Wednesday, 10 September 2025

*🔴 سیف نیوز بلاگر*

"مالیگاﺅں اور دھول مٹی : جدا ہوکر بھی نہ ہوں گے جدا" 

مالیگاﺅں اور دھول مٹی کا تعلق ایسا ہے جیسے چائے اور چمچ، دونوں کا وجود ایک دوسرے کے بغیر ادھورا سا لگتا ہے۔ آپ مالیگاﺅں کے کسی بھی علاقے میں جائیں، دھول مٹی ایسے آپ کا استقبال کرے گی جیسے ان کا اور آپ کا بچپن کا یارانہ ہو۔ یہاں کے مکینوں کو تو اس مٹی سے اتنی محبت ہے کہ اگر باہر سے کوئی بغیر دھول میں اَٹے ہوئے کپڑے پہنے ان کے پاس آ جائے تو حیرت سے ایسے دیکھتے ہیں جیسے اُس نے کوئی فیشن ویک کا لباس پہن لیا ہو۔
مالیگاﺅں کے لوگ، جن کے لیے دھول مٹی ایک معمول کی بات ہے، اگر کبھی ہوا صاف ہو جائے تو گھبرا جاتے ہیں کہ یہ کیا قیامت کا منظر ہے۔ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید کسی نے ان کے شہر سے محبت چھین لی ہو۔ ایسے میں اکثر مقامی افراد اپنے طور پر اپنی گاڑیوں کو خوب مٹی میں نہلا کر ماحول کو قدرتی حالت میں بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں دھول مٹی کے ساتھ ساتھ چائے کی بے شمار چھوٹی چھوٹی ٹپریاں بھی ہیں، جہاں بیٹھ کر لوگ دنیا جہان کے انگنت موضوعات پر بے لاگ اور بے باک گفتگو کرتے ہیں۔ ہر چائے کے گھونٹ کے ساتھ دھول کی ایک چٹکی کا اضافہ ان کی بات چیت میں مزید چاشنی بھر دیتی ہے۔ مالیگاﺅں والوں کا خیال ہے کہ مٹی کا ذائقہ چائے میں قدرتی ملاوٹ ہے، اور یوں ہر چائے کا کپ ایک 'خاص' ذائقے کے ساتھ نوش کیا جاتا ہے۔
مالیگاﺅں کا موسم بھی اس مٹی کے بغیر ادھورا ہے۔ بارش ہو تو مٹی گارے میں تبدیل ہو جاتی ہے، سردی ہو تو یخ ہواؤں کے ساتھ اڑتی مٹی مزید اثر دکھاتی ہے، اور گرمی میں تو یہ پورے علاقے کو جیسے ریت کے طوفان میں بدل دیتی ہے۔ مالیگاﺅں والوں کے لیے یہ مٹی ایسی ہے جیسے کوئی محبوبہ، جسے تھوڑا دور تو کیا جا سکتا ہے، مگر مکمل طور پر چھوڑا نہیں جا سکتا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ مالیگاﺅں کے لوگ دھول کو گلے لگا کر چلتے ہیں اور اپنی زندگی کا ایک حصہ مانتے ہیں۔ یہاں کے باسی اگر کسی دن اپنے کپڑوں پر دھول نہ پائیں تو آئینے میں خود کو پہچاننے میں مشکل محسوس کرنے لگتے ہیں۔ مالیگاﺅں اور دھول کا یہ رشتہ نہ تو کبھی ماند پڑے گا، نہ ہی اس پر وقت کی گرد پڑ سکتی ہے کیوں کہ یہاں کے لوگوں کے دلوں میں یہ مٹی، ان کی روزمرہ زندگی کی طرح، ہمیشہ تازہ اور زندہ ہے۔ اسی لیے ہمارے رفیقِ دیرینہ قہقہہ بردوش اکثر کہا کرتے ہیں کہ مالیگاﺅں اور دھول مٹی : جدا ہوکر بھی نہ ہوں گے جدا۔
(ملا نمک پاش کی نمک پاشیاں)
__________
افسانہ
حامد سراج
:

