ہماچل پردیش کے منڈی میں لینڈسلائڈ کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں چار ایک ہی پریوار سے ہیں ۔لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم راحت و بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں ۔رات سے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔
اطلاعات کے مطابق منگل کی شام سندر نگر سب ڈویژن کے جمنگ باغ میں بی بی ایم بی کالونی میں پہاڑی کے ایک حصے میں دراڑ پڑ گئی اورملبے کی زد میں دومکان آگئے ۔ اس دوران جہاں لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے وہیں کل 6 افراد ملبے تلے دب گئے۔ ماں ۔ بیٹی کے علاوہ ایک اوربزرگ کی لاش برآمد ہوئی۔ اس کے بعد ایک اسکوٹر سوار کی لاش بھی برآمد ہوئی۔
امدادی ٹیموں نے ملبے سے مزید تین لاشیں نکالیں۔ تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ٹاٹا سومو کے دبے ہونے کی اطلاع پر تلاشی مہم جاری ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی سندر نگر کے ایم ایل اے راکیش جموال، ڈی سی منڈی اپورو دیوگن اور ایس پی منڈی ساکشی ورما راحت اور بچاؤ ٹیموں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، منڈی ڈسٹرکٹ پولیس اور ہوم گارڈ کی ٹیمیں راحت اور بچاؤ کاموں میں مصروف ہیں۔ سندر نگر کے ایم ایل اے راکیش جموال نے کہا کہ انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جائے وقوع پر تلاشی اور بچاؤ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس حادثے پر دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اس حادثہ کو لے کر مقامی لوگوں میں برہمی پائی جاتی ہے۔ مقامی باشندوں سنجے اور سنیل نے بتایا کہ محکمہ اس گھر کے قریب پائپ کاٹ رہا تھا جس کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔ یہ کام بارشوں کے بعد بھی ہو سکتا تھا۔ اگر کٹائی کا کام نہ کیا جاتا تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے اس پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
قابل غوربات یہ ہے کہ اس حادثے میں سریندر کور اور شانتی دیوی کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ کلدیپ کا مکان بھی منہدم ہونے کے دہانے پر ہے۔ سریندر کور اور اس کا بیٹا گرپریت سنگھ ملبے تلے دب گئے ہیں جبکہ گرپریت کی بیوی بھارتی (28) اور 3 سالہ بیٹی کیرت کی موت ہو گئی ہے۔ ایک اور مکان میں رہنے والی شانتی دیوی کی لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔
مراٹھا کوٹہ: جرانگے نے پانچ روزہ ہڑتال ختم کی، حکومت نے اہم مطالبات قبول کر لیے
ہم جیت گئے‘‘: مراٹھا کوٹے کے کارکن جرانگے نے پانچ روزہ بھوک ہڑتال ختم کی، احتجاجیوں سے گھر جانے کی درخواست کی
مراٹھا ریزرویشن کے لئے احتجاج کررہے سرگرم کارکن منوج جرانگے پاٹل نے منگل کو اعلان کیا کہ انہوں نے جیت حاصل کر لی ہے اور مہاراشٹر حکومت نے ان کے زیادہ تر مطالبات قبول کر لیے ہیں ، جن میں کنبی ذات کے سرٹیفیکیٹس کا اجراء بھی شامل ہے ، اس کے بعد انہوں نے اپنی پانچ روزہ ہڑتال ختم کر دی۔
مراٹھا ریزرویشن کو کابینہ ذیلی کمیٹی کی جانب سے حکومتی قرار داد (Government Resolution) کو قبول کرنے کے بعد جرانگے نے ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاجی کیمپ سے اپنے حمایتیوں سے گھر جانے کی اپیل کی۔
’’ہم جیت گئے،‘‘ جر انگے نے اپنے حمایتیوں کو بتایا، یہ اعلان انہوں نے سہ پہر میں وزیر رادھاکرشنا وِکھے پاٹل کی سربراہی میں قائم کابینہ ذیلی کمیٹی کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا۔ کمیٹی کے دیگر ارکان شیوندرسِن بھوسلے، اودے سَمَنت اور مانک راؤ کوکاٹے بھی آزاد میدان پر موجود تھے اور انہوں نے جرانگے کے ساتھ فائنل ڈرافٹ پر تبادلۂ خیال کیا۔
دن کے آغاز میں، بومبے ہائی کورٹ کی ہدایت پر ممبئی پولیس نے جرانگے اور ان کی ٹیم سے کہا کہ وہ احتجاجی مقام کو جلد از جلد خالی کریں۔
