اسلام پارٹی سے اتحاد کرنا، سماجوادی پارٹی کے اُصولوں کے خلاف! جاوید انور
انڈیا الائنس، مہا وکاس اگھاڑی کی سیکولر پارٹیوں سے گٹھ بندھن ہونا چاہئے!
گذشتہ کئی دنوں سے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے ہونے والے الیکشن کے لئے سماجوادی پارٹی کے اسلام پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے بارے میں چرچا سنائی دے رہی ہے. سوشلسٹ نظریات رکھنے والی سماجوادی پارٹی پارلیمنٹ کے ممبران کی تعداد کے لحاظ سے آج پورے بھارت ملک کی تیسرے نمبر کی سب سے بڑی پارٹی ہے. اور نظریات کے لحاظ سے بھارت کی سب پرانی پارٹیوں میں سے ایک ہے۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور جئے پرکاش نارائن کی قائم کردہ، چندر شیکھر اور ایس ایم جوشی نے جسے سنبھالا، ملائم سنگھ یادو نے جسے نئی زندگی عطا کی. ایسی شاندار خوبیاں رکھنے والی سماجوادی پارٹی کا میونسپل کارپوریشن کارپوریشن کے الیکشن میں اتحاد کرنے کے لئے مالیگاؤں میں ابھی ابھی نئی نئی پیدا ہونے والی پارٹی کی چوکھٹ پر جانا کُچھ عجیب سا لگتا ہے. اس پر طرہ یہ کہ اسلام پارٹی کے لوگ سماجوادی پارٹی سے اتحاد کرنے کے موڈ میں بھی نہیں ہیں. یہی وجہ ہے کہ بار بار ان کی طرف سے یہ بیان آتا ہے کہ سماجوادی سے اتحاد کے بارے میں ابھی مشورہ کرنا ہے. ابھی کل بھی اس تعلق سے خبر دیکھنے میں آئی کہ آنے والے سنیچر مورخہ 30 آگست کو اسلام پارٹی کی میٹنگ میں سماجوادی پارٹی سے اتحاد کرنے یا نہ کرنے پر چرچا کی جائے گی.
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سماجوادی پارٹی، جس کی بنیاد سیکولرزم پر رکھی گئی تھی، اُس کا اتحاد بولنے اور لکھنے میں جس کو جان بوجھ کر " اسلام" پارٹی کے نام سے نمایاں کیا جاتا ہے، ایسی ایک خاص مذہب کے نام والی پارٹی سے اتحاد کرنا سماجوادی پارٹی کے سیکولر نظریات اور اصولوں کے خلاف نہیں ہے کیا؟
ہماری رائے تو ایسی ہے کہ چھ سال پہلے مہاراشٹر میں جس طرح سیکولر پارٹیوں نے اکٹھا ہو کر بی جے پی کے خلاف ریاست میں مہا وکاس اگھاڑی کی سرکار بنائی تھی، اور ڈیڑھ سال پہلے پورے بھارت دیش کی سبھی سیکولر پارٹیوں نے ایک ساتھ آ کر انڈیا الائنس کے نام سے اتحاد کر کے پارلیمنٹ الیکشن میں بی جے پی کے چار سو پار کے نعرے کو ناکام بنایا تھا، اسی طرح مالیگاؤں میں سماجوادی پارٹی کو سیکولر پارٹیوں کو ساتھ میں ملا کر میونسپل کارپوریشن کا الیکشن لڑنا چاہئے۔ اور"اتحاد المسلمین"اور "اسلام" نام رکھ کر ایک خاص مذہب کی طرف جھکاؤ رکھنے والی پارٹی ہو، یا "ہندو راشٹر" کا نعرہ لگانے والی پارٹی ہو، دونوں کی فرقہ پرستی کے خلاف سیکولر نظریات کی پارٹیوں کے ساتھ گٹھ بندھن کرنے کے لئے سماجوادی پارٹی کو آگے آنا چاہئے. میں خود بھی بارہ ربیع الاول عید میلادالنبی صلی االلہ علیہ وسلم کے بعد اس سلسلے میں اپنی بساط بھر کوشش کروں گا. اس طرح کا بیان جاوید انور نے اخبارات اور میڈیا میں اشاعت کے لئے دیا ہے.
