Sunday, 10 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*



جمعرات 17/جولائی /2025 کے ‘‘ ممبئی اردو نیوز’’ سے ممبئی کے خلافت ہاؤس پر ایک اسٹوری ۔
خلافت ہاؤ س میں مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ اور مجاہد آزادی امجدی بانو بیگم کی قبر خلافت کمیٹی انتظامیہ کی عدم توجہ کا شکار ہے اوراس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔اخبار کے پریس میں جانے کے بعد ایک صاحب نے اخبار کے مدیر جناب شکیل رشید کو فون پر بتایاکہ مرحومہ کی نماز جنازہ بھنڈی بازار کے قریب پائیدھونی کی حمیدیہ مسجد میں ادا کی گئی تھی اور اس کے بعد اسٹار پیٹرول پمپ کے سامنے کی بلڈنگ میں مسلم لیگ کے صدر دفترمیں انھیں گاڈ آف آنر پیش کیا گیا تھا اور بعد ازاں جلوس جنازہ خلافت ہاؤس پہنچا اور وہاں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔
اسٹوری ملاحظہ کریں :
-----------------------------------------------------------------------------------

کیا مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ کا مزار خلافت ہاؤس سے غائب کردیا جائے گا ؟
خلافت کمیٹی کےچند ارکان پر مرحومہ امجدی بانو بیگم کے مزار کو مٹانے کی سازش کا الزام 
خلافت کمیٹی کاالزام سے انکار،کہا کہ لوگ ثبوت لائیں کہ یہ امجدی بانو بیگم کا مزار ہے ، مولانا محمد علی جوہرکے رشتے دار جاوید صدیقی کا دعویٰ کہ میں نے اس قبر پر کتبہ دیکھا ہے اور میں کنفرم کرتا ہوںکہ یہ قبر امجدی بانو بیگم کی ہے ۔

اسپیشل اسٹوری : فرحان حنیف وارثی

عید میلادالنبی ؐ کے جلوس کے سبب خبروں کی زینت بننے والا ممبئی کا خلافت ہاؤس ، ایک مرتبہ پھرخبروں میں ہے ۔اس بار وہ خلافت ہاؤس کی مالکن اور مجاہد آزادی مولا محمد علی جوہر کی اہلیہ اور مجاہد آزادی امجدی بانو بیگم کی مزار، اور مزارکے نشان کو مٹانے، قبر کو کیاری میں بدلنے ، خلافت ہاؤس کی دوبارہ از سرِ نو تعمیر کے بعد قبر کو سِرے سے غائب کرنے کے خدشےکی وجہ سے شک اور تنازعہ کا شکار ہواہے ۔
اردو کے معروف صحافی سعید حمید کے مطابق خلافت کمیٹی کی موجودہ کمیٹی یا اس کمیٹی کے کچھ اراکین خلافت ہاؤس کے احاطے میں موجود مرحومہ امجدی بانو بیگم کی قبر کو مٹانے کی سازش میں مصروف ہیں ۔

سعید حمید نے اس سے پہلے خلافت کمیٹی اور جلوس عید میلاد النبی ؐ کے بارے میں تحقیق کے بعد دو کتابیں تحریر کی تھیں جس میں انھوں نے مستند حوالوں سے ایک بڑےطبقے کو چونکایا تھا۔انھوں نے اپنی تحقیقی کام سے جلوس عید میلادالنبی ؐ کی گاندھی جی کےذریعے قیادت اور خلافت کمیٹی کے بارے میں مشہور کئی دعوؤں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا ۔ان کی انگریزی میں ایک کتاب ’ دی اَن ٹولڈ ہسٹری آف خلافت ہاؤس‘ اور اردو میں ایک کتاب ’تحریک خلافت یا تاریخی حماقت ‘ شائع ہوکر مقبول ہو چکی ہیں ۔

سعید حمید کا الزام ہے کہ قدیم خلافت ہاؤس کے از سر ِ نو مرمت کے دوران خلافت کمیٹی نےنہ صرف احاطے میں موجود امجدی بانو بیگم کی مزاراور مزار کے نشان کو مٹایا ، وہاں لگا کتبہ ہٹایا،بلکہ اس مزار کو ہموار کرکے اسے ایک کیاری میں تبدیل کردیا ، جس پر آج کچرا پڑا رہتا ہے ، اوریہ پتا نہیں چلتا کہ وہاں امجدی بانو بیگم کی قبر ہے ۔
اطلاع کے مطابق خلافت ہاؤس کو زمین بوس کرکے دوبارہ تعمیر کرنے اور وہاں بننے والی نئی عمارت میں سی بی ایس سی اسکول اور کالج کےقیام کا ارادہ ہے اور یہ بھی خبر ہے کہ تمام کارروائیاں جاری ہیں۔

