Saturday, 13 December 2025

*دیارِ ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ**🔴درسی کتابوں کی غلطیاں قسط نمبر 21 اعتراض نمبر 148**درسی کتابوں کی بہت ہی نمایاں اور اغلاط کی جانب اشارہ خدارا اس جانب توجہ کی اشد ضرورت ہے ورنہ بیناد کا پتھر ہی جب ___!!**🔴ڈاکٹر عمران امین مالیگاؤں (مقیم ممبئی) ** *🔴 افسانچہ :___ سونا بہت مہنگا ہوگیا !!**⭕انیس لعل خان مالیگاؤں**غزل**🔴شارخ عیبر**غزل____**🔴اقبال نذیر مالیگاؤں*______ *🔴انتخاب و پیشکش :- احمد نعیم (موت ڈاٹ کام مالیگاؤں بھارت)**دیار ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ پر روزانہ ادبی پوسٹ شالع کی جاتی ہے کہ لہذا آپ اپنے مضامین حمد نعت، افسانے اسکول رپورٹ اس نمبر پر ارسال کریں 9273946747* *دیارِ ادیب ادبی پوسٹ مالیگاؤں*






درسی کتابوں کی غلطیاں
                   قسط نمبر 21
               اعتراض نمبر 147
                   عمران امین
              11 نومبر 2020
                 (یوم تعلیم)
                 اساتذۂ کرام 
                 السلام علیکم!!! 
                 گذشتہ قسط میں راشٹر گیت کی ایک فاش غلطی کی نشاندہی کیا تھا. آج آپ لوگوں کی خدمت میں "بھارت کا آئین" (تمہید ) میں ادارہ بال بھارتی، کمار بھارتی اور یوک بھارتی کی ایک ایسی غلطی کی نشاندہی کررہا ہوں جو پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک اردو کے مختلف مضامین کی تقریباً 70 کتابوں میں دہرائی گئی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
                 اعتراض نمبر 147
                 بھارت کا آئین 
                        تمہید 
                        ہم بھارت کے عوام متانت و سنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر سماج وادی، غیر مذہبی جمہوریہ بنائیں اور اس کے تمام شہریوں کے لیے حاصل کریں :
      انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی؛
  آزادی خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت؛

یہاں انصاف ذیلی سرخی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اس لیے اس کے بعد کوما نہیں لگے گا. 
انصاف کے ذیل میں سماجی، معاشی اور سیاسی آتا ہے یعنی بھارت کے عوام یہ عزم کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے تمام شہریوں کے لئے سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف حاصل کریں گے لیکن انصاف کے بعد کوما لگ جانے سے مفہوم بدل رہا ہے.  

                 اعتراض نمبر 148
اسی طرح آزادی کے ضمن میں خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت آتے ہیں. یعنی بھارت کے عوام خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کے معاملے میں تمام شہریوں کے لیے آزادی چاہتے ہیں. یہاں آزادی اور خیال کے درمیان کوما نہیں لگا (یعنی اوپر جو غلطی تھی وہ یہاں نہیں دہرائی گئی) لیکن چونکہ آزادی ذیلی سرخی ہے اس لیے اسے کچھ واضح کیا جانا چاہیے تاکہ ذیلی سرخی نظر آئے اور قاری کو سمجھ میں آئے کہ یہاں خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کی آزادی مذکور ہے.
                 اردو، انگریزی یا دوسری زبانوں کے قواعد میں ان اوقاف اور علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو مفہوم کچھ سے کچھ بلکہ بعض اوقات تو اس کے بالکل اُلٹ ہو جاتا ہے. 
                " بھارت کا آئین" کی تمہید کو گذشتہ سال یوم آئین ہند یعنی 26 نومبر 2019 سے مہاراشٹر کی اسکولوں میں اسمبلی میں پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے. بچے درسی کتابوں میں دیکھ کر اسے پڑھتے ہیں. جب کتابوں میں ہی یہ غلط طریقے سے تحریر ہے تو بچے کیوں کر اسے درست پڑھ سکیں گے. اس غلطی کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر قاری اسے غلط پڑھتا ہے. رموز اوقاف کی ایسی فاش غلطیوں کو درست کرنا نہایت ضروری ہے. درسی کتابوں کو مرتب کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسے ترتیب دینے کے لیے محض انگریزی کا لفظی ترجمہ کافی نہیں ہے بلکہ اردو کے رموز اوقاف کے استعمال کی باریکیوں کو سمجھ بوجھ کر ترجمہ کرنا ضروری ہے . 
                   عمران امین (ممبئی) 
                9867325358
____________

افسانچہ: سونا بہت مہنگا ہو گیا ہے

شازیہ نے حسبِ معمول آج بھی ابو کے سامنے پانی کا گلاس رکھا۔
ابو نے گلاس لیا، ایک نظر شازیہ کے معصوم چہرے پر ڈالی، پھر نم آنکھوں سے گھونٹ بھرا۔
"سازی..." ان کی آواز بھرا گئی، "میں کیا کروں، سونا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔"

شازیہ کچھ نہ سمجھی، بس مسکرا کر بولی،
"ابو! آپ تو کبھی زیور نہیں پہنتے، پھر آپ کو سونے کی کیا فکر؟"

ابو نے نظریں چرا لیں۔
کمرے کے ایک کونے میں شازیہ کی ماں کی تصویر لگی تھی — ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ، جیسے ابھی ابھی کہنے والی ہو:
"میری بیٹی کے جہیز کے خواب ادھورے نہ رہیں۔"

ابو نے خالی گلاس میز پر رکھا، آہ بھری،
اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولا،
"کاش سونا سستا نہیں... وقت تھوڑا سستا ہو جاتا۔"
___:::::________
غزل

کہیں ضرب لگ رہی ہے کہیں زخم اُدھڑ رہے ہیں
مرے جسم کی خزاں سے ترے رنگ جھڑ رہے ہیں 

ترے نام جپ رہا ہوں ترے دھیان میں مگن ہوں
مری ذات کے اشارے نئے راگ گڑھ رہے ہیں

تجھے خواب کرتے کرتے مری نیند کھو گئی ہے
سو خیال تیرے ہر دم مرے پاؤں پڑ رہے ہیں

درِ اعتبارِ ہستی یہ خیال نے بتایا 
وہ تماشہ ہے تَوَہُّم، کہ نگر اُجڑ رہے ہیں

شاہ رخ عبیر
________
غزل کا ایک مطلع دو شعر

لباسِ غیر بدن پر کیا گوارہ نہیں
خودی ہماری تکبّر کا استعارہ نہیں

بہار ، دنیا میں اعلانِ حسنِ فطرت ہے
وہ چشمِ غیب کا خفیہ کوئی اشارہ نہیں

وہ اضطراب میں بنتا ہے میرے دل کا سکوں
مرا یقین ، مراقِب کا استخارہ نہیں

✍️ اؔقبال نذیر (مالیگاؤں ۔انڈیا)
☎️ موبائل نمبر 9226235858 (91+)

*🛑سیف نیوز اُردو*

اوڈا فون آئیڈیا فاۓ جی کی شروعات  مالیگاؤں شہر میں آئیڈیا اوڈا فون کا فاۓ جی سسٹم لانچ ہوا ہے آپ اپنے قریبی سینٹر پر جاکر اس کا ...