ڈھولک کی تھاپ پر لڑکیاں رخصتی کا گیت گا رہی تھیں ………!
کِناں جمیاں تے کِناں لے جانڑیاں (کس گھر جنم لیا اور کون ہمیشہ کے لیے لے جائے گا)
میں لڑکیوں کے جھرمٹ میں گیت کے بول سن کر ایک لمحے کو اداس ہوئی اور کسی بہانے کمرے سے نکل کر باہر صحن میں آ گئی۔آسمان تاروں سے جگمگا رہا تھا ۔ہوا میں خنکی تھی۔فضا میں جھینگر کی آواز ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔میں نے دیوار ودر کو غور سے دیکھا۔اینٹوں کی درزوں سے میرابچپن نکل آیا۔میں صحن میں سٹاپو کھیلنے لگی ۔کھیلنے کے بعد نل سے پانی کی بالٹی بھر لائی۔ماں کے ساتھ چولہے میں لکڑیاں رکھنے میں ہاتھ بٹایا۔توے پر روٹی ڈالی اور گرم گرم روٹی با با کے سامنے لا رکھی۔
بابا ……….. سالن میں مرچیں تیز تو نہیں ہو گئیں ….؟
نہیں بیٹا …
با با … ٹہریں میں دودھ لا دیتی ہوںآپ تو ایسے ہی کہہ دیتے ہیں کہ مرچیں نہیں ہیں۔
میں نے بابا کے سامنے سے پلیٹ اٹھا لی اور دودھ کا گلاس رکھ دیا۔
بچپن اینٹ کی درزوں کا رستہ بھول گیا۔
میں بچپن کا ہاتھ تھام کے رو دی …… کیا میں اس گھر سے ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں۔یہ درخت‘ منڈیر پر بیٹھا کوا‘ برآمدے میں چڑیوں کا گھونسلہ‘ ماں ‘ بھائی بہن‘نل سے گرتا تازہ پانی‘ توے پر سے اترتی گرم روٹی‘ بابا کا سالن‘ سہیلیاں ،سٹاپو ‘ گڑیاں پٹولے سب کے سب چھوڑ جاؤ ں گی …..؟وہ آذادی جو مجھے اس گھر میں تھی کیا اسے کھو دوں گی ….؟ماں باپ سے لڑنا جھگڑنا‘ محبت اور ضد‘ اپنی بات منوا لینے کا مان‘ کیا یہ سب دیوار کے اس پار جس گھر میں جا رہی ہوں وہاں نہیں ہو گا۔
اینٹ کی درزوں سے جھانکتا بچپن میرے وجود سے لپٹ گیا۔میں ایک لمحے میں وہ تمام لمحے کھنگال آئی جو میری زندگی کا حاصل تھے۔بیمار ہونا‘ میری بیماری میں بابا اور ماں کا بے چین ہونا‘ہر موسم میں میری ہر ضرورت کا خیال رکھنا‘ بابا کا پنسل تراش کے دینا‘ سکول کی کاپیوں پر خاکی رنگ کے کور چڑھانا‘ کتابوں کی جلد بندی سے یونیفارم اور سکول کے بستے کے رنگ میرے من میں رنگ بھرنے لگے۔
میں نے کچے صحن کی مٹی کو ہاتھ سے چھوا اور چوم لیا۔
یہ میرے بابا کا گھر ہے۔اسے کون چھین سکتا ہے مجھ سے ….؟ میں اسے مکمل اپنے اندر تعمیر کر لوں گی۔سسرال میں کون روک سکے گا مجھے۔سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں میں بابا کے گھر کود جایا کروں گی۔
اندر ڈھولک کی تھاپ پر گیت کے بول اٹھاتی لڑکیوں کے قہقہے مجھے سنائی دیے‘ بچپن چپکے سے اینٹوں کی درزوں میں چھپ گیا۔میں کمرے میں آ گئی۔شادی کی تیاریاں جوبن پر تھیں ۔کپڑے سجائے اور دکھائے جا رہے تھے۔زیور‘ رنگ برنگی چوڑیاں‘ میک اپ کا سامان ‘رشتہ دار ‘ باتیں ،قہقہے‘ سہیلیاں ‘ کھانے ‘ چائے‘ رنگ ونور کی برسات تھی۔
رخصتی کے روز سورج قریباً نو گھنٹے کا سفر طے کر کے میرے گھر کی دیواروں پر اداسی کے قلم سے ہجر کے نقش و نگار بنا رہا تھا۔کار ریورس کر کے لگا دی گئی تھی ۔پاؤں کے نیچے سے سرکتی زمین پر پاؤں دھرتی میں کار تک پہنچی۔ ماں کی آنکھیں سرخ تھیں۔بابا جو سنبل کے درخت کی آدھی چھاؤں میں کھڑا تھا۔اس کا ضبط کا بندھن بھی ٹوٹ چکا تھا۔
میرا بچپن گھر کی دیواروں سے اتر کرمیرے ساتھ کار میں بیٹھنا بھول گیا۔
کار جب بستی کا آخری موڑ مڑی تو منظر دھندلا گئے۔
بابا جو سنبل کے درخت کی آدھی چھاؤں میں کھڑا تھا۔۔۔اس نے دھندلی آنکھوں سے دیوار و در کو دیکھا۔
گھر ایک دم خالی ہو گیا ……… بنجر‘ اداس‘ بکھرا‘اجڑا سا ……‘‘
گھر کی روح کار میں بیٹھ کر گھر سے رختِ سفر باندھ گئی۔
تیسرے روز کی بات ہے،
گھر میں چہل پہل تھی‘ رونق ‘ رنگ ونور کی برسات …….‘‘
میں گھر آئی تھی۔
عصر کے وقت میں نے کھنکتی ہوئی آواز میں پوچھا،بابا …. اب یہاں اس گھر میں میں مکمل نماز ادا کروں گی یا نمازِ قصریعنی سفر کی نماز ……….؟
بیٹا …. یہ گھر اب تمہارا نہیں ہے تم نمازِ قصر ادا کرو گی!!
دیواروں کی درزوں میں میرا بچپن رونے لگا …..!‘‘
_________
غزل 
خیال اثر 
سمندروں سے اٹھا ہے طوفاں محبتوں کا پیام لے کر 
بلا رہا ہے ہمیں شکاری انوکھے رنگوں کا دام لے کر 
یہ روشنی کی سبھی کہانی ! سنو سیہ رات کی زبانی 
یہاں اندھیرے تمہیں ملیں گے ہمیشہ ماہ تمام لے کر 
جو رزم گاہوں کا نام سن کر گھروں کو اپنے چلے گئے تھے 
"وہ صحن گلشن میں آرہے ہیں ارادہ قتل عام لے کر 
حیات افزا حرارتیں جو زمانے بھر میں لٹا رہا تھا
وہ آج میرے قریب آیا اداس بے رنگ شام لے کر 
ادب کی قسمت بھی کیا عجب ہے جو خون تھوکے رہے اکیلا
زمانہ ان کا جو پڑھ رہے ہیں کسی بڑے سے کلام لے کر 
یہ زندگی ہے یہ زندگی ہے اسی میں دنیا کے تجربے ہیں 
یہاں ہر شخص چل رہا ہے خود اپنا اپنا مقام لے کر 
خیال روشن اگر بہ ہوگا تو چاند کاغذ پہ کیا رکے گا
ہمیشہ اپنی غزل کہا کر نئی اذیت کا نام لے کر
_________
محاکاتی غزل ؛
                علیم طاہر