سعید حمید کاالزام ہے کہ خلافت ہاؤس کو دوبارہ تیار کرنے اور وہاں بلڈر کے ذریعے عالیشان عمارت بنانے کے دورا ن شک ہے کہ امجدی بانو بیگم کی قبر کومعمولی کیاری بتا کے غائب کر دیا جائے ۔ 

موصوف کے بقول :’خلافت ہاؤس مولانا محمد علی جوہر اور ان کے خاندان کی ملکیت ہے ۔اس خاندان کے چار اہم اراکین مولانا محمد علی جوہر، ان کے بھائی مولانا شوکت علی خان ، ان کی والدہ عبادی بانو بیگم المعروف بی اماں ، اور مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ امجدی بانو بیگم آزادی کی لڑائی اور خلافت تحریک سے منسلک تھے اور یہ چاروں اہم اور فعال مجاہدین آزادی تھے۔‘
 
انھوں نے بتایا کہ حب الوطنی سے سرشار دل رکھنے والی بی اماں کا انتقال 1924 میں دہلی میں ہو اتھا ۔ان کے شوہر عبدالعلی خان کا انتقال بہت پہلے ہوچکا تھا ۔مولانا محمد علی جوہر کی وفات گول میز کانفرنس میں شرکت کے وقت لندن میں4؍ جنوری 1931کو ہوئی تھی اور انھیں یروشلم میں مسجد اقصیٰ کےکمپاؤنڈ میں دفن کیا گیا اور وہاں آج بھی مزار موجو دہے ۔1932یا 1933میں ان سے محمد علی روڈ کو منسوب کیاگیا۔ مولانا شوکت علی خان کی رحلت 26؍ نومبر1938کو ہوئی تھی اور انھیں کرول باغ ، دہلی میں دفنایا گیا۔زاہد علی خان کی تدفین ناریل واڑی قبرستان میں ہوئی ۔

سعید حمید کے مطابق :’ امجدی بانو بیگم ایک نڈر انقلابی اور مجاہد آزادی، سمجھدار سیاست داں اور صحافی تھیں۔ وہ بی اماں کی دایاں بازو تھیں ۔خلافت کمیٹی کی خواتین کی ونگ کی بی اماں اور امجدی بانو بیگم نگراں تھیں ۔بی اماں کے انتقال کے بعد انھوں نے خواتین ونگ یا بریگیڈ کی قیادت کی تھی ۔وہ شعبہ ٔ خواتین کی انچارج تھیں۔وہ اپنے شوہر مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ لندن گئی تھیں اور انتقال کے وقت ساتھ تھیں ۔وہ تدفین کے موقع پر یروشلم میں موجود تھیں ۔خلافت ہاؤس میں قیام کے دوران 28؍ مارچ 1947کو انھوں نے داعی اجل کو لبیک کہا تھا اور خلافت ہاؤس کے احاطے میں ان کی تدفین عمل میں آئی تھی ۔‘

سعید حمید نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے بتایا:’ مولانا محمد علی جوہر کرول باغ ، دہلی میں رہتے تھے ۔خلافت ہاؤ س کی پہلی منزل پر مولانا شوکت علی خان کا گھر تھا اور گراؤنڈ فلور پر خلافت پریس، خلافت اخبار اور خلافت کمیٹی کا آفس ہوا کرتاتھا۔یہی خلافت تحریک کا ہیڈ کوارٹر بھی تھا۔مولانا محمد علی جوہر اور امجدی بانو بیگم کی دو بیٹیاں تھیں ، جن میں سے ایک بیٹی کی شادی مولانا شوکت علی خان کے بیٹے زاہد شوکت علی سے ہوئی تھی ۔امجدی بانو بیگم رحلت کے وقت اپنی بیٹی کے پاس تھیں۔‘
 
 سعید حمید نے بتایا:’میں نے اپنی نوجوانی یا اس سے بھی پہلے ، امجدی بانو بیگم کی قبر اور اس کےسرہانے لگا ہو اکتبہ دیکھا تھا ۔پھر کتبہ غائب ہوا ، اور قبر کو آہستہ آہستہ کیاری بنا دیا گیا۔جب اردو کےایک سنیئرصحافی جاوید جمال الدین نے اپنی فیس بک وال پراس طرف توجہ دلائی اور اس قبر کی تصاویر شیئر کی ، تو مجھےاس کے پیچھے سازش کا شک ہوا۔قبر کو چپٹی یا ہموار کردیا گیا اور اس کےچاروں جانب گِرل لگاکے اسےکیاری میں بدل دیا گیا۔آس پاس میں پارکنگ بنا دی گئی اوراب پتا نہیں چلتا کہ وہاں امجدی بانو بیگم کی قبر ہے ۔‘انھوں نے کہاکہ مولانا صاحب کا تعلق بریلوی اور سنی عقیدے سے تھا ۔ وہ کوئی وہابی یا اہلحدیث نہیں تھے اور بریلوی عقیدے میں قبروں کو ہموار رکھا جاتا ہے ۔عید میلاد النبی ٔ کا جلوس نکالنے والا بریلوی ہی ہوگا ۔ 
 
