Wednesday, 12 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


’پولیس سے ہاتھا پائی پر سات برس قید‘، پنجاب اسمبلی میں نئی قانونی ترمیم لانے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے پولیس اہلکاروں سے ہاتھاپائی پر سات برس تک قید کی سزا کی منظوری دی ہے۔
اس سزا کا اطلاق پہلے سے موجود اینٹی رائٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے کیا جائے گا۔
حکومت نے اس ترمیم کی منظوری دے دی ہے اور اب اس کو پنجاب اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا۔  اینٹی رائٹ ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کے بعد پولیس پر حملہ آور افراد کو سات برس تک کی قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکے گا۔
جرمانہ ادا نہ کرنے صورت میں سزا ایک سال تک مزید بڑھا دی جائے گی۔ 
پولیس کو تحفظ
اینٹی رائٹ ایکٹ جسے سرکاری طور پر ’دی پنجاب پروہیبیشن آف رائٹنگ اینڈ انٹی ٹیررزم آرڈیننس‘ کہا جاتا ہے، سنہ 2016 میں پنجاب حکومت نے منظور کیا تھا۔
اس کا بنیادی مقصد دہشت گردی، فرقہ وارانہ فسادات اور ہجوم کی مزاحمت کو روکنا تھا۔
یہ قانون پاکستان کے وفاقی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے ساتھ کام کرتا ہے جو سنہ 1997 سے موجود ہے اور ملک بھر میں دہشت گرد کارروائیوں کے خلاف فوری کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ترمیم پولیس کی حوصلہ افزائی کرے گی کیونکہ حالیہ برسوں میں ہجوم کی مزاحمت سے کئی اہلکار ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے جیسا کہ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 353 کے تحت عوامی ملازم (جیسے پولیس) کو ڈرانے یا رکاوٹ ڈالنے پر 2 سال قید یا جرمانہ موجود ہے جبکہ سیکشن 332 عوامی ملازم پر حملہ پر 3 سال قید کا قانون بھی موجود ہے۔اس کے علاوہ وفاقی ’پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2014‘ میں افسران پر حملوں کو دہشت گردی سے جوڑتا ہے۔ جس میں 10 سال قید تک کی سزا دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے کیونکہ ثبوت کی کمی اور عدالتی تاخیر کی وجہ سے ملزمان اکثر رہا ہو جاتے ہیں۔ اینٹی رائٹ ایکٹ کی یہ ترمیم، پولیس پر حملوں کو ’خصوصی جرم‘ کا درجہ دے رہی ہے جو پاکستان کی قانونی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہے۔ پہلے کارِ سرکار میں مداخلت جیسے قوانین کا سہارا لیا جاتا تھا لیکن اب یہ الگ سے ’اینٹی رائٹ‘ کے تحت آئے گا جو سزائیں بڑھا کر فوری کارروائی کی اجازت دے گا۔
نئی سزا کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سیاسی اور مذہبی ہجوم نے پولیس اہلکاروں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
حال ہی میں پنجاب پولیس نے ایک رپورٹ بھی جاری کی تھی جس میں بتایا گیا کہ سنہ 2025 کے پہلے 10 ماہ میں ہجوم کی مزاحمت سے 47 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے پانچ کی موت ہو گئی۔
یہ اعداد سنہ 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہیں جہاں 37 زخمی اور تین ہلاکتیں ریکارڈ ہوئی تھیں۔ مثال کے طور پر مئی 2024 میں جھنگ کے قریب ایک چرچ پر ہجوم کے حملے میں 10 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ 2025 میں لاہور اور فیصل آباد میں احتجاجی مظاہروں کے دوران 15 سے زائد واقعات سامنے آئے۔اس نئی ترمیم میں ہجوم کے ہاتھوں زخمی اور ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں اور افسران کے ورثا لیے فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ ان کی مالی معاونت ہو سکے۔
تاہم انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایڈووکیٹ رضوان علی کہتے ہیں کہ ’پولیس کو پہلے سے ہی قانون میں بہت تحفظ حاصل ہے، اب اس تحفظ کو اور بڑھا دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ غیر ضروری ہے۔‘ ’سزا بڑھانے سے اس کے غلط استعمال کا خدشہ زیادہ ہو گیا ہے۔ حکومت اس وقت جس طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس سے شفافیت پر فرق پڑ رہا ہے پہلے سوشل میڈیا سے متعلق قوانین کو سخت کیا گیا اور اب احتجاج کے مقابلے پولیس کو اور طاقت ور کیا جا رہا ہے۔‘