 یاد تری اک لوکل ٹرین کے جیسی ہے 
لمحہ لمحہ آتے جاتے رہتی ہے

چرچ گیٹ کا اسٹیشن ہے دل میرا
فضا فضا میں تیری خوشبو بہتی ہے

چنچل زلفوں جیسا ساحل ممبئی کا
پانی کی ہر لہر لہر میں مستی ہے

مٹرو جیسا سفر ہے ، تیرا اور میرا
مالیگاؤں سا میں ہوں اور تو ممبئی ہے

ٹکٹیں لے کر اکثر میں آ جاتا ہوں
پی وی آر سی تجھ میں پکچر چلتی ہے

بیٹھ کے چسکی چسکی پیتا رہتا ہوں
انفینٹی کی گرم گرم تو کافی ہے

پب کی موسیقی سا رنگیں تیرا دل
رم کے جیسی دل کی خواہش بہکی ہے

دادر کی اک بھیڑ کے جیسا تیرا غم
نیرول اسٹیشن سی مجھ میں چپپی ہے

مجھ میں نالا سوپارا سا ہے پھیلاؤ
میرا روڈ سی تو بھی ملتی جلتی ہے

تو ہے پیور دودھ طبیلے کا طاہر
وہ بھی ناگوری کی چائے میٹھی ہے

(C) : Mahakati Gazal
by Aleem Tahir
Email aleemtahir12@gmail.com
Mobile 9623327923

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...