جرانگے نے کہا کہ ذیلی کمیٹی نے اُن کی حیدرآباد گزٹ (Hyderabad Gazette) کے نفاذ سے متعلق مانگیں قبول کر لی ہیں اور کہا کہ کنبی ریکارڈ والے مراٹھا افراد کو مناسب تفتیش کے بعد ذات کے سرٹیفیکیٹ دیے جائیں گے۔
انہوں نے کمیٹی کے مسوداتی نکات اپنے حمایتیوں کے سامنے پڑھ کر سنائے جن میں کہا گیا تھا کہ حیدرآباد گزٹ کے نفاذ کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور فوراً ایک گورنمنٹ ریزولوشن (GR) جاری کیا جائے گا۔ ساٹارا گزٹ (Satara Gazette) کا نفاذ ایک ماہ کے اندر انجام دیا جائے گا، انہوں نے کہا، کمیٹی کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کے مطابق، مراٹھا احتجاجیوں کے خلاف پہلے درج مقدمات ستمبر کے آخر تک واپس لے لیے جائیں گے،۔
جرانگے پاٹل نے بتایا کہ یہ بھی طے پایا ہے کہ احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو اُن کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ایک ہفتے کے اندر مالی معاونت اور سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ کمیٹی نے انہیں آگاہ کیا کہ اب تک ایسے لواحقین کو 15 کروڑ روپے کی مدد دی جا چکی ہے اور بقایا رقم ایک ہفتے میں فراہم کر دی جائے گی، انہوں نے کہا۔
مہاراشٹر حکومت نے کیا کہا؟
وِکھے پاٹل نے کہا کہ ’قریبی رشتہ دار‘( (blood relatives) نوٹیفکیشن پر آٹھ لاکھ اعتراضات موصول ہوئے ہیں اور ریاستی حکومت کو انہیں جانچنے کے لیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ایک GR جاری کیا جا سکے جس میں کنبیز اور مراٹھا کو ایک ہی برادری ظاہر کیا جائے ، اور اس عمل میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔
جرانگے کے کامیابی کے اعلان کے بعد آزاد میدان اور اس کے اطراف میں مراٹھا کوٹے کے احتجاجیوں میں خوشی اور جشن کا منظر دیکھنے میں آیا۔ جرانگے نے 29 اگست سے اپنی ہڑتال شروع کی تھی تا کہ مراٹھا برادری کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں او بی سی (OBC) زمرے کے تحت 10 فیصد کوٹہ دینے کا مطالبہ منوایا جا سکے۔
مراٹھا کوٹے کا مسئلہ مہاراشٹر میں کئی برسوں سے زیر بحث رہا ہے: مختلف گروپ مراٹھا برادری کے لیے نسلی/اقتصادی بنیادوں پر ریزرویشن مانگتے آئے ہیں۔ حکومتیں بعض اوقات مختلف گزٹ نوٹیفیکیشنز اور گورنمنٹ ریزولوشنز (GRs) کے ذریعے مخصوص زمروں یا تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر ذات/برادری کی شناخت طے کرتی ہیں۔ حیدرآباد گزٹ اور ساٹارا گزٹ کے حوالے سے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں وہ اسی طرز کے سرکاری نوٹیفکیشنز اور سابقہ ریکارڈز کے نفاذ سے متعلق ہیں۔
ماں کی توہین سے دکھی ہوئے وزیر اعظم مودی۔کہا بھارت کی دھرتی نے کبھی ماں کی توہین برداشت نہیں کی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ماں کی توہین پر درد بھری باتیں بیان کیں۔ بہار کے دربھنگہ میں ایک جلسے کے دوران وزیر اعظم جذباتی ہو گئے اور کہا کہ کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کو چھٹی مئیّا سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ماں ہی ہمارا وقار ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میری ماں کو بہار میں گندی گالیاں دی گئیں، یہ واقعہ نہ صرف ان کی ذاتی ماں بلکہ ملک کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کی توہین ہے۔
