امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ، 2 طلبہ ہلاک، 9 افراد زخمی
امریکہ کی ریاست روڈ آئی لینڈ کے شہر پروویڈنس میں واقع براؤن یونیورسٹی کی انجینئرنگ بلڈنگ میں ہفتے کے روز فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس افسوسناک واقعے میں 2 طلبہ ہلاک، 9 افراد زخمی زخمی ہوئے ۔ فائرنگ اس وقت ہوئی جب آئیوی لیگ یونیورسٹی میں فائنل امتحانات جاری تھے جس کے باعث کیمپس میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
کیمپس میں سیکیورٹی سخت
فائرنگ امتحانات کے دوسرے دن ہوئی جس کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔ واقعے کے دو گھنٹے بعد بھی پولیس مختلف عمارتوں کی تلاشی لیتی رہی۔ حکام نے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر گھروں میں ہی رہیں۔
ملزم کی تلاش جاری
ڈپٹی پولیس چیف ٹموتھی اوہارا کے مطابق مشتبہ شخص ایک مرد ہے جس نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور اسے عمارت سے باہر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پروویڈنس کے میئر بریٹ اسملی نے عوام سے اپیل کی کہ علاقے کو محفوظ قرار دیے جانے تک گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ کی وضاحت
براؤن یونیورسٹی انتظامیہ نے ابتدا میں طلبہ اور عملے کو بتایا تھا کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم بعد میں اس بیان کی تصحیح کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس اب بھی ایک یا ایک سے زیادہ مشتبہ افراد کی تلاش میں ہے۔ میئر نے بھی واضح کیا کہ جس شخص کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا اس کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایف بی آئی بھی تحقیقات میں شامل
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رات گئے سوشل میڈیا پر متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی پیش کی۔ حکام نے عوام کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے جبکہ پولیس نے میڈیا نمائندوں کو بھی اپنی گاڑیوں میں محفوظ رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ پروویڈنس انتظامیہ کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات میں ایف بی آئی مقامی پولیس کی مدد کر رہی ہے۔
پہلگام دہشت گردانہ حملہ: این آئی اے کی چارج شیٹ میں پاکستانی ہینڈلر ساجد جٹ سمیت سات افراد نامزد
نئی دہلی: نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں داخل کی گئی تفصیلی چارج شیٹ میں پاکستانی دہشت گرد ہینڈلر ساجد جٹ سمیت سات افراد اور تنظیموں کو نامزد کیا ہے۔ اس حملے میں 22 اپریل کو مذہب کی بنیاد پر کیے گئے ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
لشکر طیبہ اور ٹی آر ایف سازش میں ملوث قرار
این آئی اے کی جانب سے داخل کی گئی 1,597 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ (LeT) اور اس کی پراکسی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) کو قانونی اداروں کے طور پر حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور عمل درآمد میں ملوث بتایا گیا ہے۔ چارج شیٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ حملہ مذہبی بنیادوں پر مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
پاکستانی سازش کی تفصیلات بے نقاب
این آئی اے کے مطابق تقریباً آٹھ ماہ پر محیط سائنسی اور باریک بینی سے کی گئی تفتیش کے بعد اس معاملے میں سامنے آنے والی سازش کا سرا پاکستان سے جا ملتا ہے، جو مسلسل بھارت کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ یہ مقدمہ RC-02/2025/NIA/JMU کے تحت درج کیا گیا تھا۔
آپریشن مہادیو میں مارے گئے دہشت گرد بھی نامزد
چارج شیٹ میں ان تین پاکستانی دہشت گردوں کے نام بھی شامل ہیں جو جولائی 2025 میں آپریشن مہادیو کے دوران ڈاچی گام، سری نگر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے تھے۔ ان کی شناخت فیصل جٹ عرف سلیمان شاہ، حبیب طاہر عرف جبران اور حمزہ افغانی کے طور پر کی گئی ہے۔
قانونی دفعات کے تحت سنگین الزامات
این آئی اے کے مطابق لشکرِ طیبہ، ٹی آر ایف اور مذکورہ دہشت گردوں پر بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) 2023، آرمز ایکٹ 1959 اور غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ 1967 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
دہشت گردوں کو پناہ دینے والے دو افراد بھی چارج شیٹ میں شامل
این آئی اے نے پرویز احمد اور بشیر احمد جوتھر کو بھی چارج شیٹ میں نامزد کیا ہے، جنہیں 22 جون کو دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ان دونوں نے حملے میں ملوث تین مسلح دہشت گردوں کی شناخت ظاہر کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ پاکستانی شہری تھے اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھے۔ واضح رہے کہ پہلگام میں ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی شہری دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے، جس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
جب آپ ذخیرہ شدہ پُھوٹے ہوئے آلو کھاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
ہمارے اکثر کھانے آلو کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ یہ سبزی نہ صرف سستی ہے بلکہ اس سے مختلف اقسام کے کھانے بنائے جا سکتے ہیں جیسے فرنچ فرائز، سالن اور دیگر اشیا۔ اسی لیے لوگ انہیں بڑی مقدار میں خرید کر ذخیرہ کرتے ہیں۔
لیکن کیا آپ نے دیکھا ہے کہ آلو ذخیرہ کرنے سے پُھوٹ جاتے ہیں اور ان پر سفید رنگ کی آنکھیں نکل آتی ہیں؟ تو آج ہم بات کریں گے کہ آیا یہ آلو کھانا محفوظ ہے یا نہیں۔
کیا پھوٹنے والے آلو کھانے چاہییں؟
ہیلتھ لائن کی رپورٹ کے مطابق پھوٹے ہوئے آلو دو گلیکوالکلائیڈ مرکبات سولانین اور چاکونین پر مشتمل ہوتے ہیں، جو کم مقدار میں لینے پر کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم اگر یہ مرکبات زیادہ مقدار میں لیے جائیں تو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ہیلتھ لائن کے مطابق کم مقدار میں زیادہ گلیکوالکلائیڈ لینے سے قے، دست اور پیٹ میں درد ہو سکتا ہے۔ جبکہ زیادہ مقدار میں لینے سے سر درد، بخار، دل کی دھڑکن میں تیزی، کم بلڈ پریشر اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
زہریلا پن
گلیکوالکلائیڈز آلو کے پتوں، پھولوں اور آنکھوں میں ہوتے ہیں اور انسانوں کے لیے زہریلے ہوتے ہیں، جو معدے اور اعصابی نظام کی خرابیوں کا باعث بنتے ہیں۔ علامات میں متلی، سر درد، پیٹ میں مروڑ، دست، قے اور دیگر سنگین مسائل شامل ہیں۔
تلخ ذائقہ
پھوٹے ہوئے آلو تلخ ذائقہ رکھتے ہیں کیونکہ ان میں گلیکوالکلائیڈز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے انہیں کھانا ناخوشگوار ہو جاتا ہے۔غذائیت میں کمی
آلو میں موجود غذائی اجزا کم ہو جاتے ہیں جس سے ان کی غذائیت کم ہو جاتی ہے۔
کیا پُھوٹے ہوئے آلو کا زہریلا پن کم کیا جا سکتا ہے؟
آلو کی آنکھیں، سبز چھلکا اور خراب حصے نکال دینا زہریلا پن کم کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی خطرہ باقی رہتا ہے۔ چھلکا اتارنا اور تلنا گلیکوالکلائیڈز کی سطح کم کر سکتا ہے، لیکن انہیں ابالنا، بیک کرنا یا مائیکروویو کرنا ان زہریلے مرکبات پر زیادہ اثر نہیں ڈالتا۔نتیجہ
نیشنل کیپیٹل پوائزن سینٹر کے مطابق سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان آلوؤں کو پھینک دیا جائے جو پُھوٹ گئے ہوں یا سبز ہو گئے ہوں۔ بہتر ہے کہ انہیں ذخیرہ نہ کریں۔ صرف اتنے آلو خریدیں جو ایک یا دو ہفتے کے لیے کافی ہوں اور انہیں ٹھنڈی، تاریک اور خشک جگہ پر رکھیں۔ بہتر ہے کہ خریدنے کے چند دنوں میں ہی انہیں پکا لیا جائے۔