مودی نے ٹرمپ کے چار فون کالز لینے سے انکار کر دیا : جرمن اخبار کا دعویٰ
واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں کشیدگی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ جرمن اخبار فرینکفرٹر الگمائنے (FAZ) نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والی کم از کم چار فون کالز کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ یہ اقدام اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ نئی دہلی نہ صرف غصے میں ہے بلکہ امریکی دباؤ کے حوالے سے محتاط حکمت عملی بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ٹیرف تنازعہ اور تجارتی جنگ
یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر درآمدی ٹیرف دوگنا کرکے 50 فیصد تک پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی خام تیل کی روس سے خریداری پر 25 فیصد اضافی ڈیوٹی بھی لگا دی گئی۔ یہ شرح دنیا میں برازیل کے بعد کسی بھی ملک کے لیے سب سے زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کھلے عام یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کے کسانوں اور ملک کے معاشی مفادات پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جرمن اخبار کے مطابق بھارت کی یہ مزاحمتی پالیسی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ نئی دہلی واشنگٹن کے دباؤ کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’مودی کو امریکی رویے سے ذاتی طور پر بھی توہین محسوس ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کی فون کالز لینے سے گریز کیا۔‘‘
پاکستان کا کردار اور تعلقات میں مزید سرد مہری
رپورٹ میں اس پہلو کو بھی اجاگر کیا گیا کہ ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں حالیہ پالیسیوں نے بھارت میں ان کے تاثر کو مزید خراب کیا ہے۔ ٹرمپ نے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ پاک۔بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں ان کا کردار ہے۔ نئی دہلی نے ہمیشہ اس بیان کو رد کیا ہے اور اسے بھارتی داخلی امور میں مداخلت کے مترادف قرار دیا ہے۔
جاپانی اخبار نکئی ایشیا نے بھی اسی قسم کی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مودی کی جانب سے ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست گفتگو سے گریز کرنے سے امریکی صدر شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
چین اور انڈو۔پیسیفک حکمت عملی
امریکی تھنک ٹینک نیو اسکول نیویارک کے ماہر مارک فریزیئر (Mark Frazier) نے بھی FAZ کو بتایا کہ امریکہ کی انڈو۔پیسیفک حکمت عملی، جس میں بھارت کو چین کو قابو میں رکھنے کے لیے مرکزی حیثیت دی گئی تھی، اب ٹوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق:
’’مودی حکومت کبھی بھی حقیقتاً امریکہ کے ساتھ چین کے خلاف صف بندی میں شامل نہیں ہونا چاہتی تھی۔ بلکہ بھارت اور چین دونوں کی یہ خواہش ہے کہ عالمی اداروں میں اپنی اثرورسوخ بڑھائیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ چین کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری بھارت کی صنعت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، جبکہ بھارت بیجنگ کے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی اہداف کو تقویت دینے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کی یہ ’’حکمتِ عملی تبدیلی‘‘ محض امریکی ٹیرف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہری سوچ کا حصہ ہے، جس میں بھارت اور چین مشترکہ طور پر عالمی سطح پر اپنے کردار کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی اگست کے آخر میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کریں گے۔ یہ ان کا پہلا سرکاری دورہ چین ہو گا، جسے نہ صرف بیجنگ اور نئی دہلی کے تعلقات میں برف پگھلانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے بلکہ یہ امریکہ اور چین کے غیر یقینی تعلقات کے تناظر میں بھارت کی متوازن خارجہ پالیسی کا مظہر بھی ہے۔
ماہرین کی رائے
امریکی تھنک ٹینک سے وابستہ صحافی مائیکل کوگلمین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی مودی نے ٹرمپ کی فون کالز لینے سے انکار کیا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور دونوں رہنماؤں کی ذاتی دوستی ایک بحران سے گزر رہی ہے۔
