*مہاراشٹر ٹائپنگ سینٹر* ،
ہمارے یہاں ہر طرح کے اسٹیمپ (بونڈ) نوٹری تیار کی جاتی ہے۔
( *وکیل معرفت* ۔)۔۔ *
گھر بھاڈے قرار نامہ* ۔
*ایثار پاؤتی* ۔
*جنرل مختار* ۔
*خریدی خط۔* ***
وارث پتر** ۔*
گاڑیوں کے لین دین کے اسٹیمپ نوٹری۔
*ہر طرح کے اسٹیمپ بونڈ**نوٹری تیار کی جاتی ہے* ۔
پتہ۔ *ناندڑی سکول پر بھاگ 4 کے* *سامنے اختر ممبر کی آفس پر* *مالدہ شیوار مین روڈ* مالیگاؤں۔
سلمان پٹھان ۔۔۔9112621336
بیلجیئم فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرے گا تسلیم ، وزیرخارجہ میکسم پریوٹ کا اعلان،اسرائیل پر عائدکی جائے گی پابندی
فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے ملکوں کی فہرست روز بروز طویل ہوتی جارہی ہے۔ آزاد فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ممالک کی اس فہرست میں تازہ نام بیلجئیم کا ہے۔ بیلجیئم کے وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم میکسم پریوٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک آزاد فلسطین ریاست کو تسلیم کرے گا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بیلجیئم ،فلسطین کو تسلیم کرلے گا۔اتنا ہی انھوں نے اسرائیل خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کی بات بھی کہی ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق،بیلجیئم کے وزیرخارجہ میکسم پریوٹ نے واضح کیا کہ غزہ سے یرغمال بنائے گئے آخری فرد کی رہائی کے بعد ہی آزاد فلسطین ریاست کو تسلیم کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے انتظامی امور میں حماس کا اب کوئی کردارنہیں ہے۔خیال رہے کہ، غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اورشدید انسان بحران کے پیش نظر بیلجیئم نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا عہد کیا ہے۔
سوشل میڈیا پیلٹ فارم ایکس پرمیکسم پریوٹ نے لکھا کہ ،بیلجیئم ، اسرائیل پر12 پابندیاں عائد کرے گا۔ان میں مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے 9مصنوعات کی درآمد پر پابندی اور اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ عوامی خریداری کی پالیسیوں کا جائزہ شامل ہے۔
بیلجیئم کی بیلگا نیوز ایجنسی کے مطابق، فلیمش نیشنلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے پچھلے مہینے ان خیالات کا اظہار کیا تھا کہ ، فلسطین کو تسلیم کرنے کو سخت شرائط سے مشروط کیا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل، فرانس، کینڈا سمیت متعدد ممالک آزاد فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے کے بارے میں اعلان کرچکے ہیں ۔فرانس اور سعودی عرب 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران فلسطین کو تسلیم کرنے سے متعلق اجلاس کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔and
آسٹریلیا ، کینیڈا اور برطانیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو شرائط کے ساتھ تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔فن لینڈ اورمالٹا نے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ۔
اس سال اپریل تک، تقریباً 147 ممالک، جو اقوام متحدہ کے 75 فیصد ارکان کی نمائندگی کرتے ہیں، پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں ۔ واضخ رہے کہ ، اکتوبر2023 سے جاری جنگ میں اب تک63ہزارسے زیادہ فلسطینی ہلاک جبکہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں ۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات سے قبل ایک غیر معمولی قدم اٹھایا۔ انہوں نے چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے بعد مودی کا تقریباً 10 منٹ تک انتظار کیا تاکہ دونوں رہنما ایک ہی کار میں دو طرفہ ملاقات کے مقام تک سفر کریں۔
پوتن اور مودی نے روسی صدر کی لگژری AURUS لیموزین میں ایک ساتھ سفر کیا اور اس دوران متعدد اہم عالمی اور دو طرفہ امور پر بات چیت کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے مقام پر پہنچنے کے باوجود تقریباً 45 منٹ تک کار میں ہی اپنی گفتگو جاری رکھی۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا:
’’SCO سمٹ کے مقام پر کارروائی کے بعد، صدر پوتن اور میں نے ایک ساتھ اپنی دو طرفہ میٹنگ کے مقام کا سفر کیا۔ ان کے ساتھ بات چیت ہمیشہ بصیرت افروز ہوتی ہے۔"
روس کے قومی ریڈیو ویسٹی ایف ایم اور ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹس کے مطابق، یہ ملاقات دراصل تقریباً ایک گھنٹہ کار میں ہونے والی خفیہ گفتگو پر مشتمل تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ مودی اور پوتن کے درمیان اب تک کی سب سے اہم بیک ڈور ڈپلومیسی تھی، جس میں ایسے حساس معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا جو ’’دوسروں کے کانوں تک نہیں‘‘ پہنچنے چاہییں۔
بعد میں باضابطہ دو طرفہ میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے صدر پوتن پر زور دیا کہ یوکرین تنازعے کو جلد از جلد ختم کرنا ’’انسانیت کا تقاضا‘‘ ہے۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ بھارت روسی صدر کے دورۂ ہند کا منتظر ہے۔
وزیر اعظم مودی اور صدر پوتن کی دوستی عالمی سیاست میں نمایاں ہے۔ بھارت اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے دور سے مضبوط رہے ہیں۔ تاہم یوکرین جنگ کے بعد بھارت نے ایک متوازن موقف اختیار کیا ہے۔روس کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات قائم رکھتے ہوئے مغرب سے بھی روابط بڑھائے ہیں۔ حالیہ ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں رہنما اب بھی قریبی رابطے میں ہیں اور بڑے عالمی مسائل پر براہِ راست اور خفیہ بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