نومبر میں بھارت کا مجموعی جی ایس ٹی کلکشن 1.70 لاکھ کروڑ روپے
نئی دہلی: نومبر 2025 میں بھارت کی مجموعی اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کی وصولی 1,70,276 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو گذشتہ سال نومبر میں 1,69,016 کروڑ روپے کے مقابلے میں 0.7 فیصد زیادہ ہے۔ جی ایس ٹی کی کم شرح اور ٹیکس کی بہتر تعمیل اس اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔
اکتوبر سال 2025 میں جی ایس ٹی کی مجموعی وصولی 1.95 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو پچھلے سال کے 1.87 لاکھ کروڑ روپے سے 4.6 فیصد زیادہ ہے۔ اپریل-نومبر 2025 کے دوران جی ایس ٹی کی کل وصولی 14,75,488 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال 8.9 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔نومبر 2025 میں سینٹرل جی ایس ٹی (سی جی ایس ٹی) کی وصولی 34,843 کروڑ روپے رہی جو پچھلے سال کے 34,141 کروڑ روپے سے معمولی اضافہ ہے۔ دریں اثنا ریاستی جی ایس ٹی (ایس جی ایس ٹی) کی وصولی گھٹ کر 42,522 کروڑ روپے ہوگئی، جب کہ مربوط جی ایس ٹی (آئی جی ایس ٹی) کی وصولی 50,093 کروڑ روپے سے کم ہوکر 46,934 کروڑ روپے ہوگئی۔
ریفنڈز کے بعد خالص جی ایس ٹی ریونیو نومبر میں 1.3% بڑھ کر 1,52,079 کروڑ روپے ہو گیا، جو کہ ریفنڈز میں 4% کی کمی کے باعث ہوا۔ اپریل-نومبر سال 2025 کے لیے کل خالص کلکشن 12,79,434 کروڑ روپے تھا، جو پچھلے سال کے 11,92,455 کروڑ روپے سے 7.3 فیصد زیادہ ہے۔ اکتوبر 2025 میں جی ایس ٹی کی خالص آمدنی 1,69,002 کروڑ روپے تھی، جو اکتوبر 2024 میں 1,68,054 کروڑ روپے کے مقابلے میں 0.6 فیصد زیادہ ہے۔
ریفنڈز نے ملا جلا رجحان دکھایا۔ کل ریفنڈز ₹18,196 کروڑ تھے، جو سال بہ سال 4% کی کمی ہے۔ ایکسپورٹ ریفنڈز میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، گھریلو ریفنڈز میں 12 فیصد کمی ہوئی۔ریاستی لحاظ سے کارکردگی میں شمال مشرقی ریاستوں میں اضافہ دیکھا گیا، اروناچل پردیش میں 33% کی مضبوط سبقت دیکھی گئی۔ ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ اور آسام میں بھی مثبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم، میزورم (-41%)، سکم (-35%)، اور لداخ (-28%) میں تیزی سے کمی دیکھی گئی۔ بڑی ریاستوں میں، مہاراشٹر (3%)، کرناٹک (5%) اور کیرالہ (7%) میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جب کہ گجرات (-7%)، تمل ناڈو (-4%)، اتر پردیش (-7%)، مدھیہ پردیش (-8%)، اور مغربی بنگال (-3%) میں کمی دیکھی گئی۔
مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ملے جلے نتائج دیکھنے میں آئے۔ انڈمان اور نکوبار جزائر میں 9% اضافہ دیکھا گیا، جب کہ لکشدیپ میں کلکشن میں 85% تیزی سے کمی دیکھی گئی۔
مالی سال 2025-26 میں پری سیٹلمنٹ ایس جی ایس ٹی کلیکشن میں 8% یعنی 3,37,412 کروڑ روپے سے 3,62,948 کروڑ روپے تک اضافہ متوقع ہے۔ ۔ تصفیہ کے بعد ایس جی ایس ٹی کی وصولی چھ فیصد بڑھ کر 6,78,235 کروڑ روپے تک متوقع ہے۔تاہم، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں قبل از تصفیہ ایس جی ایس ٹی میں بالترتیب ₹1% اور ₹3% کی کمی دیکھی گئی۔ تصفیہ کے بعد کے ایس جی ایس ٹی میں ہریانہ اور آسام میں 21 فیصد، مہاراشٹر میں 13 فیصد، پنجاب میں 10 فیصد اور دہلی میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔ جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں بالترتیب -9% اور -1% کی کمی دیکھی گئی۔