خلافت ہاؤس اور خلافت کمیٹی کے موجودہ چیئرمین اور روزنامہ ’ہندوستان ‘ کے مالک و مدیرسرفراز آرزو نے استفسار کرنے پر بتایاکہ اس بارے میں ہم لوگوں کو کچھ پتا نہیں ہے ،جن لوگوں کو پتا ہے ، وہ آکے ثبوت پیش کریں ، کیونکہ ہم نے تو کئی باتیں سُن رکھی ہیں ۔ کسی کا کہنا ہے کہ وہ مولانا شوکت علی کی بیوہ کی قبر ہے ۔کسی کا کہنا ہے کہ زاہد شوکت علی کی بیگم کی قبر ہے ۔الگ الگ دور میں الگ الگ باتیں چلتی رہیں ۔اور اگرکسی کےپاس کوئی مستند دعویٰ ہے تو پیش کردے ۔ایک قبر ہے ہم نے اسے احترام سے رکھاہے ۔‘ 

انھوں نے کہاکہ جاوید صدیقی صاحب یہاں 20؍ سال کب رہے ہیں اور قبر کس زمانے کی ہے ۔دونوں آس پاس والے معاملات تھوڑی ہیں ۔یہ کوئی ضد والی بات نہیں ہے ۔اگر یہ انہی کی قبرہے تو ہم لوگوں کے لیے یہ سر آنکھوں پر ہے ۔ہم لوگوں کے لیے بھی یہ قابل احترام ہے ۔اب بھی ، جب کہ ہمیں نہیں معلوم ہے ، وہ قابل احترام ہے ۔ہمارے پہلے کے لوگوں نے بھی اسے احترام سے رکھاہے ۔‘

خلافت ہاؤس کے دوبارہ بنانے کے دوران قبر کو ہٹانے کے خدشے پر اظہار خیال کرتے ہوئے سرفراز آرزو نے کہاکہ ممکن تو یہ بھی ہے کہ وہاں قبرستان بنادیں ۔ممکنات میں تو دسیوں چیزیں ہیں ۔یہ کوئی بات نہیں ہوئی ۔آپ اپنے دل کے پھپھولے اس طرح پھوڑیں گے کیا ؟ممکنات میں تو یہ بھی ہے کہ وہاں فائیو اسٹار ہوٹل بن جائے۔ممکنات میں تو یہ بھی ہے کہ وہاں ملٹی اسٹوریج کار پارک بنا دیا جائے ۔ممکنات کی فہرست کی کوئی انتہا ہو سکتی ہے کیا؟یہ بے تکی باتیں ہیں ۔خلاف ہاؤس ایک عوامی ادارہ ہے اور جس کو دیکھنا ہے ، وہ آکے دیکھ لے۔ کچھ چھپانے والی چیز نہیں ہے ۔خدشات کا اظہار خالی بکواس ہے ۔‘

بالی ووڈ کے معروف اسکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی جب 1959میں رام پور سے ممبئی آئے تھے ، تو انھوں نے 20؍ سال خلافت ہاؤس میں قیام کیا تھا ۔انھوں نے خلافت اخبار سے اپنا صحافتی کیرئیر شروع کیا تھا۔وہ مولانا محمد علی جوہر کے قریبی رشتے دار ہیں ۔

