Wednesday, 6 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

درسی کتابوں کی غلطیاں

قسط نمبر 23
اعتراض نمبر 149
14 نومبر 2020
(یوم اطفال)
از : عمران امین

نویں جماعت 
جغرافیہ 
2017 (پہلا ایڈیشن) 
تجارت 
صفحہ نمبر 69

محترم اساتذۂ کرام!!
گذشتہ اقساط میں نویں جماعت کی اردو کمار بھارتی کی کتابوں کی غلطیوں کی نشاندہی کی تھی . آج جغرافیہ مضمون کی  فاش غلطیوں کی نشاندہی کررہا ہوں. درآمد اور برآمد کا معنی و مفہوم ہر وہ شخص جانتا ہے جو تجارت کی تھوڑی سی بھی شد بد رکھتا ہے. نویں جماعت کی جغرافیہ کی کتاب میں یہ بالکل الٹا لکھا ہوا ہے. پیراگراف ملاحظہ فرمائیں :
برآمدات اور درآمدات
"برآمدات اور درآمدات بین الاقوامی تجارت کی بنیادی سرگرمیاں ہیں. جب کوئی ملک اپنے یہاں قلت میں پائی جانے والی شے یا خدمات کو کسی دوسرے ملک سے خریدتا ہے اسے "برآمد" کہتے ہیں. جب کسی ملک میں اضافی پیدار ہوتی ہے اور وہ اس پیداوار کو ضرورت مند ممالک کو بیچتا ہے اسے "درآمد" کہتے ہیں."
آپ لوگوں نے محسوس کر لیا ہوگا کہ درآمد کے محل پر برآمد اور برآمد کی جگہ درآمد لکھا گیا ہے. درسی کتاب کی اس غلطی سے معاشیات کا بنیادی اصول ہی بدل گیا ہے. 
اسی سبق میں یہی غلطی کئی مرتبہ دہرائی گئی ہے جس میں سے کچھ غلطیوں کی نشاندہی اگلی قسطوں میں  کروں گا. 
عمران امین 
مالیگاؤں
                                             9867325358
__________

💌  گڈو (Guddu)
__________________
✒️ ڈاکٹر آصف فیضی ( مالیگاؤں)
__________________
🍁"گڈو" تھا تو ایک "بلا" مگر ہمارے اہل خانہ اسے لاڈ سے "گڈو" کہہ کر پکارتے تھے ۔گڈو اپنا نام پہچانتا تھا۔ جب ہم اسے نام سے پکارتے تو فوراً متوجہ ہوتا اور رد عمل کا اظہار بھی کرتا۔

اماں کے شوق کی وجہ ہمارے گھر مرغی ، بکری ، گائے اور بلی ہمیشہ موجود رہتی۔ کوئی تیس پینتیس برس پرانی بات ہے ایک بلی کہیں سے بھٹکتی ہوئی ہمارے گھر آگئی۔ اماں نے اسے تھوڑی توجہ کیا دی، یہیں کی ہو رہی۔ گڈو اسی بلی کی پانچویں نسل سے تھا۔

