کے دست مبارک سے رسم پرچم کشائی انجام پزیر ہوئی اس موقع پر سٹیزن کیمپس کے اراکین انتظامیہ، معززین شہر، تمام ہی یونٹ کے پرنسپل، ہیڈ، انچارج، اساتذہ، نان ٹیچنگ اسٹاف، طلباء و طالبات موجود تھے راشٹریہ گیت، راجیہ گیت، پرچم کشائی، سلامی، کب و بلبل کی پریڈ اور مہنانان کو سلیوٹ کے بعد قرات سے تقریب کا آغاز ہوا۔ تقریب کی صدارت کیمپس کے سکریٹری محترم ڈاکٹر آصف سلیم صاحب نے کی- اس رنگا رنگ تقریب میں طلباء و طالبات نے اردو، ہندی، مراٹھی و انگلش زبانوں میں تقاریر، مجاہدین آزادی حب الوطنی گیت، لافٹر شو، دو نفری ڈرامے اور مختلف گیتوں پر ایکشن سانگ پیش کیے گۓ ظہیر قدسی صاحب نے اپنے تاثرات پیش کیے جب کہ ڈاکٹر آصف سلیم صاحب نے صدارتی خطاب فرمایا- اسٹیج پر ڈاکٹر آصف سلیم، ڈاکٹر عبدالحمید، حافظ بدرالدجیٰ، ڈاکٹر ایوبی معاذ احمد، شکیل رحمانی، ظہیر قدسی، ایوبی عتیق و شارق صاحبان کے علاوہ تمام ہی یونٹ کے ہیڈ، انچارج و پرنسپل، ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف ممبران اور طلباء و طالبات موجود تھے- ہیڈ مسٹریس ایوبی پروین میڈم نے تمام ہی پیشکش کرنے والے طلبا و طالبات کو نقد انعامات سے نوازا- شکریہ کے بعد حافظ بدرالدجی کی دعا سے یوم جمہوریہ کی تقریب کا اختتام عمل میں آیا- ش-ن- الف- سٹیزن کیمپس، مالیگاؤں

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...