جاوید صاحب کے بقول :’میں وہاں رہا ہوں اور میں نے وہ قبر دیکھی ہے ۔میں 1959میں وہاں آیا تھا، تب اس قبر کے اوپر ایک کتبہ بھی دیکھا ہے ۔اس پر امجدی بانو بیگم زوجہ مولانامحمد علی جوہر لکھا ہوا تھا ۔شاید ان کی تاریخ وفات بھی لکھی ہوئی تھی ۔دوسری چیز یہ ہے کہ آج کی تاریخ میں آپ گوگل دیکھیں تو اس میں لکھا ہے کہ ان کی تدفین خلافت ہاؤس میں ہوئی ۔اب سوال یہ ہےکہ خلافت ہاؤس میں کوئی چار قبریں تو نہیں ہیں ؟صرف ایک ہی قبر ہے اور وہ امجدی بانو بیگم کی ہے ۔میں بالکل کنفرم کرتا ہوں کہ وہ قبر امجدی بانو بیگم کی ہے ۔
امید ہےکہ خلافت کمیٹی اس اہم معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کرے گی اور  امجدی بانو بیگم کی قبر پر ایک کتبہ لگائےگی تاکہ وہاں آنے والوں اور خلافت کالج میں زیرتعلیم طالبات کو بھی  پتا چلےکہ یہ قبر امجدی بانو بیگم کی ہے جو خاص طور سے قوم کی لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنےکی سخت حامی تھیں اور انھوں نے علی گڈھ مسلم یونی ورسٹی میں لڑکیوں کی تعلیم کو ممکن بنایا تھااور وہاں وومنس کالج انہی کی جدوجہد اور مطالبے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
___________
شجر ممنوعہ (افسانہ)
تنویر احمد تماپوری ۔۔۔۔ ریاض
+966501724826
خوشگوار موسم تھا، ہینگنگ گارڈن میں ٹھنڈی ہوا کسی دلکش موسیقی کے ہلکی سروں کی طرح بہہ رہی تھی۔ پرندوں نے چہچہانے کے نئے سر اپنا لئے تھے۔ گارڈن کے داخلی حصے کی ایک بینچ پر بیٹھا میں، رنگ برنگی پوشاکوں میں اٹھکلیاں کرتے بچوں کو دیکھ رہا تھا۔ یہاں زندگی اس وقت اپنے سب سے حسین روپ میں رواں تھی۔ میں یہاں اکثر آیا کرتا تھا۔ لافٹر کلب میں کچھ دیر قہقہے لگانا، ہلکی سی ورزش ، تھوڑی سی جاگنگ۔ رٹائرمنٹ کے بعد یہی میری لگی بندھی لیکن جملہ مصروفیت تھی۔ اچانک ایک آواز نے مجھے پلٹنے پر مجبور کیا۔
’’کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں‘‘۔
لہجہ مودب اور مہذب تھا۔ میرا ہم عمر تھا۔ آنکھوں پر نظر کا چشمہ۔ چہرے پر گذرے سخت موسموں کا لیکھا جوکھا۔ ایک ہاتھ میں رسی سے بندھا کتا، دوسرے میں پرانے طرز کا سیل فون۔ وضع قطع کسی ریٹائرڈ کلرک جیسی لگ رہی تھی۔
’’مجھے شاجی نائر کہتے ہیں۔ میں کیرلا سے ہوں‘‘۔ 
اس نے  ہاتھ جوڑ کر ابھینندن کرتے ہوئے اپنا تعرف کروایا۔ مگر اس کی شخصیت میں جنوب ہند ندارد تھا۔نہ لہجے میں ملیالی رنگ تھا۔ نہ ڈیل ڈول میں ملباری چھاپ۔ ساوتھ انڈیا کی اکلوتی جھلک بس اس کے نام میں باقی تھی۔ الٹا اس کے لمبوترے چہرے کی سفیدی اور چنار سی طویل قامتی کشمیر کے برف زاروں یا پنجاب کے کھیتوں سے درٓامد شدہ لگ رہی تھی۔ حالانکہ چہرے کی یہ سفیدی اچھی صحت کے علاوہ خون کی کمی کا سبب  بھی ہوسکتی تھی۔ بڑھاپہ بذات خود ایک لاغر اور کمزور بیالوجی کا نام ہے۔ اس کے علاوہ مجبوری اور بے بسی کی بہتات بھی ماتھے پر نیون سائن کی طرح جگمگ کررہی تھی۔ مستزاد اس پر کھوں کھوں کرتی کھانسی۔ جو ہر 5 منٹ بعد کسی ٹی وی کے ایڈ کی طرح آدھمکتی تھی۔ اس نے اپنے کتے کو کھانسی زدہ ملیالی میں پھسپھسا کر کچھ سمجھایا۔  کتا چپ چاپ اسکے پیروں میں بیٹھکر دم ہلانے لگا۔
’’میں نے آپ کو ہمیشہ لافٹر  کلب میں قہقہے لگاتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔
 اس نے کھانسی کے بیچ اپنی بات  قسطوں میں مکمل کی۔
’’اوہ اچھا۔۔ یہ ضروری ہے۔ اب اس عمر میں ایسا کرنا چاہیے۔آپ نہیں ہوتے اس میں ‘‘
میں نے جواب دینے کی کارروائی سوالیہ انداز میں مکمل کی۔
’’نہیں میرے پاس قہقہے لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے’’