گڈو تھا بڑا شرارتی ، نٹ کھٹ اور چنچل تھا ۔دن بھر گھر میں اچھل کود کرتا۔ سب کا من بہلاتا۔ رات ہوتے ہی گھر کی چھت پر سونے چلا جاتا۔صبح سویرے پھر حاضر ہوجاتا۔گڈوسےاماں کو خاص انسیت تھی۔ اسی لیے اماں گڈو کے لیے روزانہ آدھا لیٹر  دودھ خرید کر رکھتیں اور صبح ناشتے میں اور رات کو دودھ سے گڈو کی تواضع کرتیں۔ گڈو کو جب کوئی چیز کھانے کے لئے دی جاتی اور اسے پسند نہ ہوتی تو پہلے ہمیں گھور کر دیکھتا اور پھر کھانے کو منہ لگائے بغیر گھر کے ایک کونے میں پڑا رہتا۔ گڈو کی یہ عادت اچھی تھی کہ کبھی گھر میں گندگی نہیں کرتا تھا اور نہ کھانے کی چیزوں میں منہ ڈالتا۔
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ گڈو دو تین روز گھر سے غائب ہوجاتا ۔ اس وقت اماں بہت پریشان ہوجاتیں اور پھر تلاشی مہم شروع ہوجاتی۔ ہم پاس پڑوس کے ٹیڑیس، باغ اور میدان میں تلاش کر آتے مگر گڈو کا کہیں اتا پتا نہیں ملتا۔ دو تین روز بعد صبح واپس آجاتا۔ جب وہ سست نظر آتا اور اپنے مخصوص ردعمل کا اظہار کرتا تو ہم سمجھ جاتے کہ گڈو بیمار ہے۔ ہم اسے دبوچ کر گھر میں بچوں کے لئے موجود "کال پول " سیرپ اس کے منہ میں ڈال دیتے۔ دو تین روز صبح اور رات کی دوا پینے کے بعد گڈو جب پھر سے چاق وچوبند نظر آنے لگتا اور شرارت کرنے لگتا تو ہم سمجھ جاتے کہ گڈو ٹھیک ہوگیا ہے۔ جب تک گڈو بیمار رہتا اماں بہت پریشان رہتیں۔ گڈو کی خوب تیمارداری ہوتی‌‌۔ اچھا ہونے کے بعد گڈو اپنی دم ہلا کر ہمارے اور اماں کے پیروں پر لوٹنے لگتا۔ 
ایک مرتبہ گڈو کئی روز کے لئے غائب ہوگیا۔ گھر کے تمام لوگ بہت پریشان تھے ۔ گڈو  جب واپس آیا تو اس کے چہرے پر خون اور زخم کے نشانات تھے۔ ہم سمجھ گئے کہ کسی سے جھگڑا کر کے آیا ہے۔ ہم نے فوراً "فرسٹ ایڈ" بوکس نکال کر خون صاف کیا اور اس کی مرہم پٹی کی۔ " پین کلر" اور " اینٹی بایوٹک" گولیاں پیس کر اس کے منہ میں ڈال دیں۔ چند روز میں وہ ٹھیک ہوگیا۔ اس وقت اماں بہت پریشان تھیں۔ گڈو کو خوب سخت سست سناتیں۔ کہاں گیا تھا ؟ کیوں گیا تھا ؟ کیا تجھے یہاں کھانا نہیں ملتا ؟  بول اب دوبارہ کہیں جائے گا ؟وغیرہ وغیرہ‌۔ گڈو اماں کی ڈانٹ پھٹکار سنتا رہا اور دم ہلا کر اماں کے آس پاس منڈلاتا رہا۔
گڈو اماں کے لاڈ کا تھا۔ جب کبھی اماں بیمار ہوجاتیں تو گڈو کو پتا نہیں کون بتا دیتا تھا۔ اماں کے اچھا ہونے تک  کھانا نہیں کھاتا۔

گڈو ویسے تو گھر تمام لوگوں سے ہل گیا تھا مگر ہماری چھوٹی بہن یاسمین سے گڈو کی خوب جمتی تھی۔ یاسمین کو گڈو سے خاص انسیت ہوگئی تھی اور گڈو کو بھی یاسمین سے۔ یاسمین سویرے اٹھتے ہی دیوانہ وار گڈو کو تلاش کرتی اور آواز دیتی۔ جیسے ہی گھر کا دروازہ کھولتی گڈو کو انتظار میں کھڑا پاتی۔ یاسمین کو دیکھتے ہی مٹکتے ہوئے یاسمین کے ساتھ گھر میں چلا آتا۔ دن بھر اس کے ساتھ مستی کرتا۔ اس کے آگے پیچھے منڈلاتا۔ وہ جب اسکول جانے لگتی تو باہر الوداع کرنے ضرور جاتا اور اس کے  اسکول سےواپسی کے وقت انتظار میں باہر کھڑا رہتا۔ یاسمین جیسے ہی اسکول سے واپس آتی فوراً بسکٹ کا پیکٹ کھول کر اسے کھلاتی۔ گڈو کے لئے اسکول واپسی پر بسکٹ لیتے آنا یاسمین کا معمول تھا۔ گڈو وہ بسکٹ بڑے چاؤ سے کھاتا۔ 
اب یاسمین بڑی ہوچکی تھی۔ اماں کو اس کی شادی کی فکر دامن گیر تھی‌۔ جلد ہی یاسمین کے لئے ایک اچھا رشتہ تلاش کر کے ممبئی میں اس کی شادی طے کردی گئی۔  یاسمین کی شادی کے دن قریب آنے لگے۔ شادی کی تیاریاں شروع ہوگیئں۔ یاسمین جب بھی خریداری کرنے کے لئے باہر جاتی تو گڈو کے لیے ڈھیر سارے بسکٹ خرید لاتی۔ بسکٹ کھا کر وہ بہت خوش ہوتا۔

