بارش پر منتخب اشعار: کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں -
حیدرآباد (نیوز ڈیسک): اردو ادب میں شعرأ نے محبوب کے حُسن، اس کی زلفوں، آنکھوں، لبوں و رخسار وغیرہ پر غزلیں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد موضوعات پر بھی نظمیں کہی گئی ہیں۔ آج یہاں قارئین کی خدمت میں مشہور شاعر نظیر اکبر آبادی کی مشہور نظم 'کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں' کے موضوع پر چند اشعار پیش کیے جا رہے ہیں
:برسات کی بہاریں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیں
جھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیں
پڑتے ہیں پانی ہر جا جل تھل بنا رہے ہیں
گلزار بھیگتے ہیں سبزے نہا رہے ہیں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
ہر جا بچھا رہا ہے سبزہ ہرے بچھونے
قدرت کے بچھ رہے ہیں ہر جا ہرے بچھونے
جنگلوں میں ہو رہے ہیں پیدا ہرے بچھونے
بچھوا دیے ہیں حق نے کیا کیا ہرے بچھونے
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
کیچڑ سے ہو رہی ہے جس جا زمیں پھسلنی
مشکل ہوئی ہے واں سے ہر اک کو راہ چلنی
پھسلا جو پاؤں پگڑی مشکل ہے پھر سنبھلنی
جوتی گری تو واں سے کیا تاب پھر نکلی
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
گر کر کسی کے کپڑے دلدل میں ہیں معطر
پھسلا کوئی کسی کا کیچڑ میں منہ گیا بھر
اک دو نہیں پھسلتے کچھ اس میں آن اکثر
ہوتے ہیں سیکڑوں کے سر نیچے پاؤں اوپر
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
جارجیا میں ترکیہ کا فوجی طیارہ گر کر تباہ، 20 افراد سوار تھے
ترکی کی وزارتِ دفاع کے مطابق آذربائیجان سے واپس لوٹنے والا ایک ترک فوجی کارگو طیارہ جارجیا میں گر کر تباہ ہوگیا، جس میں 20 افراد سوار تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہمارا C-130 فوجی کارگو طیارہ، جو آذربائیجان سے وطن واپسی کے لیے روانہ ہوا تھا، جارجیا اور آذربائیجان کی سرحد پر گر کر تباہ ہوگیا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ کہ طیارے میں 20 اہلکار، بشمول عملہ سوار تھا۔وزارت کے مطابق تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔
آذربائیجان کی میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ طیارہ فضا میں گھومتا ہوا نیچے آ رہا ہے، اور زمین پر گرنے کے بعد سیاہ دھوئیں کا بڑا بادل اٹھتا نظر آیا۔
حادثے کی جگہ سے موصول ہونے والی ایک اور ویڈیو میں جلے ہوئے طیارے کے ملبے کو آگ کی لپیٹ میں دکھایا گیا، جب کہ کئی افراد کھیت میں کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق صدر رجب طیب ایردوغان نے کہا کہ ترکی جارجیائی حکام کے ساتھ مل کر طیارے کے ملبے تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ترک صدر سے اظہارِ تعزیت کیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ترک وزیرِ خارجہ حقان فدان نے جارجیائی ہم منصب ماکا بوچورِشویلی سے فون پر بات کی اور امدادی کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
جارجیا کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی کہ طیارہ سگناغی کے علاقے میں، آذربائیجان کی سرحد سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر گر کر تباہ ہوا۔
جارجیا کی فضائی ٹریفک کنٹرول ایجنسی ساکاایروناویگاتسیا نے کہا کہ طیارہ جارجیائی فضائی حدود میں داخل ہونے کے چند منٹ بعد ریڈار سے غائب ہو گیا، اور اس نے کوئی ہنگامی سگنل بھی نہیں بھیجا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’جیسے ہی ترک C-130 طیارہ ریڈار سے غائب ہوا، ہم نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دیں۔
امریکہ نے دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز بحیرہ کریبیئن میں کیوں تعینات کیا؟
امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے دنیا کے سب سے بڑے جنگی بحری جہاز ’یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ‘ کو بحیرہ کریبین میں تعینات کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اِس اقدام سے بحیرہ کریبین (بحر اوقیانوس کا وہ علاقہ جو جزائر غرب الہند اور وسطی امریکا کے درمیان واقع ہے) میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔
اس ضمن میں جاری کردہ اپنے ایک بیان میں امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ ’یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ‘ جنوبی کمانڈ کے علاقے میں داخل ہو گیا ہے جو لاطینی امریکہ اور کریبین کے علاقوں کو دیکھے گا۔
یاد رہے کہ تین ہفتے قبل امریکہ کے وزیر جنگ نے اس علاقے میں اس بحری جہاز کی تعنیاتی کا حکم دیا تھا۔
گذشتہ کئی دہائیوں کے بعد امریکہ نے اب کریبین کے علاقے میں اپنا عسکری اثررورسوخ بڑھایا ہے اور حال میں اس علاقے میں مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث کئی چھوٹے بحری جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر امریکہ نے منشیات کی ترسیل کے شبے میں 19 حملے کیے، جن کے نتیجے میں 75 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ نے ان حملے میں تباہ کیے گئے چھوٹے جنگی جہازوں کے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں اور نہ ہی ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کی تعیناتی سے قبل اس علاقے میں گذشتہ کئی ہفتوں سے امریکہ کے دیگر جنگی جہاز، جوہری آبدوز اور ایف 35 لڑاکا طیارے موجود ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس فوجی طاقت کا استعمال وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔
امریکہ نے وینرویلا کے صدر پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کی سرپرستی کا الزام عائد کر رکھا ہے جبکہ صدر نکولس مادور نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ وینرویلا کے خلاف جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب وینزویلا اور کولمبیا نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کسی بڑے تنازع کو ہوا دے سکتی ہے۔
اس حالیہ عسکری تعیناتی کے بعد اس بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ کیا امریکہ وینزویلا پر براہ راست حملہ کرے گا۔
وینزویلا کی حکومت نے اپنی ساحلی علاقے میں امریکی بحریہ کی موجودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وینزویلا کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ انھوں نے ملک بھر میں فوج کو ’مکمل تیار رہنے کا حکم دیا ہے‘ اور بری، بحری اور فضائی افواج سمیت میزائل اور دیگر خودکار ہتھیاروں کے نظام فعال رکھنے کا حکم دیا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا جنگی بحری جہاز کیسا ہے؟امریکہ بحریہ کا کہنا ہے کہ ’یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ‘ بہت باصلاحیت، متنوع اور دنیا کا خطرناک ترین لڑاکا پلیٹ فارم ہے۔‘
یہ جہاز امریکی صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران سنہ 2017 میں امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا۔
اس جہاز کا نام امریکہ کے 38 ویں صدر گیرالڈ آر فورڈ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
اس جہاز کا وزن ایک لاکھ ٹن ہے اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جہاز پر پانچ ہزار فوجی اہلکار قیام کر سکتے ہیں۔
جوہری توانائی سے لیس یہ جہاز 335 میٹر لمبا ہے۔ اس کی طوالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ کے طویل ترین بحری جہاز کی لمبائی 280 میٹر ہے۔
یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کی تیاری پر 13 ارب ڈالر لاگت آئی تھی اور اس پر مختصر فاصلے تک مارک کرنے والے میزائل اور خود ساختہ میزائل نصب کیے جا سکتے ہیں۔