چاندنی محل میں شعیب اقبال اورآل محمد اقبال کی بادشاہت قائم، اروند کیجریوال کولگا بڑا جھٹکا، عام آدمی پارٹی کے تمام مسلم اراکین کی کوششیں رائیگاں
شعیب اقبال مٹیا محل اسمبلی سیٹ سے 6 بار رکن اسمبلی رہے ہیں۔ اس بار انہوں نے اپنے بیٹے آل محمد اقبال کوعام آدمی پارٹی سے الیکشن لڑوایا اورانہوں نے جیت بھی حاصل کی۔ آل محمد اقبال کے رکن اسمبلی بننے کے سبب چاندنی محل وارڈ میں ضمنی الیکشن ہوئے۔ شعیب اقبال اپنے قریبی کوامیدواربنانا چاہتے تھے۔ عام آدمی پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے شعیب اقبال نے پارٹی چھوڑدی۔ اس کے بعد انہوں نے آل انڈیا فارورڈ بلاک کے امیدوار محمد عمران کوجتانے کے لئے پوری طاقت لگا دی تھی۔ چاندنی محل وارڈ مٹیا محل اسمبلی سیٹ کا حصہ ہے۔ اس اسمبلی سیٹ اورچاندنی محل وارڈ پرلمبے وقت سے شعیب اقبال کا قبضہ ہے۔ شعیب اقبال صرف ایک بار2015 کا الیکشن چھوڑکر1993 سے مسلسل مٹیا محل سے جیت حاصل کرتے رہے ہیں۔
آل محمد اقبال نے ایم ایل اے شپ کی نہیں کی پرواہ
شعیب اقبال کے بیٹے آل محمد اقبال موجودہ وقت میں مٹیا محل سیٹ سے رکن اسمبلی ہیں اوراس سے پہلے چاندنی محل سے کونسلرتھے۔ اس طرح شعیب اقبال کا سیاسی دبدبہ پورے علاقے میں قائم ہے، جسے وہ کسی بھی صورت میں اپنے ہاتھوں سے نہیں نکلنے دینا چاہتے ہیں۔ وہیں شعیب اقبال کو شکست دینے کے لئے عام آدمی پارٹی اورکانگریس دونوں نے داوچلے۔ سابق رکن اسمبلی عاصم احمد خان کودوبارہ عام آدمی پارٹی نے اپنے ساتھ لیا۔ بڑے مسلم چہرے کے طورپراوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان، سابق وزیراوربلیماران کے رکن اسمبلی عمران حسین اورسیلم پورکے رکن اسمبلی چودھری زبیراحمد وغیرہ نے پارٹی کے سینئرلیڈران کے ساتھ چاندنی محل میں خوب جلسے کئے، لیکن شعیب اقبال اورآل محمد اقبال کے سامنے یہ تمام کوششیں رائیگاں چلی گئیں اورشعیب اقبال کا دبدبہ برقراررہا۔ وہیں آل محمد اقبال نے پارٹی لائن سے ہٹ کراپنے ایم ایل اے شپ کی پرواہ نہیں کی اورپارٹی کے سینئرلیڈران کے خلاف کھل کرکھڑے نظرآئے اوراپنے والد کے ساتھ کندھا سے کندھا ملاکرمحمد عمران کوجیت دلانے میں اہم رول ادا کیا۔
شعیب اقبال کی بادشاہت برقرار
سابق رکن اسمبلی شعیب اقبال نے چاندنی محل سیٹ سے محمد عمران کوجیت دلاکراپنا دبدبہ قائم رکھا ہے۔ ان کی اس مہم میں ان کے بیٹے آل محمد اقبال کا بھی اہم رول تھا۔ آل محمد اقبال نے عام آدمی پارٹی کی لائن سے ہٹ کر محمد عمران کو جتانے کے لئے پورا زورلگا رکھا تھا۔ کانگریس سے لے کرعام آدمی پارٹی تک نے شعیب اقبال کی بادشاہت ختم کرنے کے لئے سیاسی چال چلی تھی، لیکن چاندنی محل میں شعیب اقبال کی پسند پرعوام نے مہرلگا دی۔ سال 2015 میں مٹیا محل سیٹ پرشعیب اقبال کوہرانے والے اورسابق وزیرعاصم احمد خان کوساتھ لینا بھی کام نہیں آیا۔ مسلم اکثریتی سیٹ پرپھرشعیب اقبال نے ثابت کردیا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیرچاندنی محل سیٹ پرایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا ہے۔ اس طرح سے شعیب اقبال نے اپنے گڑھ میں اپنی بادشاہت کو قائم رکھا۔
افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور صحافی شمس الدین شمیم کی یاد میں سمینار کا اہتمام
