ایران کے ایک فیصلے سے افغانستان میں ہاہا کار! طالبان برہم مگرلاچار،21لاکھ افراد کی زندگی داؤپر
ایران نے ہزاروں افغان باشندوں کو واپس بھیج دیا ہے جو طویل عرصے سے زراعت، تعمیرات اور تجارت جیسے شعبوں میں ملازمت کر رہے تھے۔ بڑی تعداد میں افغانوں کی اچانک واپسی افغانستان کی کمزور معیشت پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہی ہے۔ روزگار کے مواقع اور ضروری امدادی خدمات کی بہت کمی ہے۔ ایران سے واپس افغانستان لوٹنے والوں میں ایک عبدالرحیم جنھوں نےچار سال تک وہاں زرعی شعبے میں کام کی۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ملک میں روزگار کے مواقع میسر ہوں تو وہ اپنی مہارت سے اپنے چھ افراد خانہ کی کفالت کر سکتے ہیں
افغان میڈیا آؤٹ لیٹ طلوع نیوز نے رحیم کے حوالے سے کہا کہ اب ہم اپنے ملک واپس آچکے ہیں۔ ہم ایران میں زرعی کام کرتے تھے، اگر یہاں زرعی شعبے میں موقع ملا تو مجھے خوشی ہوگی۔ایک اور افغان باشندے نے کہا کہ جو کام ہم نے ایران میں کیا ہے اگر وہ ہمارے ملک میں دستیاب ہوتا تو ہم کبھی ایران نہ جاتے۔ ایرانی حکومت اور وہاں کے لوگوں نے ہمارے ساتھ برا سلوک کیا۔ ہم نے وہاں مکان کرائے پر لیے، اور انہوں نے ہمیں ہماری اجرت نہیں دی۔
طالبان ایران سے ناراض
حال ہی میں افغان مہاجرین کے امور کے کمیشن کے ترجمان احمد اللہ واثق نے افغانی باشندوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر ایرانی حکومت کی مذمت کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اس عمل کے لیے افغان حکومت کے ساتھ رابطہ کریں۔ انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ پناہ گزینوں کے امور کے کمیشن کے ساتھ مل کر واپس آنے والوں کے لیے انسانی امداد میں اضافہ کریں۔
طلوع نیوز نے رپورٹ کیا کہ اس سے قبل، ایران سے جلاوطن ہونے والوں میں سے ایک، فاطمہ، جو تین سال سے اپنے خاندان کے ساتھ ایران میں رہ رہی تھی، نے ایرانی حکام کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں کا ذکر کیا تھا۔اس نے کہا کہ ہمیں کیمپ سے لایا گیا، اور انہوں نے ہمیں کچھ نہ لانے کو کہا، انہوں نے کہا کہ وہ ہماری مدد کریں گے، لیکن راستے میں، کسی نے ہمیں کچھ نہیں دیا، میرے بچے بھوکے رہے، سفر کے دوران، انہوں نے ہمیں ہراساں کیا اور ہمارے پیسے اور فون چھین لیے
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 کے آغاز سے یکم اگست تک ایران اور پاکستان سے 21 لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو ڈیپورٹ کریا جاچکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ،یکم اپریل سے 30 جولائی تک ایران سے 1.4 ملین افغان اور پاکستان سے 3,03,300 افغان واپس افغانستان جا چکے ہیں۔ 2025 تک ایران اور پاکستان سے 21 لاکھ سے زائد افغان واپس آ چکے ہیں۔ افغانستان کی صورتحال بہت خستہ ہے۔ اسے اس سال کے لیے درکار 478 ملین ڈالر کا صرف 24 فیصد ملا ہے۔
اترکاشی کے دھرالی میں قدرتی آفت ، وہ 58 سیکنڈ... ، اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ بھی نہیں سکے لوگ
اتراکھنڈ کے دھرالی گاؤں میں بادل پھٹنے سے بھاری تباہی ہوئی ہے ۔اس قدرتی آفت میں 4 افراد کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی ہے جب کہ 130 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ دھرالی گاؤں میں سیکڑوں لوگ لاپتہ ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ہفتہ کی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے کھیر گنگا ندی پر بادل پھٹ گیا جس کے بعد وہاں ہنگامہ مچ گیا۔
