سرینگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں بڑا دھماکہ، 9 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
جموں و کشمیر: سرینگر جمعہ کی رات کو خوفناک دھماکوں سے دہل اٹھا۔ یہ دھماکہ مبینہ طور پر دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہوئے کار بلاسٹ معاملے میں ضبط کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا۔
رپورٹس کے مطابق ہریانہ کے فریدآباد سے ضبط کیا گیا آتش گیر مواد نوگام پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا جو نادانستہ طور پر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس واقعے میں 9 افراد ہلاک اور 27 لوگ زخمی ہوگئے۔ بہت سے زخمیوں کو سرینگر کے ٹرسٹیری کیئر ہسپتال میں لایا گیا۔جائے وقوع پر یکے بعد دیگرے ہونے والے چھوٹے دھماکوں نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو فوری طور پر امدادی کارروائیاں کرنے سے روک دیا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ فی الحال فرانزک ٹیم تھانے پہنچ گئی ہے اور وہ جائے وقوع پر مواد کا معائنہ کر رہی ہے۔
برآمد ہونے والے کچھ دھماکا خیز مواد کو پولیس کی فرانزک لیب میں رکھا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بین ریاستی دہشت گردی ماڈیول کا بنیادی مقدمہ نوگام پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور ضبط کیے گئے 360 کلو گرام حساس مواد کا بڑا حصہ اسی تھانے میں رکھا گیا تھا۔
نوگام میں پھٹنے والا مواد امونیم نائٹریٹ بتایا جا رہا ہے جو اس ہائی پروفائل کیس کا حصہ تھا جس میں بین ریاستی دہشت گردی ماڈیول کے قبضے سے مجموعی طور پر 2,900 کلو گرام آئی ای ڈی بنانے کا مواد برآمد کیا گیا تھا جسے پولیس نے “وائٹ کالر” دہشت گردی کے طور پر بیان کیا۔
فی الحال پولیس نے کسی بھی دہشت گردی کے زاویے کو مسترد کرتے ہوئے اسے حادثاتی دھماکہ قرار دیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “دھماکا رات میں تقریباً 11:20 بجے اس وقت ہوا جب فارنزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم، پولیس اہلکار اور مقامی نائب تحصیلدار سٹیشن کے اندر قبضے میں لیے گئے مواد کی جانچ کر رہے تھے۔”
نوگام پولیس سٹیشن رہائشی کالونی کے اندر واقع ہے اور اس مقام سے ابتدائی ویڈیوز جو سوشل میڈیا پر نمودار ہوئیں ان میں کارکنوں کو آگ بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی دھماکہ خیز مواد پھٹا، تھانے کی عمارت اور گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینسز کے ساتھ پولیس کے اعلیٰ حکام اور سکیورٹی فورسز کے وہاں پہنچنے کے کچھ دیر بعد بچاؤ کا کام شروع ہوا۔
بہار کی جیت نے بنگال کا بھی بنایا راستہ ، وہاں بھی جنگل راج اکھاڑ پھینکیں گے ، پی ایم مودی کا اعلان
بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے لوگوں نے نہ صرف ترقی اور گڈ گورننس کی تائید کی ہے بلکہ اس جیت کے ساتھ ہی انہوں نے بنگال میں جیت کا بگل بھی بجا دیا ہے۔ اسی پلیٹ فارم سے وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “بہار کی جیت نے بنگال کے لیے راہ ہموار کر دی ہے، ہم وہاں بھی جنگل راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔”
پی ایم مودی نے کہا، “گنگا بہار سے بنگال کی طرف بہتی ہے… بہار نے بنگال میں بی جے پی کی جیت کی راہ ہموار کی ہے۔” میں بنگال کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب ہم وہاں بھی جنگل راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔’ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ جس طرح بہار کے عوام نے خوف، دہشت، بدعنوانی اور جنگل راج کو مسترد کر دیا ہے، بنگال کے لوگ بھی تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنوں کی محنت اور عوام کے اعتماد کی بدولت مغربی بنگال میں بھی سیاسی تبدیلی یقینی ہے۔ممتا بنرجی کے لیے ٹینشن کیوں؟
