الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کی گئی، جس میں بہار میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل اور ووٹ چوری کے الزامات پر اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ ہمارے لیے نہ کوئی حکمران جماعت ہے اور نہ ہی اپوزیشن، بلکہ سب برابر ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں گیانیش کمار نے راہل گاندھی کی طرف سے لگائے گئے ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کسی بھی شکایت کے لیے کمیشن کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری جیسے الفاظ کا استعمال سراسر غلط ہے، ایسے معاملات میں عدالت میں درخواست دائر کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹرز کی تصاویر، نام اور شناخت کو عوامی طور پر دکھایا گیا ہے جو کہ رازداری کی خلاف ورزی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دروازے ہر ایک کے لیے یکساں طور پر ہمیشہ کھلے ہیں۔ زمینی سطح پر تمام ووٹر، تمام سیاسی پارٹیاں اور تمام بوتھ لیول آفیسرز شفاف طریقے سے کام کر رہے ہیں، تصدیق کر رہے ہیں، دستخط کر رہے ہیں اور ویڈیو تعریفی خط بھی دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ضلع صدور اور ان کے ذریعہ نامزد بی ایل کے یہ تصدیق شدہ دستاویزات یا تو ان کے اپنے ریاستی یا قومی سطح کے لیڈروں تک نہیں پہنچ رہے ہیں یا پھر زمینی حقیقت کو نظر انداز کرکے انتشار پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ ہم نے کچھ دن پہلے دیکھا کہ کئی ووٹروں کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر میڈیا کے سامنے پیش کی گئیں۔ ان پر الزامات لگائے گئے، انہیں استعمال کیا گیا۔ کیا الیکشن کمیشن کو کسی بھی ووٹر کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرنی چاہئے، خواہ وہ ان کی ماں ہو، بہو ہو، بیٹی ہو؟ صرف وہی لوگ ووٹ ڈالتے ہیں جن کے نام ووٹر لسٹ میں ہیں ۔ وہ اپنے امیدوار کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ ‘ایک کروڑ سے زیادہ ملازمین، 10 لاکھ سے زیادہ بوتھ لیول ایجنٹس، امیدواروں کے 20 لاکھ سے زیادہ پولنگ ایجنٹ لوک سبھا انتخابات کے عمل میں کام کرتے ہیں۔ اتنے لوگوں کے سامنے اتنے شفاف عمل میں کیا کوئی ووٹر ووٹ چوری کر سکتا ہے؟
پاکستان میں دل دہلا دینے والا واقعہ، پک نک مناکر لوٹ رہے نوجوانوں پر فائرنگ، 7 کی موت
خیبرپختونخوا: پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پکنک سے واپس لوٹ رہے کچھ نوجوانوں پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد کی موت ہوگئی اور ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔ مرنے والے اور زخمی ہونے والے سبھی افراد ایک ہی گاؤں کھارا گری محمد زئی کے رہنے والے تھے اور ٹانڈہ ڈیم پر پکنک منا کر واپس لوٹ رہے تھے۔
یہ حملہ ہفتہ کی رات کوہاٹ ضلع کے علاقے ریگی شینو خیل میں ہوا۔ یہ علاقہ پشاور سے تقریباً 65 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ پولیس کے مطابق جیسے ہی یہ لوگ اپنے گاؤں واپس جا رہے تھے کہ پہلے سے گھات لگائے بیٹھے نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ اس قدر بھیانک تھی کہ سات افراد کی موقع پر موت ہوگئی جبکہ ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم اور پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کوہاٹ پہنچا دیا گیا۔ بعد ازاں شدید زخمی نوجوان کو بہتر علاج کے لیے پشاور ریفر کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والے اور زخمی ہونے والے تمام افراد دوست تھے۔
حملے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ ان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے کے محرکات جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
* سٹی کالج کے سابق او ایس انصاری نذیر سر انتقال کر گئے
اُردُو میڈیا سینٹر میں تعزیتی نشست*
مالیگاؤں : یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جاتی ہے کہ محلہ کمہارباڑہ اور مومن پورہ عبدالمجید دال والا چوک کی مشہور شخصیت حاجی عبدالحفیظ کے لڑکے، حاجی نورالھدی ،حاجی شمس الضحی ،حاجی بدرالدجی رحمانی سراور شفیق احمد کے بھائی ، حاجی خورشید مقادم کے داماد ،پروفیسر مبین نذیر ،محمد آمین اور حافظ یاسین سر کے والد سٹی کالج کے سابق او ایس انصاری نذیر احمد سر
17 اگست 2025 بروز اتوار کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔
اِنّا للہ وانا الیہ راجعون
نماز ِ جنازہ دوپہر بارہ بجے آمین عشرت جنازہ ہال میں مرحوم کے صاحبزادے حافظ یاسین سر کی اقتداء میں ادا کی گئی ۔
آپ سے درخواست ہے مرحوم کے ایصال ثواب کے لیئے خصوصی دعا کریں ۔
اُردُو میڈیا سینٹر (اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے سامنے ) بروز منگل 19 اگست بعد نماز عشاء تعزیتی نشت انجمن محبان ادب،ادارہ نثری ادب،انجمن محبان اردو کتب کے زیراہتمام منعقد کی گی ہے
ہم نذیر سر کے تمام رشتے داروں اور دوست اقارب سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں ۔آپ وقت کا خیال رکھتے ہوئے اُردو میڈیا سینٹر آنے کی زحمت فرمائیں۔
شریکان غم۔ ڈاکٹر اقبال برکی سر،،ہارون اختر، عبد الحلیم صدیقی،
احمد شفیق،وسیم کتابی، طاہر انجم صدیقی،رضوان ربانی سر،حاجی شاہد انجم،آصف سبحانی،مسعود رمضان پینٹر،اساتذہ کرام سٹی کالج، اساتذہ کرام اے ٹی ٹی ہائی اسکول ،مالیگاؤں۔