دردے دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو (مقررین)
جامنیر(عمران خان) الخدمت فاؤنڈیشن جامنیر کی جانب سے ایک عظیم الشان اجلاس کا انعقاد کیا گیا اس اجلاس کے صدر مولانا عمران مظاہری صاحب امام و خطیب جامع مسجد جامنیر ،مہمانان خصوصی ڈاکٹر ابرار صاحب ممبئی ،فاروق انجینیئر صاحب ممبئی تھے نظامت کے فرائض ڈاکٹر اسد صاحب نے بحسن و خوبی انجام دیے اس موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن کے آفیس و ایمبولینس کا افتتاح صدر جلسہ ، مہمانان خصوصی و علمائے کرام کے ہاتھوں ہوا پروگرام کی غرض و غایت بتاتے ہوئے کہا اسرار ہارون خان صاحب نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن تنظیم کا مقصد خدمت خلق ہے غریبوں مسکینوں کی مدد کرنا بے مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا،جیلوں میں بند بے قصور قیدیوں کی رہائی کے اسباب پیدا کرنا ہے بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے
اس موقع پر صدر جلسہ مولانا عمران مظاہری ،مہمان خصوصی ڈاکٹر ابرار صاحب ممبئی اور فاروق انجینیئر صاحب ممبئی اور مظفر جناب نے مشترکہ طور اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا یہ قدم قابل ستائش ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے انسان کو درد دل کے واسطے پیدا کیا ہے قرآن و حدیث میں بھی یتیموں ،بیواوں ،مریضوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ جو مال ہم نے تمہیں دیا اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس سے پہلے کی تمہاری موت آجائے اور جب موت آجائے گی تو تمہیں دوبارہ موقع نہیں دیا جائے گا
آخر میں حافظ عرفان صاحب کی دعا اور آصف شیخ کے رسم شکریہ پر جلسہ کا اختتام ہوا اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں الخدمت فاؤنڈیشن کے صدرڈاکٹر امتیاز صاحب ،سکریٹری ابوالاعلی اور الخدمت فاؤنڈیشن اراکین نے محنت کی
پنجاب کی بھگونت مان حکومت کا بڑا فیصلہ، ریاست کوسیلاب متاثرہ دیا قرار،3.5 لاکھ افراد متاثر
پنجاب میں سیلاب کی زد میں تمام23 اضلاع ہیں ۔مسلسل بارشوں اورسیلاب کی تباہ کاریاں ہنوز جاری ہیں۔ اب تک سیلاب سے 30 افراد کی موت ہوچکی ہے جبکہ 3.5 لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب سےمتاثر ہیں۔ بڑے پیمانے پرفصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے ریاست کوسیلاب متاثرہ قرار دیا ہے۔
دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے بڑھتے ہوئے پانی اور ہماچل پردیش اور جموں کشمیر میں شدید بارشوں کی وجہ سے تمام 23 اضلاع کے 1200 سے زیادہ دیہات سیلاب کی زد میں ہیں۔ سیلاب سے سب سے زیادہ گورداسپورضلع متاثر ہوا ہے جہاں 323 دیہات زیر آب ہیں۔
پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر جنگی پیمانےپر امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب تک 14,936 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، اور 6582 لوگوں نے 122 ریلیف کیمپوں میں پناہ لی ہے۔ پنجاب کے گرداس پور، فاضلکا، کپورتھلا، فیروز پور، ہوشیار پور اور امرتسر جیسے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ فوج، این ڈی آر ایف، بی ایس ایف اور پنجاب پولیس نے مشترکہ طور پر بچاؤ کاموں میں تیزی لائی ہے۔ ڈرون اور کشتیوں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک دوائیں اوراشیائے ضروریہ پہنچائی جارہی ہے۔
پنجاب میں زرعی شعبے کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے تقریباً 61632 ہیکٹر اراضی زیر آب آ گئی ہے۔ دھان، کپاس اور سبزیوں کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ فاضلکا میں 16,632 ہیکٹر اور کپورتھلا میں 11,620 ہیکٹر زمین متاثر ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت نے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے بین وزارتی مرکزی ٹیمیں (IMCT) پنجاب بھیجی ہیں۔ مرکزی حکومت نے پنجاب کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے
اس دوران ، چیف منسٹر مان نے پرائم منسٹر نریندر مودی اورہوم منسٹر امت شاہ سے بات کی ہے اور مدد مانگی ہے۔ تاہم، پنجاب کانگریس نے اسے ’انسان کی پیدا کردہ آفت‘ قرار دیا ہے اور حکومت پر ڈیموں سے بروقت پانی نہ چھوڑنے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر پنجاب حکومت نے وزراء اور ایم ایل ایز کی ایک ماہ کی تنخواہ ریلیف فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے صورتحال بدستور سنگین ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز میں مزید بارش کا الرٹ جاری کیا۔
