جانوروں کی پکڑدھکڑ کرنے والوں پر کارروائی کی جائے
نواب ملک اور ثنا ملک کی قیادت میں قریش برادری کی نائب وزیر اعلی اجیت پوار سے ملاقات
ممبئی: ریاست مہاراشٹر میں جانوروں کی پکڑدھکڑ سے پریشان قریش برادری کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ریاست کے سابق کابینہ وزیر نواب ملک اور انوشکتی نگر حلقے کی رکن اسمبلی ثنا ملک کی قیادت میں فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کے ایک وفد نے ریاست کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مہاراشٹر کی ڈی جی پی رشمی شکلا، این سی پی کے رہنما نجیب ملا، ایم ایل سی گھوڈگے اور قریش برادری کے ذمے داران موجود تھے۔ رکن اسمبلی ثنا ملک نے بتایا کہ گزشتہ دنوں قریش برادری کی مختلف تنظیموں نے ہم سے رابطہ کیا اور جانوروں کی بے جا پکڑدھکڑ اور تشدد کرنے کی شکایت کی جس کے بعد ہم نے قریش برادری کو ان مسائل کو حل کرانے کا یقین دلایا اور اس ضمن میں آج منترالیہ میں نائب وزیر اعلی اجیت پوار سے ملاقات کی گئی۔ اس موقع پر اجیت دادا کو بتایا گیا کہ کس طرح سے ریاست میں قریش برادری کو پریشان کیا جا رہا ہے اور جانوروں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے جس پر نائب وزیر اعلی نے ریاست کی ڈی جی پی کو یہ ہدایت دی کہ ریاست میں صرف پولیس کے علاوہ کوئی بھی قریش برادری کی گاڑیوں کو نہ روکیں اور اگر کوئی گاڑی کو روکتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ نائب وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی گاڑی کو روکا جاتا ہے اور اس میں جانور زیادہ پائے جاتے ہیں تو گاڑی پر کارروائی کی جائے اور جانوروں کی رسید ہونے پر جانور اس کے مالک کے حوالے کر دئے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست کے سابق کابینہ وزیر نواب ملک کی قیادت میں قریش برادری کا ایک وفد دہلی میں مرکزی وزیر نتن گڈکری سے ملاقات کرے گا اور ایم وی اے ایکٹ میں تبدیلی پر بات کرے گا تاکہ قریش برادری کو راحت مل سکے۔
آج بروز بدھ 6 اگست 2025مہاراشٹر پردیس راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر ششی کانت شندے صاحب کے ہاتھوں سلیم رضوی صاحب صدر مالیگاوں کی قیادت میں ناسک آفس پر پارٹی اجلاس میں شیخ شکیل المعروف الطاف بھائی کو راشٹروادی کامگار سیل مالیگاوں شہر کے صدر کا عہدہ تفویض کیا گیا۔
ساتھ ہی ساتھ اسلم انصاری سوشل میڈیا کو جنرل سیکرٹری نامزد کیا گیا۔
یہ دونوں احباب گزشتہ کئی ماہ سے مزدوروں کے مسائل حل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اسی دوران ان لوگوں نے سلیم رضوی کے سامنے اپنی باتوں رکھا اور اپنے اور مالیگاوں شہر کے پاورلوم مزدوروں کے حق میں کام کرنے کے عزم کو دوہرایا۔ان کی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر کے کامگار لیڈر ریاستی صدر ششی کانت صاحب سے سفارش کر انہیں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے کامگار سیل کے صدر کا عہدہ سنبھالنے اور پارٹی کے کاموں کو عوامی مفادات کے لئے کرنے کی ذمہ داری دی گئی اس موقع پر راشٹروادی کانگریس مالیگاوں تعلقہ صدر سندیپ پوار صاحب، دینش ٹھاکرے صاحب، فرحان بھائی، ذیشان بھائی، شعبان تمبولی صاحب، کے ساتھ ساتھ پارٹی کے سیکڑوں کارکنوں کی موجودگی رہی ۔
امریکی آرمی بیس پر حملہ، 5 فوجی بری طرح زخمی، امریکی سرزمین پر بھی محفوظ نہیں ٹرمپ کی فوج
جارجیا: جنوب مشرقی جارجیا میں فورٹ سٹیورٹ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں پانچ فوجی زخمی ہو گئے۔ یہ اطلاع بیس کے سرکاری سوشل میڈیا پوسٹ سے ملی ہے۔ یہ معلومات قلعہ کی ایک سرکاری سوشل میڈیا پوسٹ میں دی گئی۔ تھرڈ انفنٹری ڈویژن کے کمانڈنگ جنرل جان لوباس کے مطابق، مشتبہ شخص کی شناخت کورنیلیس ریڈفورڈ کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک آٹومیٹک لاجسٹک سرجنٹ ہے۔ ریڈفورڈ نے اپنے ساتھی فوجیوں پر اپنی ذاتی بندوق سے حملہ کیا۔
لوباس نے بدھ (مقامی وقت کے مطابق) کو ایک پریس کانفرنس میں کہا، ‘میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ یہ کوئی فوجی ہتھیار نہیں تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ذاتی پستول تھا۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم ابھی تک اس مقصد سے پوری طرح واقف نہیں ہیں، لیکن فوج کے تفتیش کاروں نے اس سے پوچھ گچھ کی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں جلد ہی مزید معلومات مل جائیں گی۔’ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق شوٹر کو اس سے قبل نشے میں ڈرائیونگ کے الزام میں مقامی طور پر گرفتار کیا جا چکا
