زوبین گرگ کی موت حادثہ نہیں قتل ، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا دعویٰ
آسام اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن گلوکارزوبین گرگ موت معاملے کی گونج سنائی دی۔ اپوزیشن نے اس معاملے پر بحث کے لیے تحریک التوا پیش کی جسے ا سپیکر نے منظور کر لیا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ایک ایسا بیان دیا جس سے پورے ایوان کا ماحول بدل گیا۔
’حادثہ نہیں ، قتل ‘:وزیر اعلی
بحث کے دوران ،وزیر اعلی ہیمنت سرما نے کہازوبین گرگ کی موت کسی حادثے کے نتیجے میں نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ نہ ہی غفلت کا معاملہ ہے اور نہ مجرمانہ سازش کا۔ ان کے مطابق ، یہ راست طور پرقتل ہے۔ انہوں نے اپنے اسمبلی میں دیئے بیان کوسوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بھی شیئر کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق 19 ستمبر کو سنگاپور میں سمندر میں تیرتے ہوئے 52 سالہ زوبین گرگ کی موت ہوگئی تھی، ابتدائی طور پر اسے ایک حادثہ قرار دیا گیا تھا لیکن اب وزیراعلیٰ کے بیان کے بعد معاملہ نیا موڑ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔جانچ ایک رکنی کمیشن کے سپرد
اس معاملے کی جانچ ایک رکنی کمیشن کے سپرد کی گئی ہے ۔کمیشن کی سربراہی گوہاٹی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سومترا کررہے ہیں ۔ کمیشن 3 نومبر سے بیانات اور دستاویزات جمع کر رہا ہے۔پہلے کمیشن کو 21 نومبر تک رپورٹ پیش کرنی تھی لیکن اب شہادتیں اکٹھا کرنے اوربیان ریکارڈ کرنے کی آخری تاریخ میں 12 دسمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔
کمیشن کا کام صرف واقعہ کی سطحی تحقیقات کرنا نہیں بلکہ اسے زوبین کی موت سے پہلے اور بعد میں ہر کڑی کو جوڑنا ہے۔ اسے یہ دیکھنا ہے کہ آیا کسی نے اپنے فرائض میں کوتاہی تو نہیں کی ہے۔کمیشن کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ زبین کی موت کے پیچھے کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا سازش تونہیں تھی۔
پاکستان کا افغانستان پرحملہ، 10 افرادجاں بحق،مہلوکین میں بچے بھی شامل
پاکستان نے افغانستان پرفضائی حملہ کیا ہے۔یہ اطلاع افغان ترجمان ذبیح اللہ نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوست میں 10 افراد ہلاک ہوئے جن میں 9 بچے شامل ہیں ۔ پکتیکا و کنڑ میں بھی فضائی حملہ کیا گیا ہے اس حملے کے نتیجے میں تباہی ہوئی ہے۔
صوبہ خوست کے ماگلگئی علاقے میں پاکستانی فوج نے رہائش گاہ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون، 5 لڑکے اور 4 لڑکیاں ہلاک ہوگئے۔اس حملے میں 4 شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ، پاکستان کے ان تازہ حملوں سے دونوں ملک کے بیچ جاری کشیدگی مزیدشدت اختیار کرسکتی ہے۔ کشیدگی کم کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے بیچ کئی دور کی بات چیت بھی ہے لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی۔دونوں ممالک کے بیچ ،گذشتہ ماہ ہونے والی سرحدوں جھڑپوں کے بعد دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے تین ادوار میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے بعد فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کو ان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دھمکی دی تھی کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے دوبارہ پاکستان میں کارروائی ہوئی تو پاکستان پھر افغانستان کے اندر کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔خواجہ آصف کے بیان پرافغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے مذاکرات کی ناکامی کے لیےپاکستانی وفد کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو موردالزام ٹھہرایا تھا۔دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی کا اثر کاروبارپر بھی پڑ رہا ہے۔
نوجوان نسل پاسورڈ کے معاملے میں لاپرواہ نکلی، کیا آپ بھی ان میں شامل ہیں؟
سائبر سیکیورٹی پر نظر رکھنے والی معروف کمپنی نے انکشاف کیا ہے کہ جین زی ہونے کے باوجود آج کل کی نسل پاسورڈ کے معاملے میں بہت زیادہ غافل ہے۔
ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق پاس ورڈ مینیج کرنے والی آن لائن فرم ’نورڈ پاس‘ نے حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا کہ نوجوان نسل پاسورڈ کے معاملے میں بزرگوں سے بہت پیچھے اور بدترین عادت کا شکار ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیشتر نوجوانوں کا پسندیدہ پاسورڈ 12345 ہوتا ہے اور اگر یہ 7 ہندسوں پر ہو تو وہ 1 سے 7 تک کی گنتی کے اعداد کو پاسورڈ رکھتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 1997 کے بعد پیدا ہونے والے اپنی کمزور یادداشت کی وجہ سے عام پاسورڈ رکھتے ہیں اور انہیں سب سے کمزور سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سے برعکس پرانے یعنی کہ 1946 سے 1964 کے درمیانی عرصے میں پیدا ہونے والوں کا پاسورڈ بھی یہی ہوتا تھا تاہم اسے اُس وقت کے حساب سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا۔
ماہرین نے انکشاف کیا کہ آگاہی مہم کے باوجود بھی نوجوان اپنی اس عادت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کررہے تاہم چند فیصد لوگوں نے اب غیر روایتی ہندسوں پر پاسورڈ رکھنا شروع کردیے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق مطالعاتی سروے میں امریکا، جاپان، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے ہزاروں افراد کو شامل کیا گیا جن کا جواب یہی تھا اور ان میں سے بیشتر جین زی جنریشن تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے عام اور مقبول پاسورڈز 123456، Admin، AA@123456, 12345678, 123456789،
Pass@12
3، ایڈمین 123 رکھے گئے ہیں۔
تاہم سائبر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوجوان نسل کے پاس پاس کیز، بائیومیٹرک اور ٹو فیکٹر جیسی جدید حفاظتی سہولیات ہونے کی وجہ سے ان کے اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ کم ہے۔