تلنگانہ میں 42 فیصد BC ریزرویشن ہر قیمت پر نافذ ہوگا، چاہے صدر مانیں یا نہ مانیں ! ریونت ریڈی کا اعلان
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ نائب صدر کے امیدوار کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق این ڈی اے نے پی ایم مودی اور جے پی نڈا کو دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق این ڈی اے اپنے امیدوار کا نام 12 اگست تک عام کر سکتی ہے۔نائب صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی کی آخری تاریخ 21 اگست ہے اور انتخاب 9 ستمبر کو ہوگا۔ اس دن ووٹنگ اور گنتی دونوں ہی ہوں گے۔ یعنی اس دن فیصلہ ہو جائے گا کہ ملک کا اگلا نائب صدر کون ہوگا۔
نائب صدر کا انتخاب جیتنے کے لیے این ڈی اے کو مطلوبہ تعداد سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔ این ڈی اے کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں 457 سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ اس میں بی جے پی کے 240 لوک سبھا اور 99 راجیہ سبھا ممبران کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادیوں کے ممبران بھی شامل ہیں۔ الیکشن میں صرف ایم پیز اپنا ووٹ ڈالتے ہیں اور کُل تقریباً 788 ایم پیز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ اکثریت کے لیے تقریباً 395 ووٹ درکار ہیں، جبکہ این ڈی اے اس سے بہت آگے ہے۔ حالانکہ بی جے ڈی، وائی ایس آر کانگریس اور بی آر ایس جیسی پارٹیاں کسی بھی کیمپ سے براہ راست وابستہ نہیں ہیں، لیکن یہ پارٹیاں گزشتہ برسوں میں مسلسل حکومت کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں این ڈی اے کا دعویٰ اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔
سیاسی اشارہ کیا ہے؟
اس فیصلے میں این ڈی اے کے اتحاد کی جھلک نظر آتی ہے۔ نائب صدر کے عہدے کے لیے بی جے پی کے پاس اکثریت ہے، اس لیے پی ایم جس نام کا فیصلہ کریں گے، اس کا انتخاب جیتنا تقریباً یقینی ہے۔ نام کے اعلان سے پہلے کئی ممکنہ چہروں کے ناموں پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن حتمی فیصلہ لینے کا حق مکمل طور پر پی ایم مودی کے پاس ہے
اب سب کی نظریں 12 اگست پر ہیں، جب نام سامنے آسکتا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی اس عہدے کے لیے مشترکہ امیدوار کے بارے میں ذہن سازی میں مصروف ہے۔
شیئربازار میں گراوٹ ، نفٹی ٹاپ لوزرس میں یہ شیئرشامل
اسٹاک مارکیٹ کا آغاز گراوٹ کے ساتھ ہوا۔ سینسیکس 230 پوائنٹس پھسل کر 80,306 کے قریب کھلا۔ نفٹی 67 پوائنٹس گر کر 64,506 پر کھلا۔ جیسے ہی بازار کھلا، نفٹی آٹو، نفٹی فنانشل سروسز، میٹل اور ریئلٹی سیکٹر میں فروخت دیکھنے میں آئی۔
ساتھ ہی ایف ایم سی جی اور میڈیا سیکٹر میں خریدار دیکھی گئی۔ کھلنے کے وقت، نفٹی کے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں بجاج آٹو، ٹرینٹ، ایٹرنل اور نفٹی کے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں سیپلا اور نیسلے انڈیا کے حصص شامل تھے۔
گراوٹ کا سلسلہ
اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ سینسیکس 300 پوائنٹس پھسل گیا ہے اور 80,250 کے قریب کاروبار کر رہا ہے۔ نفٹی 90 پوائنٹس گرا ہے اور 24,482 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
روپے کی قدرمیں معمولی اضافہ
آج صبح کے کاروبار میں روپے میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپے کی قدر 3 پیسے بڑھ کر 87.69 ہوگئی۔ یہ معمولی اضافہ سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے اچھی خبر ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں ابھی بھی کچھ غیر یقینی صورتحال ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی بازارکی حالت
عالمی مارکیٹ میں بھی ملا جلا ردعمل ہے۔ جمعرات کو ایشیائی بازاروں نے مختلف انداز میں کاروبار شروع کیا۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 0.12 فیصد کمی ہوئی جبکہ ٹاپکس انڈیکس میں 0.45 فیصد اضافہ ہوا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.64 فیصد اور کوس ڈیک 0.57 فیصد گر گیا۔ آسٹریلیا کا S&P/ASX 200 انڈیکس 0.38فیصد
ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگا یا
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ، وہ ہندوستان سے درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کریں گے کیونکہ ہندوستان روس سے تیل خرید رہا ہے۔ اس سے بھارت امریکہ تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارت نے جواب دیا کہ اس کی تیل کی درآمدات قومی مفاد اور توانائی کی سلامتی کے لیے ہیں۔ جب روایتی سپلائرز یورپ کی طرف بڑھے تو ہندوستان نے روس سے تیل لینا شروع کیا۔ خام تیل کی قیمتیں بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ سرمایہ کار غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FIIs) اور گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (DIIs) کے فنڈ کے بہاؤ پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیک اور فارما جیسے بعض شعبوں پر دباؤ ہے، کیونکہ ٹیرف ان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