’’اوہ سوری‘‘۔
 وجہ تو میرے پاس بھی نہیں تھی۔ میں سوچنے لگا۔ لیکن اس طرح  تسبیح کے مایوس دانے پھیرتے رہنا مجھے پسند نہیں تھا۔ نائر سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ پہلی نظرمیں یہ شخص مجھے کچھ سنکی اور خبطی سا لگا۔ 
’’اگر روبی نا ہوتی تو میں ۔۔۔۔۔‘‘۔ 
اس نے بات ادھوری چھوڑدی ۔
’’اچھا‘‘
 میں اور کیا کہتا۔ بات کو اچانک اس نے  کہیں بیچ سے اٹھایا،  کان سے پکڑا اور میرے سامنے لا کھڑا کیا۔ جس کا نا سر پلے پڑ رہا تھا نا پیر ۔
’’آپ روبی کو جانتے ہیں‘‘۔ 
میرے انکار میں سر ہلانے کے بعد اس نے بات کی ڈور کو وہیں سے جوڑا۔ لیکن سر پیر اب بھی غائب تھے۔ تاہم پہلی بار میں نے اس کے چہرے پر کھوں کھوں کے بیچ بھی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ 
’’یہ  میری روبی ہے۔ میری دوست میری ہمدم‘‘۔
 اس کی پچکار سے کتے کی دم میں بجلی سی دوڑگئی۔ اس کی رفتار دگنی ہوگئی۔ 
’’ روبی کا نام سن کرمیں سمجھا شاید وہ آپ کی مسز کا نام ہے‘‘۔ 
میں حیرت زدہ تھا۔
’’مسز کو پورے 5 سال سے مس کررہا ہوں‘‘۔ 
یہ شخص حالات کو پراسرار  بناکر پیش کرنے میں ماہر تھا۔
’’مطلب ۔۔۔۔‘‘ 
بات کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی۔ یہ درد مشترک لگ رہا تھا۔میں دل ہی دل اپنی کہانی کی تانیں اس کی کہانی سے ملانے لگا۔
’’کرونا  کی وبا نے اسے چھین کر بدلے میں یہ کھانسی بخشی ہے‘‘
بیوی کی یاد نے بیک وقت اس کی کھانسی میں خشکی اور آنکھوں میں نمی کو چوگنا کردیا۔ 
بے پناہ اذیت اس کی آنکھوں میں محسوس کرنا میرے لئے بھی اذیت ناک تجربہ تھا۔
’’ بچے ہیں۔۔۔‘‘
’’تین ہیں۔ دو لڑکے،ایک لڑکی۔لڑکی اپنے پتی کے ساتھ کوچی میں رہتی ہے اور لڑکے یہیں‘‘۔
’’ یہیں ممبئی میں‘‘
’’جی بلکہ ایک ہی گھر میں۔ مگر اپنے پورشن  میں مصروف اور اپنے آپ میں مست۔ بیمار باپ کھانستے کھانستے مر بھی جائے کیا فرق پرتا ہے۔‘‘۔
’’یہ واقعی بہت افسوسناک تھا۔‘‘۔
 مجھے دکھ ہونے لگا۔ اب نائرکے بارے میں میری رائے  بدل رہی تھی۔خیر میرے حالات اتنے دگرگوں نہیں تھے۔ کچھ ڈھارس بندھی۔ میرا بیٹا مجھ سے رابطے میں ہوتا تھا۔ حالانکہ سھیل کینیڈا میں رہتا ہے۔ پھر بھی حتی الامکان میرا خیال رکھتا تھا۔ آج کل  تو چھٹیوں پر بچوں کے ساتھ یہیں آیا ہوا تھا۔
’’آپ سے بات کرکے اچھا لگ رہا ہے۔ اس عمر میں کوئی قریب نہیں آتا۔بچے تک نہیں پوچھتے۔ اپنے کاروبار، اپنی زندگی، اپنی فیانٹاسیز، انہیں فرصت کہاں ملتی ہے۔ سپنا جب تک زندہ تھی کھینچ کھانچ کر کم سے کم ڈنر کی ٹیبل تک سب کو لاتی تھی‘‘۔
مجھے نجمہ کی یاد آئی۔ بیویاں ساری ایسی ہی ہوتی ہیں۔ بے لوث اور محبت لٹانے والی۔
اس کے لہجے کی بے بسی نے بادلوں کے دلوں کو چیر دیا۔  بوندا باندی کی شکل میں انکے آنسو نکلنے لگے۔ آنسو میرے بھی نکل رہے تھے۔  نکلنا ضروری بھی تھا۔ خود میری زندگی اس سے زیادہ الگ کہاں تھی۔ سب کچھ نہیں تو بہت کچھ لگ بھگ ویسا ہی تھا۔ بس فرق  اتنا تھا کے میرا ایک بچہ تھا۔ دیکھا جائے تو برا بھی نہیں تھا۔ تاہم یہ ستم تو پھر بھی جاری تھا کہ وہ سمندر پار رہتا ہے۔
میں وہاں سے اٹھا بوجھل قدموں سے لافٹر  کلب کی طر ف چلدیا۔ عموماً میں یہاں گاڑی سے  آتا تھا۔ مگر آج سھیل بچوں کے ساتھ شہر گھومنے نکلا تھا۔ لہذا پیدل ہی چلدیا۔ گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ تاہم اتنا قریب بھی نہیں کے اس عمر میں ایک ہی بار میں دم لئے بغییر پہنچ جا وں۔ لہذا کچھ دیر سستانے کے لئے  یہاں رکا تو نائر سے ملاقات ہوئی۔ 
