Tuesday, 16 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






پاکستان بھیج رہا تھا سڑی ۔گلی دوائیاں ، اب ہندوستان بنے گا افغانستان کا مسیحا ، دہلی میں چل رہی بڑی ڈیل
کابل: پاکستان کے ہاتھوں مظلوم افغانستان مدد کے لیے بھارت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ افغانستان نے پاکستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے بند کر کے بھارت کو اپنا نجات دہندہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان حکومت کے کئی وزراء یکے بعد دیگرے بھارت کے دورے کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ امیر خان متقی اور وزیر صنعت و تجارت الحاج نورالدین عزیزی کے بعد اب وزیر صحت مولوی نور جلال جلالی بھارت کے دورے پر ہیں۔ یہ دورہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستان پر بوسیدہ ادویات بھیجنے کا الزام لگانے کے انکشافات کے بعد کیا گیا ہے۔

کیا افغانستان کے وزیر صحت دہلی میں ان معاہدوں پر دستخط کریں گے؟
افغانستان کے وزیر صحت جلالی ایک ایسے وقت میں ہندوستان کے ساتھ صحت سے متعلق تعاون بڑھانے کے لیے دہلی پہنچے ہیں جب افغانستان کا صحت کا نظام تباہ ہوچکا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جلالی بھارت سے ادویات، طبی امداد اور صحت کی دیکھ بھال میں مدد کی درخواست کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کے دورے کی سرکاری تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔پاکستان سڑی ۔ گلی ادویات بھیج رہا تھا
واضح رہے کہ افغانستان نے چند ماہ قبل ہی پاکستان کے لیے تجارتی دروازے بند کیے تھے۔ یہ پاکستان پر غیر مسلح حملہ ہے جسے غربت کا سامنا ہے۔ تجارتی تعلقات ختم کرتے ہوئے افغانستان نے پاکستان پر کڑی تنقید کی اور انکشاف کیا کہ پاکستان سے ناقص اور معیاد ختم ہونے والی ادویات آ رہی ہیں۔ مزید یہ کہ کچھ دوائیں مریضوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے زہر کا کام کر رہی تھیں۔

بھارت افغانستان تعلقات
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور وزیر صنعت و تجارت الحاج نورالدین عزیزی کے بعد اب وزیر صحت مولوی نور جلال جلالی کا دورہ بھارت واضح پیغام دیتا ہے کہ افغانستان اور بھارت تجارت، انسانی امداد اور غیر سیاسی شعبوں میں تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بھارت پہلے ہی افغانستان کے لیے ’’مسیحا‘‘ ہے۔ بھارت پہلے ہی افغانستان کو تعلیم، سڑکیں اور تجارت سمیت متعدد انسانی امداد فراہم کر چکا ہے۔












کولکتہ میں لیونل میسی ایونٹ میں بدنظمی : مغربی بنگال کے وزیر کھیل آروپ بسواس نے استعفٰی دے دیا
مغربی بنگال کے وزیر کھیل آروپ بسواس مستعفی:
مغربی بنگال کے وزیر کھیل آروپ بسواس نے کولکتہ میں فٹبال کے عالمی سپر اسٹار لیونل میسی کے پروگرام کے دوران مبینہ بدانتظامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی، جسے چیف منسٹر ممتا بنرجی نے قبول کر لیا۔یہ واقعہ 13 دسمبر 2025 کو کولکتہ کے مشہور اسٹیڈیم ویویکانند یووا بھارتی کریڑانگن (سالٹ لیک اسٹیڈیم) میں پیش آیا، جہاں لیونل میسی کی موجودگی کے موقع پر بڑے پیمانے پر بدنظمی، توڑ پھوڑ اور سکیورٹی میں سنگین کوتاہیاں سامنے آئیں۔

آروپ بسواس نے چیف منسٹر ممتا بنرجی کو ایک خط لکھ کر اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدے سے مستعفی ہونے کی خواہش ظاہر کی، جسے چیف منسٹر نے منظور کر لیا۔
ابتدائی تحقیق اور اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی

مغربی بنگال حکومت نے 15 دسمبر 2025 کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر انتظامی کارروائیاں شروع کیں۔ ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کمار کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس میں ان سے 24 گھنٹوں کے اندر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایونٹ کے دوران سکیورٹی انتظامات اور نجی منتظمین کے ساتھ تال میل میں سنگین ناکامیاں رہیں۔

اسی طرح بدھان نگر کے پولیس کمشنر مکیش کمار کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر وضاحت پیش کریں کہ ایونٹ کے انتظام میں بدھان نگر پولیس کمشنریٹ کا کیا کردار رہا۔

معطلیاں اور محکمانہ کارروائیاں

ڈپٹی کمشنر آف پولیس انیش سرکار (آئی پی ایس) کے خلاف مبینہ غفلتِ برتاؤ پر محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔

یوتھ افیئرز اینڈ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکریٹری راجیش کمار سنہا کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں پروگرام کے دوران پیش آنے والی بدانتظامیوں پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ویویکانند یووا بھارتی کریڑانگن کے سی ای او دیب کمار نندن (ڈبلیو بی سی ایس، ریٹائرڈ) کی خدمات فوری طور پر واپس لے لی گئی ہیں، کیونکہ ان کا نام بھی بدانتظامی میں سامنے آیا ہے۔

خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کی تشکیل

ریاستی حکومت نے اس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) بھی تشکیل دی ہے، جس میں آئی پی ایس افسران پیوش پانڈے، جاوید شمیم، سپراتم سرکار اور مرلی دھر شامل ہیں۔بی جے پی کا سوال : گرفتاری کیوں نہیں؟

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ممتا بنرجی حکومت سے سوال کیا ہے کہ اب تک اس معاملے میں کسی کی گرفتاری کیوں نہیں ہوئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سوکانتا مجمدار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں طنز کرتے ہوئے لکھا :

’’بنیادی سوال اب بھی برقرار ہے ، ممتا بنرجی کابینہ کے اس بدنام ’سیلفی شری‘ وزیر کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ اسے اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟‘‘

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مذکورہ وزیر نے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی لیونل میسی کو زبردستی گلے لگایا، سکیورٹی پروٹوکول کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور اسٹیڈیم میں سیلفیاں لینے کا غیر مہذب مظاہرہ کیا۔

یہ واقعہ اس دن پیش آیا جب لیونل میسی کے بھارت دورے کا آغاز کولکتہ سے ہوا۔ اس دوران اسٹیڈیم میں ہجوم بے قابو ہو گیا، کئی تماشائی کھیل کے میدان میں داخل ہو گئے اور پانی کی بوتلیں جیسے ممنوعہ سامان اسٹیڈیم کے اندر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان سنگین سکیورٹی خامیوں نے ریاستی حکومت کو فوری کارروائی پر مجبور کیا۔











آسٹریلیا کے شہر سڈنی ، بونڈی بیچ حملہ آورباپ بیٹے کا تعلق پاکستان سے نہیں ہندوستان سے ہے۔۔۔ پیش ہے تفصیلی رپورٹ
سڈنی حملہ آوروں کی شہریت کاچل گیاپتہ:
آسٹریلیا کے شہر سڈنی ، بونڈی بیچ حملے میں نیاانکشاف سامنے آیاہے۔حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے، بلکہ حملہ آوروں کا تعلق ہندوستان ہے۔۔ حملے اتوارکو یہودیوں کی ہنوکا تقریب کے دوران ہوئے اس حملے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک مخصوص گوشہ یہ بتارہاتھا کہ حملہ آور باپ اور بیٹے کا تعلق پاکستان سے ہے،جبکہ آسٹریلیاکی حکومت نے کبھی اسکاذکرنہیں کیا،آسٹریلیاکی حکومت نے پریس بریفنگ میں یہ واضح کردیاتھا کہ یہ ایک دہشت گردانہ حملہ ہے،کسی مذہب سے حملہ کاکوئی تعلق نہیں۔اسی دوران ریاست تلنگانہ کی پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوے سب کو چونکادیا کہ حملہ آور باپ بیٹے( ساجداکرم اورنویداکرم) کا تعلق بھارت کے شہر حیدرآبادسے ہے۔ حیدرآبادپولیس کے پریس نوٹ کے مطابق ساجد اکرم عمر50سال، کا تعلق حیدرآباد، تلنگانہ سے تھا، جہاں انہوں نے بی کام کی تعلیم حاصل کی۔ وہ نومبر 1998 میں روزگار کی تلاش میں آسٹریلیا منتقل ہوئے اور بعد میں وہیں مستقل طور پر مقیم ہو گئے۔ ان کی اہلیہ وینیرا گروسو یورپی نژاد ہیں، جن سے شادی انہوں نے آسٹریلیا میں مستقل رہائش سے قبل کی تھی۔

دونوں کے دو بچے تھے، جن میں حملہ آور بیٹا نوید اکرم عمر24 سال، اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ ساجد اکرم واقعے کے وقت بھارتی پاسپورٹ رکھتے تھے، جب کہ نوید اکرم اور بیٹی آسٹریلوی شہری ہیں اور دونوں کی پیدائش آسٹریلیا میں ہوئی۔

بھارت سے تعلق کی وضاحت

تلنگانہ پولیس کے مطابق ساجد اکرم کا گزشتہ 27 برسوں کے دوران اپنے اہل خانہ سے محدود رابطہ رہا۔ وہ آسٹریلیا منتقل ہونے کے بعد صرف چھ مرتبہ بھارت آئے، وہ بھی خاندانی وجوہات جیسے جائیداد کے معاملات اور بزرگ والدین سے ملاقات کے لیے۔ پولیس کے مطابق وہ اپنے والد کے انتقال کے موقع پر بھی بھارت نہیں آئے تھے۔

اہل خانہ نے واضح کیا ہے کہ انہیں ساجد اکرم یا ان کے بیٹے کے کسی انتہا پسند نظریے یا سرگرمی کا علم نہیں تھا۔تلنگانہ پولیس کا مؤقف

تلنگانہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم کے خلاف بھارت میں قیام کے دوران کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا اور ان کی شدت پسندی کا بھارت یا تلنگانہ سے کوئی مقامی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

پولیس حکام نے کہا ہے کہ وہ مرکزی ایجنسیوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے اور میڈیا و عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات یا قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...