سرینگر (پرویز الدین): افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور صحافی شمس الدین شمیم کی یاد میں جموں کمشیر اکیڈمی آف کلچرل اینڈ لینگویجز (کلچرل اکیڈیمی) اور ایک مقامی روزنامہ گھڑیال کے باہمی اشتراک سے جمعرات کو سرینگر کے ایک نجی ہوٹل میں ادبی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔
سمینار کے آغاز میں ایڈیشنل سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی عدیل سلیم نے مہمانوں اور شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے شمس الدین شمیم کی کشمیری فکشن اور ثقافتی صحافت میں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی بے باک ادبی و صحافتی آواز کو معاشرے کے اجتماعی ضمیر کی نمائندگی قرار دیا۔
تقریب پر نامور افسانہ نگار اور شعبہ خبر آل انڈیا ریڈیو کے سابق سربراہ مشتاق احمد مشتاق نے کلیدی خطبہ پیش کیا، جنہوں نے شمیم کے افسانوں کو تجربات زیست کا ایسا ادبی ریکارڈ قرار دیا جو محض خطیبانہ بیان بازی نہیں بلکہ انسانی معاشرے کی حقیقی تصویر ہے، جو سیاسی اضطراب، سماجی تبدیلیوں اور اخلاقی کشمکش میں الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’شمیم نے عائلی تنازعات کو ڈرامائی مکالموں میں بدلنے کی ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس نے ان کے فن کو لازوال بنایا، جبکہ صحافت میں ان کی تحریریں سچائی، دیانت اور ثقافتی ذمہ داری کی آئینہ دار ہیں۔‘‘
اس موقع پر شبیر مجاہد اور وحشی سعید نے بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شمیم کو ’’ہمہ جہت ادیب و صحافی‘‘ قرار دیا، جن کی بصیرت، شفافیت اور انسانی ہمدردی غیر معمولی نوعیت کی حامل رہی۔ صدارتی خطبے میں پروفیسر فاروق فیاض نے کہا کہ ’’شمس الدین شمیم خاموشی کی مزاحمت کرنے والے ادیب تھے، جنہوں نے ان موضوعات کو آواز بخشی جنھیں بیان کرنا ممکن نہ تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’شمیم کی ادبی میراث کو محفوظ کرنا محض ادبی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ثقافتی ذمہ داری ہے اور ادبی و ثقافتی اداروں کو چاہیے کہ ان کے غیر مطبوعہ کام کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کریں۔‘‘اجلاس میں رحیم رہبر، شفیق قریشی، پروفیسر محفوظہ جان، پروفیسر رتن تلاشی، نثار نسیم اور دیگر محققین نے مقالات پیش کئے، جن کے موضوعات میں سماجی حقیقت نگاری، شمیم کے افسانوں میں حاشیہ بردار کردار، ڈراموں کی ساختیاتی فنکاری، عوامی بیانیے میں صحافتی دیانت، کشمیری فکشن کا تقابلی جائزہ اور شمیم کی کم معروف تخلیقات میں تحقیقی امکانات شامل تھے۔
اس موقع پر معروف ادبی و صحافتی شخصیات بشمول: ناصر مرزا، دلدار اشرف شاہ، سلیم سالک، شکیل الرحمن، فاروق وانی اور احسان چشتی (سی ای او مانسبل) نے بھی شمیم کے ساتھ علمی وابستگی اور شخصی یادیں بیان کیں، جن میں ان کی اخلاقی سچائی، مزاحیہ ذہانت، فکری پختگی اور نوجوان لکھنے والوں کی تربیت کے حوالے نمایاں رہے۔ مقررین نے کہا کہ ’’شمیم نے کبھی سچ پر سمجھوتہ نہیں کیا اور مسلسل نئی نسل کو راست گوئی اور فکری خودداری کا سبق دیتے رہے۔‘‘
واضح رہے کہ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر فاروق فیاض نے کی جبکہ دوردرشن سرینگر کے سابق ناظم اعلیٰ شبیر مجاہد نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی، نامور افسانہ نگار اور قلمکاروحشی سعید بحیثیت مہمانِ ذی وقار تقریب میں موجود رہے۔ انکے ہمراہ کلچرل اکیڈیمی کے ایڈیشنل سیکریٹری عدیل سلیم اور روزنامہ گھڑیال کے مدیر اعلیٰ ارشد رسول بھی ایوان صدارت میں موجود تھے۔