Thursday, 21 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے کہا ہے کہ مالیگاؤں بم بلاسٹ ۲۰۰۸ء کے ’ بھگوا ملزمین ‘ کے بری کیے جانے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا ، بس ذرا عدالتی فیصلے کا جائزہ لے لیں ۔ کیا واقعی این آئی اے ہائی کورٹ جائے گی ؟ شاید نہیں ، کیونکہ ریاستی وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس سے لے کر آر ایس ایس کے کارکنان اور بھگوا تنظیموں کے ذمہ داران تک چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ’ ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا ‘ ، یعنی ہندو قوم پر دہشت گردی کے جو الزام لگائے جاتے ہیں یا لگائے گیے ہیں وہ بے بنیاد ہیں ، ان کے پسِ پشت کوئی نہ کوئی سازش ہوتی ہے ۔ ان سب کے کہنے کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ سادھوی اور کرنل جو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گیے تھے ، سب بے قصور تھے ۔ ظاہر ہے کہ جب ریاستی وزیراعلیٰ اپنے بیانات میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت اینڈ کمپنی کو ’ کلین چِٹ ‘ دے رہے ہیں ، تو این آئی اے کیسے بری ہونے والوں کو دوبارہ عدالت کے کٹگھرے میں کھینچنے کی جرأت کر سکتی ہے ! اسی لیے اندازہ یہی ہے کہ ہوگا کچھ نہیں ۔ ویسے بھی این آئی اے تو ابھی فیصلہ کا ’ جائزہ ‘ لے گی ، اور اس کے بعد ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرے گی ، پتا نہیں جائزے کا عمل کب تک جاری رہے ! سارے بھگوا ملزمین جیل سے باہر آگیے ہیں ، باہر آنے کے بعد جشن منا رہے ہیں ، بلکہ جشن کا سلسلہ تو عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی سے شروع ہے ۔ مالیگاؤں کے بھکو چوک پر ، جہاں ۲۰۰۶ء میں بم بلاسٹ ہوا تھا ، اور بے قصور افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے تھے ، وہاں بھگوا عناصر نے فیصلے والے دن ہی زوردار جشن منایا تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ جس دن اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے تھے ، اس دن بھی جشن منایا گیا تھا ۔ اور اسی دن سے اس مقدمے کا رُخ پلٹ گیا تھا ۔ ویسے خصوصی عدالت نے ان ’ بھگوا ملزمین ‘ کو باعزت بری نہیں کیا ہے ، ان کو شک کا فائدہ دیا ہے ، کیونکہ جو ثبوت این آئی اے نے پیش کیے تھے ، اُن کی کڑیاں درمیان سے غائب ہیں ، کوئی بھی عدالت نامکمل کڑیوں کی بنا پر ملزمین کو بری ہی کرتی ۔ اس مقدمے کی ایک سرکاری وکیل روہنی سالیان ، جو بہت پہلے اس مقدمہ سے علاحدہ ہوچکی ہیں ، کا بیان آیا ہے کہ انہیں پتا تھا یہی فیصلہ آنے والا ہے ! ایسا انہوں نے کیوں کہا یہ وہی جانیں ، لیکن ان کے پرانے بیانات کچھ کچھ اشارہ دیتے ہیں کہ اُن کے کہنے کا مطلب کیا ہے ۔ وہ یہ کہتے ہوئے اس مقدمہ سے الگ ہوئی تھیں کہ ایجنسی کی طرف سے اُن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس معاملہ میں نرمی برتیں ۔ اب تو سادھوی پرگیہ یہ دعویٰ کرتی نظر آ رہی ہیں کہ انہیں ٹارچر کیا گیا تھا کہ وہ مودی ، بھاگوت اور دیگر لیڈروں کے نام لیں تاکہ ان کو بھی جھوٹے معاملے میں ملوث کیا جا سکے ! یہ جو دس دنوں کے اندر دہشت گردی کے دو معاملات کے جو فیصلے آئے ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم ملزمین کے لیے الگ پیمانہ ہے ، اور ہندو ملزمین کے لیے الگ ۔ 11/7 کے مسلم ملزمین بری ہوئے ، تو دوسرے ہی دن حکومت مہاراشٹر سپریم کورٹ چلی گئی اور فیصلے پر اسٹے لے لیا ۔ لیکن ’ بھگوا ملزمین ‘ کے معاملہ میں اس کا رویہ بالکل برعکس ہے ۔ یہ ہے آج کے ہندوستان کی حقیقی تصویر !
____________