چین میں فوجی پریڈ کی تقریب میں پوتن اورکم جونگ اُن کی شرکت، بوکھلائے ٹرمپ ، امریکہ کے خلاف سازش کرنے کا لگایا الزام
ٹیرف پرامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت میں نئی صف بندی ہورہی ہے جس سے ٹرمپ جھنجھلائے اوربوکھلائے ہوئے ہیں۔امریکہ میں بھی ان کے فیصلوں کی تنقید کی جارہی ہے۔عالمی سطح پرٹرمپ کی ٹیرف پالیسی سے بے چینی پائی جاتی ہے۔اب اگر ٹرمپ امریکہ کے مفادات کومقدم رکھنے کی بات کہتے ہیں تو یہی بات دوسرے ممالک پربھی عائد ہوتی ہے ۔ انھیں بھی اپنے تجارتی مفادات کو ترجیح دینے کا حق ہے۔اس رسہ کشی کے نتائج کیا ہوں گے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا لیکن ہاں اتنا ضرور ہے کہ امریکی صدرٹرمپ ،ٹیرف پرگھرتے نظر آرہے ہیں ۔
گزشتہ دنوں تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے جو تصویریں سامنے آئیں اس پرابھی بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔اس بیچ چین میں آج وکٹری پریڈ کی تقریب بھی ٹرمپ کو بے چین کررہی ہے ۔
بیجنگ کے تیان مین اسکوائر پرمنعقدہ اس تقریب میں امریکہ کے دشمن ممالک کے سربراہان موجود ہیں۔ روس، ایران اور شمالی کوریا کے لیڈروں کی شی جن پنگ کے ساتھ موجودگی امریکی صدر ٹرمپ کی بوکھلاہٹ کا سبب ہے۔صدر ٹرمپ نے چین کی وکٹری پریڈ پر ایک پوسٹ کی ہے۔ان کے اس پوسٹ میں جو باتیں ہیں اس سے امریکی صدر کی مایوسی جھلکتی ہیں۔
دراصل،بیجنگ میں منعقدہ تقریب میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان مہمان خصوصی کے طور پر موجود ہیں۔ اس پریڈ کا اہتمام دوسری عالمی جنگ میں جاپان پر فتح کی 80 ویں سالگرہ کی یاد میں کیا گیا ہے۔ اس موقع پر چین اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ یہ نظارہ نہ دیکھ سکے۔ انھوں نے اس پریڈ اور امریکہ کے دشمنوں کی موجودگی پر طنزیہ لہجے میں پوسٹ کیا۔ سب سے پہلے، ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو چین کی آزادی میں امریکہ کی مدد کی یاد دلائی۔ پھر انہوں نے جن پنگ، پوتن اور کم جونگ ان کو ’سازشی‘ قرار دیتے ہوئے مبارکباد دی۔جس سے ان کی مایوسی عیاں ہو گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا پوسٹ کیا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھاکہ، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا چینی صدر شی جن پنگ اس بے پناہ حمایت اور خون کا ذکر کریں گے جو امریکہ نے چین کو غیر ملکی حملہ آوروں سے آزاد کرانے کے لیے دیا تھا۔ چین کی فتح اور شان کی تلاش میں بہت سے امریکی مارے گئے، مجھے امید ہے کہ ان کی ہمت اور قربانیوں کو صحیح طریقے سے یاد کیا جائے گا۔ چین کے صدرشی جن پنگ اور چین کے عوام کے لیےیہ ایک عظیم اور پائیدار دن ہو گا۔ اس کے بعد، وہ طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں’براہ کرم ولادیمیر پوتن اور کم جونگ اُن کو میرا دلی مبارکباد پیش کریں، کیونکہ آپ امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی مایوسی
دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ردعمل ان کی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ چین کو اقتصادی اور فوجی چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ روس اور شمالی کوریا کو بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیکن ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین کوئی چیلنج نہیں، چین کو امریکہ کی زیادہ ضرورت ہے۔ ٹرمپ کی اس پوسٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس تینوں کو امریکہ مخالف سازش سمجھ رہے ہیں اور اس سے خوفزدہ ہیں۔
امریکہ کو کس بات کا ڈر؟
چین بھلے ہی جیت کا جشن منا رہا ہے۔ لیکن امریکہ اس جشن کو دوسرے نظریے بھی دیکھ رہا ہے۔ امریکہ کو چینی سرزمین پر اس کے خلاف سازش کا احساس ہو رہا ہے۔ امریکہ اپنے مخالفین کوایک جگہ دیکھ کر بوکھلا گیا۔ دراصل یہ پریڈ صرف جشن کا نہیں بلکہ مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کو چین کے چیلنج کی علامت ہے۔ چین کی فوجی پریڈ میں دکھائے گئے ہائپرسونک میزائل اور ڈرون امریکہ کی تکنیکی برتری کو چیلنج کرتے ہیں۔ جن پنگ، پوتن اور کم جونگ کی تکڑی امریکہ کو’برائی کے محور‘ کی یاد دلاتا ہے۔ چین اور شمالی کوریا روس کو مسلسل ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ کی بوکھلاہٹ مزید بڑھے گی کیونکہ وہ یوکرین میں امن قائم کرنے کی کوشش میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