چند سیکنڈ میں لاکھوں ٹن ملبہ سیلاب کے ساتھ دھرالی گاؤں تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد وہاں افراتفری مچ گئی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے چیخنے لگے لیکن بجلی کی رفتار سے آنے والے سیلاب نے 58 سیکنڈ میں پورے گاؤں کو نگل لیا۔ گاؤں میں کئی میٹر ملبہ جمع ہو گیا۔ کچھ گھر ملبے کے ڈھیر تلے مکمل طور پر دب گئےہیں۔ اطلاع ملتے ہی فوج کا دستہ موقع پر پہنچ گیا۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور مقامی پولیس کی ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی سے آفت کے بارے میں معلومات لی۔
کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا
متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں کیونکہ اترکاشی کے دھرالی گاؤں میں پہاڑ پر بادل پھٹا اور وہاں سے آنے والے ملبے نے ہر چیز کو تباہ کر دیا۔ بادل پھٹنے کے بعد لاکھوں ٹن ملبہ بجلی کی رفتار سے نیچے آ گیا۔ کسی کو سنبھلنے یا کچھ سمجھنے کا موقع نہیں ملا۔ کچھ ہی دیر میں گرجتا ہوا سیلاب دھرالی مارکیٹ میں ہوٹلوں، دکانوں اور لوگوں کے گھروں کو بہا لے گیا۔
ارے بھاگو، ارے بھاگو،خوف ناک تباہی
ملبہ کو گاؤں کی طرف آتا دیکھ کر چیخ و پکار مچی، کیونکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے مٹی اور ملبے سے بھرا بند پھٹ گیا ہو۔ سیلاب کی راہ میں جو بھی آیا تباہ ہو گیا۔ لوگ خوف و ہراس میں بری طرح چیختے ہوئے دیکھے گئے۔ اپنی آنکھوں کے سامنے تباہی دیکھ کر لوگوں کے دل دہل گئے، کیونکہ جب پہاڑ سے آنے والا سیلاب وہاں بنے ہوئے مکانات سے ٹکرایا تو ایک روح کو ہلا دینے والا منظر دیکھنے کو ملا۔۔ کھیر گنگا ندی کے ذریعے پہاڑی سے آنے والا سیلاب پلک جھپکتے ہی بھاگیرتھی ندی میں ضم ہو گیا، لیکن اس دوران اس نے وہاں تباہی مچا دی۔
تصویردھیرے دھیرے ہوگی صاف
گنگوتری سے پہلے دھرالی مارکیٹ ہوٹل ایریا میں ہرشیل کے قریب.. پہاڑی ندی میں پانی کے اچانک تیز بہاؤ کی وجہ سے آس پاس کے مکانات اور ہوٹلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق زخمی یا لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ الحال ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، فوج، مقامی انتظامیہ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ بہاؤ اتنا شدید تھا کہ کتنے لوگ پھنسے ہوں گے، کتنے لاپتہ ہیں، یہ سب ریسکیو آپریشن کے بعد واضح ہوگا۔
ہر طرف تباہی کے منظر
اب دھرالی گاؤں میں ہر طرف تباہی کامنظرہے۔ بادل پھٹنے سے دھرالی گاؤں میں قدرت نے ایسی تباہی مچائی کہ پورے ملک میں کہرام مچ گیا۔ کھیر گنگا ندی کے راستے پہاڑ سے نیچے آنے والے ملبے نے گاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ گاؤں کے زیادہ تر گھر لاکھوں ٹن ملبے تلے دب گئے ہیں یا ملبے کا پہاڑ کہہ لیں۔
قدرت کا قہر
کھیر گنگا ندی پر بادل پھٹنے کے بعد ندی میں سیلاب اور ملبے نے دھرالی گاؤں کا وجود تباہ کر دیا۔ قدرت کی اس تباہی کو دیکھ کر لوگ گھبرا گئے، کیونکہ پہاڑ سے کھیر گنگا ندی میں آنے والے بے تحاشا پانی اور ملبے نے وہاں افراتفری مچادی۔ دھرالی گاؤں میں اس تباہی کو دیکھ کر آس پاس رہنے والے لوگ بری طرح کانپ گئے۔ پہاڑی کی چوٹی پر موجود لوگوں نے قدرت کی اس تباہی کو اپنے موبائل فونز میں قید کر لیا، لیکن اس دوران دھرالی گاؤں میں ہونے والی تباہی نے انہیں ہلا کر رکھ دیا