تیری میری کہانی نمبر 5

ایک بیٹی کا خط 
عارفہ ملائکہ 
سڈنی آسٹریلیا 
Editor's Note
یہ تحریر ایک بیٹی کے قلم سے نکلا وہ مکتوب ہے، جو اُس نے اپنے مرحوم والد محترم کو لکھا۔ مگر یہ کوئی الوداعی نوحہ نہیں، بلکہ ایک روحانی مکالمہ ہے _ ایک ایسا صوفیانہ لمحہ، جو خامشی، لمس، اور دعا کے استعاروں میں ازل سے جاری محبت کا اظہار کرتا ہے۔
“عارفی” کے قلم سے نکلی یہ تحریر، ذات کی تہوں، ہجرت کی گونجتی راہوں، اور محبت کی آفاقی سرحدوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ فقط ایک خط نہیں _ بلکہ وقت کی سرحدوں کے اُس پار سے آنے والی ایک کہانی ہے، جو لفظوں سے نہیں، روح سے لکھی گئی ہے۔
تمہید
کچھ خط وقت سے آزاد ہوتے ہیں _
نہ ماضی میں لکھے جاتے ہیں،
نہ حال میں بھیجے جاتے ہیں _
بس دل کی وہ بات کہی جاتی ہے
جو ہمیشہ کہنی باقی رہتی ہے۔
خط
بابا جانی …
آپ کی موجودگی سورج جیسی تھی _ گرم بھی، اور روشنی سے لبریز بھی۔ اب جب آپ نہیں رہے، تو کمرے میں صرف شام کی وہ مدھم دھوپ رہ گئی ہے، جو دیواروں سے سرکتی ہوئی آنکھوں کی نمی میں ٹھہر گئی ہے۔
آج بھی دل میں کچھ باتیں ویسے ہی سمٹی ہوئی ہیں جیسے بچپن میں آپ کی قمیص کی جیب میں چھپائی گئی ٹافیاں _میٹھے راز، جنہیں آپ جانتے تھے، مگر ہمیشہ انجان بن کر مسکرا دیتے تھے۔
بس فرق اتنا ہے کہ اُس وقت آپ مسکرا کر سب سمجھ لیتے تھے … اور اب؟ شاید آپ اب بھی سب کچھ دیکھتے ہیں، مگر میری آنکھیں آپ کی مسکراہٹ کو تلاش کرتی رہتی ہیں۔
یاد ہے، بابا؟
جب الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے تھے تو میں آپ کے پاس آ بیٹھتی تھی _ خاموش، دل شکستہ، جیسے کسی بے نام صدا کی پناہ ڈھونڈتی۔
اور آپ بس اتنا کہتے:
"عارفی، کیا ہوا میری جان؟"
جیسے اذان کے بعد دل ٹھہر جائے _ ویسے ہی آپ کی آواز میرے اندر کسی دعا کی صورت اترتی تھی۔
یہ مکالمہ … یہ "تیری میری کہانی" … کسی روزمرہ کی بات نہیں تھی بلکہ دو روحوں کے درمیان وہ ازلی ہمکلامی تھی جسے وقت چھو نہیں سکا۔
اور وہ خطوط، بابا _جو آپ افق پار سے بھیجتے تھے، خاص طور پر میرے لیے …؟
کبھی مہاجرت کی بکل میں لپٹے خواب تھے،
کبھی پیرس کے چائے خانوں سے خوشبو لاتے،
کبھی استنبول کے میناروں سے اذان بن کر گونجتے،
کبھی کشمیر کے زعفرانی سٹانوں میں بکھرتے،
کبھی جرمنی کے کتب خانوں سے فکر کی ایک کرن بن کر نکلتے،
کبھی سنگاپور کی سڑکوں پر ترتیب، صفائی اور خاموشی کی صورت رچ بس جاتے،
کبھی سوڈان کی سرخ مٹی سے داستان بن کر اٹھتے،
کبھی بنگلہ دیش کی کشتیاں بن کر بارش میں بہتے خوابوں کی طرح جھولتے،
کبھی سمرقند کی گلیوں میں کوئی پرانا نقش بن جاتے،
کبھی تاجکستان کے پہاڑوں سے صوفی نغمے بن کر اترتے،
اور کبھی ایران کی پرانی شاعری سے حافظ کا مصرع بن کر دلوں میں اتر جاتے _
ہر خط ایک جہاں، ہر جملہ ایک جہت، اور ہر سطر ایک سانس _
جیسے آپ کی روح مجھے جینا سکھا رہی ہو۔
آپ نے سکھایا کہ محبت قوموں سے بڑی، مذاہب سے بالاتر، اور زبانوں سے ماورا ہوتی ہے _
یہ کائنات کی وہ واحد مستقل ہوا ہے جو ہر موسم میں چلتی رہتی ہے۔
مگر اب، جب آپ "آفاق" کی خاموش وادیوں میں جا بسے ہیں … وہاں سے کوئی خط، کوئی خواب نہیں آیا؟
بابا جانی! کیا وہاں محبت کے قاصد نہیں پہنچتے؟
کیا وہاں خامشی نے محبت کے خطوط پر پہرہ بٹھا دیا ہے؟
یا پھر آپ … مجھے فراموش کر چکے ہیں؟
بابا … آپ نے کبھی مجھے شکایت کا حق نہ دیا۔
اسی لیے شاید میرا نام "عارفہ" رکھا _ وہی کشمیری صوفی شاعرہ، جو درد کو شاعری میں پروتی رہی، مگر شکایت کبھی لب پر نہ لائی۔
آپ کہا کرتے تھے:
"نام میں تاریخ چھپی ہوتی ہے۔"
اب میں جان گئی ہوں کہ میرے نام کے ہر حرف میں آپ کی محبت کی صدیوں پرانی روشنی ہے۔
جب میں نے آپ کے خطوط دوبارہ کھولے …
تو اُن سے نہ صرف خوشبو نکلی، بلکہ ایک مکمل انسان — آپ۔
آپ کسی روشنی کی مانند ان سطروں کے درمیان سے جھکنے لگے۔
آپ کی وہ باتیں _
"انسانیت رنگ، نسل، مذہب سے بالاتر ہے" _
اب وہ میرے دل کی تہذیب بن چکی ہیں۔
تو بابا جانی … کیا اب بھی کہیں میرے لیے کوئی تحریر باقی ہے؟
کوئی ایسا خواب … جو لفظ نہ سہی، دعا کی صورت مل جائے؟
کل میں نے فروغ فرخزاد کی نظم پڑھی:
"کاش چون پاییز بودم، کاش چون پاییز، خاموش و ملال انگیز بودم"
کاش میں بھی خزاں ہوتی … اداس، مگر رنگوں سے بھری؛ خاموش، مگر اندر سے بولتی ہوئی۔
آپ فرمایا کرتے تھے:
"جو اندر سے ٹوٹتا ہے، وہ باہر سے پہاڑ ہوتا ہے۔"
تو ہاں، بابا _ میں اب وہی ہوں:
ایک ایسا آئینہ، جس کی درازوں میں آپ کی دعا ٹھہر گئی ہے۔
کل میں نے "آکاشی بابا" کے خط میں لکھا تھا:
"جو چلے جاتے ہیں مگر ساتھ رہتے ہیں، وہ صرف محبت نہیں چھوڑتے _ وہ کہانی بن جاتے ہیں۔"
تو یہ خط، یہ خزاں، یہ دعائیں، یہ خامشی … سب کچھ مل کر ایک کہانی بن جاتے ہیں، بابا _
تیری میری کہانی۔
جو نہ صرف لفظوں سے،
بلکہ یاد سے،
دعا سے،
اور لمس سے لکھی گئی ہے _
اور جسے کوئی وقت مٹا نہیں سکتا۔
آپ کی: عارفی

