پاکستان اور کرغزستان کے 15 معاہدوں و مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
پاکستان اور کرغزستان نے باہمی تعلقات اور روابط کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے جن میں سیاسی، تجارتی، توانائی، زراعت، دفاع، تعلیم اور ثقافت کے میدان شامل ہیں۔
پاکستان کے دورے پر آئے کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف نے جمعرات کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان قریبی روابط ہیں جو نہ صرف تاریخی ہیں بلکہ لازوال بھی ہیں۔
ان کے مطابق ’دونوں ممالک نے اپنے سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد ان کو باہمی اعتماد اور احترام کے ذریعے آگے بڑھایا ہے۔‘
وزیراعظم نے مہمان صدر کے ساتھ اپنی بات چیت کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے دو طرفہ تعلقات کے علاوہ، علاقائی صورت حال اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے پیش رفتوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آج دونوں ممالک کے درمیان 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے اور یہ ایک قسم کا فریم ورک ہے جس کے تحت باہمی دلچسپی کے مختلف منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔‘
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک اگلے دو برسوں میں اپنی تجارت کو تقریباً 15 ملین سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر شام کے وقت ایک تقریب میں دستخط کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بحر ہند کا گیٹ وے ہے اور کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی و عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔ان کے مطابق ’ہماری بات چیت میں سیاحت، شعبہ تعلیم کے فروغ اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا اور اس ضمن میں دونوں ممالک نے ثقافتی تقریبات منعقد کرنے پر اتفاق کا اظہار بھی کیا۔
اس موقع پر کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں ہمارا ایک اہم شراکت دار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کی ترقی، اقتصادی خوشحالی اور انفراسٹرکچر کے حوالےسے منصوبوں کا مشاہدہ کیا اور وہ ان چیزوں کو وزیراعظم کے وژن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج دونوں ممالک کے درمیان ایجنڈے کے تحت مختلف میدانوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی اور تجارت، معیشت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، لاجسٹک، تعلیم، سائنس اور دوسرے میدانوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
جہاز کے رُکنے سے قبل سیٹ بیلٹ کھولنے اور کھڑے ہونے والے مسافروں پر جُرمانہ ہو گا
ترکیہ کی ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پرواز کے دوران حفاظتی قوانین کی خلاف ورزیوں کی صورت میں مسافروں پر جُرمانہ کیا جائے گا۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ’ترکیہ میں ایئرلائن کے وہ مسافر جو جہاز کے مکمل طور پر رُکنے سے قبل ہی اپنی سیٹ بیلٹ کھول دیتے ہیں انہیں جُرمانہ ہو سکتا ہے۔‘اس کے علاوہ وہ مسافر جو جہاز رُکنے سے پہلے ہی سیٹوں کے اوپر کیبن سے سامان نکالنا شروع کر دیتے ہین یا نشتسوں کے درمیان راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں، اُنہیں بھی جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ترکیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور بدنظمی سے بچنے کے لیے اس حوالے سے نئے ضوابط جاری کیے ہیں۔
ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ’نئے قوانین کا اطلاق رواں ماہ کے شروع سے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد جہاز سے مسافروں کے اُترنے کے عمل کو مزید محفوظ اور منظم بنانا ہے۔‘
حکام نے بتایا کہ ’اس سلسلے میں انہیں متعدد شکایات موصول ہوئیں کہ جہاز کے رُکنے سے قبل اور لینڈنگ کے بعد ٹیکسی کے دوران مسافروں کی جانب سے حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ’نئے ضوابط کے تحت ترکیہ میں چلنے والی کمرشل پروازوں کے لیے ضروری ہے کہ مسافروں کو اپنی سیٹوں پر بیٹھے رہنے کے لیے دوبارہ اطلاع کریں۔
اس سرکلر کے مطابق ’اس دوران مسافروں کی جانب سے کی جانے والی ورزیوں کو ریکارڈ اور رپورٹ کر کے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
مسافروں کو یہ بھی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اپنی نشستوں سے اُٹھنے سے قبل آگے والی سیٹوں کے مسافروں کے باہر نکلنے کا انتظار کریں۔
ایوی ایشن اتھارٹی کے سرکلر میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے مسافروں پر کتنا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، تاہم ترکیہ کے میڈیا کے مطابق ’70 ڈالر تک کے جُرمانہ کیا جائے گا۔‘
امریکی دباؤ، خودمختاری کا امتحان اور سٹیلتھ طیارہ: مودی اور پوتن کو اس وقت ایک دوسرے کی ضرورت کیوں ہے؟
عہدہ,مدیر برائے روس اور انڈیا، نئی دہلی
7 گھنٹے قبل
روسی صدر ولادیمیر پوتن انڈیا کے دو روزہ دورے کا آغاز کر رہے ہیں جس کے دوران وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے مشترکہ سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران دلی اور ماسکو متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے جب انڈیا پر روس سے تیل کی خریداری بند کرنے کے لیے امریکی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کروانے کے کوشش بھی کر رہی ہے اور گزشتہ روز مذاکرات کا ایک اہم دور ماسکو میں منعقد ہوا۔
انڈیا اور روس دہائیوں سے قریبی اتحادی ہیں۔ مودی اور پوتن کے درمیان بھی گہرا تعلق ہے۔ ایسے میں ہم نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ اس وقت دونوں کو ایک دوسری کی کیوں ضرورت ہے اور اس ملاقات کے دوران کن نکات پر نظر رکھنی چاہیے۔