آج لافٹر کلب کے قہقہے بھیروی کا الاپ لگ رہے تھے۔ نائر کی اداس آنکھیں، اس کی تنہائی، اسکی بیماری اور بے بسی پورا وقت میرے آس پاس ہی خیمہ زن رہے۔ ان حالات نے پہلے تو میری مرحوم بیوی کی یادوں کے لئے چور راستہ بنایا۔ پھر اس  میں بچھی بارودی سرنگوں کو تیلی دکھائی۔ میں جلد ہی یہاں سے طائب ہوا اور واپسی کے لئے مڑگیا۔ 
آدھے گھنٹے بعد گھر پہنچا، معلوم پڑا بچے ابھی نہیں آئے۔ چھٹیوں کا پورا مزہ لے رہے تھے۔ آج گھر بیوہ کی مانگ جیسا سونا پن نشر کررہا تھا۔ پتا نہیں یہ سچائی تھی یا  نائر کی صحبت کا اثر۔ تاہم اکثر بزرگوں کا یہ درد اب مشترک تھا۔ کافی دیر انتظار کیا۔ شاید وہ لوگ باہر سے کھا کر آنے والے تھے۔ کھانا میرے لئے ضروری نہیں تھا۔ اس عمر میں ہوتا بھی نہیںْ۔ مگر اس کا کیا جائے کہ  ضعیفی میں انسان واپس بچوں جیسا ہوجاتا ہے۔ یا پھر چابی بھرے کھلونے جیسا۔ بہت سوں کو اگلی سانسوں کی بحالی کے لئے وقفے وقفے سے دوائی نامی چابی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور ان چابیوں کو گھمانے کے لئے غذا نامی گراری کی۔ لہذا  میں نے کھانا زہر مار کیا۔ پھر اگلی سانسوں کی بحالی کے جتن کئے اور سوگیا۔ اگلے پندرہ منٹ کے اندر انٹا غفیل ہونے میں میرا  اپنا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ کمال اسی چابیوں کے گچھے کا تھا۔ جس میں سے ایک کے ماتھے پر اینٹی ڈپرسینٹ لکھا ہوا تھا۔
اگلے چار پانچ دن  نائر نظر نہیں آیا ۔ شاید کہیں چلا گیا تھا یا پھر اتفاقات  کا دریا مخالف سمت بہہ نکلا تھا۔  میں سر جھٹک کر اپنے معمول پر چلتا رہا۔ میرا معمول بھی کوئی زیادہ خوشگوار نہیں تھا۔ ڈھاک کے وہی تین پات۔ صبح عام سی ہوتی تھی۔ یوگا، نہانا، کھانا اور ٹی وی، شام کی چائے پھر پارک، پھر رات کاکھانا پھر دوائی۔  اگلے دن پھر سے  پھر کی وہی تکرار۔ پچھلے دن کےسارے معمولات کی ڈیٹا شیٹ من و عن اگلے دن کی وال پر کاپی پیسٹ ہوجاتی۔ یہ ساری چیزیں  پہلے مجھے اتنا  کھٹکتی نہیں تھی۔ نائر نے میری ساتویں حس کو جگا دیا تھا۔ میری آنکھ اب خوردبینی ہوچلی تھی۔ ہر چیز کو زوم کرکے دیکھنے لگی تھی۔ 
کچھ دن بعد ایک شام نائر پھر نظر آگیا۔ بالکل اسی حلیے میں تھا۔ اسی طرح ایک ہاتھ میں موبائل۔ دوسرے میں کتے کی رسی۔ چہرے پرفکر وں کا جال۔ معمول کے ہائے ہلو کے بعد اس گہرے ہوتے سناٹے  کی جھیل میں پہلا پتھر اسی کا تھا۔
’’کل ہاسپٹل گیا تھا’’۔
’’ہوں۔۔۔’’
 اس عمر میں یہ کوئی انہونی تو تھی نہیں۔ جس پر میں حیرت کا اظہار کرتا۔ 
’’الضائمر کی ابتدا ڈائگنوس ہوئی ہے’’۔
حیران تومیں اب بھی نہیں تھا۔ ہاں پریشان ضرور ہوا۔ پھر بھی چپ رہا۔ کیا کہوں۔ کچھ دیر کے سناٹے کے بعد نائر خود ہی بول پڑا۔
’’اب میں اولڈ ایج ہوم میں بھرتی ہونے کا سوچ رہا ہوں‘‘ 
’’اس میں کونسی لاجک ہے بھائی’’۔ 
خود میری آواز مجھے کسی گہرے کنوئیں سے آتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
’’میرے ایک پڑوسی کو 3 سال پہلے ان کے بچوں نے کنبھ کے میلے مین چھوڑ دیا تھا’’۔
’’تو ۔۔۔’’
’’میرے بچے بھی ایسا کریں گے’’۔
 ’’بکواس۔ ایسے کیسےْ۔ تم سوچتے بہت ہو’’۔
’’میرا پڑوسی اب تک واپس نہیں پہنچا’’۔ 
میری بات سنی ان سنی کرکے کہنے لگا۔ اب کے شاید وہ اپنے آپ سے بھی مخاطب تھا ۔
 ’’کیسے نہیں پہنچا۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں، دنیا سمٹ کر مٹھی میں آگئی ہے بھائی’’
’’دنیا ان کی مٹھی میں ہوتی ہے۔جن کا دماغ  بس میں ہوتا ہے’’۔
مجھے یاد آیا۔ آج نائر اتنا بے چین کیوں ہے۔ الضائمر دماغ کے ساتھ ساتھ اس کے حوصلوں میں بھی سیندھ لگا رہا تھا۔یہ بات مجھے بھی دکھی کرگئی نائر لاکھ الضائمر زدہ سہی۔ لاکھ قنوطیت پسند سہی لیکن اس کے اندیشوں کی تلچھٹ میں فکر کے کئی رنگ مخفی تھے۔ میں کیا بولتا۔ نہ بولنے کا موقع تھا۔نہ الفاظ۔ میں نے اپنی چپی پر مزید گہرے پردے اوڑھ لئے۔ بس اسے دیکھتا رہا۔ اس کے شک کی سوئیاں غلط سمت نہیں تھیں۔