(عارفہ ملائکہ از آسٹریلیا )
_______
غزل

اندھیرا رات سے باہر ٹپکنے لگ گیا ہے
بھرا ہوا کوئی برتن چھلکنے لگ گیا ہے

دبائے رکھتی ہے جذبات کو ہماری طرح
زمیں کے سینے میں لاوا سا پکنے لگ گیا ہے

اُڑا دیا گیا ، بارُود سے ، نظارے کو
مہک رہا تھا جو جنگل، بھڑکنے لگ گیا ہے

ملی نہ جب کسی چوپال میں پذیرائی
الاؤ قصے کی جانب لپکنے لگ گیا ہے

خزاں میں پھول کی تصویر کیا نظر آئی
کوئی پرندہ سا مجھ میں چہکنے لگ گیا ہے

جو ایک شعلہ کہیں سرد پڑ گیا مجھ میں
تو ایک اور شرارہ ہُمکنے لگ گیا ہے

حریصِ لذّتِ اظہار تھا جو خام سخن
وہ منہ سے رال کی صورت ٹپکنے لگ گیا ہے

دراڑ پڑنے لگی دیر پا تعلّق میں
پہاڑ اپنی جگہ سے سَرکنے لگ گیا ہے

اُدھر چٹان سے ٹکرانے لگ گئیں لہریں
رگوں سے خون اِدھر سر پٹکنے لگ گیا ہے

کہیں نہ ٹوٹ گیا ہو طلسم حیرت کا
ہمارا آئنہ پلکیں جھپکنے لگ گیا ہے

شاہد ماکلی
__________
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌺غزل
 اویناس امن 
وقت ہو آسان یا مشکل گزر ہی جاۓ گا 
راہ میں لیکن جو ٹھہرا وہ ٹھہر ہی جاۓ گا

میں تو روکوں گا نہ مانے گا مکر ہی جاۓ گا
تم جدھر کو جاؤ گے یہ دل ادھر ہی جاۓ گا 

چاہے جتنی برق رفتاری سے کوئ بھاگ لے 
زندگی کا قافلہ اک دن ٹھہر ہی جاۓ گا  

ہے خرد کا کام کیا جس جا جنوں درکار ہے 
عشق کی راہوں پہ کوئ بے خبر ہی جاۓ گا 

کس قدر آخر کرے گا سیاہ وہ اپنا وجود 
صبح کا بھولا ہے واپس لوٹ گھر ہی جاۓ گا 

زیست کے پرچے کی ویسے تو ضخامت کم نہیں 
اس میں افسانہ مرا پر مختصر ہی جاۓ گا 

تم یقیناً آؤگے پر جب تلک تم آؤ گے 
درد دل کا تب تلک حد سے گزر ہی جاۓ گا 

چار دن کے واسطے میلے لگے ہیں زیست کے 
امن بھی اب یہ تماشا دیکھ کر ہی جاۓ گا

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع  بجاج فائنانس کی جانب سے ایک پرکشش اسکیم شروع کی گئی تھی جسمیں یکم اپریل سے جون تک بجاج فائنان...