پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان سے منگل کو اڈیالہ جیل میں ان کی بہنوں کی ملاقات ہوئی۔ ملاقا ت کے بعد عمران خان کی بہن علیمہ خان نے جیل سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے پیغام سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ علیمہ خان کا کہنا تھاکہ ہم کارکنان کے شکرگزارہیں وہ ہمارے ساتھ یہاں کئی مہینوں سے کھڑے رہے، ہم 3 ماہ سے آرہے تھے ملاقات کرنے نہیں دے رہے تھے اور اللہ کا شکر ہے آج ہماری عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے، چار مہینے بعد ہم سب بہنوں کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی گئی۔علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچاتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے سزاؤں اور نااہلیوں پر کہا ایسا کبھی پاکستان میں نہیں ہوا،جس طرح کرکٹ کو محسن نقوی نے تباہ کردیا ہے اسی طرح آرمی چیف عاصم منیر ملک کو تباہ کرنے پر تلُے ہوئے ہیں۔
علیمہ خان کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین محسن نقوی نے جس طرح کرکٹ کو تباہ وبرباد کردیا۔ ٹھیک اسی طرح ملک کے چیف آف آرمی ا سٹاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کو تباہ کر رہے ہیں
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا پیغام ہے کہ قید تنہائی سمیت سخت مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود نہ میں ٹوٹا ہوں اور نہ ٹوٹوں گا۔ علیمہ نے اپنے بھائی کے غیر متزلزل عزم کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کا پیغام ہے ’’چاہے آپ ہمارے ساتھ (میرے اور بشریٰ بی بی) کے ساتھ جو چاہیں کریں ، ہم نہیں جھکیں گے۔‘‘“مجھ پر اور میرے خاندان پر ہونے والا تشدد ہمیں توڑ نہیں سکتا”، انہوں نے ظلم و ستم کی براہ راست ذمہ داری آرمی چیف پر ڈالی۔
علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کو ملک کی بگڑتی حالت پر تشویش ہے۔ انہوں نے عمران خان کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ “پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے،” انہوں نے ان کے حوالے سے کہا، “میڈیا سمیت تمام ادارے سمجھوتہ کر رہے ہیں۔”
خان نے الزام لگایا کہ نظام انصاف اور پریس اب آزاد نہیں رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے موجودہ انتظامیہ پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ایسے کسی بھی حقوق کو تحفظ نہیں دیا جاتا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارت سے درآمد ہونے والی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 27 اگست 2025 کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 1 منٹ سے نافذ العمل ہوگا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق یہ نوٹیفکیشن خاص شرح کے ڈیوٹی ریٹ کے نفاذ کے لیے ہے جو بھارت سے درآمد کی جانے والی مخصوص مصنوعات پر لاگو ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا’’اس دستاویز کے ضمیمے میں درج ڈیوٹیز بھارت کی ان مصنوعات پر لاگو ہوں گی جو 27 اگست 2025 کی نصف شب کے بعد درآمد یا کسٹم ویئر ہاؤس سے نکالی جائیں گی۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جو یکم اگست 2025 کی ڈیڈ لائن سے قبل نافذ کیا گیا۔ انہوں نے مزید دھمکی دی تھی کہ بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف بھی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ بھارت روسی تیل خرید رہا ہے اور اس طرح یوکرین جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔
اس صورتحال کے بعد طے شدہ 25 اگست کو ہونے والے امریکا۔بھارت تجارتی مذاکرات ملتوی کر دیے گئے، اور ان کی نئی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔
وزیراعظم مودی کا ردعمل
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے متعدد عوامی فورمز پر کہا ہے کہ کسانوں کے مفادات پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پیر کو احمد آباد میں ایک عوامی خطاب میں مودی نے واضح کیا کہ ان کی حکومت چھوٹے کسانوں، چھوٹے کاروباری افراد اور مویشی پالنے والوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اور انہیں کسی نقصان کی اجازت نہیں دے گی۔
مذاکرات اور صنعت کاروں کا موقف
امریکا۔بھارت تجارتی اداروں نے وائٹ ہاؤس سے اپیل کی ہے کہ اضافی ٹیرف کے نفاذ کو 90 دن کے لیے مؤخر کیا جائے تاکہ مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل ہو سکے۔
ذرائع نے سی این بی سی۔ٹی وی18 کو بتایا کہ بھارت نے گزشتہ مہینوں میں امریکا سے تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اگر یہ ٹیرف عارضی طور پر مؤخر کیا جائے تو بھارت کو روسی تیل کی درآمدات کم کرنے کے لیے مہلت مل سکتی ہے، جو بیک وقت بھارت اور امریکا دونوں کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مدت میں ’’امریکا فرسٹ‘‘ پالیسی کے تحت متعدد ممالک پر سخت تجارتی اقدامات کیے تھے۔ چین پر بلند شرح ٹیرف کے بعد بھارت بھی امریکی ہدف بنا۔ روس۔یوکرین جنگ کے تناظر میں امریکا بھارت پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ روس سے توانائی کی خریداری بند کرے، لیکن بھارت اپنی توانائی ضروریات اور رعایتی قیمتوں کی وجہ سے روسی تیل پر انحصار جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ نیا فیصلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
آم کو دودھ کے ساتھ کھانا بہت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے
آم میں وٹامن اے وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ڈائیٹ ٹو نرش کی شریک بانی پرینکا جیسوال نے لوکل 18 کو بتایا کہ وہ اس شعبے میں 10 سال سے زیادہ عرصے سے لوگوں کو صحت مند غذا کے بارے میں ٹپس دے رہی ہیں۔ انہوں نے مانو رچنا انٹرنیشنل یونیورسٹی فرید آباد سے فوڈ اینڈ نیوٹریشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ جس کے بعد وہ دہلی کے کئی بڑے اسپتالوں میں بھی کام کر چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دودھ اور خربوزے کا امتزاج انتہائی صحت بخش سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے بہت سے لوگوں کو دودھ اور خربوزے کی اسمودی اور شیک بنا کر پیتے دیکھا ہوگا۔ خربوزے میں وٹامن اے وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو بینائی کو بہتر بنانے اور موتیا بند کے مسئلے کے علاج میں کافی فائدہ مند ہے، اس لیے دودھ اور خربوزے کا استعمال بہت اچھا امتزاج سمجھا جاتا ہے۔
خشک میوہ جات دودھ کے ساتھ کھانا بہت صحت بخش ہے۔ خشک میوہ جات اور دودھ کا استعمال ہمارے دل کو صحت مند رکھتا ہے۔ کولیسٹرول کنٹرول میں رہتا ہے اور قبض کی شکایت نہیں ہوتی ۔ اس کے ساتھ خشک میوہ جات یادداشت کو بھی بڑھاتے ہیں۔
دودھ کے ساتھ شہد کا استعمال کرشمہ سمجھا جاتا ہے۔ ان دونوں چیزوں میں بہت سے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ دودھ میں وٹامنز، کیلشیم، پروٹین اور منرلز وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ وہیں شہد میں اینٹی آکسیڈنٹس، اینٹی بیکٹیریل، اینٹی فنگل اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات موجود ہوتی ہیں، دودھ اور شہد کا استعمال قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے، ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں، گلے کی خراش ٹھیک ہوتی ہے اور نیند اچھی طرح آتی ہے ۔