’’میری پریشانی بڑھاپا یا بیماری نہیں ہے۔ اکیلا پن اور بے بسی کا کیا کروں‘‘۔ 
کھوں کھوں کے ایڈ کے بیچ اصل کانٹینٹ  مگر سچ کا تھا۔ 
’’بچوں کا نہیں تو پوتے پوتی کا خیال کرو۔ وہ تو پوچھتے ہوں گے تم کو’’
 ’’چھوڑو یار۔آتے جاتے ٹکراو ہوجاتا ہے تو ہائے، ہلو کا ایک ادھ سکا اچھال دیتے ہیں بس’’۔ اس کی زبان ریس کے میدان میں فیراری بن چکی تھی۔
’’پیرینٹس ایک پھلدار درخت کی طرح ہوتے ہیں۔ ابھی ان کو تمھاری ضرورت ہوگی‘‘۔ میں نے اپنے تجربے کی آخری پینی بھی خرچ کردی۔
’’ میرے بھائی بچے اسی وقت تک آپ میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ جب تک آپ پھل دے رہے ہوں ۔ جیسے ہی پھل  رک گئے۔ شجر ممنوعہ بنا دیتے ہیں‘‘ 
نائر کی بات جتنی سخت تھی اتنی ہی سچ بھی تھی۔ ہر گذرنے والا دن بزرگوں کو زیادہ بے وقعت کرتا جارہا تھا۔ سائینس اور اس کی ایجادات جہاں نئے جہانوں کو کھوج رہی تھی، وہیں پرانے رشتے گم بھی ہورہے تھے۔ بزرگوں کے تجربے اور ہنر کی نئی نسل کو ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ انہوں نے چور راستے ڈھونڈ لیے تھے۔ چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی کی مدد  سے پیرانہ سالی کو حاشیے پر دھکیلا جا رہا  تھا۔
نائر اگلے دو ہفتوں تک نطر نہیں آیا۔ ممبئی کے باہر تھا یا شاید بیمار۔ کہیں وردھ آشرم تو نہیں پہنچ گیا۔ یہ خیال کچوئے کے سر کی طرح میرے سر میں ابھرنے لگا۔ ایک دن اس کی واٹس اپ ڈی پی پر ریسٹ ان پیس لکھا دیکھا تو آناً فاناً فون کرنا پڑا۔ نائر کی بیٹی سے ملی اس کی اچانک موت کی خبر مجھے اندر تک دکھی کرگئی۔ 
آج کل میں گارڈن نہیں جا رہا تھا۔ مجھ پر ہونے والے  اداسی کے حملوں کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ میرے بچوں کی واکیشن ختم ہورہی تھی۔وہ واپسی کی تیاری میں تھے۔ لہذا سارا وقت ان کے ساتھ ہی رہنے لگا تھا۔ 
بڑھاپے کی نیند مٹی کے کچے برتنوں جیسی ہوتی ہے۔ زرا سی آہٹ بھی اسے توڑ دیتی ہےْ۔ ایک رات میری اینٹی ڈپرسینٹ والی نیند کو بھی فون کی رتی بھر بیپ نے توڑدیا۔ لیکن میسیج تو جوڑنے کا تھا۔ ساری کوفت جاتی رہی۔ دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے سہیل کبھی میرے جنم دن سے غافل نہیں ہوتا تھا۔ آج بھی سب سے پہلے رات بارہ بجتے ہی اسکا مبارکباد والا میل آگیا۔ مگر وہ تو گھر ہی میں ہے۔ ساتھ مل کر مناسکتے تھے۔ میں نے سوچا۔ شاید میرے آرام کا خیال آیاہو۔ میں نے موبائل نکالا اور اس کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری گھنٹی پر بہو نے فون اٹھایا ۔
’’کیا بات ہے پاپا خیریت تو ہے۔ اتنی رات کو آپ کا فون’’۔ 
رات کے اس پہر بغل والے کمرے سے بیمار بزرگ کے طرف سے کال آئے تو جوان ہاتھ پاوں کا پھولنا بنتا ہے۔
’’میں سہیل کو اٹھاتی ہوں وہ گھبراگئی تھی’’۔
’’ارے نہیں سب ٹھیک ہے بیٹے۔ کیا سہیل سورہا ہے’’
’’جی وہ تو دس بجے ہی سوگئے آج’’۔ 
اچھا۔ چلو تم بھی سوجاو۔جنم دن کی مبارکباد کا میسیج  آیا تھا سھیل کے میل سے۔ سوچا بات کرلوں۔ مگر یہ ہوا کیسے’’۔
’’سسٹم خود ہی اپنے وقت پر آٹومیٹک بھیج دیتا ہے پاپا’’۔
’’مطلب’’
’’وقت اور تاریخ ریمائنڈر میں فیڈ کیا ہوا ہے نا ۔۔۔۔ پہلے سے’’۔
 میں ہونق سا ہوکر موبائل کو کچھ دیر تک گھورتا رہا۔ پھر میرے لرزتے ہاتھ خود بہ خود اینٹی ڈپرسینٹ کی نئی پیکٹ کھوجنے لگے ۔
۔۔۔ختم شد۔۔۔
_______