آج منگل کے دن ایک بڑی خوشخبری ہے۔ بہار کی ماؤں اور بہنوں کے لئے نئی سہولت ’’جیونیکا ندھی ساکھ سہکاری سنگھ‘‘ شروع کی جا رہی ہے۔ اس کے ذریعے گاؤں گاؤں میں جیویکا سے جڑی بہنوں کو آسانی سے پیسہ ملے گا اور وہ اپنے کاروبار کو بڑھا سکیں گی۔ یہ پورا نظام ڈیجیٹل ہے، جو ’’وِکست بھارت‘‘ کی بنیاد ہے۔ بھارت کی مضبوط خواتین ہی اس ترقی کی اصل طاقت ہیں۔ ہم خواتین کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے کروڑوں شौچالے بنائے، پی ایم آواس یوجنا کے تحت پکے مکانات بنائے، اور گھروں کو خواتین کے نام پر رکھنے کا بھی انتظام کیا تاکہ ان کی آواز مضبوط ہو۔ آج ہر ماں کو یہ تسلی ہے کہ مفت راشن اسکیم سے ان کے بچوں کا پیٹ بھرا جا رہا ہے۔ حکومت خواتین کو ’’لکھپتی دیدی‘‘، ’’ڈرون دیدی‘‘ اور ’’بینک سَکھی‘‘ بنا رہی ہے تاکہ ان کی آمدنی بڑھے۔ یہ سب ماؤں اور بہنوں کی خدمت کا بڑا مہایگیہ ہے۔ این ڈی اے کی حکومت بہار میں اس مشن کو مزید تیز کرے گی۔
چند دنوں بعد نووراتری کا مقدس تہوار آنے والا ہے۔ پورے ملک میں نو دیویوں کی پوجا ہوگی، لیکن بہار اور پوربیا علاقے میں ’’ست بہنی پوجا‘‘ کی بھی روایت ہے۔ یہ ماؤں اور بہنوں کے تئیں عقیدت اور اعتماد کی مثال ہے۔ لیکن بہار میں جو کچھ ہوا، وہ ناقابلِ تصور تھا۔ آر جے ڈی اور کانگریس کے اسٹیج سے میری ماں کو گالیاں دی گئیں۔ یہ صرف میری ماں کا نہیں بلکہ ملک کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کا اپمان ہے۔
میں جانتا ہوں کہ آپ سب کو بھی یہ سن کر اور دیکھ کر بہت دکھ ہوا ہوگا۔ جتنا درد میرے دل میں ہے، اتنی ہی تکلیف بہار کے لوگوں کو بھی ہے۔ اسی لئے آج لاکھوں ماؤں اور بہنوں کے سامنے میں اپنا دکھ آپ سے بانٹ رہا ہوں تاکہ آپ کے آشیرواد سے میں اس درد کو سہہ سکوں۔ میری ماں نے مجھے جنم دے کر اپنے فرائض سے آزاد کر دیا تاکہ میں ماں بھارت کی خدمت کر سکوں۔ آج مجھے دکھ ہے کہ جس ماں نے مجھے قربانی دے کر ملک کی خدمت کے لئے بھیجا، اسی ماں کی توہین کی گئی۔
آپ سب جانتے ہیں کہ اب میری ماں اس دنیا میں نہیں ہیں۔ کچھ وقت پہلے وہ 100 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ سیاست سے جن کا کوئی لینا دینا نہیں تھا، ان کی لاش کو بھی نہیں بخشا گیا اور آر جے ڈی۔کانگریس کے اسٹیج سے انہیں گالیاں دی گئیں۔ ایک غریب ماں جو اپنے بچوں کو تعلیم اور سنسکار دیتی ہے، اس ماں کا مقام دیوی دیوتاؤں سے بھی اوپر مانا جاتا ہے۔ بہار کی پہچان ہے یہ جملہ: ’’مائی کے استھان، دیوتا پِتر سے بھی اوپر ہے۔‘‘
انہیں لگتا ہے کہ اقتدار پر صرف انہی کا حق ہے۔ لیکن ملک کی جنتا نے ایک غریب ماں کے بیٹے کو پرائم منسٹر بنایا، یہ بات کانگریس اور آر جے ڈی کے ’’نامداروں‘‘ کو برداشت نہیں ہو رہی۔ ایک غریب ماں کی تپسیا اور بیٹے کی پیڑا وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو سونے چاندی کے چمچ لے کر پیدا ہوئے۔ ان کے لئے اقتدار صرف ان کے خاندان کی وراثت ہے۔
کوئی پچھڑا یا انتہائی پچھڑا آگے بڑھ جائے، یہ کانگریس کو کبھی منظور نہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ نامداروں کا حق ہے کہ وہ کامداروں کو گالیاں دیں۔ یہی سوچ ہے جو ماں اور بہن کو بھی گالیاں دینے پر آمادہ ہے۔ یہی ذہنیت خواتین کو کمزور اور استحصال کا شکار سمجھتی ہے۔ جب جب ایسی سوچ کو اقتدار ملا ہے، سب سے زیادہ تکلیف عورتوں کو ہی جھیلنی پڑی ہے۔
آر جے ڈی کے دورِ حکومت میں بہار میں قتل، اغوا اور ریپ عام تھے۔ قاتلوں اور مجرموں کو سرکار کا تحفظ ملتا تھا۔ اس وقت سب سے زیادہ صدمہ بہار کی خواتین کو اٹھانا پڑتا تھا۔ آر جے ڈی کو ہٹانے اور بار بار شکست دینے میں بہار کی خواتین کا سب سے بڑا کردار رہا ہے۔ اسی لئے آج کانگریس اور آر جے ڈی سب سے زیادہ بہار کی خواتین کے خلاف غصے میں ہیں اور بدلہ لینا چاہتے ہیں۔
میں بہار کے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ مودی تو تمہیں ایک بار معاف بھی کر دے گا، لیکن بھارت کی دھرتی نے کبھی ماں کا اپمان برداشت نہیں کیا ہے۔ آر جے ڈی اور کانگریس سے جواب مانگنا چاہئے۔ ہر گلی اور محلے سے ایک ہی آواز آنی چاہئے:
ماں کو گالی… نہیں سہیں گے، نہیں سہیں گے
عزت پر وار… نہیں سہیں گے، نہیں سہیں گے
آر جے ڈی کا اتیاچار… نہیں سہیں گے، نہیں سہیں گے
کانگریس کا وار… نہیں سہیں گے، نہیں سہیں گے
ماں کا اپمان… نہیں سہیں گے، نہیں سہیں گے