مودی اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات ابتدا میں کافی دوستانہ تھے۔ ٹرمپ نے “Howdy Modi” جیسے ایونٹس میں شرکت کی اور دونوں رہنما ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہے۔
لیکن 2019 کے بعد سے تجارتی معاملات، روسی ہتھیاروں اور تیل کی خریداری، اور پاکستان پر امریکی رویے نے تعلقات کو متاثر کیا۔
بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں ’’اسٹریٹجک خودمختاری‘‘ پر زور دیتا ہے، یعنی کسی ایک ملک پر مکمل انحصار کے بجائے توازن قائم رکھنا۔
یہی وجہ ہے کہ چین اور روس کے ساتھ بھی تعلقات کو مستحکم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
22 منٹ نہیں جھیل پائے برہموس کا حملہ ، 'آئیرن مین آف ایشیاء' ، پاکستانی میڈیا کا غضب مذاق
حال ہی میں پاکستانی میڈیا کی جانب سے ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جسے جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ٹائمز نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ‘آئرن مین’ اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کا سب سے بااثر چہرہ قرار دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکی اخبار کے مضمون میں آئرن مین کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ شاید پاکستان نے خواب میں کچھ پڑھا ہے، جس کا وہ بہت پرچار کر رہا ہے۔
پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا آؤٹ لیٹ’ سما ٹی وی’ اس اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دے کر عاصم منیر کی تعریف کر رہا ہے۔ صرف ایک آرٹیکل کی بنیاد پر اس نے آرمی چیف کو جنوبی ایشیا میں ایک بااثر شخص کے طور پر پیش کیا۔ تاہم یہ سب پاکستان کی پروپیگنڈہ پالیسی کا حصہ ہے، جس میں وہ خود کو امریکہ کے قریب ثابت کر رہا ہے۔
پاکستانی میڈیا جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہا ہے وہ دراصل امریکہ کے کسی سرکاری اعلان یا کسی اہم عہدیدار کے تبصرے پر مبنی نہیں ہے۔ یہ صرف واشنگٹن ٹائمز نامی اخبار کی طرف سے لکھی گئی ایک رائے ہے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی حمایت کرنے والے خیالات کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ پاکستان نے اسے سرکاری سطح پر امریکی تعریف کے طور پر فروغ دیا، جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فیلڈ مارشل منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ ملاقات بہت اہم تھی۔ واشنگٹن ٹائمز جیسے غیر ملکی میڈیا کے آراء آرٹیکلز کو سرکاری حمایت کے طور پر قبول کرنا ایک وہم پیدا کرتا ہے، جسے پاکستان اپنے عوام کو جھوٹے خواب دکھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
آئرن مین 22 منٹ کا حملہ برداشت نہ کر سکا
پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ فوجی محاذ آرائی کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اس نے یہ جنگ جیت لی ہے۔ تاہم پاکستان بھارت کے برہموس میزائل سے ہونے والی تباہی کو چھپا نہیں سکا۔ آج تک ان فوجی ہوائی اڈوں کی مرمت ہو رہی ہے جو بھارت کے شدید حملے سے راکھ ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان 22 منٹ بھی بھارتی فوج کی بہادری کو برداشت نہیں کر سکا اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا گیا۔ اس وقت پاکستان نے امریکہ سے منت سماجت کر کے اپنی عزت بچائی لیکن جس طرح عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنایا گیا اس سے لگتا تھا کہ پڑوسی اپنے ہی معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
ٹرمپ سے ملاقات اور سیاست
عاصم منیر اس واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے در پر حاضری دینے چلے گئے ۔ وہ بار بار امریکہ کا دورہ کر کے اپنے ملک کے قدرتی وسائل کو نہ صرف بیچ رہے ہیں بلکہ بھارت کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں بھی مصروف ہے۔
پاکستان، ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے سفارش کرنے اور امریکہ سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری لانے کی کوشش میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ ادھر وہ اس طرح کے حربے استعمال کر کے اپنے ملک کے عوام کو بھی بے وقوف بنا رہا ہے تاکہ اس کی توجہ مہنگائی اور غربت سے ہٹائی جا سکے۔