ٹرمپ نے نیتن یاہوکے لیے صدارتی معافی کی درخواست کی، اسرائیلی صدرآئزک ہرزوگ کولکھا خط
ٹرمپ نہ صرف اسرائیل بلکہ اس کی اعلی قیادت کے بھی سفیدوسیاہ حامی ہیں۔ بنیامن نیتن یاہو سے ٹرمپ کی گاڑی چھنتی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ، امریکی صدرٹرمپ نے ،اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے صدارتی معافی کی درخواست کی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنےاسرائیلی ہم منصب آئزک ہرزوگ کو مکتوب روانہ کیا ہے جس میں انھوں نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے صدارتی معافی کی باضابطہ درخواست کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےخط میں کہا ہے کہ وہ اسرائیلی عدالتی نظام کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں تاہم انھیں یقین ہے کہ بی بی ( بنیامن نیتن یاہو) کے خلاف مقدمہ سیاسی اور بلاجواز ہے ۔ ٹرمپ نے لکھا ہے کہ، بنیامن نیتن یاہو طویل عرصے سےان کے ساتھ ایران کے خلاف لڑتے آئے ہیں۔اسرائیلی صدر کو لکھے خط میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو جُرأت مندر اور فیصل کن وزیراعظم بتایا ہے۔ان کی بدولت اسرائیل امن کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی صدر کی جانب سے اس تعلق سے بیان جاری کیا گیا ہے۔بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کی اسرائیل کی حمایت اور خطے میں ان کے کردار کی ستائش کی گئی ہے لیکن اس ہی یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ کسی فرد کو صدارتی معافی کے لیے طے شدہ قانونی طریقہ کار کے عین مطابق باضابطہ درخواست دینا لازمی ہے۔ واضح رہے کہ ، اسرائیل میں صدر کا عہدہ علامتی حیثیت رکھتا ہے تاہم انہیں بعض غیر معمولی حالات میں مجرموں کو معافی دینے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔
نیتن یاہو کے لیے معافی کا مطالبہ کرنے والے خط کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ ، اسرائیل کی داخلی سیاست میں مداخلت کررہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا کہ، بنیا من نیتن یاہو کو سیزفائرکے لیے رضامند ہونے کا صلہ دینے کے لیے دباؤ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔گزشتہ مہینے بھی،امریکی صدر نے اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ سے اپنے خطاب میں نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ ختم کرنے کا اسی طرح کا مطالبہ کیا تھا۔واضح رہے کہ بنیامن نیتن یاہو پر تین مختلف مقدمات میں دھوکہ دہی، رشوت ستانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات ہیں۔ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز 2020 میں ہوا تھا ۔ان مقدما ت پر سماعت کا سلسلہ مشرق وسطیٰ کی سیمابی صورتحال ، کشیدگی اور جنگوں کے باعث ٹوٹ گیا تھا۔












کارمیں ہی تھا ڈاکٹرعمر، ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئی تصدیق
دہلی میں لال قلعے کے قریب جس کار میں دھماکہ ہوا تھا اس میں دہشت گرد ڈاکٹر موجودتھا۔ڈی این اے ٹیسٹ میں سے بات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ پیر کے روز عمر نے لال قلعہ کے میٹرو گیٹ نمبر 1 کے قریب ایک کار میں دھماکہ کیا۔ دھماکے نتیجے میں عمر سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکے میں دہشت گرد عمر مارا گیا یا نہیں اس پر کافی سسپنس تھا۔ پولیس اور ایجنسیوں نے اس کی موت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا۔ عمر کی والدہ کو پلوامہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔ عمر کی والدہ سے ڈی این اے کا نمونہ لیا گیا۔ پھر اس کا موازنہ لال قلعہ کے قریب ملنے والی باقیات سے کیا گیا۔ تب ہی ڈی این اے ٹیسٹ کی تصدیق ہوئی۔ اب یہ واضح ہے کہ اس حملے میں عمر نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔
کیوں خوف زدہ تھا عمر؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عمر پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے سے خوف زدہ تھا۔ فرید آباد میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا اور اس کے ساتھیوں کو پیر کی صبح گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹر عمر کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ اس کے پاس پہلے سے کچھ دھماکہ خیز مواد تھا
دھماکے سے پہلے دہلی میں کئی مقامات پر اس کی گاڑی اسپاٹ کی گئی۔ انہیں میور وہار، فرید آباد اور کناٹ پلیس میں دیکھا گیا۔ اس کے بعد، اس نے لال قلعہ کی پارکنگ میں تقریباً تین گھنٹے گزارے۔ آخر کار شام کو اس نے گھبرا کر لال قلعہ کے میٹرو گیٹ نمبر 1 کے قریب دھماکہ کر دیا۔فریدآباد میں ٹیرر ماڈیول کا پردہ فاش اوردہلی میں دھماکہ
دراصل لال قلعہ کے قریب دھماکہ فرید آباد ماڈیول کا پردہ فاش ہونے کے بعد ہوا تھا۔ ہریانہ کے فرید آباد سے 2,900 کلو گرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد اور گولہ بارود کی برآمدگی کے چند گھنٹے بعد، دہشت گرد عمر نے پیر کی شام کو لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک کار میں دھماکہ کیا۔ اس دھماکے میں بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...