Tuesday, 26 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مذہب نہیں، کرتوت دیکھ کر مارا... راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور پر پاکستان کو دیا کرارا جواب

جودھ پور : پیر کو جودھ پور میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور میں پڑوسی ملک کو ایسا جواب دیا گیا کہ اسے بھولنا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ پہلگام حملے کے دوران سیاحوں کو ان کا مذہب پوچھ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ۔ راج ناتھ نے واضح طور پر کہا کہ ہماری فوج نے دہشت گردوں کو کبھی ان کا مذہب یا ذات دیکھ کر نہیں مارا، بلکہ ان کے جرائم اور بداعمالیوں کو دیکھ کر مارا۔ یہ بیان جہاں ایک طرف پاکستان کے لیے وارننگ ہے، وہیں اہل وطن کے لیے یہ اعتماد کا پیغام بھی ہے کہ ہندوستان اب کسی سازش کو برداشت نہیں کرے گا۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ “فوج نے درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنایا۔” ان کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی فوج اب نہ صرف جوابی کارروائی کرتی ہے بلکہ دشمن کی سرزمین میں گھس کر سبق سکھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ وہی پیغام ہے جس نے سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کے دوران پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
مئی میں کئے گئے آپریشن سندور کا مقصد پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔ اس آپریشن میں کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے اور کئی بڑے دہشت گرد مارے گئے۔ دراصل، 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے حملے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اب دہشت گرد کیمپوں کو محفوظ طریقے سے پنپنے نہیں دیا جائے گا۔

اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان کی شناخت ہمیشہ سے ‘واسودھیو کٹمبکم’ یعنی پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنے والی رہی ہے ۔ لیکن جب دہشت گرد لوگوں کو ان کا مذہب پوچھ کر مارتے ہیں، تو ہندوستان سخت کارروائی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن سندور صرف انتقام نہیں تھا بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن مہم تھی۔
پروگرام کے دوران راج ناتھ سنگھ نے تعلیم کے میدان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آج تعلیم میں جو تبدیلی نظر آرہی ہے، وہی ہندوستان کی اصل طاقت ہے۔ نئی سوچ، نئی پالیسیوں اور جدید ڈھانچے کے ساتھ، ہندوستان کے نوجوان مستقبل کو تشکیل دے رہے ہیں۔
مودی نے ٹرمپ ٹیرف پالیسی پر بھارت کے کسانوں کے مفادات کا دفاع کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف اور روسی تیل کی خرید و فروخت پر اضافی جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز ایک بالواسطہ پیغام دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے، ایسے میں مودی نے کہا کہ ان کی حکومت چھوٹے کاروباریوں، کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے مفادات کو ہرگز نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔

وزیر اعظم نے کسی ملک کا نام لیے بغیر (اشارہ امریکہ کی جانب تھا) کہا کہ دنیا میں آج سیاست معاشی خود غرضی پر مبنی ہے۔ احمد آباد میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
آپ سب اس وقت دنیا میں ہونے والی خود غرضانہ اقتصادی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ احمد آباد کی اس سرزمین سے میں چھوٹے صنعتکاروں، دکانداروں، کسانوں اور مویشی پالنے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مودی کے لئے آپ کا مفاد سب سے مقدم ہے۔ میری حکومت چھوٹے صنعتکاروں، کسانوں یا مویشی پالنے والوں کو کسی بھی دباؤ کے باوجود نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔ ہم اپنی طاقت بڑھاتے رہیں گے تاکہ ہر طرح کے دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔‘‘

بھارت نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو ’’غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر مناسب‘‘ قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے 7 اگست کو ایک اور تقریب میں کہا تھا کہ وہ کسانوں، ماہی گیروں اور ڈیری فارمرز کے مفاد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ’’ہمارے لئے کسانوں کا مفاد سب سے اہم ہے۔ بھارت کبھی کسانوں، ماہی گیروں اور ڈیری فارمرز کے مفاد پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مجھے ذاتی طور پر اس کے لیے بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے، لیکن میں تیار ہوں۔ آج بھارت اپنے کسانوں، ماہی گیروں اور ڈیری فارمرز کے لئے پرعزم ہے۔‘‘
بھارت کا مغرب کے ’’دوہرے معیار‘‘ پر سوال
امریکہ کی جانب سے بھارت کو روسی تعلقات پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے، اس دوران قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حال ہی میں ماسکو کا دورہ کیا تاکہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ وزیر اعظم مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن ایک ماہ میں دو بار ٹیلیفون پر بات کر چکے ہیں۔

ماسکو میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جے شنکر نے کہا کہ دراصل امریکہ نے ہی بھارت کو روسی تیل خریدنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یورپی یونین روسی ایل این جی کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
جے شنکر نے کہا: ’’ہم وہ ملک نہیں ہیں جنہوں نے 2022 کے بعد روس کے ساتھ سب سے زیادہ تجارت بڑھائی۔ کچھ جنوبی ممالک نے ایسا کیا ہے۔ امریکہ نے خود کہا تھا کہ عالمی توانائی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے روسی تیل خریدنا چاہیے۔ ویسے ہم امریکہ سے بھی تیل خریدتے ہیں، اور اس کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں‘‘بات چیت ختم نہیں ہوئی۔ لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے لئے بنیادی ’ریڈ لائنز‘ کسانوں اور چھوٹے پروڈیوسرز کے مفادات ہیں۔‘‘
جے شنکر نے صدر ٹرمپ کی طرزِ پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم نے اس سے پہلے ایسا امریکی صدر نہیں دیکھا جو خارجہ پالیسی کو اتنے کھلے عام انجام دے۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے، جو صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے ساتھ امریکی رویے کا حصہ ہے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے ہی ’’امریکہ فرسٹ‘‘ پالیسی کو مزید سخت انداز میں لاگو کیا ہے۔ بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا مقصد امریکی مصنوعات کو ترجیح دینا اور روس کے ساتھ بھارت کی توانائی شراکت داری کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے کسانوں، چھوٹے کاروباریوں اور توانائی کے مفادات پر کسی دباؤ میں سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ معاملہ نہ صرف تجارت بلکہ جغرافیائی سیاست میں بھارت کے توازن کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں وہ روس اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
جلد میں نکھار کا راز، غذا میں شامل کریں یہ 8 زبردست پھل

پپیتا: پپیتا وٹامن اے، وٹامن سی اور پپین انزائم سے بھرپور ہوتا ہے، جو جلد کے مردہ خلیوں کو ہٹانے میں مدد کرتا ہے۔ یہ قدرتی ایکسفولییٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور جلد کو اندر سے صاف کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے جلد کی رنگت بہتر ہوتی ہے اور داغ دھبے کم ہوتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

مالویہ نگر، لکھنؤ کے بعد اب دہلی کے ادیوگ بھون کے قریب آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو گئیں جھگیاں ، آخر کب تک معصوم زندگیاں ہوتی رہی...