ایف بی آئی مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہی ہے
اڈے پر صبح 11:04 بجے (مقامی وقت کے مطابق) لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا اور دوپہر کو مکمل طور پر اٹھا لیا گیا تھا۔ فورٹ نے کہا کہ زخمی فوجیوں کا موقع پر ہی علاج کیا گیا اور پھر انہیں ون آرمی کمیونٹی اسپتال لے جایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ دوپہر تک تمام متاثرین کی حالت مستحکم تھی اور ان کے صحت یاب ہونے کی امید تھی۔ فورٹ سٹیورٹ، جو سوانا شہر سے تقریباً 64 کلومیٹر جنوب مغرب میں ہے، دریائے مسیسیپی کے مشرق میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ ایف بی آئی (فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن) اٹلانٹا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اس کا سوانا دفتر فوج کی کرمنل انویسٹی گیشن برانچ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
برگر کنگ میں مچ گئی ہلچل
اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں فوجی اہلکاروں کو موقع سے نکالتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اڈے پر موجود برگر کنگ ریسٹورنٹ کے منیجر نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے بعد انہوں نے فوری طور پر اپنے عملے کو ایک محفوظ کمرے میں چھپا لیا۔ یہ سیل بند کمرہ ایسے حالات کے لیے بنایا گیا ہے، تاکہ بیرونی دنیا سے پوری طرح الگ تھلگ ہویا جا سکے
کسانوں کے مفادات سے نہیں کیا جائے گا کوئی سمجھوتہ، ہرقیمت چکانے کوہوں تیار، پی ایم مودی کا ٹرمپ کوجواب
وزیراعظم نریندرمودی نے صاف کردیا ہے کہ کسانوں اورماہی گیروں کے مفاد سے کوئی سمجھوتہ بھارت نہیں کرے گا۔امریکہ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کے معاملے پر پہلی بارپرائم منسٹر نے اپنا ردعمل دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسانوں کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وہ مویشی پالن کرنے والوں اور ماہی گیروں کے مفادات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ذاتی طور پر اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ ایک عرصے سے امریکی صدر بار بار بھارت کے خلاف ٹیرف لگانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس مہینے کے شروع میں، امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف کی بات کی تھی
پھر بدھ کے روز، صدر ٹرمپ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا۔ امریکی صدر کے بار بار بیانات کے باوجود بھارت عوامی سطح پر کوئی بھی بیان دینے سے گریز کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر سنجیدہ مذاکرات ہوئے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ڈیری اور زراعت کے شعبے کو امریکہ کے لیے کھولنے کے مطالبے پر مذاکرات ٹوٹ گئے۔ بھارت نے واضح کیا کہ وہ اس سیکٹر کو کسی قیمت پر نہیں کھول سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف وار پرگھرے ٹرمپ، رشتوں کو نہ کریں خراب ، نکی ہیلی نے کیا متنبہ
روس سے تیل کی خرید امریکہ کوگزر رہی ہے ناگوار
ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ بھارت ، روس سے تیل نہ خریدے ۔ اس کے لیے وہ بھارت پردباؤ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا حکم جاری کیا۔صاف ہے اس کی وجہ بھارت کاروس سے تیل کی مسلسل خریداری ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ قدم یوکرین جنگ کے باعث روس پر عائد پابندیوں کو مزید مؤثر بنانے کی سمت اٹھایا گیا ہے۔امریکہ بھارت کے ساتھ اپنی شرائط پر تجارتی معاہدہ چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان اپنے کسانوں کے فائدے کے لیے امریکہ کی من مانی تجارتی ڈیل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ اس طرح کے تجارتی معاہدے سے بھارت کے کسانوں اوردیگرشعبوں سے وابستہ کاروباریوں کو نقصان ہو۔
اسی دباؤ کی سیاست کے تحت ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ٹیرف کی دھمکی دے کر بھارت کو مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے پہلے 25 فیصد ٹیرف لگایا۔ اب اسے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس حکم کے بعد امریکہ میں ہندوستانی اشیاء پر کل ٹیرف 50 فیصد ہو جائے گا۔