شادی کا دن تھا۔ شادی ہال میں دور نزدیک کے تمام مہمان جمع تھے‌۔ یاسیمن نے گڈو کو بھی نہلا دھلا کر تیار کردیا تھا۔ گڈو بھی شادی ہال میں گھوم رہا تھا۔ شادی کی دعوت ختم ہوئی تو یاسمین کی رخصتی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ رخصتی کاوقت ہوچکا تھا۔ گھر کے تمام افراد نم آنکھوں سے یاسمین کو رخصت کر رہے تھے۔ قریب میں گڈو بھی کھڑا تھا۔ یاسمین کو لینے کے لئے کار آ پہنچی۔ یاسمین نے گڈو کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا اور گڈو سے مخاطب ہوئی " تو فکر مت کر میں جلد ہی آؤں گی پھر ہم مستی کریں گے ۔ "یاسمین نے ایک بڑا سا بکس اماں کے حوالے کیا جس میں گڈو کے لیے ڈھیر سارے بسکٹ تھے۔ تمام لوگوں نے نم آنکھوں سے یاسمین کو کار میں بٹھایا اور اسے الوداع کیا۔ گڈو بھی کھڑا نم آنکھوں سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی کار آگے بڑھی گڈو بھی کار کے پیچھے دیوانہ وار دوڑنے لگا۔ ہم نے اور اماں نے اسے آواز بھی دی پر نہیں رکا۔ 
 ہم شادی ہال گھر آگئے۔ یاسمین کے جانے سے گھر سونا سونا ہوگیا تھا۔تمام لوگ تھکے ماندے تھے، جلد ہی سو گئے۔دوسرے دن صبح اٹھے ناشتےکے بعد سب لوگ گپ شپ کرنے لگے‌۔ اماں نے پوچھا "گڈو کہاں ہے؟" گڈو کا گھر میں پتا نہیں تھا۔ اماں نے کہا کہ چھت پر دیکھ آؤ سویا ہوگا۔ہم نے چھت پر اسےکو تلاش کیا مگر وہ ہوتا تو ملتا۔
بارش کا موسم شروع ہوچکا تھا ۔شادی کے تیسرے روز صبح پانچ بجے موبائل کی رنگ بجی۔ میں نے بے دلی سے موبائل اٹھایا۔ دیکھا تو یاسمین کی کال تھی۔ میں ایک لمحے کے لیے گھبرا گیا کہ اتنی صبح کو فون! ناجانے کیا بات ہو۔ فون اٹھایا تو یاسمین نے خیر خیریت کے بعد گڈو سے متعلق پوچھا۔ میں بتایا کہ" تمہارے جانے بعد گڈو گھر نہیں آیا۔ میں نے اسے تلاش بھی کیا مگر نہیں ملا۔ "یاسمین نے روتے ہوئے بتایا کہ " میں نے کل رات ایک بھیانک خواب دیکھا ہے ، ہمارا گڈو چھت پر۔۔۔ !"اتنا کہہ کر یاسمین زور سے رونے لگی۔ میں نےفون کاٹ کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ میں فوراً اٹھا اور بھیگتے ہو چھت پر پہنچا۔ دیکھا تو چھت کی منڈیر پر گڈو بے حس و حرکت پڑا تھا۔  آسمان سے موسلادھار بارش ہورہی تھی اور میری آنکھوں سے  ۔آنسوؤں کی بارش۔🍁
________

🌷 اک رنگِ تغزل ایسا بھی 🌷 
🔴فرحان دل 
مجبوری کالی بلی ہے
میرا رستہ کاٹ رہی ہے

تنہائی کتنی میٹھی ہے
کیا تم نے چکھ کر دیکھی ہے؟

 سچائی برداشت کروگے؟
 یہ کافی کڑوی گولی ہے

تم؟ اور شرمندہ؟ ناممکن
سورج کو گرمی لگتی ہے؟؟

پھر ٹوٹا ہے خواب کسی کا
میں نے اک آواز سنی ہے

درد کو تھوڑا ہلکا کردو
ضبط کی رسی ٹوٹ رہی ہے

جرم کے رستے پر مت چلنا
بے چینی پیچھا کرتی ہے

چاند سے چہرے پر مت اِترا
چاند پہ اک بڑھیا رہتی ہے

سب مل کر دنگا کرتے ہیں
ان لوگوں میں یکجہتی ہے

سب کو چھوڑو  اس کو پکڑو
اس کے ہاتھوں میں روٹی ہے

پہلے اس کی آنکھیں پھوڑو
ان انکھوں میں سچائی ہے

تم اپنا حق مانگ رہے ہو؟
یہ تو کھلی غنڈہ گردی ہے

تعبیریں ٹیریس پر ہیں اور
خواب کی سیڑھی ٹوٹ گئی ہے

کون سا دکھ ہے اس دنیا کو
بیٹھے بیٹھے رو پڑتی ہے

جھوٹے لوگوں کی محفل میں
خاموشی بھی حق گوئی ہے

اس لڑکی کی عزت لے لو
یہ بس میں تنہا بیٹھی ہے

اس میں کیسی سہولت صاحب
یہ اسکول تو سرکاری ہے

اب کے سب کچھ اچھا ہوگا
دل کو کیسی خوش فہمی ہے

🖋فرحان دِل ـ مالیگاؤں ـ
📞 9226169933
________

غزل

افضال انصاری
***

پھر سے مقتل کو ہم سجائیں گے
دستِ قاتل کو آزمائیں گے

اک ذرا سا ابھر گئے پھر تو
سر پہ دار و رسن اٹھائیں گے

تیرگی جب بھی بڑھتی جائے گی
کچھ دئیے پھر ابھر کے آئیں گے

اب سمندر سے شرط ٹھہری ہے
کشتیاں پھر سے ہم جلائیں گے

جب بھی وحشت سکون پائے گی
ہم ذرا بیڑیاں ہلائیں گے

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...