بہار کی جیت کو مغربی بنگال کے انتخابات سے جوڑتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس جیت سے مشرقی ہندوستان میں بی جے پی کے لیے ایک نیا جوش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی کی حمایت کی بنیاد مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہاں کے لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دہرایا، ’’میں بنگال کے بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے ساتھ مل کر بی جے پی بنگال میں بھی جنگل راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔‘‘ یہ ممتا بنرجی کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیوں کہ وہاں بھی ایس آئی آر کرایا جا رہا ہے، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بہار کی طرح فرضی ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کو ختم کیا جائے گا۔
بنگال جیتنے کے لیے بی جے پی کا کیا ہے منصوبہ ؟
بی جے پی کا مغربی بنگال میں جیت کا پلان صاف ہے۔ بی جے پی لوگوں کو بتا رہی ہے کہ کہ یہاں گھس پیٹھئے آگئے ہیں اور بنگال کے لوگوں کی روزی روٹی چھین رہے ہیں۔ یہ لوگ ممتا بنرجی کا ووٹ بینک ہیں۔ بی جے پی بنگالی شناخت، زبان اور ثقافت کو ترجیح دے رہی ہے۔ بدعنوانی، رشوت خوری اور تشدد جیسے مسائل کو جارحانہ انداز میں اٹھا کر بی جے پی ٹی ایم سی کی کمزوریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ شمالی بنگال اور جنگل محل جیسے مضبوط علاقوں میں مزید مضبوطی اور خاص طور پر خواتین اور نوجوان ووٹروں پر توجہ مرکوز کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سب کے ذریعے پارٹی اقتدار کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹرمپ کو پاکستان سے پیار نہیں، منیر نے جی حضوری میں اڑا دئے کروڑوں روپے ، تب جاکر امریکہ نے دی اہمیت
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کی موجودہ دوستی ڈونلڈ ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان اچھے تعلقات کی وجہ سے ہے تو آپ غلط ہیں۔ ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت ۔ پاک جنگ اور اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار سے لے کر نوبل انعام کے لیے ان کی سفارش تک سب کچھ کاروباری کھیل ہے۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپریل سے مئی تک کے دو مہینوں میں کروڑوں روپئے خرچ کیے تاکہ بھارت سے زیادہ وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ ہم آپ کو یاد دلا دیں کہ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ہندوستان کے پہلگام پر حملہ کیا تھا۔ جب بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا تو پاکستان کی درخواست پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو نافذ کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے لابنگ یعنی اپنا امیج بنانے پر خرچ کیے جانے والے کروڑوں روپے امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں نکلے ہیں۔ امریکہ جس نے پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے کر فنڈنگ روک دی تھی، اب اس کے ساتھ بڑے معاہدے کر کے پاکستان کے آرمی چیف کی میزبانی کر رہا ہے۔ پاکستان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات اگر بہتر ہوئے ہیں تو یہ پاکستان کے بے پناہ اخراجات اور چاپلوسی کی قیمت پر ہوا ہے۔
آپریشن سندور میں سیز فائر گیم کیوں ؟
پاکستان جس کے پاس اپنے لوگوں کو روٹی کھلانے کے لیے پیسے نہیں ہے اور وہ اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام ہے، قرض کی رقم سفارت کاری پر خرچ کر رہا ہے ۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان نے اپریل اور مئی میں لابنگ پر سب سے زیادہ رقم خرچ کی۔ اتنا ہی نہیں دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن تک رسائی کے لیے اس کوشش پر بھارت کے مقابلے میں تین گنا زیادہ رقم خرچ کی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کے نعرے لگاتے رہتے ہیں اور پاکستان انہیں دنیا کا عظیم انسان بتاتا ہے۔