لوگوں کے مطابق دھرالی گاؤں میں اس طرح کی تباہی پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس آفت میں گاؤں میں موجود بہت سے لوگوں کی موت ہو گئی ہے، کیونکہ لوگوں کے مطابق سیلاب پہاڑ سے کھرنگا ندی میں اتنی تیزی سے آیا کہ گاؤں میں موجود لوگوں کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ یعنی گاؤں میں موجود لوگ چاہ کر بھی وہاں سے بھاگ نہیں سکتے تھے۔ اس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس تباہی میں بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دب گئے ہیں۔
ہلاکت و تباہی ہوئی: عینی شاہد
اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ےلیکن ایک اندازے کے مطابق سیلاب اور ملبے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ مر گئے۔ دھرالی گاؤں میں تباہی دیکھ کر لوگ لرز گئے۔ بہت نقصان ہوا۔ اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ نہ جانے کتنے لوگ مرے، کتنے دفن ہوئے۔ کئی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ مر گئے بھائی، بہت سے لوگ مر گئے۔
مکانات اور ہوٹل تنکوں کی طرح بہہ گئے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بادل پھٹنے کے وقت گاؤں میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند منٹوں میں ان کی جانیں تلف ہو جائیں گی۔ قدرت نے وہاں ایسی تباہی مچائی کہ لوگ اسے دیکھ کر دہشت سے بھر گئے۔ بادل پھٹنے کے بعد کھیر گنگا ندی میں سیلاب کی وجہ سے دھرالی گاؤں میں موجود زیادہ تر مکانات اور ہوٹل تنکوں کی طرح بہہ گئے۔
ریپوریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں، کم نہیں ہوگی لون پر ای ایم آئی ، ریزورو بینک کا اعلان
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور اسے 5.50 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کی سہ روزہ میٹنگ کے بعد آج آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کا اعلان کیا۔ گزشتہ MPC میٹنگ میں، ریپو ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس (bps) کی کمی کی گئی تھی۔ آر بی آئی نے فروری اور اپریل میں بھی ریپو ریٹ میں 25-25 بیس پوائنٹس کی کمی کی تھی۔
ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر آر بی آئی بینکوں کو قرض دیتا ہے۔ جب ریپو ریٹ کم ہوتا ہے، تو بینکوں کے لیے قرض لینا سستا ہو جاتا ہے اور وہ صارفین کو کم شرح سود پر قرض دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ریپو ریٹ میں کمی سے گھر اور کار لون جیسے قرض سستے ہو جاتے ہیں۔
متفقہ طور پر فیصلہ کیا۔
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے متفقہ طور پر پالیسی ریپو ریٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس سال کے شروع میں اس میں 100 بیس پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی۔ ان کا مزید کہنا ہےکہ مہنگائی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
آر بی آئی کے گورنر نے کہا کہ بنیادی افراط زر 4 فیصد پر مستحکم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے۔ معمول سے بہتر جنوب مغربی مانسون اور دیگر سازگار حالات معاشی ترقی کو مسلسل سہارا دے رہے ہیں۔
آر بی آئی نے مہنگائی کے حوالے سے اپنی پیش گوئی کو تبدیل کر دیا ہے۔ جبکہ پہلے مالی سال 26 میں افراط زر کی شرح 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، اب اسے کم کر کے 3.1 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں قیمتیں نسبتاً مستحکم رہ سکتی ہیں، خاص طور پر معمول سے بہتر مانسون اور رسد میں بہتری کی وجہ سے۔ سہ ماہی بنیادوں پر مہنگائی کے نئے تخمینے حسب ذیل ہیں: