Thursday, 18 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





اسرائیل نے حملے سے قبل جنوبی لبنان کے ایک گاؤں کے لیے انخلا کی وارننگ جاری کردی
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں کے لیے انخلا کی وارننگ جاری کی ہے اور اس سے پہلے کہ اس نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے عسکریت پسند گروپ کے بنیادی ڈھانچے پر منصوبہ بند حملہ کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے گاؤں یانُوح میں حملہ کرے گی۔ یہ چند دنوں میں دوسرا ایسا حملہ ہوگا۔ اس سے پہلے اسرائیل نے منگل کو جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیل اور لبنان دونوں نے اپنے سویلین نمائندے ایک فوجی کمیٹی کو بھیجے ہیں جو ان کے جنگ بندی کی نگرانی کر رہی ہے۔ امریکی مطالبے کو پورا کرنے کی جانب یہ ایک قدم ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ امن ایجنڈے کے مطابق بات چیت کو وسیع کریں۔اسرائیل اور لبنان نے 2024 میں امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زیادہ جاری لڑائی کو ختم کیا۔ اس کے بعد سے دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
اس سے قبل جمعے کو اسرائیل نے فضائی حملوں کی ایک نئی لہر میں لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس کے حملوں کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے تھے۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ حملے تقریباً درجن بھر مقامات پر ہوئے، جن میں سے کچھ اسرائیلی سرحد سے 30 کلومیٹر تک دور تھے، اور کئی جگہوں پر شدید بمباری کی اطلاع ملی۔
اسرائیل نومبر 2024 کی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔جنگ بندی کا مقصد ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ ایک سال سے زیادہ جاری کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔ جنگی بندی کے باوجود اسرائیل لبنان کے پانچ ایسے علاقوں میں اپنی فوج تعینات رکھا ہوا ہے جنہیں وہ سٹریٹجک سمجھتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے حزب اللہ کی النخبة ردوان فورس کے لیے استعمال ہونے والے ’تربیتی اور اہلیتی کمپاؤنڈ‘ کو نشانہ بنایا، جہاں جنگجو فائرنگ کی مشقیں اور مختلف قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فوج نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے اضافی عسکری ڈھانچے پر بھی حملے کیے۔
جنگ بندی کے تحت حزب اللہ پر لازم تھا کہ وہ اپنی فورسز کو لتانی دریا کے شمال میں منتقل کرے، جو کہ اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے، اور وہاں اپنا عسکری ڈھانچہ ختم کرے۔












امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال کے آخری خطاب میں کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام خطاب میں اپنی حکمرانی کے پہلے سال کو کامیابیوں سے بھرپور دور قرار دیا۔ اگرچہ امریکی عوام معیشت کے بارے میں فکر مند ہیں اور ریپبلکن پارٹی کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کی شام اپنے خطاب کا آغاز جن الفاظ سے کیا اُن میں پوری تقریر کا مرکزی خیال سمویا ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ: ’گیارہ ماہ پہلے انہوں نے ایک بگڑی ہوئی صورت حال سنبھالی تھی اور اب وہ اسے درست کر رہے ہیں۔‘
سادہ الفاظ میں ان کا پیغام یہ تھا کہ جو مسائل ہیں وہ ان کی وجہ سے نہیں ہیں۔
امریکی صدر نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے حوالے سے عوام کی تشویش کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 20 منٹ کے خطاب میں سابق صدر جو بائیڈن کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان کا نام سات مرتبہ لیا۔
معیشت کا مسئلہ ہو، جرائم ہوں، صحت کا نظام ہو یا خراب امیگریشن پالیسی، صدر ٹرمپ کے مطابق ان سب کے ذمہ دار جو بائیڈن ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اپنے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کا الزام جو بائیڈن پر عائد کرتے رہے ہیں جن میں یوکرین میں روس کی جنگ سے لے کر سمندر میں لگے ہوا سے بجلی بنانے والے منصوبے تک شامل ہیں۔
بدھ کے روز بھی انہوں نے یہی رویہ اختیار کیا، خاص طور پر مہنگائی کے معاملے میں، جسے انہوں نے عارضی قرار دینے کی کوشش کی، بالکل اسی طرح جیسے قیمتوں میں اضافے کے وقت جو بائیڈن نے کیا تھا۔
صدر نے کہا کہ ایک سال میں کتنی تبدیلی آ جاتی ہے اور صارفین کے مایوس رویے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایک ایسی معاشی ترقی کی دہلیز پر ہے جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھی۔امریکی صدر نے یہ خطاب اوول آفس کے بجائے وائٹ ہاؤس کے ہال میں کیا جہاں وہ پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہو کر اسی انداز میں بولے جیسے وہ اپنی انتخابی ریلیوں میں بولا کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پوڈیم کو مضبوطی سے تھاما اور تیز رفتاری سے نکات بیان کیے۔ انہوں نے ان امریکیوں کے لیے ہمدردی یا تسلی کا اظہار نہیں کیا جو خوراک، رہائش اور تہوار کے تحائف کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پریشان ہیں۔
انہوں نے آخر میں مختصر طور پر کرسمس اور نئے سال کی مبارکباد دی۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے عندیہ دیا تھا کہ صدر اپنی تقریر میں نئی پالیسیوں کا ذکر کر سکتے ہیں، مگر انہوں نے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتایا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ سال ان کی حکومت جارحانہ رہائشی پالیسیاں نافذ کرے گی۔ ’جلد ایک نئے مرکزی بینک کے سربراہ کا نام دیں گے، اور فوجیوں کو ایک خاص رقم کے چیک بھیجے جائیں گے۔‘
امریکی صدر کے خطاب کے زیادہ تر موضوعات وہی تھے جو عام طور پر ان کی ریلیوں میں سننے کو ملتے ہیں۔ انہوں نے ریاست مینیسوٹا میں بسنے والے صومالی باشندوں پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے خواتین کے کھیلوں میں مردوں کی شمولیت کا ذکر کیا اور ایک بار پھر کہا کہ ایک سال پہلے ملک مردہ حالت میں تھا۔
خطاب میں خارجہ پالیسی پر خاص توجہ نہیں دی گئی حالانکہ ان کے دوسرے دور میں یہ ایک اہم موضوع رہا ہے۔
امریکی صدر کے خطاب سے پہلے ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ شاید وینزویلا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعے کا ذکر نمایاں طور پر کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں وینزویلا کی قیادت پر دباؤ بڑھایا ہے اور منگل کے روز انہوں نے ملک میں داخل اور ملک سے باہر جانے والے والے تیل کے ٹینکروں پر پابندی کا حکم دیا تھا۔
یہ واضح نہیں کہ آیا ٹرمپ وینزویلا کے صدر کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
بدھ کے روز اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے انہوں نے زیادہ تر توجہ معیشت پر رکھی اور مشرق وسطیٰ اور امن کے حوالے سے اپنے کردار پر مختصر طور پر فخر کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کے حلیفوں نے حالیہ ہفتوں میں ان کے معاونین کو خبردار کیا تھا کہ بین الاقوامی تنازعات سے توجہ ہٹا کر ملک کے اندرونی مسائل پر دھیان دینا چاہیے۔ بدھ کی رات کم از کم 18 منٹ کے لیے وہ اس مشورے پر عمل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔













باکس آفس پر ’دھورندر‘ کا راج، کمائی میں ’اینیمل‘ اور ’آر آر آر‘ کو پیچھے چھوڑ دیا
رنویر سنگھ کی فلم ’دھورندر‘ باکس آفس پر شاندار کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق آدتیہ ڈھار کی ہدایت کاری میں بننے والی اس سپائی ایکشن تھرلر نے ریلیز کے دن سے ہی ناظرین کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے اور اب یہ فلم انڈیا میں 2025 کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن چکی ہے۔
فلم شروع سے ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہے اس کی وجہ سے کمائی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ساکنلک کے مطابق، فلم نے دوسرے پیر کو 30.5 کروڑ انڈین روپے کمائے جو اس کے اوپننگ ڈے کلیکشن سے بھی زیادہ تھے۔ منگل کو بھی فلم نے اتنی ہی کمائی برقرار رکھی۔
دوسرے بدھ (13ویں دن) کو رات نو بجے تک ’دھورندر‘ نے 21.29 کروڑ روپے کا بزنس کیا، جس کے بعد فلم کی مجموعی (انڈیا میں) کمائی 433.04 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
فلم اب تیزی سے 450 کروڑ روپے کے ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس کمائی کے ساتھ ’دھورندر‘ نے دوسرے بدھ کے دن کی کمائی میں کئی بڑی بلاک بسٹر فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جن میں ’آر آر آر‘ (11.4 کروڑ)، رنبیر کپور کی ’اینیمل‘ (10.4 کروڑ) اور’ کے جی ایف: چیپٹر 2‘ (11.9 کروڑ) شامل ہیں۔ تاہم اب بھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ’دھورندر‘ دوسرے بدھ کے دن ’چھاوا‘ (23 کروڑ)، ’باہوبلی 2‘ (30 کروڑ) اور ’پشپا 2‘ (43 کروڑ) کے ریکارڈ توڑ پائے گی یا نہیں۔
اس دوران رنویر سنگھ نے انسٹاگرام پر ایک معنی خیز نوٹ شیئر کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’قسمت کی ایک بہت خوبصورت عادت ہے کہ وہ وقت آنے پر بدلتی ہے… لیکن فی الحال… نظر اور صبر۔‘
آدتیہ ڈھار کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں رنویر سنگھ کے ساتھ اکشے کھنہ، سنجے دت، آر مادھون اور ارجن رامپال مرکزی کرداروں میں نظر آ رہے ہیں، جبکہ سارا ارجن، نوین کوشک، راکیش بیدی اور دانش پنڈور نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
اگرچہ ناقدین کی جانب سے فلم کو ملے جلے تبصرے ملے، تاہم شائقین نے فلم کو بھرپور پذیرائی دی ہے۔ سوشل میڈیا پر فلم کے مناظر، مکالموں اور اداکاروں کی پرفارمنس پر مبنی میمز اور تعریفوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...