  ❣️
جنوں کے ساتھ یاری ہو گئی ہے
عجب سی ہوشیاری ہو گئی ہے
جسے ذرخیز کہتا تھا مزارع ،
وہ مٹّی بھی تو کھاری ہوگئی ہے
ذرا آرام اب کرنا پڑے گا!
ہماری سانس بھاری ہو گئی ہے
نگاہیں اب تو نیچی کر کے چلیے
جواں بیٹی تمھاری ہو گئی ہے
نہ جانے اس صدی میں اور کیا ہو!
خلاؤں کی تو باری ،ہو گئ ہے 
ابھی جب معرکہ جیتا نہیں ہے
تمھیں کیوں جان پیاری ہوگئی
'شرافت' جانے کب ناوک فگن ہو
یہ 'لڑکی' بھی 'شکاری' ہو گئی ہے 
محمود احمد محمود
(نوی ممبئی)
8097357855

(رومان اختر ما لیگ/۔۔مقصود شرقی کا چھوٹا بھائی)
________
غزل
بدن جھڑے تو کپاسوں کے رنگ اڑنے لگے
کئی غلیظ مشینوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
کئی لبوں کی عیادت کو ملتوی کر کے
وہ ہنس پڑا تو دلاسوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
غریب شخص کی شہرت، حسد اُگاتی ہے
کنول کِھلا تو گلابوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
ہمارے پاؤں کے جھڑنے کی بات پھیل گئی
تمام شہر کی سڑکوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
جھلک رہی تھی کفن سےسفید کلکاری 
بڑے بزرگوں کی قبروں کے  رنگ اڑنے لگے
۔
دعا کو ہاتھ اٹھائے تو رزق آن گرا
پھر اس کے بعد جو کاسوں کے رنگ اڑنے لگے
--
فرزاد علی زیرک
Ghazal
yahan to sirf kapaason ke rang udney lagey
udhar ghaleez machinon ke rang udney lagey
.
kayi labon ki ayadat ko multawi kar ke
woh hans para to dilasoon ke rang udney lagey
.
ghareeb shakhs ki shohrat, hasad ugaati hai
kanwal khilla to gulabon ke rang udney lagey
.
hamaray paao’n ke jhadne ki baat phail gayi
tamam shehar ki sarkon ke rang udney lagey
.
jhalak rahi thi kafan se safaid kilkaari
barray buzurgon ki qabron ke rang udney lagey
.
dua ko haath uthaye to rizq aan gira
phir us ke baad jo kaason ke rang udney lagey
--
#alizeerak

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...