Tuesday, 2 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





کنگ کوہلی کی سنچری اننگز جنوبی افریقہ کی بلے بازی پر پڑی بھاری، بھارت نے 17 رن سے ہرایا، سیریز میں ایک-صفر کی برتری
جے ایس سی اے انٹرنیشنل اسٹیڈیم، رانچی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں بھارتی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو 17 رنز سے شکست دی۔ ٹاس جنوبی افریقہ نے جیتا اور پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا، مگر بھارتی بلے بازوں نے اسے غلط ثابت کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 349 رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی خراب شروعات اور پھر زبردست مزاحمت

350 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور ٹیم نے صرف 11 رنز پر اپنے ابتدائی تین وکٹیں کھو دیں۔ تاہم درمیانی اور نچلے آرڈر کے کھلاڑیوں نے ذمہ داری نبھاتے ہوئے شاندار مزاحمت کی اور میچ کو دلچسپ مرحلے تک پہنچایا۔ میتھیو بریٹزکے نے 72 رنز کی بہترین اننگز کھیلی، جب کہ مارکو یانسن نے صرف 39 گیندوں پر 70 رنز بناکر امیدیں روشن کیں۔ کوربن بوش نے بھی 67 رنز بناکر جنوبی افریقہ کو مقابلے میں بنائے رکھا۔ آخری مراحل میں پی سبریئن اور برگر نے 17-17 رنز کی شراکت سے ٹیم کو مزید قریب پہنچایا اور نچلے آرڈر نے آخری دو وکٹوں پر 62 رنز جوڑ کر بھارت کی فکر بڑھائی، مگر تمام کوششیں ناکام رہیں اور پوری ٹیم 49.2 اوور میں 332 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

بھارتی بولرز کی شاندار کارکردگی اور سیریز میں سبقت

بھارت کی جیت میں گیندبازوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ کلدیپ یادو 10 اوور میں 68 رنز دے کر 4 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ ہرشت رانا نے 3 اور ارشدیپ سنگھ نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ بھارتی ٹیم کی اس جیت کے ساتھ تین میچوں کی سیریز میں بھارت کوایک-صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ سیریز کا دوسرا میچ 3 دسمبر کو رائے پور میں کھیلا جائے گا۔

دوسرے وکٹ کیلئے 136 رنز کی شاندار شراکت

اس سے قبل پہلے بلے بازی کرتے ہوئے بھارت نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 349 رنز بنائے۔ ابتدائی جھٹکے کے بعد روہت شرما اور وراٹ کوہلی نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو بھرپور تفریح فراہم کی۔ دونوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے دوسرے وکٹ کے لیے 136 رنز کی مضبوط شراکت قائم کی۔ روہت شرما نے 51 گیندوں پر 57 رنز بنائے، جن میں 5 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ اس دوران وہ ون ڈے میں سب سے زیادہ چھکے مارنے والے بلے باز بھی بن گئے۔’’کنگ کوہلی‘‘ کا راج — 135 رنز کی یادگار اننگز

روہت کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارت کو دو تیز جھٹکے لگے، لیکن وراٹ کوہلی کریز پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے کے ایل راہل کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 76 رنز جوڑے۔ وراٹ کوہلی نے 102 گیندوں پر 52ویں ون ڈے سنچری مکمل کی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف یہ ان کی چھٹی سنچری تھی۔ وہ 120 گیندوں پر 7 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 135 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

راہل، جڈیجہ نے آخری اوورز میں رفتار بڑھائی

کوہلی کے آؤٹ ہونے کے بعد کے ایل راہل اور رویندر جڈیجہ نے رفتار میں تیزی لائی۔ دونوں نے چھٹے وکٹ کے لیے صرف 36 گیندوں پر 65 رنز جوڑے۔ کے ایل راہل نے 56 گیندوں پر 60 رنز اسکور کیے، جبکہ جدیجہ نے 20 گیندوں پر 32 رنز بناتے ہوئے بھارت کو 50 اوور میں 8 وکٹ پر 349 تک پہنچایا۔












یکم دسمبر سے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں تخفیف، جانیں تازہ دام
حیدرآباد: دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک کے شہریوں کو خوشخبری ملی ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتوں میں آج یکم دسمبر 2025 کو نظر ثانی کی ہے۔ قیمتوں میں یہ تبدیلیاں آج سے لاگو کر دی گئی ہیں۔ تازہ ترین جانکاری کے مطابق تیل کمپنیوں نے 19 کلو کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں کمی کر دی ہے۔

تیل کمپنیوں نے فی سلنڈر قیمت میں تقریباً 10 سے 11 روپے کی کمی کی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ پر فراہم کی گئی جانکاری کے مطابق نئی قیمتیں آج بروز پیر یکم دسمبر 2025 سے نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

واضح رہے کہ کمپنیوں نے گھریلو گیس سلنڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ ان کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

انڈین آئل کمپنی کی سرکاری ویب سائٹ نے بتایا کہ 19 کلو کمرشل گیس سلنڈر کی نئی قیمتوں کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی اور کولکاتا میں یہ تخفیف تقریباً 10 روپے کی ہے جب کہ ممبئی اور چنئی میں 11 روپے کی راحت دی گئی ہے۔

تازہ ترین قیمتیں
دارالحکومت دہلی میں 19 کلو کا سلنڈر اب 1580 روپے میں دستیاب ہوگا۔ پہلے یہ 1590.50 روپے میں تھا۔ وہیں کولکاتا میں یہ سلنڈر 1684 روپے میں دستیاب ہوگا، جو پہلے 1694 روپے میں فروخت ہوتا تھا۔ ممبئی میں 19 کلو کا سلنڈر 1542 روپے کے بجائے اب 1531 روپے میں ملے گا۔ چنئی میں، وہی سلنڈر اب 1739 روپے میں فروخت کیا جائے گا، جو کہ پہلے 1750 میں ملتا تھا۔

نومبر میں بھی کی گئی قیمتوں میں تخفیف

گزشتہ ماہ نومبر میں سرکاری تیل کمپنیوں نے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں کمی کی تھی۔ یہ کمی صرف 5 روپے کی تھی۔ اکتوبر میں کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافہ کر کے صارفین کو حیران کر دیا تھا۔ تیل کمپنیوں نے گھریلو گیس سلنڈر کی پرانی قیمتیں برقرار رکھی ہیں۔ ان کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں آخری تبدیلی آٹھ اپریل 2025 کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے ان کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔










کیا بچپن سے مونگ پھلی کھلانا بچوں کو الرجی سے محفوظ رکھتا ہے؟
ایک دہائی قبل ایک اہم تحقیق نے یہ ثابت کیا تھا کہ نوزائیدہ بچوں کو مونگ پھلی سے بنی غذائیں کھلانے سے جان لیوا الرجی سے بچاؤ ممکن ہے، جبکہ اب نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس تبدیلی نے حقیقی دنیا میں بڑا اثر ڈالا ہے۔
سی این این کے مطابق امریکہ میں مونگ پھلی سے الرجی کے کیسز میں کمی اُس وقت شروع ہوئی جب سنہ 2015 میں پہلی بار جاری کردہ طبی ہدایات نے روایتی طریقہ علاج کو بدلتے ہوئے یہ سفارش کی کہ بچوں کو چار ماہ کی عمر سے ہی تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی سے بنی اشیا دی جائیں۔اعداد و شمار کے مطابق 0 سے 3 برس کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح سنہ 2015 کی ہدایات کے بعد 27 فیصد سے زائد اور 2017 میں مزید توسیع شدہ سفارشات کے بعد 40 فیصد سے بھی زیادہ کم ہوئی۔
فلاڈیلفیا کے چلڈرن ہسپتال سے تعلق رکھنے والے الرجی ماہر اور محقق ڈاکٹر ڈیوڈ ہِل، جو میڈیکل جرنل پیڈیاٹرکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مصنف ہیں، کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعی ایک قابلِ ذکر بات ہے، ہے نا؟‘
ڈاکٹر ہِل اور ان کے ساتھیوں نے بچوں کے درجنوں کلینکس کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کا تجزیہ کیا تاکہ ہدایات سے پہلے، دوران، اور بعد میں بچوں میں غذائی الرجی کی شرح کا جائزہ لیا جا سکے۔
ڈاکٹر ہِل نے کہا کہ ’میں آج یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم نے یہ عوامی صحت کی مہم شروع نہ کی ہوتی تو آج مونگ پھلی کھانے سے الرجی والے بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔‘
ان کے مطابق سنہ 2015 سے اب تک تقریباً 60 ہزار بچوں کو غذائی الرجی سے بچایا جا چکا ہے، جن میں سے 40 ہزار ایسے ہیں جو مونگ پھلی الرجی میں مبتلا ہو سکتے تھے۔ اس کے باوجود بچوں میں کھانے سے الرجی کی مجموعی شرح اب بھی تقریباً آٹھ فیصد ہے، جن میں سے دو فیصد سے زائد کو مونگ پھلی سے الرجی ہے۔مونگ پھلی الرجی اُس وقت ہوتی ہے جب جسم کا مدافعتی نظام مونگ پھلی میں موجود پروٹینز کو نقصان دہ سمجھ کر ان کے خلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے، جس سے خارش، سانس لینے میں دشواری، یا بعض اوقات جان لیوا اینافلیکسیس جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
طویل عرصے تک ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ بچوں کو مونگ پھلی یا دیگر ممکنہ الرجی پیدا کرنے والی غذائیں تین برس کی عمر تک نہ دی جائیں۔ لیکن سنہ 2015 میں لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر گیڈون لیک نے LEAP (Learning Early About Peanut Allergy) کے نام سے ایک انقلابی تحقیق شائع کی۔
اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ بچپن میں مونگ پھلی سے بنی غذائیں کھلانے سے مستقبل میں غذائی الرجی کا خطرہ 80 فیصد سے زیادہ کم ہو جاتا ہے، اور بعد کی تحقیق نے بتایا کہ یہ تحفظ تقریباً 70 فیصد بچوں میں بلوغت تک برقرار رہتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...